2

*معیشتِ عدل: نوجوان، اجرت اور توحید محور نظام*

  • نیوز کوڈ : 3111
  • 15 June 2026 - 22:16
*معیشتِ عدل: نوجوان، اجرت اور توحید محور نظام*

*معیشتِ عدل: نوجوان، اجرت اور توحید محور نظام*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر: سید جہانزب عابدی

*خلاصہ بے شک ہر معاملہ، عمل اور کام کا معاوضہ روپیہ پیسہ نہیں ہوتا مگر کسی نوجوان یا جوان کیلئے جو عملی زندگی میں قدم رکھ رہا ہوتا ہے اور تجربے کے میدان میں اترتا ہے اس کیلئے روپیہ پیسہ کا معاوضہ اتنا دینا کہ وہ بچت کرسکے اور اپنے بنیادی معاشی مسائل کے حل کرکے دوسری جگہوں پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے خود کفالت کی حد و وقت تک پہنچ جائے۔ یوں ۲۰ یا ۲۵ سال کی عمر میں کیرئیر شروع کرتے وقت روپیہ پیسے کا اتنا معاوضہ جس سے وہ ۴۰ یا ۴۵ سال تک پہنچتے وقت مستحکم معاشی حالت پر پہنچ جائے ضروری ہے، اس دوران وہ خاندان کی داغ بیل ڈال کر اپنے روحانی معاملات کے ساتھ معاشی و مادّی معاملات کو بھی درست خطوط پر چلنے کیلئے تیار کرنے والا ہوتاہے۔ یوں اس عمر میں وہ ایک مستحکم معیشت اور مستحکم تجربے کے ساتھ دین کی خدمت کیلئے انتہائی موزوں ہوجاتا ہے جہاں روپیہ پیسہ کا معاوضہ نوجوانی یا جوانی کی عمر کی طرح زیادہ اہم نہیں رہتا۔ اسلام کی نظر میں زندگی بھر اور ہر وقت پیسے کی دوڑ میں لگے رہنا درست نہیں، دین، انسانیت اور حقوق کا خیال رکھنے والے مالکان کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی اس جنجال سے نکلیں اور دوسروں کو بھی جو ان کے پاس آتے ہیں اس جنجال سے نکالنے میں مدد فراہم کریں۔ روپیہ پیسہ وسیلہ ہے ہدف نہیں۔ ساری زندگی کیلئے survival mode پر رکھنے کا یہ طریقہ سرمایہ دارانہ استحصال ہے نہ کہ اسلامی و روحانی، لہذا اسلامی معاشروں کی حکومتی انتظامیہ اور اداروں کی جاب تجارتی و کاروباری پالیسیز و قوانین سرمایہ دارانہ کے بجائے توحید محور ہونی چاہییں تاکہ مسلمان نوجوان معاشی مسائل سے نکل کر دین و خدا کیلئے کام کرے اپنی اور وقت کی مطلق معاشی جدوجہد سے نکل سکے۔

*مرکزی مضمون:*اسلامی معاشی فکر میں انسان کی محنت، وقت اور صلاحیت کو صرف ایک تجارتی اکائی نہیں بلکہ ایک اخلاقی امانت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی بنیادی تصور کے تحت روزگار اور اجرت کا مسئلہ محض مارکیٹ کی طلب و رسد یا سرمایہ و منافع کے حساب سے نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی تعمیر، سماجی توازن اور روحانی ارتقاء کے وسیع تر تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ ایک نوجوان جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو وہ صرف ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ ایک پورے مستقبل کا آغاز ہوتا ہے، جس میں اس کی ذات، اس کا خاندان اور معاشرہ سب شامل ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر اگر معاشی نظام اسے صرف “بقا” کی حد تک محدود رکھے تو یہ دراصل اس کی صلاحیتوں کو ایک کمزور دائرے میں قید کر دینے کے مترادف ہے، جہاں وہ اپنی توانائی کا بڑا حصہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں صرف کرتا ہے اور تخلیقی، فکری اور روحانی ترقی کے امکانات کمزور پڑ جاتے ہیں۔

