بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی زندگی ہمیشہ دو بڑی حقیقتوں کے درمیان سفر کرتی ہے۔ ایک طرف وہ اعلیٰ اقدار، مطلق حقائق اور کامل معیار ہیں جن کی طرف انسان فطری طور پر کشش محسوس کرتا ہے، اور دوسری طرف انسان کی اپنی کمزوریاں، محدود صلاحیتیں، نفسیاتی پیچیدگیاں، مادی تقاضے اور زمینی حالات ہیں جو اس کے عمل کو محدود کرتے ہیں۔ دینی نظامِ فکر کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان دونوں حقیقتوں میں سے کسی ایک کو نظر انداز نہیں کرتا۔ نہ وہ انسان کو محض ایک ایسی مثالی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں زمینی حقائق کی کوئی اہمیت نہ ہو، اور نہ ہی وہ انسان کو صرف مادی حالات اور عملی مجبوریوں کا غلام بنا دیتا ہے۔ بلکہ دین ایک ایسا متوازن راستہ پیش کرتا ہے جس میں “معیار” بھی باقی رہتا ہے اور “انسان” بھی ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔
اسی تناظر میں اگر “Idealism” سے مراد یہ لیا جائے کہ زندگی کے ہر معاملے میں دین ہی کو اصل معیار، اصل حق اور اصل آئیڈیل مانا جائے، تو یہ تعبیر دینی فکر کے بہت قریب ہے۔ دین انسان کو محض وقتی فائدے، اکثریتی رائے، طاقت کے غلبے یا مادی کامیابی کو معیار نہیں بنانا سکھاتا بلکہ وہ ایک بلند ترین اخلاقی و الٰہی میزان قائم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو عدل، تقویٰ، صداقت، عفت، امانت، ایثار، صبر اور حق پر استقامت کی دعوت دیتا ہے، خواہ دنیا کی غالب فضا اس کے برعکس ہی کیوں نہ ہو۔ اس اعتبار سے دین یقیناً ایک Ideal-oriented نظام ہے، کیونکہ وہ انسان کو “جو ہے” کے اندر قید نہیں کرتا بلکہ “جو ہونا چاہیے” کی طرف بلاتا ہے۔
لیکن دینی Idealism کو اگر مغربی فلسفیانہ مفہوم میں محض خیالی، غیر عملی یا زمینی حقائق سے بے تعلق تصور کر لیا جائے تو یہ دین کی درست تصویر نہیں ہوگی۔ اسلام انسان کو فرشتہ فرض نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ انسان خواہشات، خوف، کمزوری، غفلت، تھکن، جذبات اور مادی حدود کے اندر زندگی گزارتا ہے۔ اسی لیے دین نے اپنے اصولوں کے ساتھ ساتھ ایسی حکمتیں، رعایتیں اور تدریجی راستے بھی رکھے ہیں جو انسان کی عملی حالت کو سامنے رکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارے بیان کردہ “Realism” کا مفہوم سامنے آتا ہے۔
یہ Realism دراصل دین سے باہر کی کوئی مادہ پرستانہ یا سیکولر منطق نہیں بلکہ خود دین کے اندر موجود ایک حکیمانہ حقیقت شناسی ہے۔ دین انسان کی کمزوری کو دیکھتا ہے، مگر اس کمزوری کو معیار نہیں بناتا؛ بلکہ اسے سامنے رکھ کر انسان کو آہستہ آہستہ اعلیٰ معیار تک لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی دین ideal کو ختم نہیں کرتا بلکہ اس تک پہنچنے کے لیے انسانی ظرفیت کے مطابق راستہ فراہم کرتا ہے۔
اسی لیے اسلامی شریعت میں “رخصت” کا تصور موجود ہے۔ نماز فرض ہے، لیکن مریض کے لیے بیٹھ کر نماز کی اجازت ہے۔ روزہ فرض ہے، لیکن مسافر اور بیمار کے لیے مؤخر کرنے کی گنجائش ہے۔ حرام چیزیں حرام ہیں، لیکن اضطرار کی حالت میں جان بچانے کے لیے موقتی اجازت دی جاتی ہے۔ اسلام نے شراب کی حرمت بھی یک دم نافذ نہیں کی بلکہ انسانی معاشرتی حالت کو سامنے رکھتے ہوئے تدریج اختیار کی۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ دین انسان پر ایسا بوجھ نہیں ڈالتا جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔ قرآن صاف کہتا ہے:
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
