بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزب عابدی
غلو دین میں افراط و تفریط کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں کوئی فرد کسی شخصیت، جیسے انبیاء یا ائمہ، کو ان کے حقیقی مقام سے بلند کر دیتا ہے، حتی کہ انہیں الوہیت یا ربوبیت کے درجے پر فائز کر دیتا ہے۔ یہ ایک بڑی فکری گمراہی ہے جسے اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس سے دین کی اصل تعلیمات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور توحید کا بنیادی اصول متاثر ہوتا ہے۔
*غلو اور غالی کی نفسیاتی کیفیت کا تجزیہ*
غالی کی نفسیات میں عمومی طور پر چند عوامل شامل ہوتے ہیں جو اس رویے کی طرف لے جاتے ہیں:
1. *احساسِ محرومی اور عظمت کی طلب*: غالی افراد عموماً ایسے نفسیاتی احساسات میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں انہیں اپنی ذات کی عظمت محسوس نہیں ہوتی، اور وہ کسی عظیم شخصیت کو اپنے لئے سہارا بناتے ہیں۔ ائمہ یا دیگر برگزیدہ شخصیات سے بے حد عقیدت کی بنا پر وہ ان کو اتنا بلند کر دیتے ہیں کہ اپنی نفسیاتی کمی کو پورا کر سکیں۔
2. *تسلط اور یقین کی حدیں*: غالی افراد کے نزدیک ایک بےحد طاقتور یقین ہوتا ہے جسے وہ خود تسکین یا حفاظت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جب یہ یقین شدت اختیار کرتا ہے تو وہ ائمہ یا شخصیات کے بارے میں عقائد کو اس طرح سے قبول کر لیتے ہیں جو دین کے بنیادی اصولوں سے تجاوز کر جاتے ہیں۔
3. *غیر معمولی عقائد اور حقیقت پسندی سے دوری*: غالی افراد عموماً حقیقت پسندی سے دور ہوتے ہیں اور غیر منطقی عقائد اختیار کرتے ہیں۔ وہ اس چیز کو قبول نہیں کر پاتے کہ ائمہ بھی بشر تھے اور اللہ کی اطاعت کے تابع تھے، اور اسی وجہ سے انہیں ربوبیت یا الوہیت کی صفات دینا گمراہی کے زمرے میں آتا ہے۔
4. *حد سے زیادہ عقیدت*: غلو کی نفسیاتی کیفیت میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عقیدت کی شدت فرد کو اندھا کر دیتی ہے۔ یہ حد سے زیادہ عقیدت عقل و شعور کو مفلوج کر دیتی ہے، جس سے وہ شخصیات کے مقام کو غیر ضروری طور پر بلند کر دیتا ہے۔
*غالی جدید عملیات اور ائمہ کی تعلیمات کو کیوں نہیں اپناتا؟*
غالی کے لیے ائمہ کی تعلیمات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ:
1. *جمود اور ارتقاء سے خوف*: غالی افراد عموماً جمود کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ تصور ہوتا ہے کہ جو کچھ پہلے کہا گیا ہے یا جو روایات انہوں نے قبول کی ہیں، ان میں کسی قسم کی تبدیلی یا جدید دور کی ضروریات کے مطابق کوئی ارتقاء نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنی عقیدت کو کسی بھی جدید تصور سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔
2. *ائمہ کی حقیقی تعلیمات سے لاعلمی*: غالی افراد ائمہ کی اصل تعلیمات اور ان کے سماجی و سیاسی اعمال سے عموماً واقف نہیں ہوتے یا انہیں اس انداز میں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جس میں اصل مفہوم آشکار ہوتا ہے۔ ائمہ نے ہمیشہ حقیقی اسلامی اصولوں پر چلنے کی تعلیم دی، مگر غالی انہیں زیادہ تر الٰہی صفات کے ساتھ جوڑتے ہیں اور ان کی حقیقی انسانی اور اصلاحی جدوجہد سے انکار کرتے ہیں۔
3. *نظامِ عمل سے فرار*: ائمہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا مطلب ایک خاص نظامِ عمل کو اپنانا ہے جو جدوجہد، صبر، اور احتساب پر مبنی ہوتا ہے۔ غالی عموماً اس قسم کی جدوجہد سے گریز کرتے ہیں اور صرف روحانی یا خرافاتی انداز سے ائمہ کی محبت میں گم رہتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ حقیقی اسلامی نظام میں اپنی زندگی گزاریں۔
*جدید دور میں ائمہ کے سیاسی اعمال کا اطلاق کرنے سے اجتناب*
غالی ائمہ کے سیاسی اور سماجی اقدامات کو اپنے عملی زندگی میں اپنانے سے گریز کیوں کرتے ہیں؟ اس کا تجزیہ درج ذیل ہے:
1. *تصوراتی مذہبی عقائد*: غالی افراد کے نزدیک ائمہ کی شخصیت کو ایک ایسی مقدس اور ماورائی حیثیت میں دیکھا جاتا ہے جس کا دنیاوی سیاست یا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے نزدیک ائمہ کا مشن ایک خاص روحانی دائرے تک محدود ہے، جس میں سیاسی اور سماجی جدوجہد کی اہمیت ثانوی ہو جاتی ہے۔
2. *جدوجہد سے کنارہ کشی*: ائمہ نے اپنے سیاسی اقدامات میں ظالم حکمرانوں کے خلاف اور عدل کے قیام کے لئے جدوجہد کی ہے، جیسے امام حسین (ع) کا کربلا میں قیام، جو حق و باطل کے درمیان ایک واضح معیار قائم کرتا ہے۔ مگر غالی افراد اس جدوجہد کے عملی پہلوؤں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، کیونکہ وہ خود کو اس قسم کی عملی ذمہ داریوں کے بوجھ سے بچانا چاہتے ہیں۔
3. *اصلاحی مشن سے لاتعلقی*: ائمہ اہل بیت (ع) کا اصلاحی مشن تھا جس میں لوگوں کو فکری و روحانی آزادی دینے، حقوق کی پاسداری، اور انصاف کے قیام کی تلقین شامل تھی۔ مگر غالی افراد نے اس اصلاحی پہلو کو نظر انداز کر دیا اور صرف عقیدت کے ایک محدود اور غیر فعال دائرے میں ائمہ کی محبت کو محدود کر دیا۔
4. *اندھا دھند عقیدت اور سچائی سے بیزاری*: ائمہ کے سیاسی افکار کو سمجھنے کے لیے علمی اور فکری کوشش کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ غالی عموماً جذباتی اور روحانی عقیدت میں اتنے گم ہوتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ تجزیاتی یا فکری کوشش اضافی اور غیر ضروری لگتی ہے۔
نتیجہ
غالی افراد کے نظریات اور طرزِ عمل دین کی اصل روح اور ائمہ کے حقیقی مشن سے دور ہیں۔ ان کی نفسیاتی کیفیت، جس میں وہ عقیدت میں حد سے بڑھ جاتے ہیں، انہیں ائمہ کی تعلیمات کو جدید عملیات میں اپنانے اور ائمہ کے سیاسی اعمال کو اپنی زندگیوں میں لاگو کرنے سے روکتی ہے۔ ائمہ کا مشن ایک اعتدال اور توازن کا تھا جس کا مقصد انسانوں کو اللہ کی طرف لانا اور دنیا میں عدل و انصاف کا قیام تھا۔ غالی کا یہ رویہ کہ ائمہ کو الوہیت یا ماورائی حیثیت میں فائز کر دیا جائے، دین میں بگاڑ اور توحید کی روح سے انحراف کا سبب بنتا ہے۔
