لاحول ولا قوۃالا باللہ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزب عابدی
تکفیری، خارجی اور ناصبی مائنڈ سیٹس اگرچہ تاریخی، فقہی اور سیاسی اعتبار سے ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں رہے، لیکن بعض نفسیاتی اور فکری سطحوں پر ان میں قابلِ توجہ مماثلتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہاں ضروری احتیاط یہ ہے کہ کسی پورے مذہبی یا فقہی گروہ کو ان اصطلاحات سے تعبیر نہ کیا جائے؛ یہ اصطلاحات عموماً مخصوص رجحانات، انتہاپسند رویّوں یا تاریخی مظاہر کے لیے استعمال ہوتی ہیں، نہ کہ تمام افراد کے لیے۔ نفسیاتی تجزیہ بھی افراد کے بجائے مائنڈ سیٹ اور رویّاتی پیٹرن کا تجزیہ ہے۔
ان مائنڈ سیٹس کی پہلی بڑی مماثلت “اخلاقی مطلقیت” (moral absolutism) ہے۔ اس ذہن میں دنیا حق اور باطل، پاک اور ناپاک، وفادار اور غدار جیسے دو خانوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ پیچیدگی، تدریج، اختلافِ رائے یا انسانی کمزوری کے لیے جگہ کم رہ جاتی ہے۔ ایسا ذہن اپنے موقف کو صرف درست نہیں سمجھتا بلکہ واحد درست سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً جو اختلاف کرے وہ محض غلط نہیں بلکہ قابلِ مذمت، قابلِ اخراج یا بعض صورتوں میں دشمن تصور ہونے لگتا ہے۔
دوسری مشترک خصوصیت “شناختی اضطراب” (identity anxiety) ہے۔ جب کسی فرد یا گروہ کو محسوس ہو کہ اس کی شناخت، روایت یا اقتدار خطرے میں ہے تو وہ دفاعی انداز اختیار کرتا ہے۔ بعض اوقات یہ دفاع علمی یا اخلاقی سطح پر ہوتا ہے، مگر بعض اوقات یہ سخت گیری، تکفیر، نفرت یا اخراجی رویّے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس صورت میں عقیدہ صرف سچائی کی تلاش نہیں رہتا بلکہ نفسیاتی تحفظ کا قلعہ بن جاتا ہے۔
تیسری مماثلت “پیچیدہ حقیقتوں کو سادہ بیانیے میں بدل دینا” ہے۔ تاریخ، سیاست، سماج اور دین انتہائی پیچیدہ میدان ہیں، لیکن انتہاپسند ذہن سادہ کہانی بناتا ہے: “ہم مکمل حق پر ہیں، باقی سب انحراف ہیں۔” یہ سادگی ذہنی سکون دیتی ہے کیونکہ انسان کو اب سوالات، ابہام اور خود احتسابی سے نہیں گزرنا پڑتا۔
نفسیاتی اعتبار سے اس کے پیچھے ایک اور عامل “گروہی شناخت” (group identity fusion) ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان اپنی ذات کو گروہ میں اس طرح ضم کر دیتا ہے کہ گروہ پر تنقید اسے اپنی ذات پر حملہ محسوس ہوتی ہے۔ پھر دلیل کی جگہ جذباتی دفاع لے لیتا ہے۔ مخالف کے دلائل سننے کے بجائے اس کی نیت، ایمان، وابستگی یا وفاداری کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
تکفیری رجحان میں یہ کیفیت اس صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے کہ دوسرے مسلمان یا گروہ کی دینی حیثیت ہی ختم کر دی جائے۔ خارجی رجحان میں یہ شدت اس شکل میں آتی ہے کہ گناہ، اختلاف یا سیاسی نزاع کو فوری حق و باطل کی آخری لکیر بنا دیا جائے۔ ناصبی رجحان (تاریخی مفہوم میں) اہلِ بیتؑ یا ان سے وابستہ محبت و مرجعیت کے مقابلے میں نفسیاتی یا سیاسی ردِعمل کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ان سب میں ایک مشترک نکتہ یہ ہو سکتا ہے کہ “اپنی شناخت کو قائم رکھنے کے لیے دوسرے کی نفی” مرکزی ذریعہ بن جائے۔
ایک اور اہم پہلو “مقدس غصہ” (sacralized anger) ہے۔ جب انسان اپنے غصے کو دینی تقدس دے دیتا ہے تو وہ اسے اخلاقی نگرانی سے آزاد سمجھنے لگتا ہے۔ پھر سخت الفاظ، تحقیر، الزام یا تشدد بھی اسے نیکی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں نفسیاتی میکانزم انسان کو خود تنقیدی سے دور لے جاتا ہے۔
ان مائنڈ سیٹس میں “انتخابی مذہبیت” بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یعنی دین کے وہ حصے نمایاں ہو جاتے ہیں جو سرحدیں کھینچتے ہیں، جبکہ وہ پہلو کمزور ہو جاتے ہیں جو رحمت، عدل، حلم، تدبر اور اصلاحِ نفس سکھاتے ہیں۔ اس وقت مذہب انسان کو بلند کرنے کے بجائے گروہی برتری کا آلہ بننے لگتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحانات صرف مذہبی دنیا تک محدود نہیں۔ سیاسی نظریات، قوم پرستی، انقلابی تحریکوں (جیسے سوشلسٹ، کمیونسٹ)، سیکولر انتہاپسندی (امریکہ فرسٹ) اور حتیٰ کہ جدید سوشل میڈیا کلچرز میں بھی یہی نفسیاتی ساخت مل سکتی ہے: اپنی جماعت کی تقدیس، مخالف کی شیطنت، اور پیچیدگی سے فرار۔
اس کے برعکس صحت مند دینی و فکری ذہن عموماً چند صفات رکھتا ہے: حق پر یقین مگر اپنی فہم کے محدود ہونے کا شعور، اختلاف کے باوجود انسانی احترام، دلیل کے ساتھ اخلاق، اور اپنے موقف کے ساتھ خود احتسابی۔ ایسا ذہن نہ نسبیت میں گرتا ہے اور نہ تکفیر و نفرت کی انتہاؤں میں۔
اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ “تکفیری، خارجی یا ناصبی کون ہے”، بلکہ یہ بھی ہے کہ “کون سا نفسیاتی ڈھانچہ انسان کو اس طرف لے جاتا ہے” — کیونکہ وہی ڈھانچہ مختلف زمانوں اور مختلف نظریات میں نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہو سکتا ہے۔
