1

*ظہورِ کردار کا بحران؛ اصلی و جعلی انسان*

  • نیوز کوڈ : 3042
  • 04 June 2026 - 0:59
*ظہورِ کردار کا بحران؛ اصلی و جعلی انسان*

*ظہورِ کردار کا بحران؛ اصلی و جعلی انسان*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سید جہانزیب عابدی

انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے یہ سوال موجود رہا ہے کہ انسان حقیقت میں وہی ہوتا ہے جو وہ دکھائی دیتا ہے یا اس کے ظاہر اور باطن میں فرق ہوتا ہے؟ قدیم معاشروں میں انسان کی شخصیت کا اندازہ زیادہ تر اس کے مستقل اعمال، معاشرتی رویوں، وعدوں کی پابندی، مشکل حالات میں ردِ عمل اور طویل تعلقات کی بنیاد پر لگایا جاتا تھا۔ لیکن جدید دور میں نفسیات، سماجیات، ابلاغیات، برانڈنگ، باڈی لینگویج، امیج مینجمنٹ، سوشل میڈیا، سیلف ہیلپ انڈسٹری اور شخصیت سازی کی مختلف تکنیکوں نے انسان کو یہ سکھا دیا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور وہ ان کے ذہن میں اپنی مطلوبہ تصویر کیسے قائم کر سکتا ہے۔

اس تبدیلی نے انسانی تعلقات کے ایک نئے بحران کو جنم دیا ہے۔ اب انسان صرف اپنی شخصیت کے مطابق زندگی نہیں گزارتا بلکہ اپنی شخصیت کو “پیش” بھی کرتا ہے۔ وہ صرف ہوتا نہیں بلکہ “نظر بھی آنا” چاہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقی اور مصنوعی شخصیتوں کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔

جدید نفسیاتی تحقیقات میں “Impression Management”، “Self-Presentation Theory”، “Social Signaling”، “Identity Construction” اور “Personal Branding” جیسے تصورات بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان نظریات کے مطابق انسان شعوری یا لاشعوری طور پر دوسروں کے ذہن میں ایک خاص تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مخصوص الفاظ استعمال کرتا ہے، مخصوص لباس پہنتا ہے، مخصوص اندازِ گفتگو اپناتا ہے اور بعض اوقات مخصوص نظریات کا اظہار بھی کرتا ہے تاکہ لوگ اس کے متعلق ایک مطلوبہ رائے قائم کریں۔

مثال کے طور پر اگر کسی معاشرے میں عاجزی کو پسند کیا جاتا ہو تو بعض افراد عاجزی کی علامتیں اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ ان کے اندر تکبر موجود ہوتا ہے۔ اگر کسی حلقے میں علم کو اہمیت حاصل ہو تو بعض لوگ علمی اصطلاحات اور پیچیدہ زبان استعمال کرکے خود کو صاحبِ علم ظاہر کرتے ہیں جبکہ حقیقی علمی گہرائی موجود نہیں ہوتی۔ اگر کسی ماحول میں مذہب مقبول ہو تو بعض افراد مذہبی علامات اختیار کر لیتے ہیں جبکہ ان کا باطن اس سے خالی ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی سماجی حلقے میں انقلابی یا انسان دوست ہونا باعثِ احترام ہو تو بعض لوگ انہی نعروں کو اپنا لیتے ہیں تاکہ وہ مطلوبہ شناخت حاصل کر سکیں۔

جدید دنیا میں یہ عمل پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے کیونکہ انسان کی شخصیت کا زیادہ تر مشاہدہ براہِ راست تعلقات کے بجائے اسکرینوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تیار کردہ تصاویر، پوسٹس، ویڈیوز اور بیانیوں کے ساتھ تعلق قائم کر رہے ہیں۔ اس ماحول میں انسان کے لیے اپنے اصل وجود کو چھپانا اور مصنوعی وجود کو نمایاں کرنا پہلے سے زیادہ ممکن ہو گیا ہے۔

نفسیات کے مطابق جو افراد اپنی اصل شخصیت کو مسلسل چھپاتے ہیں وہ عموماً دو وجوہات میں سے کسی ایک کی بنا پر ایسا کرتے ہیں۔ پہلی وجہ خوف ہوتی ہے۔ انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر لوگ ان کی اصل حقیقت جان گئے تو وہ انہیں قبول نہیں کریں گے۔ دوسری وجہ طاقت اور منفعت کا حصول ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک خاص قسم کی شخصیت دکھانے سے انہیں عزت، شہرت، تعلقات یا معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

