2

*علم، عمل اور فکری حیات کا توازن*

  • نیوز کوڈ : 3091
  • 11 June 2026 - 21:56
*علم، عمل اور فکری حیات کا توازن*

*علم، عمل اور فکری حیات کا توازن*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر: سید جہانزب عابدی

دینی محقق اور مفکر کا اصل سرمایہ صرف علمی استعداد نہیں ہوتا بلکہ اس کی فکری توانائی، معنوی پاکیزگی، قلبی بصیرت اور روحانی تازگی ہوتی ہے۔ علم اگرچہ ذہن کو منور کرتا ہے، لیکن بصیرت وہ نور ہے جو دل کی گہرائی سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایت میں علم کو محض معلوماتی عمل نہیں بلکہ تزکیۂ نفس کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ایک محقق جب تک اپنے اندر روحانی پاکیزگی، اخلاقی استحکام اور عمل صالح کی مسلسل مشق نہیں رکھتا، اس کا علم ایک خشک فکری مشق بن کر رہ جاتا ہے جو دوسروں کی رہنمائی تو کیا خود اس کے اپنے فکری توازن کو بھی برقرار نہیں رکھ پاتا۔

اس تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا دینی واجبات و مستحبات سے بڑھ کر اعمال صالحہ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ بظاہر شریعت نے فرائض اور مستحبات کی ایک واضح حد مقرر کی ہے، اور اصولی طور پر انسان اسی دائرے کا مکلف ہے۔ لیکن اہل معرفت اور اہل سلوک کے ہاں ایک اور سطح بھی پائی جاتی ہے جسے ہم “استدامۂ تقرب” یعنی مسلسل قربِ الٰہی کی کیفیت کہہ سکتے ہیں۔ اس سطح پر عمل صرف ذمہ داری نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ رابطہ بن جاتا ہے جو انسان کے اندر کی فکری خشکی کو ختم کرتا رہتا ہے۔ دینی محقق کے لیے یہی وہ مقام ہے جہاں اس کے افکار محض ذہنی نتائج نہیں رہتے بلکہ ایک زندہ تجربے کی پیداوار بن جاتے ہیں۔

اگر ایک مفکر اپنے عمل میں اس اضافی کیفیت کو پیدا نہیں کرتا تو اس کے اندر ایک خلا رہ جاتا ہے۔ یہ خلا رفتہ رفتہ اس کے استدلال، اس کی ترجیحات اور اس کی تعبیرات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی مفکرین ملتے ہیں جن کا علمی وزن تو بہت بلند تھا مگر ان کی روحانی وابستگی کمزور ہونے کے باعث ان کے بعض نتائج میں عدم توازن پیدا ہو گیا۔ اس کے برعکس وہ علما اور مفکرین جنہوں نے عبادت، مراقبہ، ذکر اور اعمال صالحہ کو اپنی علمی زندگی کا حصہ بنایا، ان کی فکر میں ایک خاص قسم کی حیات، اعتدال اور تاثیر پیدا ہو گئی جو صرف کتابی علم سے حاصل نہیں ہو سکتی۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اعمال صالحہ کا دائرہ صرف نماز، روزہ یا ذکر تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس میں اخلاقی حساسیت، لوگوں کے ساتھ عدل، اجتماعی ذمہ داری کا احساس، اور علمی دیانت بھی شامل ہو جاتی ہے۔ ایک محقق جب اپنے علم کو دوسروں کے لیے خیر کا ذریعہ بناتا ہے، اپنی تحقیق میں دیانت رکھتا ہے، اور اپنی فکر کو ذاتی مفاد یا تعصب سے بلند کرتا ہے تو وہ دراصل ایک مسلسل عمل صالح میں داخل ہوتا ہے جو اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو زندہ رکھتا ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آیا ایسے شخص کو عملی مصلح، مربی، معلم یا قائد بننا چاہیے یا نہیں، تو اس کو یوں دیکھا جا سکتا کہ ہر صاحب علم لازماً اجتماعی قیادت کے منصب کے لیے پیدا نہیں ہوتا، لیکن دینی علم کی فطرت ہی اسے معاشرتی ذمہ داری سے جدا نہیں ہونے دیتی۔ علم اگر محض مطالعہ گاہوں تک محدود رہے تو وہ آہستہ آہستہ زندگی سے کٹ جاتا ہے۔ اس لیے اصولی طور پر ایک دینی محقق میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنی فکر کو معاشرتی سطح پر منتقل کر سکے، مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر فرد عملی قیادت کا بوجھ اٹھائے۔ قیادت، تدریس اور اصلاح کا میدان اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب فرد کے اندر علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ مزاجی توازن، صبر، تدریجی حکمت اور لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔

اس کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ دینی مفکر اگر مکمل طور پر عملی اصلاحی کردار سے کٹ جائے تو اس کا علم ایک محدود دائرے میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص صرف عملی میدان میں اتر جائے مگر فکری گہرائی سے محروم ہو تو اس کی اصلاح بھی سطحی رہتی ہے۔ بہترین صورت وہ ہے جس میں علم، عمل اور اصلاح تینوں ایک دوسرے کے ساتھ متوازن ہوں۔ یہی وہ توازن ہے جو اسلامی علمی روایت میں “عالمِ عامل” کی شخصیت کو جنم دیتا ہے، جو نہ صرف سوچتا ہے بلکہ اپنی سوچ کو زندگی میں اتار کر دوسروں کے لیے قابلِ عمل نمونہ بھی بن جاتا ہے۔

لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ دینی محقق کے لیے اعمال صالحہ محض اضافی نیکی نہیں بلکہ اس کی فکری حیات کی غذاء ہیں۔ یہ غذاء اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو زندہ رکھتی ہے، اس کی فکر کو اعتدال دیتی ہے اور اس کے علم کو اثر انگیز بناتی ہے۔ اور جہاں تک عملی مصلح یا قائد بننے کا تعلق ہے تو یہ ایک لازمی فریضہ نہیں مگر ایک مطلوبہ امکان ضرور ہے، جسے حالات، صلاحیت اور مزاج کے مطابق بروئے کار لایا جانا چاہیے تاکہ علم صرف نظری نہ رہے بلکہ زندگی کی تعمیر کا ذریعہ بن سکے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3091

ٹیگز

تبصرے