2

والدین و اولاد کے بیچ روابط اور اسلام

  • نیوز کوڈ : 3095
  • 11 June 2026 - 22:13
والدین و اولاد کے بیچ روابط اور اسلام

والدین و اولاد کے بیچ روابط اور اسلام

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر: سید جہانزب عابدی

والدین کی اطاعت و احترام اور دینی مخالفت میں قطع تعلق کا مسئلہ بظاہر ایک تضاد لگتا ہے لیکن دراصل یہ دین کے دو بنیادی اصولوں کے درست فہم سے حل ہو جاتا ہے: ایک طرف والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور خدمت کی تاکید ہے، یہاں تک کہ قرآن نے انہیں “اف” کہنے سے بھی روکا ہے، اور دوسری طرف یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر والدین شرک یا گناہ کی طرف بلائیں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ ان دونوں ہدایات کے درمیان توازن ہی اصل دینی بصیرت ہے، نہ کہ کسی ایک کو دوسرے پر قربان کر دینا۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام میں اطاعت اور احترام دو الگ دائرے ہیں۔ اطاعت صرف معروف اور جائز امور میں ہے، جبکہ احترام اور حسنِ سلوک ایک مستقل اخلاقی فریضہ ہے جو والدین کے عقائد یا فکری سطح سے مشروط نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر والدین دینی تربیت کے کسی پہلو میں کم فہم ہوں یا حتیٰ کہ بعض دینی رجحانات کے مخالف ہوں تو بھی ان کے ساتھ نرمی، ادب، خدمت اور شفقت کا تعلق برقرار رکھنا لازم رہتا ہے۔ ان کی غلطی یا فکری کمزوری اس حق کو ختم نہیں کرتی۔

جہاں تک اس صورت کا تعلق ہے کہ والدین بچے کی دینی و فکری ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہوں، تو یہاں دین ایک حکیمانہ راستہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یعنی ٹکراؤ اور جذباتی ردعمل کے بجائے تدریج، حکمت اور نرم اسلوب اختیار کیا جائے۔ قرآن کا انداز بھی یہی ہے کہ “وقولوا للناس حسناً” اور “ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کا عمل تصادم کے ذریعے نہیں بلکہ حکمت کے ذریعے انجام دیا جائے۔

اگر والدین سختی کریں یا غلط فکری دباؤ ڈالیں تو اس صورت میں بھی بنیادی اصول یہ ہے کہ تعلق ختم نہیں کیا جاتا بلکہ تعلق کی نوعیت کو منظم کیا جاتا ہے۔ یعنی اطاعتِ غیرِ شرعی امور میں نہیں کی جائے گی، لیکن خدمت، مالی مدد، جسمانی دیکھ بھال، ملاقات، احترام اور دعا کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بعض اوقات “فکری حد بندی” ضروری ہوتی ہے لیکن “رشتہ ختم کرنا” آخری اور انتہائی نادر صورت ہے جو صرف اس وقت سامنے آتی ہے جب دین یا جان، یا شدید نقصان کا حقیقی خطرہ ہو، اور وہ بھی مکمل قطع تعلق کے بجائے محدود فاصلے کی صورت میں۔

رزق کے بارے میں یہ تصور بھی درست فہم کا محتاج ہے کہ رزق کی وسعت یا تنگی صرف ظاہری خدمت یا قطع تعلق سے مشروط نہیں بلکہ اصل میں رزق میں برکت والدین کی رضا اور صلہ رحمی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے دینی ارتقاء کو قربان کر دے۔ بلکہ توازن یہ ہے کہ انسان والدین کے ساتھ حسنِ سلوک بھی کرے اور اپنی دینی و فکری راہ بھی حکمت کے ساتھ جاری رکھے۔ اسلام کسی ایسی نیکی کا تقاضا نہیں کرتا جو انسان کو دینی زوال یا فکری غلامی میں ڈال دے، اور نہ ہی ایسی خود مختاری کی اجازت دیتا ہے جو والدین کی بے ادبی یا قطع رحمی تک لے جائے۔

اس مخمصے کا عملی حل یہ ہے کہ انسان اپنے رویے میں تین چیزیں واضح رکھے: ایک نرم لہجہ اور احترام جو کبھی ختم نہ ہو، دوسرا دینی اصولوں پر غیر لچکدار استقامت، اور تیسرا حکمت عملی یعنی وقت، حالات اور تدریج کے مطابق گفتگو اور عمل۔ یوں نہ تعلق ٹوٹتا ہے، نہ دین کمزور ہوتا ہے، اور نہ ہی انسان والدین کی ناراضگی یا اپنی فکری ترقی کی رکاوٹ میں الجھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دین یہاں کسی ایک انتہا کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ایک متوازن انسان بناتا ہے جو بیک وقت فرزند بھی ہو، مؤمن بھی ہو اور صاحبِ بصیرت بھی۔

