بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سید جہانزیب عابدی
انسانی معاشرے میں محنت اور اجرت کا تعلق صرف ایک معاشی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی، دینی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی صلاحیت، وقت، توانائی اور زندگی کے قیمتی لمحات کسی ادارے، کمپنی یا مالک کے لیے صرف کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی عمر کا ایک حصہ اس کام کے حوالے کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے مزدور، ملازم اور اجیر کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ لیکن عملی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مالکان ملازمین کی مجبوریوں، معاشی کمزوریوں، بے روزگاری کے خوف اور سماجی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے زیادہ کام لیتے ہیں، کم معاوضہ دیتے ہیں اور ان کی وفاداری و خلوص کو ایک سستے وسیلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
قرآن کریم ظلم کو صرف جسمانی تشدد یا مالی لوٹ مار تک محدود نہیں کرتا بلکہ ہر وہ صورت جس میں کسی انسان کے حق کو دبایا جائے، اس کی محنت کی قدر کم کی جائے یا اس کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے، ظلم کے دائرے میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور لوگوں کی چیزیں کم نہ کیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔” (سورہ شعراء: 183)
یہ آیت صرف خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ ہر قسم کے حقوق پر منطبق ہوتی ہے۔ اگر کوئی مالک کسی ملازم سے دس گھنٹے کا کام لے مگر آٹھ گھنٹے کی اجرت دے، یا ایسی ذمہ داریاں عائد کرے جن کا معاوضہ نہ دے، تو وہ درحقیقت اس کی چیز کم کر رہا ہے۔
موجودہ کارپوریٹ اور تجارتی ماحول میں استحصال کی ایک عام صورت یہ ہے کہ ملازم کی وفاداری، جذبے اور ذمہ داری کے احساس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ “تم کمپنی کے لیے خاندان کی طرح ہو”، “ہم سب ایک ٹیم ہیں”، “تمہاری قربانیاں قابلِ قدر ہیں”، لیکن جب معاوضے، ترقی، بونس یا حقوق کی بات آئے تو یہی جذباتی نعرے خاموش ہو جاتے ہیں۔ اسلام ایسے رویے کو پسند نہیں کرتا کیونکہ اسلام حقیقت اور عدل کا دین ہے، محض جذباتی نعروں کا نہیں۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
“مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔”
یہ حدیث صرف ادائیگی کی جلدی کا حکم نہیں دیتی بلکہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مزدور کی محنت کا احترام فوری اور حقیقی ہونا چاہیے۔ اگر کسی کی محنت سے فائدہ اٹھایا جائے اور اس کے بدلے مناسب معاوضہ نہ دیا جائے تو یہ اسلامی روح کے خلاف ہے۔
امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ع کی حکومت میں عدل کا معیار یہ تھا کہ وہ بیت المال کے معاملے میں اپنے قریبی ترین افراد کے لیے بھی کوئی خصوصی رعایت نہیں دیتے تھے۔ ان کے نزدیک معاشی تعلقات کا معیار تعلقات نہیں بلکہ حق اور عدل تھا۔ ان کے خطوط اور فرامین میں بار بار یہ تاکید ملتی ہے کہ کمزور طبقے، مزدوروں اور محنت کشوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے کیونکہ طاقتور لوگ اپنی قوت کے باعث اپنا حق خود لے لیتے ہیں جبکہ کمزوروں کے حقوق ضائع ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
استحصال کی ایک اور صورت “کام کی حد کو مسلسل بڑھانا” ہے۔ ابتدا میں ملازم کو ایک خاص ذمہ داری پر رکھا جاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کے ذمے کئی اضافی کام ڈال دیے جاتے ہیں جبکہ تنخواہ وہی رہتی ہے۔ اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اگر وہ انکار کرے گا تو ناشکرا یا غیر وفادار سمجھا جائے گا۔ یہ دراصل نفسیاتی دباؤ کی ایک شکل ہے۔ اسلام میں معاہدات کی پابندی بنیادی اصول ہے۔ اگر کسی شخص کو ایک کام کے لیے اجرت دی جا رہی ہے تو اس سے اضافی خدمات لینا بھی اضافی حق پیدا کرتا ہے۔
