1

اسلامی تہذیب و ثقافت کا پاکستان میں احیاء اور اجراء کی حکمتِ عملی

  • نیوز کوڈ : 3007
  • 03 June 2026 - 3:04
اسلامی تہذیب و ثقافت کا پاکستان میں احیاء اور اجراء کی حکمتِ عملی

اسلامی تہذیب و ثقافت کا پاکستان میں احیاء اور اجراء کی حکمتِ عملی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

تہذیب (Civilization) اور ثقافت (Culture) بظاہر ایک دوسرے کے بہت قریب نظر آنے والے الفاظ ہیں، لیکن علمی اور فکری سطح پر ان دونوں کے درمیان ایک نہایت بنیادی اور تکنیکی فرق پایا جاتا ہے۔ یہ فرق صرف اصطلاحات کا نہیں بلکہ انسانی معاشروں کے داخلی اور خارجی ڈھانچے کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

تہذیب سے مراد کسی بھی معاشرے کا وہ ظاہری، منظم اور مادی نظام ہوتا ہے جو انسان نے اپنی اجتماعی زندگی کو سہولت، نظم اور ترقی دینے کے لیے تشکیل دیا ہو۔ اس میں ریاستی ادارے، قانون، معیشت، ٹیکنالوجی، شہری نظام، سڑکیں، عمارتیں، ذرائع نقل و حمل، سائنسی ترقی اور انتظامی ڈھانچے شامل ہوتے ہیں۔ تہذیب دراصل انسان کے بیرونی ماحول کو منظم کرنے اور قدرتی وسائل کو استعمال میں لانے کا اجتماعی اظہار ہے۔ اس لیے تہذیب کو عموماً “material and institutional framework” کہا جاتا ہے، یعنی وہ فریم ورک جس میں معاشرہ عملی طور پر کام کرتا ہے۔

اس کے برعکس ثقافت انسانی معاشرے کی اندرونی روح، ذہنی ساخت، اقدار، عقائد، روایات، زبان، ادب، فنون اور طرزِ فکر کو ظاہر کرتی ہے۔ ثقافت وہ غیر مادی نظام ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ ایک معاشرہ سوچتا کیسے ہے، اچھائی اور برائی کو کیسے پرکھتا ہے، خوبصورتی اور بدصورتی کا معیار کیا سمجھتا ہے، اور انسان کا مقصدِ حیات کیا تصور کیا جاتا ہے۔ ثقافت دراصل انسان کے “meaning system” یعنی معنیاتی نظام کو تشکیل دیتی ہے، جس کے تحت تہذیب کا پورا مادی ڈھانچہ اپنی سمت اور اخلاقی جواز حاصل کرتا ہے۔

تکنیکی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو تہذیب زیادہ تر “outward structure” ہے جبکہ ثقافت “inward structure” ہے۔ تہذیب وہ جسم ہے جسے معاشرہ تعمیر کرتا ہے، جبکہ ثقافت اس جسم کی روح ہے جو اسے معنی اور مقصد عطا کرتی ہے۔ اسی لیے ایک ہی طرح کی ٹیکنالوجی یا تہذیبی ترقی مختلف ثقافتوں میں مختلف نتائج پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ہر ثقافت اس ترقی کو اپنے اقداری نظام کے مطابق استعمال کرتی ہے۔

ایک اور اہم فرق یہ ہے کہ تہذیب نسبتاً تیزی سے بدلتی ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اور معاشی حالات بدلتے رہتے ہیں، جبکہ ثقافت نسبتاً زیادہ دیرپا اور گہری ہوتی ہے کیونکہ یہ نسلوں میں منتقل ہونے والے عقائد اور اقدار پر قائم ہوتی ہے۔ تہذیب کو بیرونی عوامل جیسے صنعت، سیاست اور عالمی تعلقات زیادہ متاثر کرتے ہیں، جبکہ ثقافت کو تعلیم، مذہب، ادب اور سماجی روایات زیادہ متاثر کرتی ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ تہذیب انسان کے “کیسے جینے” کا نظام ہے جبکہ ثقافت انسان کے “کیوں جینے” کا جواب فراہم کرتی ہے۔ تہذیب بغیر ثقافت کے محض ایک خالی اور بے سمت مشین بن سکتی ہے، اور ثقافت بغیر تہذیب کے محض نظریاتی تصورات تک محدود رہ سکتی ہے۔ انسانی معاشرے کی حقیقی پختگی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب دونوں کے درمیان توازن اور ہم آہنگی قائم ہو جائے۔