ایسے افراد وقت کے ساتھ دو الگ الگ شناختوں میں تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ ایک وہ شناخت جو دنیا کے سامنے موجود ہوتی ہے اور دوسری وہ جو ان کے باطن میں موجود ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کیفیت کو بعض اوقات “Self-Discrepancy” یا “Identity Split” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب ظاہر اور باطن کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے تو انسان کے اندر ذہنی دباؤ، اضطراب اور مسلسل نگرانی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے کیونکہ اسے ہر وقت یاد رکھنا پڑتا ہے کہ اس نے کون سا کردار ادا کرنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جو باہر سے انتہائی پراعتماد، خوش مزاج، نیک، کامیاب یا مہذب نظر آتے ہیں، تنہائی میں شدید ذہنی کشمکش کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی بڑی نفسیاتی توانائی اپنی مصنوعی شناخت کو برقرار رکھنے میں صرف ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے اصل وجود کے ساتھ امن میں نہیں ہوتے بلکہ مسلسل ایک کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ افراد جو اپنی اندرونی حقیقت کو نسبتاً زیادہ ظاہر کرتے ہیں، ان کی نفسیاتی ساخت مختلف ہوتی ہے۔ وہ عموماً بیرونی قبولیت کے بجائے اندرونی ہم آہنگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے لیے یہ زیادہ اہم ہوتا ہے کہ وہ حقیقتاً کیا ہیں، نہ کہ لوگ انہیں کیا سمجھتے ہیں۔ ایسے افراد بعض اوقات معاشرتی لحاظ سے کم مقبول ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہر ماحول کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کرتے، لیکن ان کے اندر نفسیاتی استحکام نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ اپنی ہر بات اور ہر احساس ظاہر کر دینا ہی صداقت ہو۔ صحت مند شخصیت وہ ہے جو حکمت کے ساتھ زندگی گزارتی ہے، نہ کہ سادگی کے نام پر ہر چیز آشکار کر دیتی ہے۔ اصل فرق اخلاص اور تصنع کا ہے۔ ایک شخص اپنی بعض باتیں مصلحت، حیا یا حکمت کی بنا پر چھپا سکتا ہے لیکن وہ جھوٹا کردار تخلیق نہیں کرتا۔ جبکہ دوسرا شخص ایک ایسی شخصیت تعمیر کرتا ہے جو حقیقت میں اس کے اندر موجود ہی نہیں ہوتی۔

جدید دور میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ انسان صفات کی حقیقت کے بجائے صفات کی علامات سیکھ چکا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اعتماد کیسا دکھائی دیتا ہے، عاجزی کیسی نظر آتی ہے، دیانت داری کی زبان کیا ہوتی ہے، قیادت کی باڈی لینگویج کیا ہوتی ہے، روحانیت کے اظہار کا انداز کیا ہے اور علم کی گفتگو کس طرح کی جاتی ہے۔ چنانچہ بعض لوگ صفت پیدا کرنے کے بجائے صرف اس کی علامت اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی درخت پر مصنوعی پھل لٹکا دیے جائیں۔ دور سے دیکھنے والا اسے پھل دار درخت سمجھے گا لیکن حقیقت میں اس کے اندر زندگی اور نمو موجود نہیں ہوگی۔ جدید معاشرہ بڑی حد تک انہی مصنوعی پھلوں کی نمائش گاہ بنتا جا رہا ہے۔

قرآن کریم بھی انسان کے اسی باطنی و ظاہری فرق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ قرآن کا معیار صرف ظاہری دعویٰ نہیں بلکہ قلبی حقیقت اور عملی صداقت ہے۔ منافق کا مسئلہ یہی تھا کہ اس کا ظاہر اور باطن ایک نہیں تھا۔ اس کے برعکس مومن کی ایک بنیادی صفت یہ بیان ہوئی کہ اس کے دل، زبان اور عمل میں بنیادی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

معاصر دنیا میں شاید سب سے نایاب انسان وہ نہیں جو سب سے زیادہ ذہین، کامیاب یا مشہور ہو بلکہ وہ ہے جس کے ظاہر اور باطن کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہو۔ ایسا انسان اپنی شخصیت کی مارکیٹنگ سے زیادہ اپنی شخصیت کی تعمیر پر توجہ دیتا ہے۔ وہ صفات کی نمائش سے پہلے صفات کے حصول کی فکر کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو متاثر کرنے کے بجائے حقیقت میں بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔

جیسے جیسے معاشرہ علامتوں، برانڈنگ اور مصنوعی شناختوں کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے اصل انسان کی پہچان مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن ایک حقیقت آج بھی نہیں بدلی: مصنوعی شخصیت وقتی طور پر لوگوں کو دھوکا دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں انسان کا اصل باطن اس کے فیصلوں، تعلقات، بحرانوں، مفادات کے ٹکراؤ اور تنہائی کے لمحات میں خود کو ظاہر کر دیتا ہے۔ کردار کی حقیقت الفاظ سے کم اور حالات سے زیادہ ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نقاب اترتے ہیں اور انسان وہی دکھائی دیتا ہے جو وہ حقیقت میں ہوتا ہے۔

