بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سید جہانزیب عابدی
اگر ہم انسانی معاشرے کے مختلف شعبہ جات—تعلیم، ثقافت و تہذیب، ریاستی ادارے، معیشت، سیاست اور ابلاغ—کو بغور دیکھیں تو بظاہر یہ سب الگ الگ ستون معلوم ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی مرکزی سرچشمے سے سیراب ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ بنیادی اکائی کون سی ہے جس کی اصلاح کے بغیر باقی تمام شعبہ جات کی اصلاح یا تو سطحی رہتی ہے یا وقتی۔ مکی و مدنی ادوار کو اگر ایک تشبیہاتی اصطلاح کے طور پر لیا جائے—جیسا کہ انقلاب کے دو مرحلے—تو اس سوال کا جواب نہایت واضح ہو جاتا ہے: مکی دور دراصل “انسان سازی” اور “فکر و عقیدہ کی تعمیر” کا دور ہے، جبکہ مدنی دور “نظام سازی” اور “ادارہ جاتی تشکیل” کا مرحلہ ہے۔ اس لحاظ سے اصل اور مرکزی اکائی “انسان کا باطن، اس کا عقیدہ، اس کا ورلڈ ویو” ہے، جسے مکی دور میں تعمیر کیا جاتا ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر باقی تمام شعبہ جات کھڑے ہوتے ہیں۔
مکی دور میں رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کوئی ریاست قائم کی، نہ کوئی معاشی نظام نافذ کیا، نہ کوئی عسکری طاقت تشکیل دی، بلکہ تیرہ سال تک مسلسل ایک ہی کام کیا: انسان کے اندر ایک نیا شعور، ایک نیا یقین، ایک نیا معیارِ خیر و شر پیدا کیا۔ یہ دراصل “مرکزی اکائی” کی تعمیر تھی۔ اس اکائی کو ہم “انسانی فکر و ایمان کا نظام” کہہ سکتے ہیں، جو بعد میں تمام اجتماعی نظموں کو جنم دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک یہ مکی بنیاد مضبوط نہ ہو، مدنی ڈھانچہ کھڑا نہیں ہو سکتا، اور اگر کھڑا ہو بھی جائے تو دیرپا نہیں رہتا۔
تعلیم کا شعبہ دراصل اسی مرکزی اکائی کا سب سے پہلا اظہار ہے۔ اگر انسان کا عقیدہ توحید پر مبنی ہو، اس کا تصورِ علم “قربِ الٰہی” سے جڑا ہو، تو تعلیم محض ہنر یا معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ انسان سازی کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر یہی مرکزی اکائی مغربی مادیت یا سیکولر فکر سے متاثر ہو تو وہی تعلیم انسان کو خدا سے کاٹ کر محض ایک معاشی پرزہ بنا دیتی ہے۔ گویا تعلیم خود کوئی خودمختار شعبہ نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود فکر و عقیدہ کی توسیع ہے۔
اسی طرح ثقافت و تہذیب بھی کسی ریاستی حکم یا قانون سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ انسان کے باطن میں موجود اقدار کا اجتماعی اظہار ہوتی ہے۔ مکی دور میں جب صبر، تقویٰ، ایثار، توکل اور اخلاص جیسے اوصاف پیدا کیے گئے تو یہی بعد میں مدنی معاشرے کی ثقافت بنے۔ اگر باطن میں حرص، خودغرضی اور مادہ پرستی ہو تو چاہے جتنے بھی قوانین بنا لیے جائیں، ثقافت زوال کا شکار رہے گی۔ اس لیے تہذیب کی اصلاح بھی دراصل انسان کے اندرونی نظام کی اصلاح سے مشروط ہے۔
ریاستی ادارے اور سیاسی نظم و ضبط بظاہر طاقت، قانون اور نظم کے ذریعے قائم ہوتے ہیں، لیکن ان کی روح بھی وہی مکی بنیاد ہے۔ مدینہ کی ریاست اس لیے کامیاب ہوئی کہ اس کے شہریوں کا باطن مکی دور میں تیار ہو چکا تھا۔ ان کے لیے قانون کی پابندی محض خوف کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ ایمان کا تقاضا تھی۔ اگر یہی ریاستی ڈھانچہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جن کا باطن غیر تربیت یافتہ ہو تو وہی ادارے ظلم، کرپشن اور استبداد کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی نظام کی کامیابی کا دارومدار بھی اسی مرکزی اکائی یعنی “انسانی باطن” پر ہے۔
معیشت کو اگر دیکھا جائے تو یہ بھی انسان کے اندرونی رجحانات کی عکاس ہے۔ مکی دور میں زہد، قناعت اور آخرت پر یقین پیدا کیا گیا، جس کے نتیجے میں مدنی دور میں ایک ایسا معاشی نظام وجود میں آیا جس میں انفاق، زکوٰۃ اور عدل بنیادی اصول بنے۔ اگر انسان کے اندر حرص اور دنیا پرستی ہو تو وہی معیشت سود، استحصال اور طبقاتی تقسیم کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس لیے معاشی اصلاح بھی محض قوانین سے نہیں بلکہ انسان کے اندرونی انقلاب سے جڑی ہوئی ہے۔