یہ آیت محض ایک فقہی اصول نہیں بلکہ پورے دینی نظامِ تربیت کی بنیاد ہے۔ دین انسان کو توڑنا نہیں چاہتا بلکہ اسے سنوارنا چاہتا ہے۔ اسی لیے اس میں سختی کے ساتھ رحمت، حکم کے ساتھ حکمت، اور معیار کے ساتھ تدریج بھی موجود ہے۔
یہاں ایک انتہائی اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ دنیاوی یا سیکولر Realism اکثر اس بات پر ختم ہو جاتا ہے کہ “جو ممکن ہے وہی حق ہے” یا “جو چل رہا ہے اسی کو قبول کر لینا چاہیے”۔ وہاں طاقت، مفاد یا مروجہ حقیقت آہستہ آہستہ اخلاقی معیار کی جگہ لے لیتی ہے۔ لیکن دینی Realism اس سے بالکل مختلف ہے۔ دین میں realism کا مقصد ideal کو قربان کرنا نہیں بلکہ ideal کو قابلِ عمل بنانا ہے۔ یعنی دین انسان کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اسے اس کی آخری روحانی و اخلاقی منزل کی طرف لے جانے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
اسی لیے اسلامی فکر میں حقیقت دو سطحوں پر سمجھی جاتی ہے۔ ایک “معیاری حقیقت” ہے، یعنی وہ کامل حق جو خدا کے نزدیک مطلوب ہے۔ دوسری “انسانی حقیقت” ہے، یعنی وہ عملی حالت جس میں انسان زندگی گزار رہا ہے۔ دین ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں لاتا بلکہ دونوں کے درمیان ایک تربیتی پل بناتا ہے۔ اگر صرف ideal ہو اور انسانی حالت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو نظام سخت، غیر انسانی اور ناقابلِ عمل بن جاتا ہے۔ اور اگر صرف realism ہو اور کوئی بلند معیار باقی نہ رہے تو انسان محض مصلحت، خواہش اور وقتی فائدے کا غلام بن جاتا ہے۔ دین ان دونوں انتہاؤں سے بچاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انبیاءؑ کی دعوت میں ہمیں ہمیشہ یہ دونوں پہلو اکٹھے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک طرف کامل حق پیش کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف لوگوں کی نفسیاتی، معاشرتی اور تاریخی حالت کو بھی سمجھتے ہیں۔ رسول اکرمؐ نے عرب معاشرے کی اصلاح تدریج کے ساتھ کی۔ ائمہؑ نے مختلف سیاسی اور سماجی حالات میں مختلف حکمتِ عملیاں اختیار کیں۔ کہیں قیام کیا گیا، کہیں صبر کیا گیا، کہیں تقیہ اختیار کیا گیا، اور کہیں خاموش تربیت کے ذریعے معاشرے کو بدلا گیا۔ یہ سب دینی Realism کی شکلیں تھیں، لیکن ان میں سے کسی نے بھی اصل حق اور الٰہی معیار سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
اس لیے حقیقت میں دین کو صرف Idealism یا صرف Realism کہنا دونوں ہی صورتوں میں ناکافی ہے۔ دین دراصل “ہدایت یافتہ واقعیت پسندی” ہے۔ وہ انسان کو زمین سے کاٹ کر آسمان میں معلق نہیں کرتا، بلکہ زمین پر کھڑا رکھ کر آسمان کی طرف اٹھاتا ہے۔ وہ انسان کی کمزوری کو سمجھتا ہے، مگر اسے کمزوری میں قید نہیں رہنے دیتا۔ وہ انسان کو رعایت دیتا ہے، مگر اس رعایت کو دائمی جواز نہیں بناتا۔ وہ معیار قائم کرتا ہے، مگر اس معیار تک پہنچنے کے لیے انسانی فطرت، تدریج اور حکمت کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ دین کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ Ideal کو محفوظ رکھتے ہوئے Real کو نظر انداز نہیں کرتا، اور Real کو قبول کرتے ہوئے Ideal کو قربان نہیں کرتا۔ یہی توازن دینی حکمت، شریعت اور تربیت کی روح ہے۔
