4

*فن، علم اور فریبِ خلاقیت*

  • نیوز کوڈ : 3026
  • 03 June 2026 - 3:29
*فن، علم اور فریبِ خلاقیت*

*فن، علم اور فریبِ خلاقیت*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سید جہانزیب عابدی

انسانی تاریخ میں “علم برائے علم”، “فن برائے فن”، “ادب برائے ادب” اور “سائنس برائے سائنس” جیسے نظریات اس وقت زیادہ نمایاں ہوئے جب انسان نے علم اور فن کو کسی اعلیٰ اخلاقی، روحانی یا الٰہی مقصد سے آزاد کرکے ایک خودمختار میدان سمجھنا شروع کیا۔ بظاہر یہ نظریات خلاقیت، آزادیِ فکر اور جمالیاتی اظہار کے محافظ معلوم ہوتے ہیں، مگر قرآن اور سیرتِ اہلِ بیتؑ کے تناظر میں جب ان کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ایک نہایت بنیادی سوال سامنے آتا ہے: کیا علم، فن اور خلاقیت بذاتِ خود مقصد ہیں، یا یہ انسان کو کسی اعلیٰ حقیقت تک پہنچانے کے وسائل ہیں؟

قرآن مجید علم کو کبھی ایک غیر جانب دار یا خود مقصد حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ قرآن کے نزدیک علم کی اصل قدر اس کے “جہت” اور “ثمر” سے متعین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار ایسے علم کی مذمت کرتا ہے جو انسان کو خدا، عدل، تقویٰ اور حقیقت کے قریب نہ لے جائے۔ فرعون کے دربار میں جادوگروں کی مہارت بھی ایک طرح کا “فن” اور “خلاقیت” تھی، مگر چونکہ وہ ظلم کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اس لیے وہ مذموم قرار پائی۔ اسی طرح قارون کے پاس بھی علم تھا، مگر وہ علم غرور، استکبار اور دنیا پرستی کا ذریعہ بن گیا۔ قرآن ایسے علم کو نافع نہیں بلکہ گمراہ کن سمجھتا ہے۔

قرآن کا انداز یہ ہے کہ وہ ہمیشہ “مقصد” کو “مہارت” پر مقدم رکھتا ہے۔ حضرت داؤدؑ کو زرہیں بنانے کا فن عطا ہوا، مگر قرآن نے اس فن کی تعریف اس لیے کی کہ وہ ظلم کے مقابلے میں دفاع اور عدل کے قیام کا ذریعہ تھا۔ حضرت یوسفؑ کی سیاسی و معاشی تدبیر کی تحسین اس لیے ہوئی کہ اس نے معاشرے کو قحط سے بچایا۔ گویا قرآن میں خلاقیت کبھی محض خلاقیت نہیں بلکہ ایک امانت اور ذمہ داری ہے، جس کا حساب لیا جائے گا کہ اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسی اصول کو اگر ادب اور فنونِ لطیفہ پر منطبق کیا جائے تو قرآن کا موقف اور زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ سورۃ الشعراء میں شعراء کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ بہت سے شاعر وہ ہیں جن کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں، جو ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور وہ کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں۔ اس تنقید کا مقصد شاعری یا فن کی نفی نہیں بلکہ اس “فن پرستی” کی نفی ہے جس میں حقیقت، اخلاق اور ذمہ داری پسِ پشت چلے جائیں اور صرف اظہار، حیرت یا جمالیاتی کمال اصل بن جائے۔ اسی سورۃ میں قرآن ان شاعروں کو مستثنیٰ بھی قرار دیتا ہے جو ایمان، عملِ صالح اور ذکرِ الٰہی کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن فن کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے مقصدِ حق کے تابع دیکھنا چاہتا ہے۔

سیرتِ معصومینؑ میں بھی یہی اصول نمایاں ہے۔ اہلِ بیتؑ نے کبھی علم یا خطابت یا شاعری کو محض ذہنی کھیل نہیں بنایا۔ امام علی بن ابی طالب کے خطبات میں ادبی عظمت اپنی انتہا پر نظر آتی ہے، مگر نہج البلاغہ کا اصل مرکز زبان کا حسن نہیں بلکہ حق، عدالت، توحید اور انسان کی بیداری ہے۔ اگر کوئی شخص نہج البلاغہ کو صرف rhetorical masterpiece سمجھ کر پڑھے اور اس کے پیغامِ عدل و تقویٰ کو نظر انداز کر دے تو وہ دراصل اس کی روح کھو دیتا ہے۔

