0

*ربا، گناہوں کی جڑ اور ولایت کی ضد*

  • نیوز کوڈ : 3032
  • 03 June 2026 - 3:39
*ربا، گناہوں کی جڑ اور ولایت کی ضد*

*ربا، گناہوں کی جڑ اور ولایت کی ضد*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

بظاہر انسانی ذہن کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شہوت رانی، زنا، شراب نوشی، قتل یا دیگر کھلے اخلاقی جرائم ہی سب سے بڑے گناہ ہیں، کیونکہ ان کی برائی فوری طور پر نظر آتی ہے۔ انسان ایک شرابی کو دیکھ کر فوراً سمجھ لیتا ہے کہ یہ گناہ ہے، ایک زانی کا فساد بھی معاشرے میں ظاہر ہو جاتا ہے، لیکن ربا کی خرابی چونکہ سوٹ بوٹ ٹائی ، بینک، معاہدے، تجارت، قانونی دستاویزات، لکھ پڑھت اور “معاشی ترقی” کے خوشنما نعروں کے پیچھے چھپ جاتی ہے، اس لیے لوگ اس کی تباہی کو دیر سے محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن نے جس شدت کے ساتھ ربا کے خلاف اعلان کیا، وہ اس بات کی علامت ہے کہ ربا صرف ایک فردی برائی نہیں بلکہ ایسا نظامی فساد ہے جو بے شمار دوسرے گناہوں کو پیدا، محفوظ اور طاقتور بناتا ہے۔

شہوت رانی، زنا اور شراب جیسے گناہ عموماً فرد کے نفس کو خراب کرتے ہیں، مگر ربا پورے معاشرے کی روح کو خراب کرتا ہے۔ زنا ایک خاندان کو تباہ کر سکتا ہے، شراب ایک فرد کی عقل کو برباد کر سکتی ہے، مگر ربا پورے معاشرے کے اخلاق، معیشت، سیاست، تعلیم، ثقافت اور انسانی تعلقات کو آلودہ کر دیتا ہے۔ اسی لیے ربا کو بعض اہلِ معرفت نے “گناہوں کا تمدنی سرچشمہ” قرار دیا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ربا انسان کے اندر “حرص” کو عبادت کی سطح تک پہنچا دیتا ہے۔ قرآن و روایات میں حبِ دنیا، تکبر، حرص اور ظلم کو بہت سی برائیوں کی جڑ کہا گیا ہے، اور ربا انہی صفات کا منظم معاشی اظہار ہے۔ ایک زانی یا شرابی اپنی خواہشِ نفس کے تحت گناہ کرتا ہے، مگر ربا ایک ایسا نظام بناتا ہے جہاں پوری سوسائٹی کی بنیاد ہی لالچ، استحصال اور سرمایہ پرستی پر قائم ہو جاتی ہے۔ پھر یہی سرمایہ شہوت کی صنعت، فحاشی کے بازار، شراب کی تجارت، منشیات کے نیٹ ورک، جنگی معیشت، میڈیا کی بے حیائی، اور سیاسی کرپشن کو طاقت دیتا ہے۔

اگر غور کیا جائے تو آج دنیا میں فحاشی، عریانی اور شہوت پر مبنی صنعتیں محض نفسانی خواہش سے نہیں چل رہیں بلکہ اربوں ڈالر کی سرمایہ دارانہ مارکیٹ سے چل رہی ہیں۔ عورت کی عزت کو اشتہار، جسم کو پروڈکٹ، اور انسان کی کمزوریوں کو بزنس ماڈل بنا دیا گیا ہے۔ یہ سب صرف شہوت نہیں، بلکہ “سرمایہ کی بھوک” ہے۔ ربا پر کھڑا سرمایہ دارانہ ذہن ہر اس چیز کو فروخت کرتا ہے جو زیادہ منافع دے، چاہے وہ شراب ہو، جوا ہو، فحاشی ہو یا انسانی تباہی۔ گویا شہوت رانی کو عالمی صنعت بنانے والا اصل ایندھن سرمایہ پرستی ہے، اور سرمایہ پرستی کا سب سے طاقتور آلہ ربا ہے۔

اسی طرح شراب اور منشیات کی صنعت کو دیکھیں۔ یہ صرف چند گناہگار افراد کی خواہش نہیں بلکہ ایک منظم معاشی نظام ہے جس میں کمپنیاں، سرمایہ کار، سودی بینک، اشتہاری ادارے اور عالمی مارکیٹیں شامل ہیں۔ ربا پر مبنی سرمایہ ہمیشہ ایسے شعبوں میں جاتا ہے جہاں زیادہ منافع ہو، خواہ اس کے نتیجے میں انسانیت تباہ ہو جائے۔ اس لیے ربا براہِ راست صرف سود لینے تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ایسے تمام فاسد نظاموں کی پشت پناہی کرتا ہے جو انسان کی روح اور اخلاق کو برباد کرتے ہیں۔

