8

مشروعیت، مقبولیت اور قیادتِ حق

  • نیوز کوڈ : 2965
  • 16 May 2026 - 3:48
مشروعیت، مقبولیت اور قیادتِ حق

مشروعیت، مقبولیت اور قیادتِ حق

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

سماجی سائنسز کے مطابق کوئی بھی معاشرہ صرف افراد کے مجموعے سے قائم نہیں رہتا بلکہ ایک منظم اجتماعی نظام، مشترک اقدار، قانون کی بالادستی اور اجتماعی مقصد کے ذریعے استحکام پاتا ہے۔ اسی لیے قائد و رہبر کا وجود ضروری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ رہبر معاشرے کی منتشر قوتوں کو ایک سمت دیتا ہے، اجتماعی شعور کو بیدار کرتا ہے اور مختلف طبقات کے درمیان توازن و ہم آہنگی قائم رکھتا ہے۔ اگر قیادت نہ ہو تو معاشرہ انتشار، مفادات کے ٹکراؤ، طاقتور طبقوں کے غلبے اور اجتماعی بے نظمی کا شکار ہو جاتا ہے۔

سوشیالوجی اور پولیٹیکل سائنس کے مطابق قیادت صرف حکومت چلانے کا نام نہیں بلکہ اجتماعی شناخت، سماجی اعتماد، قانون کی عملداری اور عوامی حقوق کے تحفظ کا محور بھی ہے۔ ایک صالح رہبر ملت کے اندر تعاون، نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری اور فلاحی احساس کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ قیادت کے فقدان میں معاشرہ انارکی، عدمِ اعتماد اور اخلاقی زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ اسی لیے ہر مہذب اور مستحکم معاشرے کیلئے ایسی قیادت ناگزیر سمجھی جاتی ہے جو صرف اقتدار نہیں بلکہ اجتماعی خیر، عدل اور انسانی وقار کی محافظ ہو۔

قرآن و احادیث کی روشنی میں انسانی معاشرے کے نظم، عدل، حقوق کی ادائیگی اور ملت کے استحکام کیلئے قائد و رہبر کا ہونا ایک الٰہی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ” (النساء: 59) یعنی اللہ، رسولؐ اور صاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اجتماعی نظام کی بقا کیلئے ایسی قیادت ضروری ہے جس کی اطاعت کے ذریعے امت انتشار سے محفوظ رہے۔ اسی طرح اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کو امتحانات کے بعد فرمایا: “اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا” (البقرہ: 124) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت و قیادت محض سیاسی منصب نہیں بلکہ انسانوں کی ہدایت اور اجتماعی تعمیر کا الٰہی نظام ہے۔

معصومینؑ کی روایات میں بھی قیادت کی ضرورت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب ؑ نے فرمایا کہ لوگوں کیلئے نیک یا بد کسی نہ کسی حاکم کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ حکومت کے بغیر نہ حدود قائم رہ سکتی ہیں، نہ حقوق محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی کمزوروں کو انصاف مل سکتا ہے۔ امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی، کیونکہ اگر رہبرِ حق نہ ہو تو دین، عدل اور انسانی نظام بکھر جاتا ہے۔ اس طرح قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق صالح قیادت ملت کی وحدت، عدل اجتماعی، حقوق العباد اور فلاحی استحکام کی بنیاد ہے۔

قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات میں امامت و قیادت صرف ایک قانونی یا ماورائی منصب نہیں بلکہ ایک زندہ اجتماعی حقیقت ہے جس کے قیام کیلئے مشروعیت کے ساتھ عوامی قبولیت، شعوری حمایت اور اجتماعی آمادگی بھی ضروری سمجھی گئی ہے۔ اسی لیے اگرچہ بارہ ائمہؑ خدا کی طرف سے منصوب تھے اور ان کی امامت پر نصوصِ شرعیہ موجود تھیں، لیکن ان حضرات نے اپنی عملی سیرت میں یہ بھی واضح کیا کہ صرف الٰہی تعیین کافی نہیں بلکہ امت کے اندر ایسا فکری، اخلاقی اور اجتماعی شعور پیدا ہونا بھی ضروری ہے جو اس قیادت کو قبول کرے، اس کی اطاعت کرے اور اس کے ساتھ مل کر عدلِ الٰہی کے نظام کو قائم کرے۔