قرآن مجید کا اصول ہے:
“اے ایمان والو! اپنے معاہدوں کو پورا کرو۔” (سورہ مائدہ: 1)
یہ حکم صرف ملازم کے لیے نہیں بلکہ مالک کے لیے بھی ہے۔ اگر معاہدہ آٹھ گھنٹے کا ہے تو بارہ گھنٹے کام لینا اور پھر اسے “کمپنی کی ضرورت” کا نام دینا انصاف نہیں۔
استحصال کی ایک اور شکل وہ ہے جب مالکان ملازمین کی مجبوریوں کو سمجھ کر ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری زیادہ ہے، ملازم کے گھر کے اخراجات ہیں، بچوں کی تعلیم ہے یا اس کے پاس متبادل روزگار نہیں، لہٰذا وہ جانتے بوجھتے کم اجرت پر زیادہ کام کرواتے ہیں۔ بظاہر یہ قانونی ہو سکتا ہے لیکن اخلاقی اور دینی اعتبار سے یہ ظلم کے قریب تر ہے۔ اسلام صرف قانونی جواز نہیں دیکھتا بلکہ اخلاقی انصاف بھی دیکھتا ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے بھائی پر ظلم کرے یا اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھائے۔ اگرچہ روایات میں الفاظ مختلف مواقع پر آئے ہیں لیکن مجموعی اسلامی تعلیمات یہی بتاتی ہیں کہ طاقت کا مقصد خدمت ہے، استحصال نہیں۔
سیرتِ اہل بیتؑ میں ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ وہ خادموں، کارکنوں اور مزدوروں کے ساتھ انتہائی احترام سے پیش آتے تھے۔ ان کے کام کی نوعیت، جسمانی طاقت اور حالات کو مدنظر رکھتے تھے۔ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا اسلامی اخلاق کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ قرآن بھی فرماتا ہے:
“اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا۔” (سورہ بقرہ: 286)
اگر خالقِ کائنات بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو ایک مالک کو کس بنیاد پر یہ حق حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ملازم سے اس کی جسمانی، ذہنی یا نفسیاتی استطاعت سے زیادہ مطالبہ کرے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مالک ظالم نہیں ہوتا۔ بہت سے مالکان مالی مشکلات، مارکیٹ کے دباؤ اور محدود وسائل کی وجہ سے زیادہ معاوضہ دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اسلام ایسی مجبوریوں کو بھی سمجھتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ مجبوری کی حالت میں بھی انصاف، شفافیت اور احترام باقی رہنا چاہیے۔ اگر وسائل محدود ہیں تو کم از کم سچائی، عزتِ نفس کا تحفظ، کام کی منصفانہ تقسیم اور ملازم کی قربانیوں کا حقیقی اعتراف موجود ہونا چاہیے۔ استحصال وہاں شروع ہوتا ہے جہاں طاقت رکھنے والا فریق جان بوجھ کر کمزور فریق کے حقوق کو دباتا ہے، اس کی وفاداری کو استعمال کرتا ہے اور اس کے جائز مطالبات کو نظر انداز کرتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے بہترین مالک وہ ہے جو اپنے ملازمین کو صرف “ہیومن ریسورس” نہ سمجھے بلکہ اللہ کے بندے سمجھے۔ وہ یہ یاد رکھے کہ قیامت کے دن اس سے صرف منافع، ٹرن اوور اور کارکردگی کے اعداد و شمار نہیں پوچھے جائیں گے بلکہ ان لوگوں کے حقوق بھی پوچھے جائیں گے جن کی محنت سے اس کی کامیابی ممکن ہوئی۔ اسی لیے اسلامی معاشی اخلاقیات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ محنت کو خرچ ہونے والی چیز نہیں بلکہ عزت و کرامت رکھنے والی انسانی امانت سمجھا جائے۔
جب نوکری کا تعلق عدل، احترام اور امانت پر قائم ہو تو وہ عبادت بن جاتی ہے، لیکن جب طاقت، مجبوری اور لالچ کے ذریعے انسانوں کو استعمال کیا جائے تو وہی تعلق ظلم کی ایک خاموش شکل اختیار کر لیتا ہے؛ ایسا ظلم جو اکثر عدالتوں میں ثابت نہیں ہوتا مگر اللہ کے میزانِ عدل میں ضرور محفوظ رہتا ہے۔