اسی طرح امام جعفر صادق نے علم کو کبھی محض intellectual exercise نہیں بنایا۔ آپؑ کے نزدیک علم وہ تھا جو انسان کو معرفت، بندگی اور اصلاحِ نفس تک لے جائے۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں “علمِ نافع” کی تعبیر بار بار ملتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایسا علم جو صرف شہرت، مناظرہ، غلبہ یا ذہنی برتری کے لیے ہو، اسے روحانی بیماری سمجھا گیا ہے۔ گویا اسلام میں علم کی عظمت اس کی “utility” سے بھی آگے بڑھ کر اس کی “ہدایت” سے جڑی ہوئی ہے۔

جدید دور میں “فن برائے فن” یا “ادب برائے ادب” کا مسئلہ اس لیے زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے کہ اب خلاقیت خود ایک مارکیٹ بن چکی ہے۔ ایک فلم، ناول، مصوری یا موسیقی کو اکثر اس بنیاد پر سراہا جاتا ہے کہ وہ کتنی bold، shocking یا technically brilliant ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ انسان کو کس طرف لے جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک تخلیق اخلاقی انحطاط، nihilism یا بے معنویت کو فروغ دے رہی ہوتی ہے، مگر چونکہ اس کی cinematography، symbolism یا artistic complexity اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے، اس لیے اسے “masterpiece” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہاں فن حقیقت پر غالب آجاتا ہے، اور پیغام کہیں پسِ پردہ چلا جاتا ہے۔

یہی کیفیت بعض دینی حلقوں میں بھی پیدا ہوجاتی ہے، جہاں اصل دین کے بجائے “فنِ بیان”، “خطابت کا انداز”، “مناظرہ کی تکنیک” یا “علمی کرتب” اصل مرکز بن جاتے ہیں۔ کبھی ایک مقرر کے الفاظ کے اتار چڑھاؤ، جذباتی انداز یا ادبی صنعتوں کے چرچے زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ دین کا اصل پیغام، یعنی تقویٰ، شعور، عدل اور اصلاحِ نفس، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک لطیف قسم کی “فن پرستی” ہے، جہاں ذریعہ خود مقصد بن بیٹھتا ہے۔

قرآن اور سیرتِ معصومینؑ انسان کو اس خطرے سے آگاہ کرتے ہیں کہ خلاقیت، علم اور فن اگر مقصدِ حق سے جدا ہو جائیں تو وہ انسان کو حقیقت سے دور بھی لے جا سکتے ہیں۔ اسلام خلاقیت کو دباتا نہیں بلکہ اسے ایک مقدس امانت سمجھتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ شرط بھی رکھتا ہے کہ خلاقیت انسان کو خدا سے غافل نہ کرے بلکہ اس کی طرف متوجہ کرے۔ فن اگر انسان کے شعور کو بیدار کرے تو عبادت بن جاتا ہے، اور اگر اسے خواہشات، غرور یا بے معنویت میں گم کر دے تو وہ ایک مہذب فریب بن جاتا ہے۔

اسی لیے اسلامی نقطۂ نظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ “یہ فن کتنا عظیم ہے؟” بلکہ یہ ہے کہ “یہ انسان کو کیا بنا رہا ہے؟” اگر علم، ادب، سائنس یا خلاقیت انسان کو زیادہ سچا، زیادہ عادل، زیادہ باشعور اور زیادہ خدا شناس بنا رہی ہے تو وہ مثبت اور الٰہی ہے۔ اور اگر وہ صرف حیرت، شہرت، لذت یا ذہنی برتری کا کھیل بن جائے تو چاہے وہ کتنا ہی sophisticated کیوں نہ ہو، قرآن کی نگاہ میں وہ اپنی اصل روح کھو چکا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3026

ٹیگز

تبصرے