2

*اصول اور مفاد کے بیچ لٹکا ہوا انسان*

  • نیوز کوڈ : 3105
  • 12 June 2026 - 22:05
*اصول اور مفاد کے بیچ لٹکا ہوا انسان*

*اصول اور مفاد کے بیچ لٹکا ہوا انسان*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر: سید جہانزب عابدی

آج ایک خاص سماجی و فکری طبقے کی طرف دیکھتے ہیں جسے ھم “ اصلاح طلب مائنڈ سیٹ” کہتے ہیں، یہ بھی واضح کردیں کہ مراد وہ لوگ ہیں جو مذہبی، انقلابی یا اصولی شناخت رکھتے ہوئے عملی سطح پر مغربی طرزِ زندگی، اقتدار، سہولت، قبولیت یا مفاد کے ساتھ ہم آہنگی چاہتے ہیں؛ یعنی نظریاتی وابستگی اور عملی رجحان کے درمیان دوہرا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر “نماز علیؑ کے پیچھے اور طعام معاویہ کے دسترخوان پر” والی معروف تعبیر یہاں بہت مناسب ہے۔ اس موضوع کو نفسیاتی، تاریخی اور قرآنی زاویے سے سمجھا جا سکتا ہے۔

ایسے مائنڈ سیٹ کی پہلی نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر اقدار اور مفادات کے درمیان مستقل تناؤ ہوتا ہے۔ انسان فکری طور پر حق، عدل، مزاحمت، دین یا معنویت سے متاثر ہوتا ہے لیکن نفسیاتی سطح پر راحت، قبولیت، معاشرتی مقام، عالمی طاقت کے ساتھ قربت یا ذاتی آسائش بھی نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اس سے ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے نفسیات میں داخلی تضاد یا value conflict کہا جا سکتا ہے۔ ایسے فرد کو اکثر اپنی ذات کے اندر دو متوازی زندگیاں بنانی پڑتی ہیں: ایک جس سے وہ اپنی شناخت اخذ کرتا ہے اور دوسری جس سے وہ اپنے فائدے حاصل کرتا ہے۔

یہ ذہن عموماً اپنے آپ کو منافق نہیں سمجھتا۔ بلکہ وہ اپنے اندر ایک “مصالحانہ فلسفہ” بناتا ہے۔ وہ کہتا ہے: مقصد اچھا ہے لیکن طریقہ بدلنا چاہیے، اصول اہم ہیں مگر دنیا بھی چلانی ہے، اقدار ضروری ہیں مگر عملی ہونا بھی ضروری ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب “عملی ہونا” آہستہ آہستہ “اصول کو مؤخر کرنا” بن جاتا ہے اور پھر آخرکار اصول صرف علامت رہ جاتے ہیں۔

ایسے کردار کی ایک نفسیاتی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ زبان میں اصولی اور عمل میں موقع شناس ہوتا ہے۔ گفتگو میں عدل، اخلاق، اصلاح، روشن خیالی، وحدت، حقیقت پسندی اور اعتدال جیسے الفاظ زیادہ استعمال کرتا ہے لیکن جب کسی قیمت پر موقف ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے لیے استثناء تلاش کرتا ہے۔ وہ قربانی کے بجائے توازن کا نام لے کر پیچھے ہٹتا ہے۔

دوسری علامت یہ ہے کہ یہ طبقہ ہمیشہ طاقت کی نفسیات سے متاثر رہتا ہے۔ وہ کھلے عام طاقت کی عبادت نہیں کرتا بلکہ کامیابی، ترقی، حقیقت پسندی اور عالمی معیار کے عنوان سے طاقت کی سمت جھکاؤ پیدا کرتا ہے۔ اس کے نزدیک شکست خوردہ حق سے زیادہ کامیاب باطل قابلِ فہم لگنے لگتا ہے۔

تیسری علامت “اخلاقی برتری کے احساس” کی ہوتی ہے۔ یہ لوگ خود کو عام متدین یا انقلابی طبقے سے زیادہ بالغ، زیادہ سمجھدار اور زیادہ مہذب سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ باقی لوگ جذباتی یا تاریخی رومانویت کا شکار ہیں جبکہ وہ “اصل دنیا” کو سمجھتے ہیں۔ یہی احساس آہستہ آہستہ انہیں اپنی تنقید سے مستثنیٰ کر دیتا ہے۔

