بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
کسی بھی اجتماعی نظام، ادارے، تحریک، دینی تنظیم، تعلیمی پلیٹ فارم یا کاروباری ٹیم میں انسانوں کے درمیان کام کی تقسیم ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ عملاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ افراد معمول سے بڑھ کر ذمہ داری اٹھاتے ہیں، اپنی صلاحیت، وقت، ذہنی توانائی اور حتیٰ جذباتی قوت بھی لگا دیتے ہیں۔ وہ صرف اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتے بلکہ “exceed expectation” کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ مگر اس کے مقابلے میں بعض اوقات ٹیم لیڈر، مالک یا منتظم ان کی محنت کے مطابق مادی معاوضہ دینے سے عاجز ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ زبانی تعریف، دعائیں، تحسین، اخلاقی سپورٹ اور اعتماد کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ یہ صورتِ حال بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہے مگر اس کے اندر گہرے اخلاقی، نفسیاتی، سماجی، دینی اور تنظیمی پہلو موجود ہوتے ہیں۔
سلبی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال خطرناک بھی بن سکتی ہے۔ انسان صرف روحانی وجود نہیں بلکہ مادی تقاضوں والا بھی ہے۔ اس کی زندگی میں گھر، ضروریات، علاج، تعلیم، خاندان اور معاشی ذمہ داریاں موجود ہوتی ہیں۔ اگر ایک فرد مسلسل اپنی صلاحیت سے بڑھ کر کام کرے مگر اسے مادی انصاف نہ ملے تو آہستہ آہستہ اس کے اندر احساسِ استحصال پیدا ہوسکتا ہے۔ ابتدا میں وہ اخلاص کے ساتھ کام کرتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اگر فرقِ مراتب برقرار رہے، یعنی تعریف تو بہت ہو مگر عملی قدردانی نہ ہو، تو اس کے اندر خاموش تھکن، جذباتی burnout، احساسِ ناقدری اور بعض اوقات ادارے سے بدگمانی پیدا ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید organizational psychology بھی کہتی ہے کہ صرف verbal appreciation طویل مدت تک انسانی motivation کو sustain نہیں کرسکتی، خصوصاً جب workload اور compensation میں شدید عدم توازن ہو۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت تب بنتی ہے جب بعض لیڈرز “اخلاص”، “مشن”، “دین”، “قربانی” یا “خدمت” جیسے مقدس الفاظ کو استعمال کرکے مستقل طور پر کارکنوں کی اضافی محنت سے فائدہ اٹھانے لگیں۔ یہاں نیت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر لیڈر واقعی مجبور ہے تو معاملہ الگ ہے، مگر اگر وہ وسائل ہونے کے باوجود صرف جذباتی نعروں سے نظام چلا رہا ہے تو یہ اخلاقی خیانت کے قریب ہوجاتا ہے۔ قرآن کریم بار بار عدل، حق اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے پر زور دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ﴾
“لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔”
یہ آیت صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ ہر اس مقام پر صادق آتی ہے جہاں کسی انسان کی محنت، حق یا contribution کو کم کرکے دکھایا جائے۔
اسی طرح رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشہور فرمان ہے:
“مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔”
یہ روایت صرف فقہی حکم نہیں بلکہ اسلامی معاشی اخلاقیات کا اصول ہے۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کسی کی loyalty اور sincerity کو exploit کیا جائے۔ اگر کوئی فرد ادارے کیلئے اپنی توانائی کھپا رہا ہے تو اصل مطلوب یہ ہے کہ حتی الامکان اس کا حق ادا کیا جائے۔
لیکن ثبوتی اور مثبت زاویے سے دیکھا جائے تو ہر وہ صورت استحصال نہیں ہوتی جس میں مادی compensation کم ہو۔ انسانی تاریخ میں بہت سی عظیم تحریکیں، دینی ادارے، علمی مراکز اور انقلابی جدوجہدیں ایسے ہی لوگوں کے اخلاص پر کھڑی ہوئی ہیں جنہوں نے وسائل کی کمی کے باوجود کام کیا۔ انبیاءؑ کی دعوت، ائمہ اہل بیتؑ کے اصحاب کی قربانیاں، دینی مدارس، رفاہی تحریکیں اور بہت سی اصلاحی جدوجہدیں ابتدا میں محدود وسائل کے باوجود ہی آگے بڑھیں۔ یہاں اصل سوال نیت، شفافیت اور عدل کا ہے۔