جب ہم “اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیاء یا قیام” کی بات کرتے ہیں، خصوصاً پاکستان کے تناظر میں، تو اس کا مطلب محض چند مذہبی علامات کا اضافہ یا روایتی رسوم کی واپسی نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک پورے فکری، اخلاقی، سماجی اور ادارہ جاتی نظام کی ازسرِنو تشکیل کا سوال ہوتا ہے جس میں معاشرے کی روح (ثقافت) اور اس کا عملی ڈھانچہ (تہذیب) دونوں کو اسلامی تصورِ حیات کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔

اسلامی ثقافت سے مراد وہ فکری و اقداری نظام ہے جس میں انسان کی سوچ، اخلاق، مقصدِ حیات، حسن و قبح کا معیار اور علم و عمل کی سمت قرآن و سنت کی ہدایت سے متعین ہو۔ جبکہ اسلامی تہذیب اس ثقافتی بنیاد پر قائم ہونے والا وہ عملی نظام ہے جو معاشرے کے اداروں، قانون، معیشت، تعلیم، سیاست اور اجتماعی زندگی کو منظم کرتا ہے۔ لہٰذا جب ہم اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیاء کی بات کرتے ہیں تو اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ایک معاشرے کی فکر اور اس کے ادارے اللہ کی حاکمیت، عدل، اخلاق اور انسانی فلاح کے اصولوں پر استوار ہیں یا نہیں۔

پاکستان کے حوالے سے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں تعلیم صرف روزگار پیدا کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ انسان کی اخلاقی اور فکری تربیت بھی کرے۔ مثال کے طور پر اگر تعلیمی نظام میں طلبہ کو صرف سائنس اور ٹیکنالوجی سکھائی جائے لیکن ان میں امانت، دیانت، عدل، ذمہ داری اور مقصدِ حیات کا شعور نہ پیدا ہو تو یہ تہذیب تو ہو سکتی ہے مگر اسلامی ثقافت سے خالی ہوگی۔ اسلامی احیاء کا مطلب یہ ہے کہ نصابِ تعلیم میں علم کے ساتھ اخلاقی اور روحانی تربیت کو مرکزی حیثیت دی جائے، تاکہ ایک انجینئر یا ڈاکٹر صرف ماہر پیشہ ور نہ ہو بلکہ ایک ذمہ دار اور بااخلاق انسان بھی ہو۔

اسی طرح معیشت کے میدان میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیاء کا مطلب یہ نہیں کہ صرف بینکاری یا مالی نظام میں چند اسلامی اصطلاحات شامل کر دی جائیں، بلکہ سودی ذہنیت کے بجائے عدل، شراکت اور حقیقی خطرے کی بنیاد پر معاشی نظام کو استوار کیا جائے۔ اگر معیشت میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو، غریب طبقہ مسلسل محروم رہے اور مالی نظام استحصال پر مبنی ہو تو یہ تہذیبی ترقی کے باوجود اسلامی ثقافت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہوگا۔

سماجی سطح پر اسلامی ثقافت کا احیاء اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب خاندان ایک اخلاقی اور تربیتی اکائی کے طور پر مضبوط ہو، والدین اور اولاد کے درمیان احترام اور ذمہ داری کا رشتہ قائم ہو، اور معاشرتی تعلقات میں سچائی، پردہ، حیا، انصاف اور حقوق العباد کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی معاشرے میں ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ہو لیکن خاندانی نظام کمزور ہو جائے، طلاق کی شرح بڑھ جائے، اور فرد تنہائی اور بے معنویت کا شکار ہو جائے تو یہ تہذیب تو ہوگی مگر ثقافت کے بحران کی علامت ہوگی۔

