بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر: سید جہانزب عابدی
کسی مکتب کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے سامنے عام طور پر دو مختلف راستے ہوتے ہیں: ایک یہ کہ وہ دوسروں کو اپنے مکتب میں داخل کرنے یا تبدیل کرنے کی جدوجہد کریں، اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے مکتب کو اس انداز سے متعارف کرائیں کہ لوگ خود اسے سمجھ سکیں، اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں، اور اگر قائل ہوں تو اپنی آزادانہ فکری حرکت کے ذریعے اس کی طرف آئیں۔ بظاہر دونوں راستے ایک جیسے محسوس ہوتے ہیں کیونکہ دونوں میں دعوت، گفتگو اور اثر کا عنصر موجود ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں ان کے نفسیاتی ڈھانچے، علمی منہج، سماجی نتائج اور تاریخی اثرات مختلف ہوتے ہیں۔
“مکتب میں تبدیل کرنے” کی جدوجہد میں مرکزی سوال یہ ہوتا ہے: “کتنے لوگ ہمارے ساتھ آئے؟” جبکہ “مکتب کو متعارف کرانے” کی جدوجہد میں مرکزی سوال یہ ہوتا ہے: “کتنے لوگوں نے ہمارے مکتب کو صحیح طور پر سمجھا؟”
یہ فرق معمولی نہیں بلکہ پورے رویے کو بدل دیتا ہے۔
جب کسی تحریک یا مکتب کا بنیادی مقصد لوگوں کو تبدیل کرنا بن جاتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کے اندر نتائج پر مبنی نفسیات پیدا ہونے لگتی ہے۔ اب کامیابی کی پیمائش تعداد، رجحان، اعداد و شمار اور ظاہری اثر سے ہونے لگتی ہے۔ اس صورت میں یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ دلیل کی جگہ ترغیب، تحقیق کی جگہ تکرار، اور فکری آزادی کی جگہ نفسیاتی دباؤ آ جائے۔ پھر مکتب کا تعارف کم اور مکتب کی مارکیٹنگ زیادہ ہونے لگتی ہے۔
اس کے برعکس جب مقصد مکتب کو متعارف کرانا ہو تو وہاں ایک مختلف اعتماد کام کرتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ تصور ہوتا ہے کہ حق یا درست فکر کو اپنی اصل قوت سے ظاہر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف تنظیمی دباؤ، جذباتی جوش یا شناختی وابستگی سے۔ اس نقطۂ نظر میں انسان خود کو لوگوں کے ایمان، عقائد یا فیصلوں کا مالک نہیں سمجھتا بلکہ ایک واسطہ سمجھتا ہے۔ وہ دروازہ دکھاتا ہے، داخل ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔
نتائجی اعتبار سے ان دونوں راستوں میں بڑا فرق یہ پیدا ہوتا ہے کہ تبدیلی پر مرکوز تحریکیں اکثر تیزی سے پھیل سکتی ہیں مگر ان میں سطحیت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جبکہ تعارف پر مرکوز تحریکیں آہستہ بڑھتی ہیں لیکن ان کی فکری جڑیں نسبتاً مضبوط ہوتی ہیں۔
جو شخص صرف تبدیل ہو جاتا ہے وہ حالات بدلنے پر واپس بھی جا سکتا ہے، لیکن جو شخص کسی مکتب کو سمجھ کر، سوال کر کے اور اندرونی اطمینان کے ساتھ اس کی طرف آتا ہے، اس کی وابستگی عموماً زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مکتب کو متعارف کرانے میں “علمی اعتبار” بنیادی ستون بن جاتا ہے۔
علمی اعتبار کا مطلب یہ نہیں کہ صرف کتابیں زیادہ ہوں یا اصطلاحات مشکل ہوں۔ علمی اعتبار کا مطلب یہ ہے کہ مکتب اپنے بنیادی عقائد، اصول، تاریخ، اعتراضات اور داخلی اختلافات کو سنجیدگی سے پیش کرے۔ وہ سوالوں سے نہ بھاگے، مخالف دلائل کو مسخ نہ کرے، اپنی کمزوریاں بھی سمجھے، اور اپنے موقف کو دلیل کے ساتھ پیش کرے۔ جب کوئی مکتب علمی اعتبار پیدا کرتا ہے تو وہ اپنے ماننے والوں کو دفاعی ذہنیت سے نکال کر تحقیقی ذہنیت دیتا ہے۔
علمی اعتبار کے بغیر تعارف جلد ہی تبلیغی شور میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
لیکن صرف علمی قوت کافی نہیں ہوتی۔ ایک دوسرا عنصر ہے جسے اخلاقی اعتبار کہا جا سکتا ہے۔
اخلاقی اعتبار دراصل کسی مکتب کی زندہ دلیل ہوتا ہے۔ لوگ ہمیشہ نظریات کو کتابوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے پڑھتے ہیں۔ اگر کوئی مکتب عدل، صداقت، تحمل، دیانت، وقار، اختلاف کے آداب اور انسانی احترام کی بات کرے مگر اس کے نمائندے ان صفات سے خالی ہوں تو نظریہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
اخلاقی اعتبار میں ایک بہت اہم چیز یہ بھی ہے کہ انسان دوسروں کے عقائد پر گفتگو کرتے وقت انصاف کرے۔ کسی دوسرے کو اس کے بدترین نمائندے سے نہ پہچانے بلکہ اس کے بہترین استدلال سے سمجھے۔ جو مکتب دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کرتا، آہستہ آہستہ اپنے اندر بھی انصاف کھونے لگتا ہے۔
اس کے بعد تیسرا ستون سماجی افادیت کا آتا ہے۔
بہت سے مکتب علمی طور پر مضبوط ہوتے ہیں مگر معاشرتی سطح پر غیر مؤثر رہتے ہیں، اور بعض سماجی طور پر فعال ہوتے ہیں مگر فکری گہرائی کم رکھتے ہیں۔ مکتب کے تعارف کی پائیداری اس وقت بڑھتی ہے جب لوگ یہ دیکھیں کہ اس فکر سے انسان بہتر بنتا ہے، خاندان بہتر بنتا ہے، معاشرہ زیادہ منصف بنتا ہے، علم بڑھتا ہے، اخلاق مضبوط ہوتے ہیں اور اجتماعی مسائل کا حل پیدا ہوتا ہے۔
اگر ایک مکتب صرف اپنی شناخت بچانے میں لگا رہے مگر انسانوں کی حقیقی ضروریات، تعلیم، غربت، اخلاق، انصاف، خدمت اور تہذیب پر کوئی مثبت اثر نہ ڈالے تو وقت کے ساتھ اس کا تعارف محدود ہو جاتا ہے۔
اسی لیے مکتب کو متعارف کرانے کی سب سے گہری صورت شاید یہ نہیں کہ انسان مسلسل کہے “ہم درست ہیں”، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایسا علمی، اخلاقی اور سماجی نمونہ پیدا کرے جسے دیکھ کر لوگ خود سوال کریں: “اس فکر میں ایسی کیا چیز ہے جس نے ان لوگوں کو یہ بنایا؟”
وہاں تعارف دعوت بن جاتا ہے، اور دعوت جبر یا مقابلے کے بجائے کشش میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