اگر لیڈر واقعی مالی تنگی میں ہے، خود بھی قربانی دے رہا ہے، اپنے کارکنوں کی عزت کرتا ہے، ان کے ساتھ transparency رکھتا ہے، ان کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے اور جیسے ہی ممکن ہو ان کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ایسی صورتحال اخلاقی طور پر قابلِ فہم بن جاتی ہے۔ یہاں زبانی حوصلہ افزائی محض manipulation نہیں رہتی بلکہ حقیقی gratitude بن جاتی ہے۔ قرآن کریم میں شکر کا مفہوم صرف خدا کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ انسانی تعلقات میں بھی جاری ہے۔ روایت میں ہے:
“جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔”
یعنی کسی کارکن کی محنت کو recognize کرنا خود ایک اخلاقی فریضہ ہے۔
ائمہ معصومینؑ کی سیرت میں بھی یہ توازن نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ اپنے اصحاب کی قربانیوں کی نہ صرف تعریف کرتے تھے بلکہ ان کی عزتِ نفس، دعا، محبت اور اعتماد کے ذریعے انہیں معنوی قوت بھی دیتے تھے۔ بعض اوقات مادی وسائل نہ ہونے کے باوجود اہل بیتؑ اپنے ماننے والوں کو روحانی عظمت عطا کرتے تھے۔ کربلا میں امام حسینؑ کے اصحاب کو دنیاوی معاوضہ نہیں ملا مگر انہیں ایسی معنوی حیثیت ملی کہ تاریخ ان کے نام پر فخر کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف پیسے سے motivate نہیں ہوتا، بلکہ recognition، تعلق، مقصدیت اور معنویت بھی اس کی بنیادی غذائیں ہیں۔
مگر یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ہے۔ اسلام قربانی کو پسند کرتا ہے لیکن قربانی “رضاکارانہ” ہونی چاہیے، “مسلط شدہ” نہیں۔ اگر کارکن اپنی مرضی، شعور اور مقصدیت کے ساتھ محدود وسائل کے باوجود کسی مشن کیلئے کام کررہا ہے تو یہ ایثار ہے۔ مگر اگر اس کی مجبوری، loyalty یا emotional attachment کو exploit کیا جارہا ہو تو یہ ظلم کے قریب ہے۔ یہی فرق ایک مقدس تحریک اور ایک استحصالی نظام کے درمیان حدِ فاصل بن جاتا ہے۔
نفسیاتی طور پر بھی انسان اس وقت کم مادی compensation کے باوجود مطمئن رہتا ہے جب اسے تین چیزیں مل رہی ہوں: انصاف کا احساس، عزت کا احساس اور مستقبل کی امید۔ اگر ایک کارکن کو محسوس ہو کہ لیڈر واقعی اس کی قدر کرتا ہے، خود بھی قربانی دے رہا ہے، اور حالات بہتر ہوتے ہی compensation کی کوشش کرے گا، تو وہ زیادہ دیر تک اخلاص کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ مگر اگر تعریف صرف الفاظ میں ہو اور organizational structure اندر سے ناانصافی، favoritism اور self-interest پر کھڑا ہو تو پھر زبانی appreciation رفتہ رفتہ کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہے۔
قرآن کریم انسانی محنت کی قدر کو بہت بلند مقام دیتا ہے:
﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴾
“انسان کیلئے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”
یہ آیت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانی effort حقیقت رکھتا ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح امام علیؑ نے مالک اشتر کو حکومت کے اصول سکھاتے ہوئے بار بار اہلِ خدمت کے حقوق ادا کرنے، ان کی محنت کی قدر کرنے اور ان کے ساتھ انصاف کرنے کی تاکید فرمائی۔ کیونکہ کوئی بھی نظام صرف visions اور slogans سے نہیں چلتا، بلکہ انسانوں کی خاموش قربانیوں پر کھڑا ہوتا ہے۔
لہٰذا اس پورے سیناریو میں اصل معیار نیت، عدل، شفافیت اور توازن ہے۔ اگر وسائل کی کمی حقیقی ہے، لیڈر خود بھی اسی مشکل میں شریک ہے، کارکنوں کی عزت محفوظ ہے اور جیسے ہی ممکن ہو ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو یہ اجتماعی صبر، تعاون اور اخلاص کی ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔ مگر اگر زبانی تعریف کو مستقل substitute بنا کر لوگوں کی محنت سے فائدہ اٹھایا جائے تو یہ آہستہ آہستہ ظلم، استحصال اور organizational hypocrisy میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اسلام نہ سرمایہ دارانہ بے حسی کو قبول کرتا ہے اور نہ ہی جذباتی استحصال کو؛ بلکہ وہ ایسا نظام چاہتا ہے جہاں روحانیت اور عدالت، اخلاص اور حق، قربانی اور انصاف — سب ایک ساتھ موجود ہوں۔