دیسی معاشروں میں والدین کے تقاضے صرف جذباتی نہیں ہوتے بلکہ ان کے اندر سماجی تجربہ، روایتی اقدار، معاشی تحفظ اور خاندان کے نظام کو برقرار رکھنے کی خواہش بھی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی رجحان رکھنے والے نوجوان، خاص طور پر جین زی یا اس سے پہلے کی نسلیں، اکثر ایک ایسی کشمکش میں آ جاتے ہیں جہاں ایک طرف ان کا دینی شعور اور ذاتی ترجیحات ہوتی ہیں اور دوسری طرف والدین کی توقعات۔ دین اس پورے معاملے میں ایک بہت متوازن اصولی فریم ورک دیتا ہے جس میں والدین کے حقوق بھی محفوظ رہتے ہیں اور فرد کی آزادی اور دینی ذمہ داری بھی برقرار رہتی ہے۔

عام طور پر والدین شادی کے معاملے میں یہ توقع رکھتے ہیں کہ بیٹا یا بیٹی ان کی مرضی، برادری، خاندان یا مالی حیثیت کے مطابق رشتہ اختیار کرے۔ اس کے پیچھے ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ شادی صرف دو افراد کا معاملہ نہیں بلکہ دو خاندانوں کا اتحاد ہے۔ دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ والدین کی پسند کو لازماً واجب قرار دیا جائے، کیونکہ نکاح بنیادی طور پر مرد اور عورت کی رضامندی پر قائم ہوتا ہے۔ اگر والدین کسی ایسے رشتے پر مجبور کریں جو دینی، اخلاقی یا ذاتی لحاظ سے مناسب نہ ہو تو وہاں اطاعت لازم نہیں رہتی۔ البتہ دین یہ ضرور سکھاتا ہے کہ اس اختلاف کو بدتمیزی، ٹکراؤ یا قطع تعلق تک نہ پہنچایا جائے بلکہ حکمت، نرمی اور دلیل کے ساتھ بات کی جائے۔

اسی طرح والدین اکثر روزگار کے معاملے میں بھی اپنے تجربے کی بنیاد پر تقاضے رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بیٹا یا بیٹی محفوظ، مستحکم اور روایتی ملازمت اختیار کرے، چاہے وہ ان کے رجحان یا صلاحیت کے مطابق نہ ہو۔ دین یہاں بھی یہ اصول دیتا ہے کہ انسان اپنی صلاحیت، حلال کمائی اور جائز مواقع کے مطابق فیصلہ کرنے میں آزاد ہے۔ والدین کا مشورہ اہم اور قابلِ احترام ہے مگر حتمی پابندی نہیں، خصوصاً جب وہ مشورہ انسان کی دینی یا عملی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہو یا اس کے اندرونی رجحان کے خلاف ہو۔

سسرال کے انتخاب اور رشتوں کے نیٹ ورک میں بھی اکثر والدین سماجی ہم آہنگی، خاندانی حیثیت اور روایتی تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔ دین اس میں بھی توازن دیتا ہے کہ معیار تقویٰ، اخلاق اور مناسب ہم آہنگی ہونا چاہیے، نہ کہ صرف طبقاتی یا خاندانی تفاخر۔ اگر والدین کسی ایسے انتخاب پر زور دیں جو دینی یا اخلاقی معیار سے کم ہو، تو وہاں بھی اطاعت واجب نہیں رہتی، لیکن احترام اور نرم رویہ برقرار رہتا ہے۔

ساس بہو کا مسئلہ زیادہ تر “اختلافِ اختیار” اور “توقعات کے ٹکراؤ” سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اصل بد نیتی سے۔ ساس عموماً اپنی برسوں کی عادت، تجربے اور گھر کے نظام کو معیار بناتی ہے، جبکہ بہو ایک نئے ماحول میں اپنی شناخت اور آزادی کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ دین اس رشتے میں دونوں طرف سے حسنِ ظن، نرمی اور برداشت کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ کنٹرول یا مزاحمت کا۔

ساس کے لیے بہتر ہے کہ وہ بہو کو بیٹی سمجھ کر رہنمائی کرے، حکم چلانے کے انداز سے نہیں، جبکہ بہو کے لیے ضروری ہے کہ وہ احترام اور تدریج کے ساتھ خود کو اس نئے گھر کے مزاج میں ڈھالے۔ دونوں اگر اپنی “حق پرستی” کے بجائے “رشتے بچانے” کو ترجیح دیں تو زیادہ تر مسائل خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

ساس بہو کے جھگڑے میں جب شوہر “بیٹا” بن کر ماں کی طرف مکمل جھک جاتا ہے تو مسئلہ جذباتی کم اور انتظامی زیادہ بن جاتا ہے۔ یہاں بنیادی غلطی یہ ہوتی ہے کہ مرد اپنے کردار کی دو حیثیتوں کو الگ نہیں رکھ پاتا: ایک بیٹے کی حیثیت اور دوسری شوہر کی حیثیت۔ دونوں حقائق اپنی جگہ درست ہیں، مگر دونوں کے تقاضے ایک جیسے نہیں ہوتے۔

