بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی کردار کو اگر محض ظاہری اعمال کے مجموعے کے طور پر دیکھا جائے تو بہت سی حقیقتیں اوجھل رہ جاتی ہیں، کیونکہ ہر عمل کے پیچھے ایک فکری بنیاد، ایک داخلی تصورِ کائنات کارفرما ہوتا ہے جسے ہم ورلڈ ویو کہتے ہیں۔ یہی ورلڈ ویو انسان کے اندر یہ طے کرتا ہے کہ وہ خود کو کیا سمجھتا ہے، دنیا کو کس نظر سے دیکھتا ہے، اور اپنے اعمال کے نتائج کو کس تناظر میں پرکھتا ہے۔ اسی لیے ذمہ دار اور غیر ذمہ دار کردار کے درمیان اصل فرق اکثر ظاہری حالات میں نہیں بلکہ اسی اندرونی زاویۂ نظر میں ہوتا ہے۔
جب انسان کا ورلڈ ویو محض مادی ہو، یعنی وہ زندگی کو صرف فائدے، لذت یا وقتی کامیابی کے پیمانے پر ناپتا ہو، تو اس کے لیے ذمہ داری کا مفہوم بھی محدود ہو جاتا ہے۔ وہ قانون کی پابندی بھی اسی حد تک کرتا ہے جہاں تک اس کا ذاتی مفاد وابستہ ہو۔ ایسے شخص کے لیے “صحیح” وہی ہے جو اسے نقصان سے بچا لے، اور “غلط” وہی ہے جو اسے پکڑے جانے یا بدنامی کا باعث بنے۔ نتیجتاً اس کا کردار بظاہر درست ہونے کے باوجود اندر سے غیر مستحکم ہوتا ہے، کیونکہ وہ کسی اصول پر نہیں بلکہ حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ یہی غیر ذمہ دار ورلڈ ویو ہے جو انسان کو موقع پرست بناتا ہے؛ وہ قانون کی موجودگی میں مہذب اور اس کی غیر موجودگی میں بے قابو ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس جب انسان کا ورلڈ ویو وسیع اور معنوی ہو، جس میں وہ خود کو ایک جواب دہ ہستی سمجھتا ہو، جہاں زندگی کو ایک امتحان اور ہر عمل کو ایک امانت تصور کیا جاتا ہو، تو اس کے اندر ذمہ داری کا ایک گہرا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہاں قانون محض بیرونی قید نہیں رہتا بلکہ ایک اندرونی اصول بن جاتا ہے۔ ایسا انسان نہ صرف دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے بلکہ ان مواقع پر بھی خود کو روکتا ہے جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا۔ اس کے نزدیک انصاف صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ ہوتا ہے۔ یہی ذمہ دار ورلڈ ویو ہے جو انسان کے کردار کو استقامت، دیانت اور خود احتسابی عطا کرتا ہے۔
قانون خواہ الٰہی ہو یا دنیاوی، اس کی اصل تاثیر اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان کا ورلڈ ویو اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ دنیاوی قوانین بنیادی طور پر معاشرے میں نظم قائم رکھنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، اس لیے وہ انسان کے ظاہر کو کنٹرول کرتے ہیں، اس کے باطن تک نہیں پہنچ پاتے۔ اگر کسی فرد کا ورلڈ ویو غیر ذمہ دار ہو تو وہ قانون کی گرفت سے بچنے کے راستے تلاش کرتا ہے، loopholes ڈھونڈتا ہے، اور بظاہر قانون کی پابندی کرتے ہوئے بھی اس کی روح کو پامال کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی کا ورلڈ ویو ذمہ دار ہو تو وہ قانون کی موجودگی کے بغیر بھی اس کی روح کے مطابق عمل کرتا ہے، بلکہ بعض اوقات قانون کی خامیوں کو اپنی اخلاقی بصیرت سے پورا کرتا ہے۔