قرآن مجید نے انسانی معیشت کو ہمیشہ ایک متوازن عمل کے طور پر پیش کیا ہے، جس میں نہ دنیا کی مکمل نفی ہے اور نہ دنیا کی مکمل اطاعت۔ “وابتغِ فیما آتاک اللہ الدار الآخرة ولا تنس نصیبک من الدنیا” اس اصول کو واضح کرتا ہے کہ دنیاوی وسائل انسان کے لیے ہیں، نہ کہ انسان وسائل کے لیے۔ اس تناظر میں اگر معاشی نظام ایسا ہو کہ وہ انسان کو مسلسل معاشی دباؤ میں رکھے، اسے صرف روزی کمانے کی دوڑ میں لگا دے اور اس کے لیے بچت، سرمایہ کاری اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے دروازے محدود کر دے تو یہ نظام اسلامی تصورِ عدل سے ہٹ کر ایک غیر متوازن معاشرتی ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ اسلام میں مقصود یہ نہیں کہ انسان ساری زندگی معاشی جنگ میں الجھا رہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ وہ ایک مرحلے پر اس جدوجہد سے نکل کر زیادہ اعلیٰ انسانی مقاصد کی طرف متوجہ ہو سکے۔

ایک نوجوان کی عملی زندگی کے ابتدائی برس دراصل اس کی پوری زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر انہی برسوں میں اسے ایسا معاشی ماحول فراہم کیا جائے جس میں وہ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ آہستہ آہستہ مالی استحکام، بچت اور سرمایہ کاری کے ذریعے خود کفالت کی طرف بڑھے تو یہ دراصل اس کی آزادی کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہ آزادی صرف مالی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بھی ہوتی ہے، کیونکہ جب انسان معاشی اضطراب سے نکلتا ہے تو اس کے اندر غور و فکر، تخلیق اور خدمت کے امکانات زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ اسلام ایسے انسان کو پسند کرتا ہے جو اپنی ضرورتوں کا اسیر نہ ہو بلکہ اپنے وجود کو اعلیٰ مقاصد کے لیے وقف کر سکے۔

حضرت علیؑ کے خطبات اور حکومتی ہدایات میں یہ پہلو واضح طور پر ملتا ہے کہ معاشرہ اس وقت تک عدل پر قائم نہیں ہو سکتا جب تک کمزور اور محنت کرنے والے طبقات کو ایسا معاشی تحفظ نہ دیا جائے جو انہیں محتاجی سے نکال دے۔ آپؑ کے نزدیک حکومت اور ذمہ دار اداروں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں انسان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے اور اس کی محنت کا حقیقی اور منصفانہ معاوضہ اسے اس قابل بنائے کہ وہ آئندہ زندگی کے لیے خود کو مستحکم کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظامِ فکر میں اجرت صرف موجودہ وقت کی قیمت نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ بھی ہے۔

اگر کسی معاشرے میں نوجوانوں کو ان کے کیریئر کے آغاز سے ہی ایک طویل عرصے تک “survival mode” میں رکھا جائے، یعنی وہ ہمیشہ بنیادی ضروریات اور قرض و دباؤ کے درمیان پھنسے رہیں، تو اس کا نتیجہ صرف معاشی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہوتا ہے۔ ایسا نظام افراد کو تخلیق، قیادت اور فکری خود مختاری سے دور کر دیتا ہے اور انہیں محض ایک مسلسل دوڑ میں لگا دیتا ہے جس کا مقصد صرف زندہ رہنا ہوتا ہے، نہ کہ بامقصد زندگی۔ اسلام اس تصور کو قبول نہیں کرتا کیونکہ اس کے نزدیک انسان کی تخلیق کا مقصد صرف بقا نہیں بلکہ “خلافت” ہے، یعنی زمین پر ایک ذمہ دار، باشعور اور متوازن کردار ادا کرنا۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلام مال و دولت کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے ایک وسیلہ قرار دیتا ہے۔ مسئلہ مال نہیں بلکہ مال کا مرکز بن جانا ہے۔ جب مال مقصد بن جائے تو انسان دوسرے انسانوں کو بھی محض معاشی اکائیوں کے طور پر دیکھنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں استحصال جنم لیتا ہے۔ لیکن جب مال کو وسیلہ سمجھا جائے تو اس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کو بھی بہتر بناتا ہے اور دوسروں کی زندگیوں کو بھی سہارا دیتا ہے۔ اس اصول کے تحت اگر ادارے اور مالکان یہ سمجھ لیں کہ ان کی ذمہ داری صرف منافع نہیں بلکہ انسانی تعمیر بھی ہے تو پورا معاشی نظام ایک اخلاقی بنیاد پر استوار ہو سکتا ہے۔