اسلامی اور اخلاقی اصول یہ ہے کہ شوہر پر ماں کی خدمت اور احترام لازم ہے، لیکن بیوی کے ساتھ عدل، سکون اور تحفظ فراہم کرنا بھی اسی درجے کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ ہر بات میں ماں کے جذبات کو بنیاد بنا کر بیوی کو دبا دے تو وہ غیر ارادی طور پر ایک نئے ظلم کی طرف چلا جاتا ہے، کیونکہ نکاح کے بعد بیوی بھی ایک مستقل حق رکھتی ہے، صرف “مہمان” یا “اضافی فرد” نہیں رہتی۔

صحیح رویہ یہ ہے کہ شوہر خود کو “ثالث” نہیں بلکہ “عدل کرنے والا ذمہ دار” سمجھے۔ یعنی وہ نہ ماں کے جذبات کو نظر انداز کرے اور نہ بیوی کے حقوق کو قربان کرے۔ ماں کی خدمت اپنی جگہ رہے، مگر بیوی کے ساتھ فیصلہ کرتے وقت گھر کے نئے نظام اور اس کی نفسیاتی ضرورتوں کو بھی اہمیت دی جائے۔ اکثر بہتر حل یہ ہوتا ہے کہ رہائش، نجی حدود اور ذمہ داریوں کو واضح کر دیا جائے تاکہ ٹکراؤ کے مواقع کم ہوں۔

اگر ماں اور بیوی کے درمیان براہِ راست کشیدگی ہو تو شوہر کو بیچ میں آ کر جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ حکمت سے ہر فریق کو الگ سمجھانا چاہیے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں حدود مقرر کرے۔ اسلام میں والدین کا احترام فرض ہے لیکن کسی دوسرے جائز رشتے کو توڑنے یا مسلسل اذیت دینے کی قیمت پر نہیں۔

اصل کامیابی اسی میں ہے کہ مرد گھر کو “ماں کی توسیع” یا “بیوی کی ملکیت” بنانے کے بجائے ایک متوازن نظام بنائے، جہاں ہر رشتے کا مقام واضح ہو۔ جب حدود واضح ہو جائیں اور گفتگو احترام کے دائرے میں رہے تو زیادہ تر ساس بہو کے تنازعات خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔ اسلامی زاویے سے اس تعلق کی اصل روح یہ ہے کہ گھر طاقت کی جنگ نہیں بلکہ سکون اور رحمت کا مرکز ہو، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں طرف انا کے بجائے اخلاق غالب ہو۔

ایک اور بڑا پہلو رہائش اور طرزِ زندگی کا ہے۔ والدین اکثر چاہتے ہیں کہ بیٹا ان کے قریب رہے، مشترکہ خاندان کا نظام برقرار رکھے اور پرانے اندازِ زندگی کو جاری رکھے۔ جبکہ نئی نسل آزادی، الگ رہائش یا خود مختار زندگی کی طرف مائل ہوتی ہے۔ دین اس میں بھی کسی ایک ماڈل کو لازمی قرار نہیں دیتا، نہ مشترکہ خاندان فرض ہے اور نہ الگ رہنا گناہ ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ والدین کی خدمت، رابطہ اور احترام برقرار رہے اور ان کی بنیادی ضرورتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

تعلیم اور دینی رجحان کے معاملے میں بھی بعض والدین غیر شعوری طور پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، مثلاً دینی تحقیق، فکری سرگرمی یا مختلف علمی راستوں کو غیر عملی سمجھنا۔ یہاں دین نوجوان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے علمی اور دینی شعور کے مطابق راستہ اختیار کرے، بشرطیکہ اس میں والدین کی توہین یا ان سے مکمل انقطاع نہ ہو۔

اسلامی اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین کے تقاضے “مشورہ” کی حد تک معتبر ہیں، “جبر” کی حد تک نہیں۔ اطاعت وہاں واجب ہے جہاں اللہ کی نافرمانی نہ ہو اور جہاں فرد کی بنیادی دینی، اخلاقی یا وجودی سمت متاثر نہ ہو۔ لیکن اس آزادی کے ساتھ ایک مستقل اخلاقی ذمہ داری جڑی رہتی ہے، یعنی احترام، خدمت، حسنِ سلوک، اور نرم گفتگو۔ یہی وہ نکتہ ہے جو دین نے بہت واضح کیا ہے کہ انسان اپنی راہ بھی چل سکتا ہے اور والدین کا سایہ بھی اپنے اخلاق سے قائم رکھ سکتا ہے۔

یوں دین نہ تو نوجوان کو والدین کے جذبات کے ہاتھوں مکمل طور پر مقید کرتا ہے اور نہ ہی اسے اس حد تک آزاد چھوڑتا ہے کہ وہ قطع تعلق یا بے ادبی تک پہنچ جائے۔ یہ ایک توازن ہے جہاں فرد اپنی شناخت بھی بناتا ہے اور اپنے خاندانی رشتوں کو بھی بکھرنے نہیں دیتا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3095

ٹیگز

تبصرے