قرآن مجید نے اس مقصد یعنی مقبولیت حاصل کرنے کیلئے سب سے پہلے معرفت اور بصیرت کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار تدبر، تعقل، تذکر اور حق کو پہچاننے کی دعوت دی تاکہ لوگ شخصیت پرستی، قبائلی تعصب، مال و طاقت کے فریب اور اکثریتی جذبات کے بجائے حق و باطل کو پہچان سکیں۔ کیونکہ جب تک امت میں فکری بلوغت پیدا نہ ہو، وہ الٰہی قیادت کی قدر نہیں پہچان سکتی۔ اسی لیے انبیاءؑ اور ائمہؑ نے سب سے زیادہ محنت انسان کے شعور کی تعمیر پر کی۔ قرآن نے نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے فرمایا: “یُزَكِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ” یعنی رسولؐ لوگوں کا تزکیہ کرتے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الٰہی قیادت کی مقبولیت صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ تربیت یافتہ انسانوں سے پیدا ہوتی ہے۔

اہل بیتؑ نے بھی اسی حکمت عملی کو اپنایا۔ امام علی ابن ابنی طالب ؑ  نے اپنے دور میں لوگوں پر حکومت مسلط نہیں کی بلکہ فرمایا کہ اگر لوگوں کی بیعت اور مدد نہ ہوتی تو میں حکومت قبول نہ کرتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشروعیت خدا کی طرف سے تھی مگر نظام کے عملی قیام کیلئے امت کی آمادگی اور نصرت ضروری تھی۔ امام حسن امام حسنؑ نے اسی حقیقت کے تحت صلح کی، کیونکہ معاشرہ قیادتِ حق کے تقاضوں کیلئے آمادہ نہیں تھا۔ امام حسین امام حسین ؑ نے بھی کوفہ کے خطوط اور عوامی دعوت کے بعد قیام کیا، کیونکہ اجتماعی حمایت کے بغیر الٰہی حکومت کا قیام ممکن نہیں ہوتا۔ اگرچہ بعد میں لوگوں نے بے وفائی کی، لیکن یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ امامؑ عوامی شعور اور نصرت کو اہم سمجھتے تھے۔

ائمہؑ نے مقبولیت پیدا کرنے کیلئے صرف سیاسی سرگرمی نہیں کی بلکہ علم، اخلاق، خدمت، عدل، حلم اور انسانی کرامت کے ذریعے دلوں کو فتح کیا۔ امام جعفر صادق نے ہزاروں شاگرد تیار کیے تاکہ ایک ایسا فکری و تمدنی ماحول پیدا ہو جو حق کی قیادت کو پہچان سکے۔ اہل بیتؑ کی پوری سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے زور سے حکومت نہیں چاہتے تھے بلکہ ایسا معاشرہ چاہتے تھے جو معرفت، عدالت، اخلاق اور بصیرت کی بنیاد پر خود حق کی طرف مائل ہو جائے۔

اسی لیے قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیم میں عوامی مقبولیت پیدا کرنے کے بنیادی اسباب میں تربیتِ شعور، اخلاقی نمونہ، عدل اجتماعی، خدمتِ خلق، عوام سے رابطہ، ظلم کے خلاف استقامت، علم کی اشاعت اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس شامل ہیں۔ الٰہی قیادت کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ انسانوں کے قلوب اور افکار کو اس حد تک بیدار کرنا ہے کہ وہ خود حق کے نظام کو قائم کرنے کیلئے آمادہ ہو جائیں۔

کسی بھی حق پر مبنی مکتب کی اجتماعی مقبولیت محض نعروں، احتجاجوں یا وقتی سیاسی اتحادوں سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایک طویل فکری، اخلاقی، سماجی اور تہذیبی جدوجہد سے وجود میں آتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو قرآن، سیرتِ نبویؐ اور اہل بیتؑ کی روش میں بھی نمایاں نظر آتا ہے کہ پہلے انسانوں کے دل، ذہن اور اعتماد حاصل کیے جائیں، پھر اجتماعی قیادت مضبوط ہوتی ہے۔ اس تناظر میں کئی ایسی تجاویز موجود ہیں جو “مقبولیت کے اصول” کو عملی صورت دینے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

سب سے پہلی چیز “تشیع کی درست علمی و اخلاقی تصویر” کو عام کرنا ہے۔ جب کسی مکتب کا تعارف مخالف پروپیگنڈے، خوف یا محض چند رسوم کے ذریعے ہو تو عوامی قبولیت پیدا نہیں ہوتی۔ لیکن جب اسی مکتب کو عدل، عقل، اخلاق، علم، خدمت اور انسانیت کے عنوان سے پیش کیا جائے تو لوگوں کے ذہن بدلنا شروع ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علما، دانشور، میڈیا سے وابستہ افراد، ڈاکٹرز، وکلا، اساتذہ اور تاجر سب مل کر ایک ایسا ماحول بنائیں جس میں تشیع ایک مثبت، مہذب اور فکری مکتب کے طور پر سامنے آئے۔ یہ حکمت عملی مقبولیت پیدا کرتی ہے کیونکہ لوگ صرف نظریات سے نہیں بلکہ ان نظریات کے حامل انسانوں کے کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔

اسی طرح “اخلاقی برتری” کو بنیاد بنانا مقبولیت کے اصول کا سب سے طاقتور پہلو ہے۔ مکی دور میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی لیکن ان کی سچائی، امانت، صبر، حلم، عدل اور خدمت نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ دعوت میں تصادم، تکفیر اور اشتعال کے بجائے حکمت، استدلال، کردار اور خدمت کو محور بنایا جائے۔ جب کوئی گروہ مسلسل شائستگی، انصاف اور اخلاق کے ساتھ گفتگو کرتا ہے تو رفتہ رفتہ مخالف طبقات بھی اس کے بارے میں نرم رائے قائم کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح مقبولیت صرف جذباتی ہجوم نہیں بلکہ اعتماد کی شکل اختیار کرتی ہے۔

اسی لئے علماء و عقلا نے “علمی انقلاب” کی ضرورت پر جو زور دیا گیا ہے وہ بھی مقبولیت پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اگر نوجوان نسل صرف جذباتی وابستگی رکھتی ہو مگر جدید دنیا کے فکری، علمی اور سماجی چیلنجز کو سمجھنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو تو وہ معاشرے پر مثبت اثر نہیں ڈال سکتی۔ لیکن جب ایک شیعہ نوجوان یونیورسٹی، میڈیا، عدالت، کاروبار، ہسپتال اور سوشل پلیٹ فارم پر علمی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ اعتبار سے ممتاز ہوگا تو وہ خود ایک خاموش دعوت بن جائے گا۔ معاشرے میں لوگ عموماً اسی طبقے کو قبول کرتے ہیں جو ان کے مسائل سمجھتا ہو، علمی اعتماد رکھتا ہو اور عملی صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہو۔ اس لیے علمی تربیت دراصل مقبولیت کی سماجی بنیاد تیار کرتی ہے۔

اسی طرح قومی مسائل کو اپنا مسئلہ بنانا بھی عوامی قبولیت پیدا کرنے کا اہم اصول ہے۔ اگر کوئی جماعت صرف اپنے داخلی مسائل کی بات کرے تو وہ محدود دائرے میں رہ جاتی ہے، لیکن جب وہ پورے معاشرے کے دکھ درد میں شریک ہوتی ہے تو عوام اسے اپنی قوت سمجھنے لگتے ہیں  مہنگائی، کرپشن، بے روزگاری، تعلیمی بحران، منشیات، خاندانی نظام کے مسائل اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی پالسیز بہت کارآمد ہیں، یہ دراصل شیعہ قیادت کو “فرقہ وارانہ شناخت” سے نکال کر “قومی اخلاقی قوت” بنانے کی حکمت عملی ہے۔ یہی طرزِ عمل مدینہ سے پہلے مکہ میں بھی نظر آتا ہے جہاں رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے صرف مسلمانوں کے حقوق نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی اصلاح کو ہدف بنایا تھا۔

رفاہی اور سماجی خدمت کا میدان بھی مقبولیت کے اصول میں انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ فری کلینکس، تعلیمی ادارے، ذہنی صحت کے مراکز، یوتھ ٹریننگ پروگرام، خواتین کی تربیت، فیملی کونسلنگ اور غریبوں کی کفالت جیسے منصوبے معاشرے میں عملی اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ لوگ عموماً ان قوتوں کو قبول کرتے ہیں جو ان کے حقیقی مسائل میں سہارا بنیں۔ اس لیے خدمت خلق صرف رفاہی سرگرمی نہیں بلکہ دلوں کو جیتنے اور معاشرتی اعتماد پیدا کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ جب کسی علاقے میں لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک مکتب ان کے بچوں کی تعلیم، ان کی صحت، ان کی غربت اور ان کے بحرانوں میں مددگار ہے تو ان کے اندر موجود خوف، غلط فہمیاں اور نفرتیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔

ڈیجیٹل اور میڈیا حکمت عملی بھی موجودہ دور میں مقبولیت پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ چونکہ آج رائے عامہ بڑی حد تک موبائل اسکرین، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل بیانیے سے بنتی ہے، اس لیے علمی، مہذب اور مختصر مگر مؤثر مواد تیار کرنا ایک ضروری مرحلہ ہے۔ اگر جدید زبان اور جدید میڈیا کے ذریعے اہل بیتؑ کے مکتب کی فکری، اخلاقی اور انسانی جہات کو پیش کیا جائے تو نئی نسل اور غیر شیعہ طبقات کے اندر بھی مثبت تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔ اس میں جذباتی نعروں کے بجائے معیاری فکر، تاریخی شعور اور اخلاقی گفتگو زیادہ دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔

دیگر مذہبی اور سیکولر طبقات کے ساتھ “مشترک انسانی و اخلاقی اقدار” کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنا بھی مقبولیت کے اصول کا اہم حصہ ہے۔ جب ایک جماعت خود کو صرف اپنے دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے عدل، آزادی، تعلیم، انسانی وقار اور اخلاقی اصلاح کی مشترک آواز بنتی ہے تو اس کی سماجی قبولیت بڑھتی ہے۔ اس سے وہ ایک “بند فرقہ” کے بجائے ایک “مثبت اور تعمیری قوت” کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہی حکمت عملی لوگوں کے دلوں میں اعتماد اور احترام پیدا کرتی ہے۔

اگر مقبولیت کے نام پر نام نہاد انتخاب ہو جیسے کہ سقیفہ میں فیصلہ ایک محدود اجتماع میں ہوا جہاں نہ تمام مہاجر و انصار موجود تھے، نہ بنی ہاشم شریک تھے، نہ مدینہ کی پوری مسلم آبادی سے رائے لی گئی تھی، بلکہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی تدفین بھی ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ خود بعض صحابہ نے بعد میں اس عمل کے اچانک اور محدود ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ اس اعتبار سے اسے ایک محدود سیاسی اتفاق یا فوری اقتدار نظم کا اقدام تو کہا جاسکتا ہے، لیکن جدید یا وسیع معنوں میں “جامع عوامی مقبولیت” کہنا عقلی و تاریخی بحث کا موضوع بنتا ہے۔ خاص طور پر شیعہ نقطۂ نظر سے، جہاں امامت کو نصِ الٰہی کا منصب سمجھا جاتا ہے، وہاں سقیفہ کو نہ شرعی مشروعیت حاصل تھی اور نہ ہی کامل اجتماعی نمائندگی۔

اسی طرح ایران میں مقولیت کا طریقہ یہ ہے کہ رہبر کا انتخاب براہِ راست تمام عوام نہیں کرتے بلکہ Assembly of Experts  یعنی مجلس خبرگان کرتی ہے، لیکن خبرگان کے اراکین کو عوام ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں۔ اس لیے وہاں “واسطہ دار عوامی مقبولیت” (indirect popular legitimacy) کا ایک ڈھانچہ موجود ہے۔ یعنی نظریہ یہ ہے کہ فقہی و دینی اہلیت کے حامل ماہرین رہبر کی تشخیص کریں، مگر ان ماہرین کی نمائندگی عوام کے ووٹ سے قائم ہو۔ سیاسی فلسفے میں اسے نمائندہ یا delegated legitimacy کہا جاتا ہے۔

اسی لیے عقلی سطح پر دیکھا جائے تو کوئی بھی پائیدار قیادت صرف “مشروعیت” یا صرف “مقبولیت” سے نہیں چلتی بلکہ دونوں کے امتزاج سے چلتی ہے۔ اگر مشروعیت ہو مگر عوامی قبولیت نہ ہو تو نظام عملاً نافذ نہیں ہوپاتا، اور اگر صرف مقبولیت ہو مگر اخلاقی و قانونی بنیاد نہ ہو تو وہ محض اکثریتی طاقت بن سکتی ہے۔ قرآن و اہل بیتؑ کی روش میں بھی یہی توازن نظر آتا ہے کہ حقانیت خدا کی طرف سے ہوتی ہے مگر اس حق کے عملی قیام کیلئے شعوری نصرت، بیعت، آمادگی اور اجتماعی قبولیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ لہذا صرف امام زمانہ عج کا یا ولی فقیہ کے نائب و نمائندہ کا ٹائٹل حاصل کرلینا صرف مشروعیت حاصل کرنا ہے، مقبولیت کیلئے وہ اقدام کرنے ضروری ہیں جو اوپر بیان کیے گئے۔ اسی طرح صرف عوامی مقبولیت حاصل کرلینا مگر مشروعیت نہ رکھنا جواز قیادت نہیں بنتا۔ ان دنوں کا حصول ہی کسی قیادت کو موثر اور پر عظمت و شکوہ بناتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2965

ٹیگز

تبصرے