قرآن میں اس مائنڈ سیٹ کی کئی پرتیں ملتی ہیں۔ ان میں سے ایک وہ گروہ ہے جو ایمان اور مصلحت کے درمیان معلق رہتا ہے:

«مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ»

یعنی وہ ادھر کے ہوتے ہیں نہ اُدھر کے۔ یہاں اصل مسئلہ صرف عقیدہ نہیں بلکہ شخصیت کی تقسیم ہے۔

اسی طرح بعض لوگ حق کو پہچانتے ہیں مگر اس کی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتے۔ قرآن بنی اسرائیل کے بعض رویوں میں دکھاتا ہے کہ حق کے ساتھ نسبت برقرار رکھنا اور عملی قربانی سے بچنا ایک مستقل انسانی بیماری ہے۔

تاریخِ معصومینؑ میں بھی یہ نفسیات بار بار سامنے آتی ہے۔ امیرالمؤمنینؑ کے زمانے میں ایک بڑا طبقہ ایسا تھا جو عدالتِ علوی کو اخلاقی طور پر درست سمجھتا تھا لیکن معاویہ کے سیاسی استحکام، معاشی کشش یا سماجی تحفظ کو زیادہ آرام دہ پاتا تھا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں “حق کی معرفت” اور “حق کے ساتھ کھڑا ہونے” کے درمیان فاصلہ پیدا ہوا۔

امام حسینؑ کے زمانے میں بھی کوفہ صرف دشمنوں سے نہیں بھرا ہوا تھا؛ وہاں ایسے لوگ بھی تھے جو دل سے حق کو سمجھتے تھے لیکن خوف، دنیا طلبی، سماجی دباؤ یا وقتی مصلحت کے تحت عملی وفاداری نہ دکھا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں صرف جہالت نہیں بلکہ حبِ دنیا کو بھی ایک بنیادی رکاوٹ کے طور پر بیان کیا گیا۔

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ پیدا ہوتا ہے: ہر اصلاح طلب، ہر جدید پسند، ہر مغرب سے متاثر شخص اس نفسیات کا حامل نہیں ہوتا۔ بعض لوگ واقعی اصلاح چاہتے ہیں اور تنقید برائے اصلاح کرتےہیں اور بعض لوگ اپنی تہذیب سے وفادار رہتے ہوئے جدید مسائل کے حل تلاش کرتے ہیں۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں “اصلاح” اپنی تہذیبی خودی سے شرمندگی اور “عملیت” اصولوں کی تجارت بن جائے۔

اس ذہنی ساخت کو مزید گہرائی سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی یا مذہبی رویہ نہیں بلکہ ایک خاص قسم کی شخصیت سازی (personality formation) کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد اکثر اپنے آپ کو “درمیانی راستے” کا نمائندہ سمجھتے ہیں، لیکن عملی طور پر ان کا درمیانی راستہ اکثر طاقت اور اصول کے درمیان غیر مساوی مصالحت بن جاتا ہے؛ یعنی جہاں قیمت دینی ہو وہاں اصول پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور جہاں شناخت برقرار رکھنی ہو وہاں اصول زبان پر رہتے ہیں۔

نفسیاتی اعتبار سے اس کے پیچھے ایک اہم عامل “داخلی عدمِ تحفظ” ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی تہذیب، تاریخ، مذہب یا اجتماعی صلاحیت پر پورا اعتماد کھو دیتا ہے تو وہ دو کام کرتا ہے: علامتی طور پر اپنی اصل شناخت سے وابستہ رہتا ہے اور عملی طور پر غالب تہذیب کی طرف جھکنے لگتا ہے۔ اسے یوں سمجھیں کہ وہ اندر سے یہ ماننے لگتا ہے کہ “حق ہمارے پاس ہو سکتا ہے، لیکن کامیابی ان کے پاس ہے۔” یہ جملہ اگرچہ زبان پر نہیں آتا مگر سوچ کے اندر بیٹھ جاتا ہے۔

اس ذہن کی ایک پیچیدہ علامت “منتخب اصول پسندی” ہے۔ مثلاً جب ظلم دور ہو تو وہ مزاحمت، قربانی، حریت اور اصول کی بات کرے گا؛ لیکن جب وہی اصول اس کے روزگار، سماجی حیثیت، تعلقات یا ذاتی آسائش سے ٹکرائیں تو فوراً نئے فقہی، فکری، سماجی یا سیاسی جواز پیدا ہونے لگتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے اس رویے کو کبھی دنیا طلبی نہیں کہتا بلکہ اسے “حکمت”، “تدریج”، “وسیع النظری” یا “حقائق پسندی” کے عنوان سے پیش کرتا ہے۔

