0

*امام, معاشرے کی روح*

  • نیوز کوڈ : 3016
  • 03 June 2026 - 3:15
*امام, معاشرے کی روح*

*امام, معاشرے کی روح*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

جس طرح عقلِ انسانی اس نتیجے تک پہنچتی ہے کہ یہ منظم کائنات کسی حکیم، قادر اور مدبّر ہستی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح یہی عقل اجتماعی زندگی کے بارے میں بھی یہ حکم دیتی ہے کہ انسانی معاشرہ کسی رہبر، امام اور قائد کے بغیر اپنے حقیقی مقصد تک نہیں پہنچ سکتا۔ خدا کے وجود پر جو دلائل دیے جاتے ہیں، ان میں ایک اہم نکتہ “نظم” ہے؛ یعنی جہاں عظیم نظم، مقصدیت اور باہم مربوط نظام موجود ہو، وہاں ایک علیم و حکیم ناظم کا ہونا ضروری ہے۔ یہی اصول انسانی معاشرے پر بھی منطبق ہوتا ہے، کیونکہ معاشرہ محض افراد کا ہجوم نہیں بلکہ اقدار، قوانین، اہداف، تعلقات، حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔ اگر اس نظام کے لیے کوئی ہادی، رہبر اور مرجع نہ ہو تو انسانوں کی خواہشات، مفادات، تعصبات اور نفسانی رجحانات باہمی تصادم پیدا کر دیتے ہیں، اور نتیجہ فکری، اخلاقی، سیاسی اور تمدنی ہرج و مرج کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

فلسفی اعتبار سے انسان ایک “مدنی بالطبع” مخلوق ہے۔ وہ تنہا زندگی نہیں گزار سکتا بلکہ اسے اجتماعی حیات درکار ہے۔ مگر اجتماع بذاتِ خود امن، عدل اور ہدایت کی ضمانت نہیں دیتا، کیونکہ ہر فرد کی عقل محدود، خواہشات مختلف، اور مفادات متصادم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اعلیٰ مرکزِ ہدایت موجود نہ ہو تو ہر شخص اپنی خواہش کو حق قرار دے گا۔ یہی کیفیت قرآن نے اس آیت میں بیان کی کہ اگر حق لوگوں کی خواہشات کے تابع ہو جائے تو زمین و آسمان کا نظام بگڑ جائے۔ پس جس طرح کائنات کے وجود کے لیے “ربوبیتِ الٰہی” ضروری ہے، اسی طرح انسانی اجتماع کے بقاء و ہدایت کے لیے “ربانی قیادت” ضروری ہے۔ یہاں امام اور رہبر صرف سیاسی حکمران نہیں بلکہ وہ محور ہوتا ہے جو معاشرے کی فکری سمت، اخلاقی روح، قانونی بنیاد اور تمدنی مقصد کو محفوظ رکھتا ہے۔

انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی معاشرے کسی صالح اور حکیم قیادت سے محروم ہوئے، وہ یا تو داخلی انتشار کا شکار ہوئے یا ظالم قوتوں کے ہاتھوں غلام بن گئے۔ رہبر کے بغیر معاشرہ بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے جہاز بغیر کپتان، جسم بغیر روح، یا قافلہ بغیر راہنما۔ ہر شخص اپنی سمت میں کھنچتا ہے، اجتماعی شعور منتشر ہو جاتا ہے، اور قوم اپنی اصل غایت کھو بیٹھتی ہے۔ فلسفۂ سیاست میں بھی یہ بات مسلم ہے کہ اقتدار کا خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ اگر حق پر مبنی قیادت موجود نہ ہو تو باطل قیادت ابھر آتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں امامت اور ولایت کو صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کی ہدایت کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔

قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ خدا نے انسانوں کو کبھی بغیر ہادی اور قائد کے نہیں چھوڑا۔ حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں فرمایا گیا کہ “میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں”۔ یہاں امامت کو نبوت کے بعد ایک عظیم منصب کے طور پر بیان کیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امام صرف عبادت گزار شخصیت نہیں بلکہ ایسا الٰہی مرکز ہے جو انسانوں کی فکری و عملی رہنمائی کرے۔ قرآن نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے ہر قوم کے لیے ایک ہادی مقرر کیا۔ یہ آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ ہدایتِ اجتماعی کے لیے ایک معصوم یا کم از کم الٰہی معیار سے وابستہ رہبر ضروری ہے، ورنہ انسان اپنی خواہشات، قبائلی عصبیتوں اور مادی مفادات کے پیچھے بھٹک جاتا ہے۔

اہل بیتؑ کی روایات میں امام کو “نظامِ امت” قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علیؑ نے نہج البلاغہ میں فرمایا کہ لوگوں کے لیے حاکم کا ہونا ضروری ہے، خواہ نیک ہو یا بد، کیونکہ اس کے بغیر اجتماعی نظام باقی نہیں رہتا۔ اس جملے میں انسانی اجتماع کی ایک عمیق حقیقت پوشیدہ ہے کہ قیادت کا خلا بذاتِ خود فساد کو جنم دیتا ہے۔ البتہ اسلام صرف “کسی بھی قیادت” پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ “حق پر مبنی قیادت” کا مطالبہ کرتا ہے۔ امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی، کیونکہ اگر حجت نہ ہو تو زمین اپنے اہل سمیت دھنس جائے۔ اس روایت کا مفہوم صرف تکوینی نہیں بلکہ تمدنی اور معنوی بھی ہے؛ یعنی حجتِ الٰہی ہی وہ محور ہے جس کے ذریعے حق و باطل میں فرق باقی رہتا ہے۔