سیاسی اور ریاستی سطح پر اسلامی تہذیب کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار کو محض طاقت یا مفاد کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک امانت تصور کیا جائے۔ قانون سب کے لیے برابر ہو، فیصلہ سازی میں عدل اور شفافیت ہو، اور ریاست اپنے شہریوں کی صرف جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی اور فکری فلاح کی بھی ذمہ دار ہو۔ اگر ایک ریاست میں ادارے موجود ہوں مگر عدل مفقود ہو، قانون طاقتور کے لیے مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہو تو یہ تہذیبی ڈھانچہ ہونے کے باوجود اسلامی ثقافت کی روح سے خالی ہوگا۔

پاکستان کے تناظر میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیاء کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ میڈیا، فنون اور عوامی بیانیہ انسان میں اخلاقی حساسیت پیدا کرے، نہ کہ صرف لذت، شہرت اور صارفیت کو بڑھائے۔ اگر ڈرامے، فلمیں اور سوشل میڈیا انسانی جذبات کو سطحی تفریح تک محدود کر دیں اور کردار سازی کے بجائے صرف خواہشات کو ابھاریں تو یہ ثقافتی زوال کی علامت ہے، چاہے تہذیبی طور پر وسائل اور ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی یافتہ ہوں۔

اسلامی تہذیب و ثقافت کے احیاء کا مطلب ایک ایسے ہمہ جہت نظام کا قیام ہے جس میں انسان کی فکر، اخلاق، ادارے، معیشت، تعلیم اور سیاست سب ایک ہی مقصد یعنی اللہ کی رضا، انسانی عدل اور اجتماعی فلاح کے گرد منظم ہو جائیں۔ یہ محض مذہبی شناخت یا علامتی اقدامات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری انقلاب اور عملی نظام کی تشکیل کا نام ہے۔

مختلف علاقائی ثقافتوں کی موجودگی میں اسلامی ثقافت کا “اجراء” دراصل کسی ایک مقامی کلچر کو ختم کر کے اس کی جگہ دوسرا کلچر مسلط کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بالاتر اقداری اور فکری فریم ورک کی تشکیل کا عمل ہے جس کے اندر مختلف علاقائی ثقافتیں اپنی ظاہری شکل برقرار رکھتے ہوئے ایک مشترک اخلاقی و فکری نظام کے تابع ہو جاتی ہیں۔ اسلامی ثقافت کی اصل قوت اس کی “یونیورسل اقدار” میں ہے، یعنی عدل، توحید، امانت، حیا، احترامِ انسانیت اور ذمہ داری کا شعور۔ یہ اقدار کسی ایک قوم یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ ہر ثقافت میں اپنے مطابق ڈھل سکتی ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، مہاجر اور دیگر علاقائی ثقافتیں موجود ہیں، وہاں اسلامی ثقافت کا اجراء اس طرح ہوتا ہے کہ ہر علاقہ اپنی زبان، لباس، روایات اور مقامی شناخت کو برقرار رکھتا ہے، لیکن ان تمام ثقافتی اظہار کے اوپر ایک مشترک اخلاقی معیار نافذ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سندھی یا بلوچی شادی اپنی روایتی موسیقی، لباس اور انداز کے ساتھ ہو سکتی ہے، لیکن اس کے اندر سادگی، حیا، اسراف سے بچاؤ اور حقوق العباد کا خیال اسلامی ثقافت کی عکاسی کرے گا۔ اسی طرح اگر کسی پشتون یا پنجابی معاشرے میں جرگہ یا پنچایت کا نظام موجود ہے تو اس میں فیصلہ کرتے وقت قبیلائی تعصب کے بجائے عدل، گواہی اور حق کو معیار بنایا جائے تو یہ علاقائی ثقافت کی اسلامی تہذیب کے ساتھ ہم آہنگی کی مثال ہے۔

