2

*عوامی اجتماع ؛ قرآن ، حدیث اور اسلامی شخصیات کی نظر میں*

  • نیوز کوڈ : 3003
  • 01 June 2026 - 23:06
*عوامی اجتماع ؛ قرآن ، حدیث اور اسلامی شخصیات کی نظر میں*

*عوامی اجتماع ؛ قرآن ، حدیث اور اسلامی شخصیات کی نظر میں*

نتیجہ فکر : محمد حسن عسکری نقوی

اسلام ایک اجتماعی دین ہے۔ اس کی تعلیمات انسان کو تنہائی، گوشہ نشینی اور بے عملی کی طرف نہیں بلکہ بیدار، باشعور اور متحرک معاشرے کی تشکیل کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ قرآن مجید، احادیث اہل بیتؑ اور تاریخ اسلام کے عظیم کردار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جب حق و باطل کا معرکہ برپا ہو تو عوام کا میدان میں آنا، اجتماع کرنا اور حق کے پرچم تلے متحد ہونا ایک عظیم دینی فریضہ بن جاتا ہے۔

قرآن مجید انبیائے الٰہی کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ”

یعنی اللہ نے اپنے رسولوں کو اس لیے بھیجا کہ لوگ عدل و انصاف کے قیام کے لیے کھڑے ہوں۔ اس آیت میں “الناس” یعنی عوام کو مخاطب کیا گیا ہے۔ گویا عدل کا قیام چند افراد کا نہیں بلکہ باشعور عوام کا اجتماعی فریضہ ہے۔

اسی طرح امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی حکومت قبول کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

لَوْلَا حُضُورُ الْحَاضِرِ”

اگر لوگوں کی موجودگی اور ان کا اصرار نہ ہوتا تو میں حکومت کی ذمہ داری قبول نہ کرتا۔

یہ جملہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اسلامی تحریکوں اور حکومتوں کی کامیابی میں عوامی شرکت اور اجتماعی شعور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

تاریخ کربلا بھی اسی پیغام کی روشن مثال ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے مدینہ اور مکہ سے نکل کر کربلا کا سفر اختیار کیا۔ یہ سفر کسی خانقاہی گوشہ نشینی یا انفرادی عبادت کا سفر نہیں تھا بلکہ امت کی اصلاح، ظلم کے خلاف قیام اور حق کی سربلندی کا عظیم عوامی پیغام تھا۔ امامؑ چاہتے تھے کہ امت بیدار ہو، حق کو پہچانے اور ظالم نظام کے مقابلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

اسی حقیقت کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے یوں بیان کیا:

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری

کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

یعنی حسینی راستہ صرف عبادت گاہوں اور خانقاہوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے میدان میں حق و عدالت کے لیے جدوجہد کا نام ہے۔

عصر حاضر میں بھی یہی فکر اسلامی بیداری کی بنیاد ہے۔

رہبر شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ نے بھی اپنی پوری زندگی میں ہر مسئلے کا حل عوام کا میدان میں حاضر ہونا قرار دیا اور ہر مسئلے کے حل کے لیے عوام کو میدان میں حاضر ہونے کی دعوت دیتے تھے اور شیطانِ بزرگ امریکہ کی ہر سازش کا مقابلہ میدانِ عمل میں عوامی اجتماع کے ذریعے سے کرتے تھے۔

 رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے رہبرِ شہید کے چہلم کے موقع پر اپنے پیغام میں اس امر پر زور دیا کہ *مساجد اور سڑکوں کو باشعور عوام کے اجتماع سے بھر جانا چاہیے۔* یہ دراصل اسلامی معاشرے کی حیات اور بیداری کی علامت ہے کہ عوام حق کے دفاع اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے میدان میں موجود ہوں۔

پاکستان میں قائد شہید سید عارف حسین الحسینیؒ نے بھی عوامی شعور اور اجتماعی قوت کو اپنی تحریک کا مرکز بنایا۔ ان کی سنت و سیرت کا نمایاں پہلو مینارِ پاکستان جیسے عظیم عوامی اجتماعات کا انعقاد تھا۔ *یہ سلسلہ موجودہ قائد محترم کی قیادت کے ابتدائی سالوں تک جاری رہا اور ملتِ جعفریہ کے اتحاد، بیداری اور اجتماعی شعور کا مظہر بنتا رہا۔*

اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق صدر شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی یہ خواہش کہ وہ مزارِ اقبال پر عوامی اجتماع سے خطاب کریں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امت کے شہداء ہمیشہ عوام کے درمیان رہنے اور ان کے ساتھ مل کر اسلامی بیداری کی تحریک کو آگے بڑھانے کے آرزومند رہے ہیں۔ “شہیدِ امت کانفرنس” جیسے عظیم عوامی اجتماعات درحقیقت انہی مقدس آرزوؤں کی عملی تعبیر ہیں۔

*بزرگ عالم دین، سرمایۂ ملت تشیع علامہ سید افتخار حسین نقوی دام ظلہ* نے بھی شہید امت کانفرنس کے اجتماع کی ضرورت اور اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ملت کے تمام طبقات کو اس میں شرکت کرنے کی پُر زور تاکید کی ہے۔

آج کے دور میں جب امتِ مسلمہ کو فکری، سیاسی اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا ہے، عوامی اجتماعات صرف ایک رسم یا تقریب نہیں بلکہ شعور، وحدت، مزاحمت اور بیداری کا سرچشمہ ہیں۔ یہی اجتماعات قوموں کو زندہ رکھتے، نوجوان نسل کو مقصد عطا کرتے اور شہداء کے مشن کو آگے بڑھاتے ہیں۔

لہٰذا قرآن، حدیث، سیرتِ اہلبیتؑ، فکرِ اقبال، رہبرِ انقلاب کی ہدایات، قائد شہید عارف حسین الحسینیؒ کی سنت اور شہداء کی آرزوؤں کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ باشعور عوام کا اجتماع اسلامی معاشرے کی قوت، حیات اور بیداری کی علامت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو عزت، استقلال اور عدلِ الٰہی کے قیام کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=3003

ٹیگز

تبصرے