فلسفی طور پر امام اور رہبر کی چند “صفاتِ ثبوتیہ” ہیں، یعنی وہ مثبت اوصاف جو اس میں ہونا ضروری ہیں۔ سب سے پہلی صفت علم ہے۔ رہبر کو حقیقتِ انسان، معاشرہ، عدل، اخلاق اور دین کا عمیق علم ہونا چاہیے، کیونکہ جاہل رہبر معاشرے کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ دوسری صفت حکمت ہے، یعنی صرف معلومات کافی نہیں بلکہ ان معلومات کو صحیح مقام پر نافذ کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ تیسری صفت عدالت ہے۔ اگر رہبر خود ظلم، خواہشِ نفس یا ذاتی مفاد کا اسیر ہو تو وہ معاشرے میں عدل قائم نہیں کر سکتا۔ چوتھی صفت شجاعت ہے، کیونکہ حق کی حفاظت ہمیشہ طاقتور باطل قوتوں کے مقابلے کا تقاضا کرتی ہے۔ پانچویں صفت بصیرت ہے، یعنی زمانے، فتنے، تہذیبی حملوں اور انسانی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت۔ چھٹی صفت زہد اور دنیا سے بے رغبتی ہے، کیونکہ اقتدار کی محبت رہبر کو استبداد کی طرف لے جاتی ہے۔ ساتویں صفت رحمت اور انسان دوستی ہے، کیونکہ رہبر محض قانون نافذ کرنے والا نہیں بلکہ انسانوں کی رشد و تربیت کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔ اسلامی فکر میں کامل ترین صورت میں یہ تمام صفات “عصمت” کی شکل اختیار کرتی ہیں، یعنی امام خطا، گناہ اور خواہشِ نفس سے محفوظ ہوتا ہے تاکہ وہ مطلق معیارِ ہدایت بن سکے۔

اسی کے مقابلے میں امام اور رہبر کی “صفاتِ سلبیہ” وہ ہیں جن کی نفی ضروری ہے۔ رہبر جاہل نہ ہو، کیونکہ جہالت امت کو تباہ کر دیتی ہے۔ وہ ظالم نہ ہو، کیونکہ ظالم رہبر معاشرے میں عدل کے بجائے خوف پیدا کرتا ہے۔ وہ بزدل نہ ہو، کیونکہ بزدل قیادت حق کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ وہ حریص اور دنیا پرست نہ ہو، کیونکہ ایسی قیادت عوام کو بھی مادہ پرستی کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ متکبر نہ ہو، کیونکہ تکبر انسان اور قیادت کے درمیان دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ وہ فکری طور پر سطحی اور بے بصیرت نہ ہو، کیونکہ سطحی رہبر تہذیبی جنگوں میں اپنی قوم کو کھو دیتا ہے۔ اسی طرح وہ جھوٹا، وعدہ شکن اور منافق نہ ہو، کیونکہ قیادت کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔

اسلامی فلسفۂ امامت میں امام صرف سیاسی سربراہ نہیں بلکہ “انسانِ کامل” کا مظہر ہوتا ہے۔ وہ امت کے لیے صرف قانون نہیں بلکہ زندہ نمونہ بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے قرآن نے رسول اکرم ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ تمہارے لیے رسول کی ذات میں بہترین اسوہ موجود ہے۔ یعنی قیادت کا حقیقی سرچشمہ صرف احکام نہیں بلکہ مجسم کردار ہے۔ جب معاشرہ ایسے اسوہ سے محروم ہو جاتا ہے تو قوانین بھی بے روح ہو جاتے ہیں، عبادات رسم بن جاتی ہیں، اور اقدار بازار کی اشیاء میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

معاشرے میں امام اور رہبر کی ضرورت دراصل انسانی وجود کی معنوی ضرورت ہے۔ انسان صرف معاشی یا حیوانی مخلوق نہیں بلکہ ایک اخلاقی و روحانی ہستی بھی ہے۔ اگر قیادت صرف طاقت، سرمایہ یا اکثریت کی بنیاد پر قائم ہو تو معاشرہ مادی ترقی تو کر سکتا ہے مگر روحانی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں طاغوتی قیادتوں کے مقابلے میں الٰہی قیادت کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔ طاغوت انسان کو خواہشات، خوف اور استحصال کے ذریعے چلاتا ہے، جبکہ امام انسان کو فطرت، عقل اور قربِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔

پس جس طرح خدا کے بغیر کائنات کا نظم بے معنی ہو جاتا ہے، اسی طرح امام اور رہبر کے بغیر انسانی معاشرہ اپنی حقیقی سمت کھو دیتا ہے۔ خدا کائنات کا رب ہے اور امام انسانی اجتماع کے لیے ربانی ہدایت کا مظہر۔ خدا تکوینی نظام کو سنبھالتا ہے اور امام تشریعی و تمدنی نظام کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر کائنات میں مرکزِ وحدت نہ ہو تو نظام بکھر جائے، اور اگر معاشرے میں امام و رہبر نہ ہو تو انسان خواہشات، طاقت اور انتشار کے جنگل میں کھو جائے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3016

ٹیگز

تبصرے