الٰہی قوانین کا معاملہ اس سے مختلف اور گہرا ہے، کیونکہ وہ صرف ظاہری نظم کے لیے نہیں بلکہ انسان کے باطن کی اصلاح کے لیے بھی نازل ہوتے ہیں۔ مگر یہاں بھی اصل فیصلہ کن عنصر انسان کا ورلڈ ویو ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص الٰہی قانون کو محض رسم یا جبر کے طور پر لیتا ہے تو وہ اس کی روح سے محروم رہتا ہے اور اس کا کردار رسمی اور سطحی رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر وہی قانون ایک ایسے ورلڈ ویو کے ساتھ جڑا ہو جس میں خدا کی معرفت، آخرت کا یقین اور امانت و جواب دہی کا شعور شامل ہو تو یہی قانون انسان کے اندر ایک زندہ اخلاقی قوت پیدا کر دیتا ہے۔ پھر عبادات بھی محض افعال نہیں رہتیں بلکہ انسان کے کردار کو سنوارنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں، اور معاملات میں انصاف ایک قانونی تقاضے سے بڑھ کر ایک ایمانی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قانون ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، مگر اس فریم ورک میں جان ڈالنے کا کام ورلڈ ویو کرتا ہے۔ اگر ورلڈ ویو غیر ذمہ دار ہو تو بہترین قوانین بھی کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں، اور اگر ورلڈ ویو ذمہ دار ہو تو محدود قوانین کے باوجود ایک اعلیٰ اخلاقی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ اسی لیے تاریخ میں وہی معاشرے پائیدار اور باوقار ثابت ہوئے ہیں جہاں قانون کے ساتھ ساتھ انسانوں کے اندر ایک زندہ اور ذمہ دار ورلڈ ویو بھی موجود رہا ہے۔
لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذمہ دار کردار کی اصل بنیاد قانون نہیں بلکہ ورلڈ ویو ہے، جبکہ قانون اس بنیاد کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب انسان کے اندر یہ شعور بیدار ہو جائے کہ وہ محض آزاد نہیں بلکہ جواب دہ بھی ہے، تو اس کا ہر عمل ایک ذمہ داری میں بدل جاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں قانون کی ضرورت کم اور اخلاق کی قوت زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔
اس بحث کی روشنی میں اگر مختلف شعبہ ہائے زندگی کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ہر جگہ اصل فیصلہ کن عنصر قانون نہیں بلکہ انسان کا ورلڈ ویو ہی ہوتا ہے، جو اس کے کردار کو ذمہ دار یا غیر ذمہ دار بناتا ہے۔
سیاست میں یہی فرق سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک سیاست دان اگر صرف قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اقتدار کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے تو بظاہر وہ قانون شکنی نہیں کرتا، مگر اس کا ورلڈ ویو غیر ذمہ دار ہوتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک عوام خدمت کا نہیں بلکہ استعمال کا ذریعہ ہیں۔ اس کے برعکس وہ رہنما جس کا زاویۂ نظر امانت اور جواب دہی پر مبنی ہو، وہ قانون سے آگے بڑھ کر بھی عوام کے حقوق کا خیال رکھتا ہے، وسائل کی تقسیم میں عدل قائم کرتا ہے اور اقتدار کو ذمہ داری سمجھتا ہے، نہ کہ موقع۔
دینی پیشہ وری میں بھی یہی حقیقت کارفرما ہے۔ اگر کوئی عالم یا مذہبی رہنما دین کو محض ایک پیشہ بنا لے، تو وہ شریعت کے ظاہری اصولوں کو بیان تو کرے گا مگر اس کا مقصد اثر و رسوخ یا مالی فائدہ ہوگا۔ یہاں قانون یعنی دینی احکام موجود ہوتے ہیں، مگر ورلڈ ویو غیر ذمہ دار ہونے کی وجہ سے دین کا اصل پیغام مسخ ہو جاتا ہے۔ جبکہ ایک صاحبِ شعور عالم، جو دین کو امانت سمجھتا ہے، وہ نہ صرف صحیح بات بیان کرتا ہے بلکہ اپنی ذات کو بھی اسی معیار پر پرکھتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
معیشت کے میدان میں ایک تاجر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بھی دھوکہ دہی کے باریک راستے نکال سکتا ہے، معیار کم کر سکتا ہے یا قیمتوں میں غیر محسوس استحصال کر سکتا ہے۔ یہاں قانون کی موجودگی کے باوجود غیر ذمہ دار ورلڈ ویو اپنا کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک ذمہ دار تاجر وہ ہے جو صرف قانونی پابندی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ انصاف، دیانت اور امانت کو اپنے کاروبار کی بنیاد بناتا ہے، حتیٰ کہ ایسی صورتوں میں بھی جہاں قانون اسے مجبور نہیں کرتا۔