ابلاغ اور میڈیا، جو آج کے دور میں سب سے طاقتور شعبہ سمجھا جاتا ہے، وہ بھی دراصل اسی مرکزی اکائی کا پرتو ہے۔ مکی دور میں قرآن بطورِ ابلاغی ذریعہ نازل ہوا، جس نے انسان کے فکر و شعور کو بدلا۔ آج اگر ابلاغ کا نظام اسی مکی روح سے خالی ہو تو وہ گمراہی، فتنہ اور فکری انتشار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ابلاغ کا مرکز حق اور توحید ہو تو وہی ذریعہ ہدایت بن جاتا ہے۔
یوں مکی و مدنی تشبیہ کے تناظر میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ تمام شعبہ جات—تعلیم، ثقافت، ریاست، معیشت، سیاست اور ابلاغ—ایک ہی مرکزی اکائی پر انحصار کرتے ہیں، اور وہ ہے “انسان کا ایمان، اس کا ورلڈ ویو، اس کا باطن”۔ مکی دور اسی اکائی کی تعمیر کا نام ہے، جبکہ مدنی دور اس تعمیر شدہ اکائی کے ظہور اور نفاذ کا مرحلہ ہے۔ اگر کوئی معاشرہ مدنی نتائج چاہتا ہے مگر مکی بنیاد کو نظر انداز کرتا ہے تو وہ دراصل ایک عمارت کو بغیر بنیاد کے کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو یا تو کھڑی نہیں ہوگی یا جلد ہی گر جائے گی۔
لہٰذا حقیقی اصلاح کا نقطۂ آغاز نہ ریاست ہے، نہ معیشت، نہ تعلیم بطورِ نظام، بلکہ وہ “انسان” ہے جس کا دل، دماغ اور روح مکی تربیت سے گزر کر ایک زندہ، بیدار اور خدا شناس اکائی بن جائے۔ یہی وہ مرکز ہے جس کے گرد تمام نظام گردش کرتے ہیں، اور یہی وہ راز ہے جو ہر حقیقی انقلاب کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
مکی دور محض تمہید نہیں بلکہ پوری عمارت کی بنیاد ہے۔ یہاں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، کیونکہ اسی مرحلے میں یہ طے ہو جاتا ہے کہ آنے والا مدنی نظام زندہ، عادل اور پائیدار ہوگا یا کھوکھلا، جبر پر قائم اور جلد بکھر جانے والا۔ اس لیے مکی دور کی تربیت کوئی عمومی اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک منظم، عمیق اور ہمہ جہت “انسان سازی” کا عمل ہے جس کا ہدف ایک ایسا انسان پیدا کرنا ہے جو خدا شناس ہو، باخبر ہو، اور ضرورت پڑنے پر قربانی دینے سے نہ ہچکچائے۔
مکی دور کی سب سے پہلی روش “تصحیحِ عقیدہ اور تشکیلِ ورلڈ ویو” ہے۔ یہاں توحید محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک زندہ شعور کے طور پر راسخ کی جاتی ہے۔ انسان کو اس حقیقت تک پہنچایا جاتا ہے کہ کائنات میں اصل حاکم صرف اللہ ہے، اسی سے وابستگی نجات ہے اور اسی سے انحراف تباہی۔ جب یہ یقین دل میں اترتا ہے تو خوف، لالچ اور دنیا پرستی کی جڑیں خود بخود کمزور ہونے لگتی ہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایک آزاد انسان جنم لیتا ہے، جو کسی طاغوتی قوت کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہوتا۔
اس کے ساتھ دوسری اہم روش “تزکیۂ نفس” ہے۔ صرف نظریاتی آگاہی کافی نہیں ہوتی جب تک انسان کے اندر موجود خواہشات، انا، حسد، حبِ جاہ اور دیگر باطنی امراض کو پاک نہ کیا جائے۔ مکی تربیت انسان کے اندر ایک مسلسل احتساب، صبر، توکل اور اخلاص پیدا کرتی ہے۔ یہی اوصاف بعد میں اسے اجتماعی ذمہ داری اٹھانے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر یہ تزکیہ نہ ہو تو علم بھی تکبر پیدا کرتا ہے اور طاقت بھی فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
تیسری بنیادی جہت “شعور اور بصیرت کی بیداری” ہے۔ مکی دور کا انسان صرف عبادت گزار نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے زمانے کو پہچاننے والا، حق و باطل میں تمیز کرنے والا اور فکری طور پر بیدار ہوتا ہے۔ اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ باطل ہمیشہ خوبصورت نعروں اور فریب کے ساتھ آتا ہے، اس لیے صرف ظاہری شکل نہیں بلکہ حقیقت کو دیکھنا ضروری ہے۔ یہ بصیرت ہی ہے جو بعد میں اسے فتنوں کے مقابلے میں ثابت قدم رکھتی ہے۔