انبیاءؑ اور معصومینؑ کی زندگیاں دراصل اسی حقیقت کی عملی تفسیر ہیں کہ دین ایک طرف کامل الٰہی معیار قائم کرتا ہے اور دوسری طرف انسانی واقعیت، حالات، نفسیات اور معاشرتی محدودیتوں کو نظر انداز نہیں کرتا۔ ان مقدس ہستیوں کی سیرت میں ہمیں بار بار یہ نظر آتا ہے کہ وہ حق اور اصول سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے، لیکن ان اصولوں کو نافذ کرنے کے لیے حالات، ظرفیت، مصلحتِ ہدایت اور انسانی طاقت کو ضرور ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جسے ہم نے idealism اور realism کے امتزاج کے طور پر بیان کیا ہے۔
حضرت نوحؑ کی زندگی میں اس کی ایک گہری مثال ملتی ہے۔ نوحؑ کا ideal واضح تھا: توحید اور حق کی دعوت۔ انہوں نے اس معیار میں کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن دعوت کے طریقے میں غیر معمولی صبر، تدریج اور حکمت اختیار کی۔ قرآن بتاتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو دن رات، علانیہ اور پوشیدہ ہر طریقے سے دعوت دی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ حق کو قائم رکھنے کے باوجود انسانی نفسیات اور سماجی حالات کے مطابق مختلف اسالیب اختیار کیے گئے۔ اگر صرف ideal کو دیکھا جاتا تو شاید فوراً عذاب یا قطع تعلق کا راستہ اختیار کیا جاتا، لیکن نوحؑ نے صدیوں تک انسانی کمزوری اور جہالت کو برداشت کیا تاکہ ہدایت کا دروازہ بند نہ ہو۔
حضرت ابراہیمؑ کی زندگی بھی اسی حقیقت کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے شرک کے خلاف کامل توحیدی موقف اختیار کیا، لیکن اپنی قوم سے گفتگو میں تدریجی استدلال اپنایا۔ پہلے ستارے، چاند اور سورج کے ذریعے قوم کی ذہنی سطح کے مطابق استدلال کیا، پھر بتوں کو توڑنے کے بعد بھی براہِ راست مکمل تصادم کے بجائے ایک ایسا سوال چھوڑا جو قوم کی عقل کو جگا سکے۔ یعنی مقصد صرف حق بول دینا نہیں تھا بلکہ اس طرح بولنا تھا کہ دل و عقل پر اثر ہو۔ یہ دینی realism ہے، کیونکہ یہاں دعوت انسانی ذہن کی ساخت کو سامنے رکھ کر دی جا رہی ہے۔
حضرت یوسفؑ کی سیرت میں تو یہ توازن اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ وہ ایک کامل الٰہی انسان تھے، لیکن مصر کے غیر الٰہی سیاسی نظام کے اندر رہ کر بھی تدریجی اصلاح کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ انہوں نے فوراً پورا نظام بدلنے کی کوشش نہیں کی بلکہ پہلے معیشت، عدل اور اجتماعی نظم کے ذریعے معاشرے میں خیر پیدا کی۔ انہوں نے ideal کو ترک نہیں کیا، لیکن اس ideal کے نفاذ کے لیے ممکنات اور زمینی حقائق کو سمجھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دینی ہدایت ہمیشہ انقلاب کو صرف جذباتی تصادم کے ذریعے نہیں بلکہ بعض اوقات حکیمانہ تدریج کے ذریعے بھی نافذ کرتی ہے۔
رسول اکرمؐ کی پوری سیرت اس اصول کی سب سے کامل تصویر ہے۔ آپؐ نے توحید، عدل، اخلاق اور انسانیت کا اعلیٰ ترین معیار پیش کیا، لیکن اس کے نفاذ میں انسانی حالت، معاشرتی طاقت اور نفسیاتی آمادگی کو ہمیشہ مدنظر رکھا۔ شراب کی حرمت فوراً نازل نہیں ہوئی بلکہ تدریج کے ساتھ آئی، کیونکہ عرب معاشرہ صدیوں سے اس کا عادی تھا۔ اگر ایک ہی مرحلے میں مکمل پابندی نافذ کر دی جاتی تو بہت سے لوگ ٹوٹ جاتے یا ردِّ عمل پیدا ہوتا۔ اسی طرح مکہ میں تیرہ سال تک رسولؐ نے شدید مظالم برداشت کیے لیکن مسلح تصادم کی اجازت نہیں دی، کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی اجتماعی ظرفیت اور حالات اس کے لیے مناسب نہ تھے۔ پھر مدینہ میں جب ایک منظم معاشرہ وجود میں آیا تو دفاعی جہاد کی اجازت دی گئی۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ دین ideal کو برقرار رکھتے ہوئے realism کے ذریعے تدریجی نفاذ کرتا ہے۔