صحت کے شعبے میں ایک ڈاکٹر اگر صرف قواعد کے مطابق مریض کا علاج کرے مگر اس کے اندر خدمت اور ہمدردی کا جذبہ نہ ہو تو وہ اپنے پیشے کی روح سے خالی ہوتا ہے۔ وہ وقت پورا کرے گا، فیس لے گا اور اپنی ذمہ داری ختم سمجھے گا۔ لیکن ایک ایسا معالج جس کا ورلڈ ویو ذمہ دار ہو، وہ مریض کو محض کیس نہیں بلکہ ایک انسان سمجھتا ہے، اس کے دکھ کو اپنا دکھ محسوس کرتا ہے اور حتیٰ الامکان بہتر علاج فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس کے لیے اضافی محنت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
تعلیم میں ایک استاد نصاب مکمل کرا سکتا ہے، حاضری پوری کر سکتا ہے اور امتحان لے سکتا ہے، مگر اگر اس کا ورلڈ ویو غیر ذمہ دار ہو تو وہ طلبہ کی شخصیت سازی سے غافل رہے گا۔ اس کے برعکس ایک ذمہ دار استاد اپنے علم کو امانت سمجھتا ہے، طلبہ کے اندر سوچنے کی صلاحیت، اخلاقی شعور اور کردار کی مضبوطی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو محض نصاب سے کہیں آگے کی بات ہے۔
ابلاغیات یعنی میڈیا میں قانون کی حدود میں رہتے ہوئے بھی سچ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا سکتا ہے، سنسنی پھیلائی جا سکتی ہے اور عوامی ذہن کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب غیر ذمہ دار ورلڈ ویو کی علامات ہیں۔ جبکہ ایک ذمہ دار صحافی سچائی، دیانت اور معاشرتی بہتری کو اپنا مقصد بناتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے دباؤ یا نقصان کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
کھیل کے میدان میں بھی کھلاڑی قوانین کے اندر رہتے ہوئے “اسپورٹس مین اسپرٹ” کو نظر انداز کر سکتا ہے، حریف کو نیچا دکھانے یا دھوکے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ مگر ایک ذمہ دار کھلاڑی کھیل کو محض جیت کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی کا میدان سمجھتا ہے، جہاں دیانت، احترام اور خود نظم و ضبط کو اہمیت دی جاتی ہے۔
خاندانی اور عائلی زندگی میں قانون کی گرفت سب سے کم ہوتی ہے، اس لیے یہاں ورلڈ ویو کا کردار اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک شخص بظاہر اپنے حقوق تو وصول کرتا ہے مگر دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے، بیوی، بچوں یا والدین کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جو قانونی طور پر جرم نہ ہو مگر اخلاقی طور پر ظلم ہو۔ اس کے برعکس ایک ذمہ دار فرد اپنے رشتوں کو امانت سمجھتا ہے، محبت، احترام اور ایثار کے ساتھ ان کو نبھاتا ہے، حتیٰ کہ وہاں بھی جہاں اس پر کوئی قانونی دباؤ نہیں ہوتا۔
شہری زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ کوئی شخص قانون کی عدم موجودگی میں سڑک پر کچرا پھینک دے، ٹریفک اصول توڑ دے یا عوامی املاک کو نقصان پہنچائے تو یہ اس کے غیر ذمہ دار ورلڈ ویو کا اظہار ہے۔ جبکہ ایک ذمہ دار شہری وہ ہے جو معاشرے کو اپنی ذات کا حصہ سمجھتا ہے اور ہر اس عمل سے بچتا ہے جو اجتماعی نقصان کا باعث بنے۔
یوں ہر شعبۂ زندگی میں یہ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قانون صرف ایک حد قائم کرتا ہے، مگر اس حد کے اندر یا اس سے آگے انسان کیا کردار اختیار کرتا ہے، اس کا فیصلہ اس کا ورلڈ ویو ہی کرتا ہے۔ جہاں ورلڈ ویو ذمہ دار ہو وہاں قانون سہارا بن جاتا ہے، اور جہاں وہ غیر ذمہ دار ہو وہاں قانون بھی بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔
