بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزب عابدی
اردو کے ترقی پسند (Progressive) شعراء و ادیب اور عالمی ترقی پسند ادبی روایت نے اہل بیتؑ، خصوصاً امام حسینؑ اور واقعۂ کربلا کو صرف ایک مذہبی یا مابعد الطبیعی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اکثر نے اسے تاریخ کے ایک عظیم انسانی، اخلاقی، انقلابی اور طبقاتی شعور کے استعارے کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ بات ابتدا ہی میں واضح رہنی چاہیے کہ ترقی پسند حلقہ یکساں نہیں تھا؛ کچھ لوگ مذہب مخالف یا مادّی تعبیر کی طرف گئے، جبکہ بہت سے شعراء و ادیب مذہبی عقائد سے اختلاف کے باوجود کربلا کی معنویت، امام حسینؑ کی اخلاقی عظمت اور ظلم کے خلاف ان کے قیام کو غیر معمولی انسانی سرمایہ سمجھتے تھے۔
اردو کے ترقی پسند ادب میں ایک اہم رجحان یہ رہا کہ مذہبی تاریخ کو جامد تقدیس کے بجائے زندہ سماجی معنی دیے جائیں۔ اس تناظر میں امام حسینؑ ایک ایسے کردار بن کر سامنے آتے ہیں جو اقتدار کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کرتا ہے، جبکہ کربلا ایک ایسا مقام بنتا ہے جہاں حق اور طاقت، اصول اور مفاد، شعور اور جبر آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
فیض احمد فیض کے ہاں اگرچہ براہِ راست مذہبی منبر کی زبان نہیں ملتی، لیکن ظلم کے خلاف مزاحمت، شہادت کی جمالیات اور تاریخ کے محروم انسان کے ساتھ وابستگی کا ایک ایسا لہجہ موجود ہے جسے بہت سے ناقدین نے کربلائی شعور سے قریب قرار دیا۔ فیض کے ہاں شہادت صرف موت نہیں بلکہ سچائی کی قیمت بن جاتی ہے۔
جوش ملیح آبادی نے امام حسینؑ کو محض ماتمی روایت میں نہیں بلکہ آزادی، غیرت اور حریت کے استعارے کے طور پر پیش کیا۔ ان کی شاعری میں کربلا ایک زندہ انقلابی علامت بن جاتی ہے۔ جوش کے ہاں یزیدیت صرف ایک تاریخی شخص نہیں بلکہ ہر دور کا استحصالی نظام ہے۔
سجاد ظہیر اور ترقی پسند تحریک کے دیگر مفکرین عمومی طور پر مذہب کی سماجی تعبیر کی طرف مائل تھے، لیکن ان کے حلقوں میں بھی امام حسینؑ کے کردار کو طاقت کے خلاف ضمیر کی آواز کے طور پر دیکھا گیا۔
اسی طرح عالمی سطح پر Pablo Neruda، Bertolt Brecht، Jean-Paul Sartre یا Eduardo Galeano جیسے ادیبوں نے اگرچہ براہِ راست امام حسینؑ پر کم لکھا، لیکن ان کے ہاں مظلوم انسان، طاقت کے خلاف مزاحمت اور تاریخ کے محکوم طبقے کا تصور ایسا ہے جس میں کربلا کی معنوی بازگشت محسوس کی گئی ہے۔ بعض جدید ناقدین نے کربلا کو عالمی “ethics of resistance” یعنی مزاحمتی اخلاقیات کی عظیم مثال قرار دیا۔
تاہم یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔ ترقی پسند تعبیر عموماً کربلا کو “طبقاتی جدوجہد”، “سیاسی مزاحمت” یا “انسانی آزادی” کے فریم میں سمجھتی ہے، جبکہ شیعہ علوی تعبیر میں کربلا صرف سیاسی انقلاب نہیں بلکہ توحید، ولایت، انسان سازی، عدلِ الٰہی اور دین کی حفاظت کی الٰہی جدوجہد بھی ہے۔ یعنی امام حسینؑ صرف مظلوم عوام کے نمائندہ نہیں بلکہ حجتِ خدا اور دینِ محمدیؐ کے محافظ بھی ہیں۔ اس لیے شیعہ فکر میں کربلا کو صرف انقلابی سیاست تک محدود کرنا ناکافی سمجھا جاتا ہے۔
یہی مقام ہے جہاں “رجعتی اسلام” اور “علوی اسلام” کی بحث سامنے آتی ہے۔
“رجعتی اسلام” کی اصطلاح کو مختلف ادوار میں مختلف مفکرین نے استعمال کیا، لیکن عمومی طور پر اس سے مراد ایسا مذہبی تصور لیا جاتا ہے جو اقتدار کی بقا، طبقاتی مفادات، جبر، ظاہرداری، اور حکمرانوں کی اطاعت کو دین کا نام دے۔ شیعہ انقلابی ادبیات اور بعض جدید اسلامی مفکرین نے بنو امیہ کے دور کو اس رجحان کی تاریخی مثال قرار دیا؛ ایسا نظام جس میں خلافت کو ملوکیت میں بدل دیا گیا، مذہب کو اقتدار کی مشروعیت کے لیے استعمال کیا گیا، اور عدالت و اخلاق کے بجائے نظم و غلبے کو ترجیح دی گئی۔
اس کے مقابل “علوی اسلام” یا “کربلائی اسلام” ایک ایسی تعبیر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس میں عدل، کرامتِ انسان، امر بالمعروف، ظلم سے عدمِ مصالحت، اخلاقی قیادت اور خدا مرکز اجتماعی نظم بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ اس تعبیر کے مطابق اصل فرق صرف دو شخصیات کے درمیان نہیں بلکہ دو طرزِ فکر کے درمیان ہے: ایک ایسا دین جو اقتدار کو مرکز بناتا ہے اور دوسرا ایسا دین جو حق کو مرکز بناتا ہے۔
شیعہ فکری روایت میں یہی تصور بعد کے ادوار میں مختلف تعبیرات کے ساتھ سامنے آتا رہا کہ اسلام کی ایک قرأت وہ ہے جو محلوں میں پروان چڑھتی ہے اور دوسری وہ جو محراب، میدان اور شہادت میں اپنی سچائی ثابت کرتی ہے۔ کربلا اسی دوسری قرأت کی علامت بن جاتی ہے۔
اسی وجہ سے بہت سے ترقی پسند ادیب، چاہے وہ مکمل مذہبی نہ ہوں، امام حسینؑ کی طرف احترام سے دیکھتے ہیں؛ کیونکہ ان کے نزدیک حسینؑ اس انسان کا نام ہے جو کامیابی کی تعریف بدل دیتا ہے: ظاہری شکست کے باوجود تاریخی فتح۔ جبکہ علوی و شیعی نگاہ میں اس میں ایک اور جہت شامل ہو جاتی ہے: یہ صرف اخلاقی فتح نہیں بلکہ دین کی بقا اور انسان کی ہدایت کی تاریخ ہے۔
یوں ترقی پسند تعبیر اور علوی تعبیر کئی مقامات پر ظلم مخالفی، عدالت اور مزاحمت میں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں، لیکن ان کے مابعد الطبیعی، الٰہیاتی اور مقصدی افق مختلف رہتے ہیں۔
