1

*بقرعید منانے کا مقصد کیا ہے؟*

  • نیوز کوڈ : 3013
  • 03 June 2026 - 3:10
*بقرعید منانے کا مقصد کیا ہے؟*

*بقرعید منانے کا مقصد کیا ہے؟*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم اجمعین

سید جہانزیب عابدی

عیدالاضحی، جسے بقر عید کے نام سے جانا جاتا ہے، محض جانور قربان کرنے کا رسمی دن نہیں بلکہ ایک عظیم شعور، فکری بیداری اور عملی جدوجہد کا عالمی پیغام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس دن کی اصل روح حضرت ابراہیمؑ کی اس عظیم سنت کی یادگار ہے جس میں انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو خدا کے حکم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہو کر ایک ایسا معیار قائم کیا جو قیامت تک ہر موحد، ہر مجاہد، اور ہر خدا پرست انسان کے لیے مشعل راہ ہے۔ عید قربان کی روح فقط جانوروں کے ذبح میں نہیں بلکہ ایک ایسی معنوی قربانی میں مضمر ہے جو انسان کو باطل قوتوں کے خلاف قیام اور خدا کی راہ میں ہر قیمت پر استقامت کی دعوت دیتی ہے۔

آج جب دنیا کی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی فضا پر صہیونی استعمار و سامراجیت کی گرفت ہے، جب انسانیت کو سرمایہ دارانہ مفادات کے نیچے روند دیا گیا ہے، اور جب مسلم دنیا کو داخلی اختلافات، فرقہ واریت، اور فکری جمود میں الجھا کر عالمی نظام کے شکنجے میں جکڑا جا رہا ہے، تو ایسے ماحول میں عید قربان کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کا اصل سبق یہ ہے کہ جب باطل کا سامنا ہو، جب خدا کی حاکمیت اور اس کے دین کی بقاء کا سوال ہو، تو ہر عزیز ترین چیز کو—حتی اپنی اولاد کو بھی—خدا کی راہ میں قربان کر دینا لازم ہو جاتا ہے۔

قربانی کا مفہوم درحقیقت اس ذات کی طرف رجوع ہے جس کی اطاعت انسان کے ہر ذاتی، اجتماعی، معاشی اور سیاسی مفاد سے بلند تر ہو۔ یہ قربانی دراصل ایک فریاد ہے کہ “میرا سب کچھ تیرا ہے، اے اللہ! جو کچھ تو چاہے، لے لے”۔ یہی وہ روح ہے جسے اگر مسلمان دنیا اپنی فردی اور اجتماعی زندگی میں زندہ کریں تو وہ استعمار کے تمام شکنجوں کو توڑ سکتے ہیں۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب وہ بقر عید کو صرف تہوار، گوشت کی تقسیم اور ظاہری رسومات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کو ایک عالمی انقلابی پیغام سمجھیں جو ابراہیمی تحریک کے احیاء کا تقاضا کرتا ہے۔

صہیونی سامراجیت جس نے جدید دنیا کو میڈیا، معیشت، سیاست اور علم کے میدان میں اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، درحقیقت وہی نمرودی و فرعونی قوتیں ہیں جن کے خلاف ابراہیمی تحریک ہمیشہ سے اٹھتی رہی ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے جبر کو چیلنج کیا، حضرت عیسیٰؑ نے یہودی مذہبی اشرافیہ کی ریاکاری کے خلاف بغاوت کی، اور حضرت محمدصل اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے قریش کے سرمایہ دارانہ اور ظالمانہ نظام کو للکارا۔ اسی تسلسل میں آج کے مسلمان پر بھی واجب ہے کہ وہ استعمار کے خلاف کھڑا ہو، اس کے فکری، نظریاتی، سیاسی، عسکری اور ثقافتی محاذ پر مقابلہ کرے۔

عیدالاضحی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلامی جدوجہد کا راستہ محض زبان کی حد تک نعرہ بازی سے نہیں بلکہ ایثار، قربانی، شہادت، اور مسلسل جہاد سے عبارت ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خدا کا دین دنیاوی مصلحتوں اور استعماری نظاموں کے ساتھ سمجھوتے کا نہیں بلکہ ان کی جڑیں کاٹ کر ایک الہی نظام قائم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اندرونی اصلاح، فکری آزادی اور خودی کا شعور لازمی ہے۔

آج کے دور کا استعمار فقط بیرونی تسلط نہیں بلکہ ایک فکری و نفسیاتی یلغار بھی ہے۔ صہیونی طاقتیں ہمیں ہماری تاریخ، ہمارے مجاہدین، ہمارے شہداء، اور ہماری ثقافتی شناخت سے کاٹ کر ایک بے روح امت میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے ایجنڈے کا مقابلہ صرف ہتھیار سے نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی قربانی سے کیا جا سکتا ہے—قربانی مال کی، وقت کی، آرام کی، اور سب سے بڑھ کر اپنی خواہشات کی۔ جس دن امت مسلمہ اس قربانی کو اپنا وطیرہ بنا لے، وہ دن ہوگا جب ابراہیمی راستہ ایک بار پھر استعمار کے بتوں کو توڑنے والا راستہ بنے گا۔

لہٰذا عیدالاضحی کی اصل روح اس وقت بیدار ہوتی ہے جب ہم جانوروں کی قربانی کو اپنے نفس کی قربانی کا آغاز سمجھیں، جب ہم سامراجی نظام کے خلاف قیام کو ایک دینی فریضہ تسلیم کریں، اور جب ہم اپنی ذاتی و اجتماعی زندگی میں خدا کی حاکمیت کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔ یہی ابراہیمی سنت ہے، یہی اسلامی تحریک کا جوہر ہے، اور یہی بقر عید کا صہیونی استعمار و سامراجیت کے خلاف جہاد میں اصل پیغام ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3013

ٹیگز

تبصرے