صلح حدیبیہ اس دینی realism کی ایک عظیم مثال ہے۔ بظاہر مسلمانوں کو کئی سخت شرائط قبول کرنی پڑیں۔ بعض صحابہ کو لگا کہ شاید مسلمانوں نے کمزوری دکھائی ہے، لیکن رسول اکرمؐ نے وقتی جذبات کے بجائے دور رس مصلحت کو دیکھا۔ آپؐ جانتے تھے کہ اصل مقصد صرف ایک وقتی سیاسی برتری نہیں بلکہ دعوت کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حدیبیہ کے بعد اسلام تیزی سے پھیلا۔ یہاں ideal یعنی حق کی دعوت برقرار رہی، لیکن اس کے حصول کے لیے حکمت اور وقتی لچک اختیار کی گئی۔
امیر المؤمنین امام علیؑ کی زندگی میں بھی یہی حقیقت نمایاں ہے۔ آپؑ حقِ خلافت پر کامل یقین رکھتے تھے، لیکن رسولؐ کی وفات کے بعد اسلام کے نوخیز معاشرے کو داخلی جنگ سے بچانے کے لیے صبر اختیار کیا۔ اگر صرف فوری idealistic confrontation ہوتا تو شاید اسلامی معاشرہ آغاز ہی میں ٹوٹ جاتا۔ امام علیؑ نے اصول سے دستبرداری نہیں کی، لیکن اجتماعی مصلحت اور اسلام کی بقا کو سامنے رکھتے ہوئے خاموشی، مشورہ اور تدریجی اصلاح کا راستہ اپنایا۔ بعد میں جب خلافت ملی تو آپؑ نے عدل کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، چاہے اس کی قیمت سیاسی مشکلات ہی کیوں نہ ہوں۔ یعنی جب حق کو نافذ کرنے کا موقع آیا تو ideal پوری قوت سے ظاہر ہوا، لیکن اس سے پہلے realism کے تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔
امام حسنؑ کی صلح بھی اسی دینی حکمت کی عظیم مثال ہے۔ آپؑ جانتے تھے کہ حق آپؑ کے ساتھ ہے، لیکن آپؑ نے یہ بھی دیکھا کہ معاشرہ اندر سے کمزور، منتشر اور دنیا پرست ہو چکا ہے۔ اگر اس حالت میں جنگ جاری رہتی تو حق کا مکمل خاتمہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے آپؑ نے صلح اختیار کی تاکہ اسلام کی اصل روح محفوظ رہے اور امت مکمل تباہی سے بچ جائے۔ یہ کوئی اصولی شکست نہیں تھی بلکہ ideal کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک realistic strategy تھی۔
اس کے برعکس امام حسینؑ کا قیام یہ دکھاتا ہے کہ realism ہمیشہ نرمی یا مصالحت کا نام نہیں ہوتا۔ جب حالات ایسے ہو جائیں کہ خاموشی خود حق کے خاتمے کا سبب بننے لگے، تو پھر ideal کا تقاضا قربانی بن جاتا ہے۔ امام حسینؑ نے دیکھا کہ یزیدی نظام صرف سیاسی انحراف نہیں بلکہ دین کی روح کو مٹا رہا ہے۔ یہاں realism یہی تھا کہ خاموشی اسلام کو باطن سے ختم کر دے گی، اس لیے قیام ضروری ہو گیا۔ یعنی یہاں بھی فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ حقائق کی گہری تشخیص پر مبنی تھا۔
امام جعفر صادقؑ کی زندگی میں علمی realism نظر آتا ہے۔ آپؑ نے ایسے دور میں، جب بنو امیہ اور بنو عباس کی کشمکش جاری تھی، مسلح قیام کے بجائے علمی و فکری تربیت کو ترجیح دی۔ آپؑ نے ہزاروں شاگرد تیار کیے اور علمی بنیادوں کو مضبوط کیا، کیونکہ اس وقت امت کی اصل ضرورت فکری بقا تھی۔ اگر ہر دور میں ایک ہی طرزِ عمل اختیار کیا جاتا تو شاید دین کی حفاظت ممکن نہ رہتی۔ یہی دینی realism ہے کہ اصل مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہر زمانے کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ انبیاءؑ اور معصومینؑ نہ تو محض خشک idealists تھے اور نہ ہی مصلحت پرست pragmatists۔ وہ حق کو کبھی قربان نہیں کرتے تھے، لیکن حق کے نفاذ کے لیے انسانی حالت، اجتماعی ظرفیت، وقت، طاقت، نفسیات اور مصلحتِ ہدایت کو ہمیشہ مدنظر رکھتے تھے۔ ان کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دین کا مقصد انسان کو توڑنا نہیں بلکہ اسے بتدریج حق کے قابل بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دینی realism دراصل ideal کا دشمن نہیں بلکہ اس کا محافظ ہوتا ہے۔