تاریخِ معصومینؑ میں اس کی کئی پرتیں ملتی ہیں۔

امیرالمؤمنینؑ کے دور میں ایک طبقہ ایسا تھا جو آپؑ کی فضیلت، علم اور حقانیت کا انکار نہیں کرتا تھا، لیکن جب معاشی نظم، قبائلی مفاد یا سیاسی قیمت سامنے آتی تو پیچھے ہٹ جاتا۔ نہج البلاغہ کے خطبات میں بار بار یہ درد نظر آتا ہے کہ لوگ حق کو جانتے ہوئے بھی اس کے ساتھ ثابت قدم نہیں رہتے۔ یہ صرف منافقت نہیں تھی؛ بعض اوقات یہ “دنیا کو کھونے کا خوف” تھا۔

امام حسنؑ کے زمانے میں یہ نفسیات اور زیادہ واضح ہوئی۔ بہت سے افراد امامؑ کی بیعت میں تھے لیکن نفسیاتی طور پر جنگ کی قیمت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے حق کی تائید کو اس وقت تک قبول کیا جب تک اس کی قیمت کم تھی۔ جیسے ہی قیمت بڑھی، وفاداری کی جگہ حساب کتاب نے لے لی۔

کربلا اس ذہنی ساخت کا سب سے بڑا آئینہ ہے۔ عام طور پر کربلا کو صرف دو گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: حسینؑ اور یزید۔ لیکن تاریخی حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک تیسرا طبقہ بھی تھا: وہ جو امامؑ کو غلط نہیں سمجھتے تھے مگر اپنے لیے حالات، خاندان، معیشت، خوف، سیاسی مصلحت یا مستقبل کے امکانات کو زیادہ اہم سمجھتے تھے۔ اسی لیے بعض روایتی تعبیرات میں آیا کہ ان کے دل امامؑ کے ساتھ تھے اور تلواریں مخالف سمت میں۔

یہاں ایک نفسیاتی نکتہ بہت اہم ہے: ایسے لوگ اکثر برے انسان نہیں ہوتے؛ کمزور انسان ہوتے ہیں۔ مگر اگر کمزوری مستقل مزاج بن جائے تو آہستہ آہستہ انسان اپنے اندر ایک نظریہ بنا لیتا ہے جس سے وہ اپنی کمزوری کو فضیلت ثابت کرنے لگتا ہے۔

قرآن میں اس کی ایک اور مثال وہ لوگ ہیں جو حق کو اس وقت قبول کرتے ہیں جب اس سے دنیاوی فائدہ ہو:

«فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ»

یعنی اگر فائدہ ملا تو مطمئن، اور آزمائش آئی تو پلٹ گئے۔ یہاں ایمان کی نفسیات بیان ہو رہی ہے: شرطی وابستگی۔

ایسے کردار کی روزمرہ علامات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ وہ ہمیشہ اصولی افراد کے لیے یہ الفاظ استعمال کرتا ہے: “انتہاپسند”، “غیر حقیقت پسند”، “جذباتی”، “زمانہ نہیں سمجھتے”۔ لیکن طاقتور یا غالب فریق کے لیے اس کے الفاظ بدل جاتے ہیں: “عملی”، “مؤثر”، “حقیقت پسند”، “سیاست سمجھتے ہیں”۔ اس کی لغت ہی اس کی نفسیات ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی دلچسپ ہے کہ ایسے لوگ اکثر اپنے سے زیادہ مخلص لوگوں پر طنز کرتے ہیں، کیونکہ مخلص آدمی ان کے اندر چھپے ہوئے تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔ جو شخص خود قیمت ادا نہ کر سکا ہو، اسے قربانی دینے والا شخص لاشعوری طور پر بے چین کرتا ہے۔

لیکن یہاں ایک اور خطرہ بھی ہے: ہر اختلاف کرنے والے یا ہر اعتدال پسند شخص کو اس خانے میں رکھ دینا بھی غلط ہے۔ بعض اوقات واقعی حکمت، تدریج اور مصلحت بھی دینی اصول ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ مصلحت کس کے تابع ہے: حق کے یا مفاد کے؟

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3105

ٹیگز

تبصرے