اسلامی معاشرت میں ایک ایسا مرحلہ بھی مطلوب ہے جہاں انسان اپنی ابتدائی عمر میں محنت، تجربہ اور معاشی استحکام حاصل کر کے بعد کی زندگی میں زیادہ آزاد ہو جائے تاکہ وہ اپنی توانائی دین، معاشرتی خدمت اور فکری و اخلاقی ذمہ داریوں میں صرف کر سکے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں معاشی جدوجہد زندگی کا مرکز نہیں رہتی بلکہ ایک گزرے ہوئے مرحلے کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اور انسان زیادہ اعلیٰ انسانی مقاصد کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جسے اسلامی معیشت “عدل” کے نام سے بیان کرتی ہے۔

اس بحث کو اگر موجودہ عالمی معاشی ڈھانچے اور خاص طور پر کارپوریٹ کلچر کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسئلہ محض نظری نہیں رہتا بلکہ ایک عملی اور نظامی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ آج کے معاشی نظام کی بنیادی ساخت اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ انسانی محنت ایک قابلِ خرید و فروخت شے ہے اور اس کی قدر کا تعین زیادہ تر منافع، مسابقت اور مارکیٹ کے دباؤ سے ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ادارے اپنی بقا اور ترقی کو مقدم رکھتے ہیں جبکہ فرد کی انسانی تعمیر، اس کی ذہنی آزادی اور اس کے طویل مدتی استحکام کو ثانوی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں “survival mode” ایک عارضی حالت نہیں رہتی بلکہ ایک مستقل معاشی طرزِ زندگی بن جاتا ہے۔

جدید کارپوریٹ نظام میں ایک عام ملازم یا نوجوان پروفیشنل اکثر اپنی زندگی کے ابتدائی بیس سے پچیس سال صرف اس لیے صرف کرتا ہے کہ وہ “قابل” بن سکے، لیکن اس قابلیت کے باوجود بھی اس کے معاشی حالات اتنے مستحکم نہیں ہوتے کہ وہ آزادی کے مرحلے میں داخل ہو سکے۔ مسلسل مہنگائی، رہائشی دباؤ، قرض، اور غیر یقینی روزگار اسے ایک ایسے دائرے میں رکھتا ہے جہاں وہ اپنی آمدن کا بڑا حصہ دوبارہ اسی نظام میں لوٹا دیتا ہے جس نے اسے پیدا کیا ہوتا ہے۔ یوں فرد ترقی کرتا ہوا بھی دراصل ایک محدود دائرے سے باہر نہیں نکل پاتا۔

اسلامی تصور اس کے برعکس ایک “تحرک سے استحکام” (movement to stability) کا ماڈل پیش کرتا ہے۔ یعنی معاشی جدوجہد کا مقصد انسان کو دائمی جدوجہد میں رکھنا نہیں بلکہ اسے ایک ایسے مقام تک پہنچانا ہے جہاں وہ داخلی طور پر مستحکم ہو جائے۔ جب قرآن “کی لا یکون دولة بین الأغنیاء منکم” جیسے اصول بیان کرتا ہے تو اس کا اشارہ صرف دولت کی تقسیم نہیں بلکہ اس نظام کی نفی بھی ہے جس میں دولت اور وسائل چند دائروں میں گردش کرتے رہیں اور باقی افراد مسلسل dependency میں رہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی معیشت سرمایہ دارانہ تسلسل سے مختلف ہو جاتی ہے۔

اگر نوجوان کو اس کے کیریئر کے ابتدائی مرحلے میں مناسب معاشی بنیاد فراہم نہ کی جائے تو وہ اپنی پوری توانائی “بقا کی معیشت” میں کھپا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس نہ بچت ہوتی ہے، نہ سرمایہ کاری کی صلاحیت، اور نہ ہی وقت اور ذہنی توانائی کہ وہ طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکے۔ نتیجتاً وہ چالیس یا پینتالیس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی اسی معاشی دباؤ کا شکار رہتا ہے جس سے نکلنے کا وہ آغاز ہی میں سوچ رہا تھا۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں انسان ترقی کرتا ہوا بھی آزاد نہیں ہوتا بلکہ صرف زیادہ ذمہ دار اور زیادہ مصروف ہو جاتا ہے۔