اسلامی ثقافت کا اجراء زبان کے تنوع کو ختم کرنے کے بجائے اسے اخلاقی اور فکری وحدت میں بدل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اردو، سندھی، پشتو اور بلوچی زبانیں اپنی اپنی جگہ قائم رہتی ہیں، لیکن ان زبانوں میں جو ادب، شاعری اور میڈیا تخلیق ہو وہ انسان میں سچائی، اخلاق، ذمہ داری اور مقصدِ حیات کا شعور پیدا کرے۔ اگر کسی زبان میں ادب صرف عشقِ مجازی، وقتی جذبات یا سطحی تفریح تک محدود ہو جائے تو وہ ثقافت کا کمزور پہلو ہے، لیکن اگر اسی زبان میں اقبال یا دوسرے مفکرین کی طرح انسان کی خودی، مقصد اور اخلاقی ذمہ داری کو اجاگر کیا جائے تو وہ اسلامی ثقافت کے اجراء کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اسی طرح لباس کے میدان میں اسلامی ثقافت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر علاقے سے مخصوص لباس ختم کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ لباس میں حیا، سادگی اور وقار کے اصول کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ مثال کے طور پر سندھی اجرک، بلوچی چادر یا پنجابی شلوار قمیض اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ برقرار رہ سکتے ہیں، لیکن ان کے استعمال میں بے حیائی، نمائش یا غیر اخلاقی طرزِ فکر شامل نہ ہو۔ یوں ثقافتی تنوع برقرار رہتا ہے مگر اخلاقی سمت یکساں ہو جاتی ہے۔

تعلیمی اور سماجی سطح پر بھی یہی اصول کارفرما ہوتا ہے۔ مختلف علاقوں کے اسکولوں میں نصاب اور زبان کی سطح پر فرق ہو سکتا ہے، لیکن مقصد ایک ہی ہونا چاہیے کہ انسان کو صرف ہنر مند نہیں بلکہ بااخلاق، ذمہ دار اور مقصد شناس بنایا جائے۔ اگر ایک بلوچ یا سندھی طالب علم اپنی مقامی تاریخ اور ثقافت کے ساتھ ساتھ عدل، امانت اور انسان دوستی کے اسلامی اصول بھی سیکھے تو یہ ثقافت کا انکار نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔

سیاسی اور ریاستی سطح پر اسلامی ثقافت کا اجراء اس وقت ہوتا ہے جب تمام علاقائی شناختیں ریاست کے اندر محفوظ رہتی ہیں لیکن قانون، انصاف اور حقوق کے معاملے میں سب برابر ہوں۔ اگر کسی علاقے کو وسائل یا انصاف میں ترجیح یا محرومی دی جائے تو وہ اسلامی ثقافت کے اصول عدل کے خلاف ہوگا، چاہے وہاں کتنی ہی مقامی ثقافت کو تحفظ حاصل ہو۔ اس لیے اسلامی ثقافت علاقائیت کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے انصاف اور اخلاق کے ایک بڑے دائرے میں منظم کرتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مختلف علاقائی ثقافتوں کی موجودگی میں اسلامی ثقافت کا اجراء ایک “اوپر سے آنے والی اخلاقی وحدت” ہے جو نیچے موجود تنوع کو دباتی نہیں بلکہ اسے معنی، سمت اور اخلاقی توازن عطا کرتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک باغ میں مختلف رنگوں کے پھول ہوں، مگر ان سب کو پانی ایک ہی جڑ سے مل رہا ہو۔ پھول مختلف رہتے ہیں، مگر ان کی زندگی اور حسن ایک مشترک نظام سے وابستہ ہوتا ہے۔

اختتاماً یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا احیاء اور اجراء نہ تو کسی ایک جامد روایت کو دہرانے کا نام ہے اور نہ ہی مختلف ثقافتوں کو مٹا دینے کا عمل، بلکہ یہ ایک ایسی فکری و اخلاقی سمت کی تشکیل ہے جو معاشرے کے تمام طبقات، اداروں اور علاقائی شناختوں کو ایک مشترک مقصدِ حیات کے گرد منظم کرتی ہے۔ جب تہذیب اپنے مادی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں عدل، شفافیت اور فلاح کو جگہ دیتی ہے اور ثقافت اپنی اندرونی فکر میں سچائی، حیا اور ذمہ داری کو فروغ دیتی ہے تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جو بیک وقت متنوع بھی ہوتا ہے اور مربوط بھی۔ اسی ہم آہنگی میں اسلامی تہذیب کی اصل روح جلوہ گر ہوتی ہے، جہاں اختلافِ رنگ و زبان ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی وحدت کے تحت بامقصد اور بامعنی بن جاتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3007

ٹیگز

تبصرے