چوتھی روش “قربانی اور استقامت کی عملی تربیت” ہے۔ مکی دور میں آزمائشیں، تکالیف اور محرومیاں محض حادثات نہیں بلکہ تربیت کا حصہ ہوتی ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان سیکھتا ہے کہ حق کی راہ میں نقصان، تنہائی اور مخالفت کو کیسے برداشت کرنا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو بعد میں اسے مدنی دور میں اجتماعی مفادات کے لیے اپنی ذات کو قربان کرنے کے قابل بناتی ہے۔ بغیر اس مرحلے کے، کوئی بھی تحریک طاقت ملتے ہی خود غرضی اور مفاد پرستی کا شکار ہو جاتی ہے۔
پانچویں اہم جہت “جماعت سازی اور اخوت” ہے۔ مکی دور میں افراد کو صرف انفرادی طور پر نہیں بنایا جاتا بلکہ انہیں ایک ایسی جماعت میں پرویا جاتا ہے جو مشترکہ مقصد، مشترکہ درد اور مشترکہ شعور رکھتی ہو۔ یہ جماعتی روح ہی بعد میں مدنی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بنتی ہے۔ اگر افراد تو اچھے ہوں مگر ان میں باہمی اعتماد، نظم اور اخوت نہ ہو تو کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔
اب سوال یہ ہے کہ مکی دور میں تحریک کے بانی کن شعبہ جات پر محنت کریں تاکہ مدنی دور میں یہ درخت پھل دے سکے۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ مکی دور میں براہِ راست “نظام” نہیں بنائے جاتے، بلکہ ان نظاموں کے لیے “انسانی اور فکری انفراسٹرکچر” تیار کیا جاتا ہے۔
سب سے پہلے “تعلیمی و فکری بنیاد” پر محنت کی جاتی ہے۔ ایک ایسا نصاب، ایسی فکر اور ایسا علمی ماحول پیدا کیا جاتا ہے جو توحیدی ورلڈ ویو کو مضبوط کرے۔ یہ وہ بیج ہے جس سے بعد میں تعلیمی ادارے، جامعات اور فکری مراکز وجود میں آتے ہیں جو صرف معلومات نہیں بلکہ نظریہ اور مقصد بھی دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ “اخلاقی و ثقافتی تشکیل” پر کام کیا جاتا ہے۔ معاشرے میں ایسے اقدار کو فروغ دیا جاتا ہے جو بعد میں ایک صحت مند تہذیب کی بنیاد بن سکیں، جیسے دیانت، عدل، حیا، ایثار اور سچائی۔ یہی اقدار بعد میں قانون اور ریاستی نظم کو روح فراہم کرتی ہیں۔
تیسرا اہم شعبہ “معاشی شعور اور حلال و حرام کا احساس” ہے۔ مکی دور میں مکمل معاشی نظام نافذ نہیں ہوتا، لیکن انسان کے اندر یہ شعور ضرور پیدا کیا جاتا ہے کہ رزق کا تعلق اللہ سے ہے، حلال و حرام کی تمیز کیا ہے، اور مال کا مقصد کیا ہے۔ یہی شعور بعد میں ایک عادلانہ معاشی نظام کی بنیاد بنتا ہے۔
چوتھا شعبہ “قیادت سازی” ہے۔ مکی دور دراصل ایسے افراد تیار کرنے کا مرحلہ ہے جو بعد میں مختلف شعبہ جات—تعلیم، سیاست، معیشت، قضا، ابلاغ—میں قیادت سنبھال سکیں۔ یہ قیادت صرف مہارت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تقویٰ، بصیرت اور قربانی کے جذبے پر مبنی ہوتی ہے۔
پانچواں پہلو “ابلاغی صلاحیت اور بیانیہ سازی” ہے۔ مکی دور میں حق کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچانے، دلوں کو متاثر کرنے اور فکری جنگ جیتنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے۔ یہی بعد میں مدنی دور میں میڈیا، دعوت اور نظریاتی استحکام کا ذریعہ بنتی ہے۔
یوں مکی دور دراصل ایک خاموش مگر گہرا انقلاب ہوتا ہے جس میں زمین تیار کی جاتی ہے، بیج بوئے جاتے ہیں، اور جڑیں مضبوط کی جاتی ہیں۔ مدنی دور میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے—ریاست، قانون، معیشت، سیاست—وہ دراصل اسی مکی محنت کا پھل ہوتا ہے۔ اگر مکی دور میں یہ محنت صحیح رخ پر، اخلاص کے ساتھ اور جامع انداز میں کی جائے تو مدنی دور میں نظام خود بخود عدل، توازن اور استحکام کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے، اور اگر یہ بنیاد کمزور ہو تو بہترین آئین اور مضبوط ادارے بھی معاشرے کو سنبھال نہیں سکتے۔
یہی وہ راز ہے جو ہر حقیقی تبدیلی کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے: پہلے انسان بنتا ہے، پھر نظام بنتا ہے؛ پہلے مکی کیفیت پیدا ہوتی ہے، پھر مدنی حقیقت ظہور میں آتی ہے۔
