بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزب عابدی
کسی بھی مکتب کے مخالفین جب کسی مکتب کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اصل معتقدات اور متن سے استناد کرنے کے بجائے ان خرافات، تواہم پرستیوں اور سطحی و ظاہری امور پر اپنی مخالفتوں کی دلائل بنیاد رکھیں جن میں عام جہلا اور جذباتی لوگ مبتلا ہیں۔ کیونکہ اس طرح تحقیق کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور مکتب کا مذاق اڑانا نسبتا آسان ہوجاتا ہے۔ یعنی یہ لوگ مکتب کے ساتھ پیکار کا سہل ترین راستہ تلاش کرتےہیں۔ ہر چند کہ ان کا انداز ایک مفکر، فلسفی عالم و محقق کے بجائے مبلغ، خطیب یا سوفسطائی سیاست دان کا ہوجاتا ہے لیکن ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ جب تک مکتب پر حملے سے غیر مکتبی ہونے کی راہ ہموار ہوتی رہے یہ اسے جاری رکھتے ہیں۔ خواہ اس کے حصول کیلئے مکتب کے ساتھ بے رحمانہ سلوک بھی روا رکھنا پڑے۔ لہذا یہ امر تعجب خیز نہیں کہ مخالف فرد سائنٹفک فلسفی بنا علمی معیارات پورے کیے علمی بحث چھیڑنے کے بجائے اس مکتب کی فکری و فلسفی باتوں کو چھوڑ کر مکتب کے ماننے والے لوگوں کے تاریخی معاشرتی کردار اور جذباتی رویوں کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور اس مکتب کے علماء، دانشوروں، حکماء کے مقابلے پر آسان راستے سے اس مشکل مہم کو سر کرنا چاہتا ہے۔ چناچہ پھر اس کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ یہ مکتب غیر منطقی، غیر انسانی یا جذبات و تواہمات کا ملغوبہ ہے اور یوں یہ مخالف مکتب، مکتب کی اساسی باتوں، فلسفوں، اہداف، افکار اور اس کی منطق کا تذکرہ تک نہیں کرتا۔
لہذا کسی بھی مکتب، نظریے یا فکری روایت پر غیر علمی حملہ محض ایک استدلالی غلطی نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی، سماجی اور ادراکی (cognitive) عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مخالف صرف کسی مخصوص عقیدے یا فکر پر اعتراض کر رہا ہے، لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو بہت دفعہ اس کا اصل موضوع خود وہ مکتب نہیں ہوتا بلکہ اس مکتب کے بارے میں اس کے ذہن میں بنی ہوئی ایک آسان، جذباتی اور قابلِ حملہ تصویر (attackable representation) ہوتی ہے۔ یوں وہ مکتب سے نہیں بلکہ مکتب کے ایک کمزور عکس سے لڑ رہا ہوتا ہے۔
نفسیات میں انسان کے ذہن کا ایک معروف رجحان یہ ہے کہ وہ پیچیدہ حقیقتوں کو سادہ قالبوں میں تبدیل کرتا ہے تاکہ ان سے نمٹنا آسان ہو جائے۔ جب کسی مکتب کے سامنے ایک مضبوط فلسفہ، مربوط اصول، گہری فکری روایت، علمی ذخیرہ اور طویل تاریخی ارتقاء موجود ہو تو اس کا سامنا علمی دیانت، طویل مطالعہ، مفہوم شناسی اور فکری محنت مانگتا ہے۔ لیکن ہر انسان اس قیمت کو ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ذہن ایک مختصر راستہ اختیار کرتا ہے: اصل متن کو چھوڑ دو، عوامی رویوں کو پکڑ لو؛ اصولوں کو چھوڑ دو، انحرافات کو بنیاد بنا لو؛ مفکرین کو چھوڑ دو، جذباتی نمائندوں کو سامنے لے آؤ۔
یہاں ایک اہم نفسیاتی میکانزم کام کرتا ہے جسے سادہ الفاظ میں “ادراکی کفایت پسندی” (cognitive economy) کہہ سکتے ہیں۔ ذہن وہ راستہ پسند کرتا ہے جس میں کم محنت اور زیادہ نفسیاتی اطمینان ملے۔ کسی فلسفی، متکلم یا محقق کے ساتھ مناظرہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہاں اپنی بنیادیں بھی واضح کرنا پڑتی ہیں، استدلال بھی دکھانا پڑتا ہے، اور شکست کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر کسی معاشرے کے چند سطحی مظاہر، خرافات یا جذباتی رسوم اٹھا کر پورے مکتب کی نمائندگی قرار دے دی جائے تو فتح کا احساس جلد حاصل ہو جاتا ہے۔
اس رجحان کے پیچھے ایک اور نفسیاتی عامل “علامتی فتح” (symbolic victory) ہے۔ بعض مخالفین حقیقتاً مکتب کو سمجھنا نہیں چاہتے بلکہ اپنے ذہن میں اس پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس غلبے کے لیے ضروری نہیں کہ اصل فکر کو شکست دی جائے؛ کافی ہے کہ سامعین کے ذہن میں اس مکتب کی ایک مضحکہ خیز تصویر قائم کر دی جائے۔ اس صورت میں بحث حقیقت کی تلاش نہیں رہتی بلکہ تاثر سازی (impression management) بن جاتی ہے۔ یہاں دلیل کی جگہ خطابت، تحقیق کی جگہ تمثیل، اور تفکر کی جگہ جذباتی فریم سازی لے لیتی ہے۔
اسی مقام پر ایک اور دلچسپ نفسیاتی مظہر سامنے آتا ہے: “خود تصدیقی تعصب” (confirmation bias)۔ مخالف پہلے نتیجہ طے کرتا ہے کہ فلاں مکتب غیر منطقی یا غیر انسانی ہے، پھر شواہد تلاش کرتا ہے جو اس نتیجے کو سہارا دیں۔ چونکہ اصل متون اور اصول اکثر اس نتیجے کی تائید نہیں کرتے، اس لیے وہ مکتب کے کمزور نمائندے، عوامی خرافات، سوشل میڈیا کے نمونے یا تاریخی انحرافات کو منتخب کر لیتا ہے۔ اس انتخابی عمل میں وہ ہر اس مثال کو نظر انداز کرتا جاتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم نتیجے کو چیلنج کرے۔
یہاں طاقت اور شناخت کی نفسیات بھی شامل ہو جاتی ہے۔ انسان اکثر اپنے نظریاتی وجود کو دوسروں کی نفی سے محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اگر کوئی مکتب اپنی فکری قوت کے باعث خطرہ محسوس کرائے تو اس کے بنیادی استدلال سے مکالمہ کرنا اپنے فکری ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا ذہن دفاعی حکمت عملی اختیار کرتا ہے: “اصل بات نہ سنو، نمائشی بات پر حملہ کرو۔” اس طرح مخالف اپنے ذہنی سکون کو محفوظ رکھتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے خطرے کو ختم کر دیا ہے، حالانکہ اس نے صرف اس کی ایک مصنوعی شکل پر حملہ کیا ہوتا ہے۔
بعض اوقات یہ رجحان محض علمی کمزوری نہیں بلکہ سماجی سیاست بھی بن جاتا ہے۔ کیونکہ کسی مکتب کی فلسفیانہ بنیادوں پر گفتگو عوامی سطح پر زیادہ اثر پیدا نہیں کرتی، جبکہ اگر اس مکتب کے ماننے والوں کے چند عجیب، جذباتی یا تاریخی واقعات پیش کر دیے جائیں تو سامعین جلد متاثر ہوتے ہیں۔ یہاں مخالف ایک محقق سے زیادہ ایک رائے ساز (opinion builder) بن جاتا ہے۔ اس کا مقصد صداقت تک پہنچنا نہیں بلکہ سامع کے ذہن میں ایک جذباتی ردعمل پیدا کرنا ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایسے مخالفین اکثر مکتب کے اصل سوالات سے بچتے ہیں۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ اس مکتب کی حقیقتِ انسان کیا ہے، معرفت کا منبع کیا ہے، اخلاق کا معیار کیا ہے، تاریخ کی تعبیر کیا ہے، خدا اور انسان کا تعلق کیا ہے، یا اس کے بنیادی نصوص کیا کہتے ہیں۔ وہ صرف یہ دکھاتے ہیں کہ “دیکھو اس کے ماننے والوں میں فلاں رویہ موجود ہے”، گویا کسی قوم کے ناخواندہ افراد کو اس قوم کے فلسفے کی آخری دلیل قرار دے دیا جائے۔
البتہ یہاں ایک توازن بھی ضروری ہے۔ ہر تاریخی، معاشرتی یا عوامی رویے پر تنقید کو غیر علمی نہیں کہا جا سکتا۔ کسی بھی مکتب کے ماننے والوں کے عملی مظاہر واقعی اس مکتب کے سماجی اثرات کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ لیکن علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ عملی رویے کو اصل متن، بنیادی اصول اور فکری نمائندگی کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے، نہ کہ ان کی جگہ پر بٹھا دیا جائے۔
آخر میں دیکھا جائے تو کسی مکتب کے ساتھ یہ طرزِ تعامل دراصل اس مکتب کی کم اور ناقد کی زیادہ خبر دیتا ہے۔ کیونکہ انسان جس طریقے سے اپنے مخالف کو پڑھتا ہے، اکثر وہی طریقہ اس کی اپنی فکری تربیت، نفسیاتی ساخت، علمی اخلاق اور سچائی سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ جو شخص کسی مکتب کے سب سے کمزور مظہر سے لڑتا ہے، وہ حقیقت میں اس مکتب سے نہیں بلکہ اپنی بنائی ہوئی ایک آسان تصویر سے جنگ کر رہا ہوتا ہے۔ اور آسان جنگیں اکثر آسان فتوحات دیتی ہیں، مگر علمی دنیا میں ایسی فتوحات دیرپا اعتبار پیدا نہیں کرتیں۔