اسلامی فکر میں اس کے مقابلے میں ایک واضح اصول ملتا ہے کہ انسان کو “کفاف” سے آگے لے جایا جائے، یعنی صرف اتنی آمدن نہیں کہ وہ زندہ رہ سکے بلکہ اتنی کہ وہ استحکام، وقار اور آئندہ کی تیاری بھی کر سکے۔ امام علیؑ کے حکومتی خطوط میں یہ تصور بار بار سامنے آتا ہے کہ حکمران کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اس سطح پر لے آئے کہ وہ محتاجی سے نکل جائیں، کیونکہ محتاجی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی کمزوری بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک محتاج فرد ہمیشہ ردِعمل (reactive) حالت میں رہتا ہے، جبکہ ایک مستحکم فرد تعمیری (creative) حالت میں داخل ہوتا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلام محنت اور جدوجہد کے خلاف نہیں بلکہ اسے عبادت کا درجہ دیتا ہے، مگر اس جدوجہد کو ایک “لا متناہی معاشی دوڑ” نہیں بناتا۔ حدیث میں “الکاسب حبیب اللہ” کا مفہوم یہی ہے کہ محنت کرنے والا قابلِ احترام ہے، لیکن یہ احترام اس وقت مکمل ہوتا ہے جب محنت انسان کو وقار، خود مختاری اور ذہنی سکون کی طرف لے جائے، نہ کہ اسے ایک مسلسل اضطراب میں مبتلا رکھے۔ اگر محنت انسان کو صرف زیادہ تھکاوٹ، زیادہ قرض اور زیادہ دباؤ کی طرف لے جائے تو یہ محنت اسلامی تصور کے مطابق مطلوب نہیں بلکہ ایک غیر متوازن نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔

مسلم معاشروں میں عملی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اکثر ادارے یا تو مکمل طور پر سرمایہ دارانہ منطق اپناتے ہیں یا پھر غیر منظم خیراتی رویے میں چلے جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نوجوان کی طویل مدتی معاشی تعمیر متاثر ہوتی ہے۔ ایک طرف کم اجرت اور غیر مستحکم روزگار اسے dependency میں رکھتا ہے، اور دوسری طرف غیر پیشہ ورانہ خیرات اسے productive independence سے دور کر دیتی ہے۔ اسلامی ماڈل ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک توازن قائم کرتا ہے جس میں اجرت صرف “قیمتِ محنت” نہیں بلکہ “تعمیرِ انسان” کا ذریعہ ہوتی ہے۔

اگر اس اصول کو نظامی سطح پر نافذ کیا جائے تو جاب پالیسی صرف مارکیٹ ریٹ یا منافع کے حساب سے نہیں بلکہ اس سوال کے ساتھ ترتیب پائے گی کہ آیا یہ اجرت فرد کو پانچ، دس یا بیس سال بعد خود کفالت اور ذہنی آزادی کی طرف لے جا رہی ہے یا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی نظام کو ایک “اسٹیٹک لیبر مارکیٹ” کے بجائے ایک “ڈائنامک ہیومن ڈویلپمنٹ سسٹم” بننا ہوگا، جہاں فرد صرف کام کرنے والا نہیں بلکہ بتدریج آزاد ہونے والا وجود ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی معیشت کا تصور سرمایہ دارانہ نظام سے بنیادی طور پر مختلف ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں فرد ہمیشہ پیداوار کا حصہ رہتا ہے، جبکہ اسلامی تصور میں فرد ایک ایسے سفر سے گزرتا ہے جو اسے ابتدا میں معاشی جدوجہد سے شروع کر کے آخر میں فکری، اخلاقی اور دینی خدمت کی آزادی تک لے جاتا ہے۔ اس سفر کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی توانائی کو صرف زندہ رہنے میں نہیں بلکہ اعلیٰ انسانی مقاصد میں استعمال کر سکے، اور یہی وہ حالت ہے جسے قرآن “فلاح” کے قریب تر بیان کرتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3111

ٹیگز

تبصرے