قرآن نے ربا کے مقابل “صدقہ” اور “انفاق” کو رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صدقہ انسان کو دوسروں کے درد سے جوڑتا ہے جبکہ ربا دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا سکھاتا ہے۔ یہی فرق پورے اخلاقی نظام کو بدل دیتا ہے۔ جب انسان کی تربیت اس اصول پر ہو کہ “کمزور کی مدد کرو”، تو معاشرے میں رحمت، حیا، تعاون اور عدل پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جب اصول یہ بن جائے کہ “کمزور سے کماؤ”، تو پھر پورا معاشرہ درندہ صفت بننے لگتا ہے۔ وہاں رشتے بھی مفاد پر قائم ہوتے ہیں، محبت بھی مارکیٹ بن جاتی ہے، علم بھی بیچنے کی چیز بن جاتا ہے، اور مذہب تک سرمایہ کے تابع ہونے لگتا ہے۔

امام علیؑ نے فرمایا کہ دولت اگر چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے تو معاشرے میں فساد بڑھتا ہے۔ ربا یہی کرتا ہے۔ یہ دولت کو اوپر کھینچتا ہے اور غریب کو مسلسل قرض اور محرومی میں دھکیلتا ہے۔ پھر یہی محرومی بہت سے سماجی گناہوں کو جنم دیتی ہے۔ غربت سے چوری، احساسِ محرومی سے حسد، بے روزگاری سے جرائم، اور نفسیاتی دباؤ سے نشہ و بے راہ روی بڑھتی ہے۔ یعنی ربا براہِ راست یا بالواسطہ بے شمار اخلاقی خرابیوں کا ماحول تیار کرتا ہے۔

ربا کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ظلم کو “قانونی” اور “معمول” بنا دیتا ہے۔ شرابی جانتا ہے کہ وہ غلط کر رہا ہے، زانی کے ضمیر میں بھی کہیں نہ کہیں احساسِ جرم ہوتا ہے، مگر ربا خور اکثر اپنے عمل کو ترقی، کاروبار اور عقل مندی سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ربا انسان کے ضمیر کو زیادہ گہرائی سے تباہ کرتا ہے۔ جب ظلم نیکی محسوس ہونے لگے تو معاشرہ اخلاقی طور پر مرنے لگتا ہے۔

اسی لیے قرآن نے ربا کے بارے میں “اللہ اور رسول سے جنگ” جیسا سخت اعلان کیا جو دوسرے کسی گناہ کےلئے نہیں کیا کیونکہ ربا صرف ایک گناہ نہیں بلکہ خدا کے قائم کردہ نظامِ عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے خلاف بغاوت ہے۔ یہ انسان کو خدا کے بجائے سرمایہ کا بندہ بنا دیتا ہے۔ پھر سرمایہ ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کیا اخلاق ہے، کیا تعلیم ہے، کیا میڈیا ہے، کیا سیاست ہے، اور کیا تہذیب ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ربا باقی بے شمار گناہوں کی جڑ، محرک اور محافظ بن جاتا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا کہ ربا محض ایک مالی گناہ نہیں بلکہ بہت سی برائیوں کا سرچشمہ ہے، ایک گہری قرآنی و تمدنی حقیقت ہے۔ کیونکہ ربا انسان کے اندر حرص کو، معاشرے میں ظلم کو، اور تہذیب میں مادہ پرستی کو اس طرح راسخ کرتا ہے کہ پھر شہوت، شراب، استحصال، جھوٹ، کرپشن، فحاشی، جنگ اور اخلاقی زوال سب اسی درخت کی شاخیں بننے لگتی ہیں۔

قرآن مجید جب بنی اسرائیل کے بعض طبقات کے انحرافات کا ذکر کرتا ہے تو وہاں صرف چند انفرادی گناہوں کا بیان نہیں ہوتا بلکہ ایک پورے فکری، اخلاقی، سیاسی اور معاشی انحراف کی تصویر سامنے آتی ہے۔ انہی انحرافات میں ایک اہم انحراف ربا خوری بھی ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

“وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ”

یعنی انہوں نے ربا لیا حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔ یہاں قرآن صرف یہ نہیں کہہ رہا کہ انہوں نے ایک حرام کام کیا، بلکہ یہ بتا رہا ہے کہ جب ایک امت خدا کے عادلانہ نظام سے ہٹتی ہے تو وہ رفتہ رفتہ دین کو طاقت، سرمایہ اور مفاد کے تابع کر دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ربا محض مالی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ “باطل تمدن” کی بنیاد بن جاتا ہے۔

قرآن کے تناظر میں بنی اسرائیل کا مسئلہ صرف عقیدے کی خرابی نہیں تھا بلکہ “ہدایت سے ہٹ کر دنیا پرستی” تھا۔ انہوں نے وحی کو اقتدار، مذہب کو طبقاتی مفاد، اور شریعت کو سرمایہ کے تابع کر دیا۔ ربا اسی روح کا سب سے نمایاں مظہر تھا، کیونکہ ربا انسان کو خدا کے بجائے مال کا بندہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ربا کو ظلم، قساوتِ قلب، اور حق سے انحراف کے ساتھ جوڑا۔

اس پس منظر میں جب قرآن “اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ” کا حکم دیتا ہے، تو شیعہ مکتب کی روشنی میں یہ اطاعت صرف روحانی نظم کی اطاعت نہیں بلکہ “الٰہی نظامِ سیاست و عدل و ہدایت” کی اطاعت ہے، جس کا کامل مظہر معصومؑ ہیں۔ معصومؑ صرف عبادات سکھانے نہیں آتے بلکہ انسان، معاشرہ، معیشت، سیاست، اخلاق اور تمدن کو خدا کے نظام کے مطابق قائم کرنے آتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو معصومؑ کی اطاعت درحقیقت اس پوری ظالمانہ، سرمایہ پرستانہ اور ربوی ذہنیت کی نفی ہے جو انسان کو خدا سے کاٹ کر مال کا غلام بناتی ہے۔

یہ ربط بہت گہرا ہے۔ ربا خور تمدن کی بنیاد “حرص” ہے جبکہ ولایتِ معصومؑ کی بنیاد “عدل و عبودیت” ہے۔ ربوی نظام کہتا ہے کہ طاقتور کمزور کی مجبوری سے کمائے، جبکہ نظامِ ولایت کہتا ہے کہ طاقتور کمزور کا سہارا بنے۔ ربوی تمدن انسان کو سرمایہ کی اکائی بناتا ہے جبکہ اہل بیتؑ کا نظام انسان کو خدا کا خلیفہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے امام علیؑ کی حکومت میں بیت المال، بازار، تجارت، احتکار، ذخیرہ اندوزی اور طبقاتی ظلم کے مسائل کو صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ دینی و اخلاقی مسئلہ سمجھا گیا۔

آپؑ کے خطوط اور خطبات خصوصاً نہج البلاغہ میں واضح ہوتا ہے کہ اگر معیشت عدل پر قائم نہ ہو تو عبادتیں بھی اپنا حقیقی اثر کھو دیتی ہیں اور ایسے مسلمانوں کی دعا بھی مستجاب نہیں ہوتی۔ کیونکہ جب دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے، غریب مسلسل قرض اور محرومی میں جکڑا رہے، اور طاقت سرمایہ کے تابع ہو جائے، تو پھر معاشرے میں عبادت بھی اکثر رسم بن جاتی ہے جبکہ ظلم نظام بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل بیتؑ کی سیرت میں “ولایت” اور “عدالت” جدا نہیں ہیں۔

 اسلامی روایات میں ولایتِ اہل بیتؑ کو اعمال کی قبولیت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ ولایت صرف محبت نہیں بلکہ “صحیح الٰہی راستے” سے وابستگی ہے۔ اگر انسان عبادت کرے مگر ظلم کے نظام کے ساتھ کھڑا ہو، تو اس کی عبادت کا روحانی وزن کم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے روایات میں آیا ہے کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ سے بھی پہلے ولایت معصومین ع جیسی کسی چیز کی اتنی تاکید نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ولایت دراصل انسان کو حق کے زندہ مرکز سے جوڑتی ہے، تاکہ دین صرف فردی عبادات تک محدود نہ رہے بلکہ عدلِ اجتماعی میں ظاہر ہو۔

