4

*امام حسینؑ اور عصرِ حاضر کے چیلنجز* *(کربلا؛ ماضی کا واقعہ نہیں، مستقبل کی رہنمائی)*

  • نیوز کوڈ : 3114
  • 15 June 2026 - 22:19
*امام حسینؑ اور عصرِ حاضر کے چیلنجز* *(کربلا؛ ماضی کا واقعہ نہیں، مستقبل کی رہنمائی)*

*امام حسینؑ اور عصرِ حاضر کے چیلنجز* *(کربلا؛ ماضی کا واقعہ نہیں، مستقبل کی رہنمائی)*

 *تحریر: مولانا سید عمار حیدر زیدی*

محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی اسلامی دنیا میں غم و اندوہ کی ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ دلوں میں کربلا کی یاد تازہ ہوتی ہے، آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں اور زبانوں پر نواسۂ رسول حضرت امام حسینؑ کا ذکر جاری ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ ہے جسے ہر سال یاد کر لیا جائے، یا یہ ایک ایسا زندہ مکتب ہے جو ہر دور کے انسان کو درپیش مسائل کا حل پیش کرتا ہے؟

اگر ہم واقعۂ کربلا کا گہرا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ امام حسینؑ کی تحریک کسی مخصوص زمانے یا علاقے کے لیے نہیں تھی بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک دائمی پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود کربلا کی حرارت آج بھی زندہ ہے اور دنیا کے ہر آزادی پسند انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا بحران: بصیرت کی کمی ہے۔ موجودہ دور کو معلومات کا دور کہا جاتا ہے۔ انسان کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ معلومات موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود سچائی تک پہنچنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنے کے ذرائع پہلے کبھی اتنے طاقتور نہیں تھے جتنے آج ہیں۔

قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:

«﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾

“اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔”

(سورۂ حجرات: 6)»

کربلا دراصل بصیرت اور بے بصیرتی کی جنگ تھی۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو ظاہری طاقت اور حکومتی پروپیگنڈے سے متاثر ہو گئے اور دوسری طرف امام حسینؑ تھے جنہوں نے حق کو پہچانا اور اس پر ڈٹ گئے۔

امام علیؑ فرماتے ہیں:

«”بصیر آدمی وہ ہے جو سنتا ہے، سوچتا ہے، دیکھتا ہے اور عبرت حاصل کرتا ہے۔”»

آج کا انسان اگر حسینی بصیرت حاصل کر لے تو وہ میڈیا، سیاست اور معاشرتی فتنوں کے درمیان حق کو پہچان سکتا ہے۔

عصرِ حاضر میں عالمی سیاست کا بڑا مسئلہ طاقت کے نشے میں مبتلا نظام ہیں۔ طاقتور ممالک کمزور اقوام پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں، معاشی مفادات انسانی حقوق پر غالب آ جاتے ہیں اور انصاف اکثر طاقت کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔

ایسے ماحول میں کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ طاقت حق کا معیار نہیں ہوتی۔

امام حسینؑ نے یزید کے مقابلے میں اپنی تعداد یا وسائل نہیں دیکھے بلکہ حق اور باطل کو دیکھا۔ آپؑ نے اعلان فرمایا:

«”میں ظلم اور فساد کے لیے نہیں نکلا بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔”»

یہ جملہ آج بھی ہر اس انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا چاہتا ہے۔

شاید عصرِ حاضر کا سب سے حساس مسئلہ نوجوان نسل کی فکری شناخت کا بحران ہے۔ جدید ثقافت، سوشل میڈیا اور مادہ پرستی نے نوجوانوں کے سامنے بے شمار سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نوجوان کامیابی کو دولت، شہرت اور ظاہری آسائشوں میں تلاش کر رہا ہے جبکہ روحانی اقدار پس منظر میں جا رہی ہیں۔

کربلا نوجوانوں کو ایک مختلف معیار دیتی ہے۔

حضرت علی اکبرؑ جوانی کی علامت ہیں، حضرت قاسمؑ وفاداری کی علامت ہیں، اور حضرت عباسؑ ایثار و قربانی کی علامت ہیں۔

یہ شخصیات نوجوانوں کو بتاتی ہیں کہ انسان کی عظمت اس کے لباس، دولت یا شہرت میں نہیں بلکہ اس کے کردار اور مقصد میں ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی ترقی نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن اخلاقی زوال ایک خاموش بیماری کی طرح معاشروں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جھوٹ، خیانت، دھوکہ، بددیانتی، خود غرضی اور مفاد پرستی عام ہوتی جا رہی ہیں۔

کربلا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تہذیبیں صرف سائنسی ترقی سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر قائم رہتی ہیں۔

امام حسینؑ نے میدانِ کربلا میں دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ آپؑ نے پیاسے لشکر کو پانی پلایا، نصیحت کی اور آخری لمحے تک انسانیت کا احترام کیا۔

یہ وہ اخلاقی معیار ہے جس کی آج دنیا کو اشد ضرورت ہے۔

فلسطین سے کشمیر تک؛ کربلا کا پیغام ہے اگر ہم دنیا کے مظلوم خطوں پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ کربلا کا پیغام آج پہلے سے زیادہ زندہ ہے۔

فلسطین ہو، کشمیر ہو یا دنیا کا کوئی اور مظلوم خطہ، ہر جگہ انسان عزت، آزادی اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

امام حسینؑ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ مظلوم ہونا عیب نہیں، ظلم کو قبول کرنا عیب ہے۔

اسی لیے کربلا صرف ایک میدان کا نام نہیں بلکہ ایک فکر کا نام ہے، اور یہ فکر ہر دور کے مظلوم کو حوصلہ دیتی ہے۔

محرم؛ خود احتسابی کا مہینہ ہے اور محرم ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتا کہ یزید کون تھا، بلکہ یہ سوال بھی کرتا ہے کہ آج کے دور میں یزیدی صفات کہاں موجود ہیں؟

کیا جھوٹ، کرپشن، ناانصافی، اقربا پروری، حق تلفی اور ظلم ہماری زندگیوں میں موجود نہیں؟

کیا ہم حق جاننے کے باوجود خاموش نہیں رہتے؟

کیا ہم مفادات کی خاطر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے؟

اگر ایسا ہے تو محرم کا اصل پیغام یہی ہے کہ پہلے اپنے اندر کی یزیدیت کو پہچانا جائے اور پھر اپنے اندر حسینی صفات پیدا کی جائیں۔

امام حسینؑ کی تحریک تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ انسانیت کا دائمی منشور ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ بصیرت کے بغیر عبادت بے اثر ہو سکتی ہے، اصولوں کے بغیر سیاست خطرناک بن جاتی ہے، اور اخلاق کے بغیر ترقی انسانیت کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

آج کا دور اگرچہ جدید ہے، لیکن اس کے مسائل وہی ہیں جن کا سامنا امام حسینؑ نے کیا تھا؛ فرق صرف شکلوں کا ہے۔ اسی لیے کربلا آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گی۔

محرم کا پیغام یہ ہے کہ حق کو پہچانو، ظلم کے سامنے جھکو نہیں، اخلاق کو زندہ رکھو، اور ہر حال میں انسانیت اور عدالت کا پرچم بلند رکھو۔

کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ تلواریں وقتی طور پر جیت سکتی ہیں، لیکن ہمیشہ زندہ رہنے والا نام حسینؑ کا ہوتا ہے۔

 *السلام علی الحسین، وعلی علی بن الحسین، وعلی اولاد الحسین، وعلی اصحاب الحسین۔*

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3114

ٹیگز

تبصرے