قرآن، روایاتِ اہل بیتؑ اور سیرتِ معصومینؑ کی روشنی میں دیکھا جائے تو انسان کے ظاہر و باطن کے فرق کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، البتہ جدید دور نے اسے زیادہ پیچیدہ اور منظم بنا دیا ہے۔ قرآن کریم بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے چہروں، دعووں اور ظاہری نعروں کو نہیں بلکہ دلوں اور اعمال کی حقیقت کو دیکھتا ہے۔ منافقین کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کی باتیں متاثر کرتی ہیں، ان کے جسم و صورت بھی پسند آتے ہیں، لیکن ان کا باطن ان کے ظاہر کے مطابق نہیں ہوتا۔ گویا قرآن انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ شخصیت کا معیار ظاہری تاثر (impression) نہیں بلکہ باطنی حقیقت (reality) ہے۔

احادیثِ اہل بیتؑ میں بھی اس موضوع پر گہری توجہ دلائی گئی ہے۔ رسول اکرمﷺ اور ائمہؑ نے بارہا فرمایا کہ کسی شخص کو صرف اس کی نماز، روزہ یا خوش گفتاری سے نہ پہچانو بلکہ یہ دیکھو کہ امانت، وعدے اور معاملات میں اس کا کردار کیسا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض ظاہری علامات سیکھی اور اپنائی جا سکتی ہیں، لیکن حقیقی صفات آزمائش اور تعامل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ امام علیؑ کا یہ مضمون نہایت اہم ہے کہ انسان مصیبت، طاقت، دولت اور اختیار کے وقت پہچانا جاتا ہے، کیونکہ انہی مواقع پر مصنوعی نقاب کمزور پڑ جاتے ہیں۔

نہج البلاغہ میں امام علیؑ نے ریاکاری اور تصنع کو روحانی بیماری قرار دیا ہے۔ ریاکار شخص دراصل لوگوں کے لیے ایک چہرہ بناتا ہے جبکہ اس کا باطن کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے آج کی نفسیات “امیج مینجمنٹ” یا “مصنوعی شناخت” کے نام سے بیان کرتی ہے۔ فرق صرف اصطلاحات کا ہے، حقیقت ایک ہی ہے۔

سیرتِ معصومینؑ میں اس کے برعکس ایک نمایاں وصف “صدق” اور “اخلاص” ہے۔ ان کی شخصیت میں ظاہر و باطن کی وحدت نظر آتی ہے۔ وہ جو اندر تھے، وہی باہر تھے؛ جو تنہائی میں تھے، وہی مجمع میں تھے؛ جو اقتدار سے پہلے تھے، وہی اقتدار کے بعد رہے۔ اسی لیے اہل بیتؑ کی تعلیمات میں “اصلاحِ نفس” کو “اظہارِ نفس” پر مقدم رکھا گیا ہے۔ پہلے انسان حقیقتاً صالح بنے، پھر اس کی صالحیّت ظاہر ہو؛ نہ کہ پہلے صالح نظر آئے اور بعد میں صالح بننے کی کوشش کرے۔

دینی نقطۂ نظر سے اصل خطرہ یہ نہیں کہ انسان اپنی بعض باتیں حکمتاً چھپا لے، بلکہ خطرہ یہ ہے کہ وہ ایسی شخصیت کی نمائش شروع کر دے جو حقیقت میں اس کے اندر موجود ہی نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاص کی جگہ ریا، حقیقت کی جگہ تصنع اور شخصیت کی تعمیر کی جگہ شخصیت کی مارکیٹنگ آ جاتی ہے۔ قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات انسان کو بار بار باطن کی اصلاح کی طرف بلاتی ہیں، کیونکہ جب باطن درست ہو جاتا ہے تو ظاہر خود بخود سنور جاتا ہے، لیکن اگر صرف ظاہر کو سنوارا جائے تو انسان بظاہر خوبصورت اور باطن میں کھوکھلا ہو سکتا ہے۔ یہی کیفیت ہر دور کے نفاق کی بنیاد رہی ہے، خواہ اس کا اظہار قدیم زمانے میں ہو یا جدید سوشل میڈیا کے دور میں۔

مختصراً، جدید دور کا سب سے بڑا اخلاقی اور نفسیاتی چیلنج یہ نہیں کہ انسان اپنی شناخت بنانا سیکھ گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بعض اوقات اپنی اصل شناخت کے بغیر بھی ایک قابلِ قبول شناخت پیش کرنا سیکھ گیا ہے۔ قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات انسان کو اس فریب سے نکال کر اخلاص، صدق اور باطنی اصلاح کی طرف بلاتی ہیں، کیونکہ حقیقی عظمت کردار کی نمائش میں نہیں بلکہ کردار کی حقیقت میں ہوتی ہے۔ بالآخر انسان کی اصل پہچان اس کے دعووں سے نہیں بلکہ آزمائشوں، تعلقات اور اعمال سے ہوتی ہے، اور یہی وہ معیار ہے جس پر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی انسان کا وزن کیا جائے گا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3042

ٹیگز

تبصرے