اسی طرح ربا صرف ایک انفرادی گناہ نہیں بلکہ ایسا “نظامی گناہ” ہے جو بے شمار دوسرے گناہوں کو جنم دیتا ہے۔ ایک زانی اپنی ذات کو خراب کرتا ہے، شرابی اپنی عقل کو نقصان پہنچاتا ہے، مگر ربوی نظام پوری انسانیت کے اخلاقی توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ربا کے خلاف “اللہ اور رسول سے جنگ” کا اعلان کیا۔ گویا ربا خدا کے نظامِ عدل کے مقابل کھڑا ہونے والی طاقت ہے۔ جب سرمایہ خدا کے بجائے معبود بن جائے تو پھر سیاست، تعلیم، میڈیا، جنگ، ثقافت، حتیٰ کہ مذہب بھی سرمایہ کے تابع ہونے لگتے ہیں۔ یہیں سے فحاشی، استحصال، جنگی معیشت، طبقاتی ظلم اور روحانی زوال جنم لیتا ہے۔

لہٰذا ایک معنوی و تمدنی اعتبار سے یہ بات درست ہے کہ ولایتِ معصومؑ اور ربوی تمدن ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ولایت انسان کو عبودیت، عدل، ایثار، قناعت اور رحمت کی طرف لے جاتی ہے جبکہ ربا حرص، استحصال، دنیا پرستی اور ظلم کو فروغ دیتا ہے۔ اسی لیے تاریخ میں اکثر ایسا ہوا کہ اہل بیتؑ کی تعلیمات کو دبانے والے نظام صرف سیاسی جابر نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے طاقت، سرمایہ، طبقاتی مفاد اور دنیا پرستانہ ذہنیت بھی کارفرما تھی۔

تاہم یہ بات بھی ضروری ہے کہ قرآن و روایات کی تعبیر میں توازن باقی رکھا جائے۔ یہ کہنا کہ “ہر یہودی” یا پورا یہودی مذہب ربا کی بنیاد ہے، درست نہیں ہوگا، کیونکہ قرآن خود بنی اسرائیل میں صالح افراد کا بھی ذکر کرتا ہے۔ قرآن کی تنقید ان ظالم اور دنیا پرست طبقات پر ہے جنہوں نے دین کو سرمایہ اور اقتدار کے تابع کیا جو جدید دور میں صہیونیت کے نام سے جانے جاتے ہیں، اسی طرح اسلام میں بھی اگر کوئی مسلمان ربا، ظلم اور استحصال کے نظام کو فروغ دے تو وہ اسی روحِ فساد میں شریک ہو جاتا ہے جس کی مذمت قرآن نے کی۔

اصل معرکہ “قوموں” کا نہیں بلکہ دو نظاموں کا ہے: ایک خدا کی حاکمیت، عدل، ولایت اور انسانی کرامت کا نظام؛ دوسرا حرص، سرمایہ پرستی، استحصال اور ربوی طاقت کا نظام۔ اہل بیتؑ کی اطاعت انسان کو پہلے نظام سے جوڑتی ہے جبکہ ربا انسان کو دوسرے نظام کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ولایت کو نجات کا دروازہ اور ربا کو ہلاکت کا راستہ کہا گیا۔

یوں قرآن، سیرتِ معصومینؑ اور تاریخِ انسانی کے باہمی مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ربا صرف ایک مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ ایک ایسی تہذیبی و روحانی بیماری ہے جو انسان کو خدا کی بندگی سے ہٹا کر سرمایہ کی بندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ولایتِ معصومؑ اور ربوی تمدن کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے، کیونکہ ایک کی بنیاد عدل، رحمت، قناعت، عبودیت اور انسانی کرامت پر ہے جبکہ دوسرے کی بنیاد حرص، استحصال، دنیا پرستی اور طبقاتی ظلم پر قائم ہے۔ اسی لیے اہل بیتؑ کی حقیقی اطاعت صرف چند فردی عبادات یا جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے الٰہی نظامِ حیات کو قبول کرنا ہے جو انسان کو ہر قسم کی ظالمانہ، استحصالی اور ربوی غلامی سے نجات دے۔ جب تک امت سرمایہ کو خدا کے حکم پر، اور منافع کو انسانی حرمت پر ترجیح دیتی رہے گی، تب تک عبادات کی روح، دعا کی تاثیر، معاشرے کا عدل اور انسانیت کا سکون مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے گا۔ چنانچہ نجات کا راستہ صرف انفرادی تقویٰ میں نہیں بلکہ اس ولایتِ حق کی طرف حقیقی رجوع میں ہے جو انسان کو ربا، ظلم، فحاشی، حرص اور مادہ پرستی کے اندھیروں سے نکال کر عدلِ الٰہی، اخلاقِ محمدی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم، اور نورِ اہل بیتؑ کی طرف لے جاتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3032

ٹیگز

تبصرے