بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
دینی علوم کے ایک بڑے ادارہ جاتی نظام، خصوصاً حوزہ ہائے علمیہ سے وابستہ علماء اور روحانی طبقات کے بارے میں یہ بحث دراصل کسی ایک فرد یا گروہ کی مذمت یا تائید سے زیادہ ایک فکری و سماجی ساخت کے تجزیے سے متعلق ہے کہ کچھ افراد کیوں دنیاوی روزگار کی جدوجہد نہیں کرتے؟ سوال یہ ہے کہ علم، معاش، ذمہ داری اور دینی خدمت کے درمیان تعلق کس طرح قائم ہوتا ہے، اور کہاں یہ توازن بگڑ کر ایک مخصوص ذہنی رجحان پیدا کر دیتا ہے۔
حوزوی نظام اپنی بنیاد میں ایک ایسے تصور پر قائم ہے جس میں دینی علم کو ایک کل وقتی اور مقدس مشن سمجھا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت طالب علم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی توانائی، وقت اور ذہنی صلاحیت کو مکمل طور پر علم دین کے لیے وقف کرے تاکہ وہ تدریس، تحقیق اور تبلیغ کے ذریعے امت کی رہنمائی کر سکے۔ اس مقصد کے لیے تاریخی طور پر ایک اجتماعی کفالت کا نظام وجود میں آیا جس میں خمس، زکوٰۃ اور اہل خیر کے عطیات کے ذریعے علماء اور طلبہ کی معاشی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ اس نظام کی بنیاد یہ ہے کہ دینی علم کسی ذاتی سرمایہ کاری کا محتاج نہ ہو بلکہ ایک اجتماعی دینی فریضہ کے طور پر زندہ رہے۔
لیکن جیسے جیسے یہ نظام وقت کے ساتھ ادارہ جاتی صورت اختیار کرتا گیا، ویسے ویسے اس کے ساتھ کچھ ذہنی اور نفسیاتی اثرات بھی جڑتے گئے۔ سب سے اہم اثر یہ تھا کہ بعض اوقات “دنیاوی روزگار” کو غیر شعوری طور پر کم تر سمجھنے کا رجحان پیدا ہو گیا۔ اس کی بنیادی وجہ نصوص کا انکار نہیں بلکہ ان کی ایک خاص تربیتی اور ثقافتی تعبیر تھی، جس میں زہد، تقویٰ اور دنیا سے بے رغبتی جیسے مفاہیم کو اس انداز سے پیش کیا گیا کہ بعض ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ معاشی جدوجہد بذات خود ایک کم درجہ عمل ہے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات میں ایک طرف زہد اور توکل کا تصور ہے تو دوسری طرف کسبِ حلال، محنت اور زمین میں رزق تلاش کرنے کی واضح ترغیب بھی موجود ہے۔
اسی فکری فضا میں ایک اور نفسیاتی پہلو بھی شامل ہو جاتا ہے جسے معنوی برتری کا احساس کہا جا سکتا ہے۔ جب کوئی شخص خود کو دین کے لیے وقف سمجھتا ہے تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ اس کا کام دیگر دنیاوی سرگرمیوں سے اعلیٰ تر ہے۔ یہ احساس اگر توازن میں رہے تو اخلاص کو تقویت دیتا ہے، لیکن اگر یہ غیر شعوری طور پر غالب آ جائے تو معاشی جدوجہد کو کم تر سمجھنے کا رجحان پیدا کر سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں خمس اور دینی عطیات کا نظام بھی بعض اوقات غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصل میں یہ ایک اجتماعی مالیاتی ڈھانچہ ہے جس کا مقصد دینی اداروں، طلبہ اور علمی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے۔ لیکن اگر اس نظام کو اس کے وسیع تر مقصد سے الگ کر کے صرف ایک مستقل آمدنی کے طور پر دیکھا جائے تو باہر سے دیکھنے والے کو یہ تاثر مل سکتا ہے کہ یہ طبقہ معاشی پیداوار کے بجائے عطیات پر انحصار کرتا ہے، حالانکہ اصل حقیقت ایک اجتماعی دینی کفالت کا نظام ہے۔
یہاں ایک اہم نفسیاتی خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد کو مسلسل معاشی تحفظ حاصل ہو اور اس کے ساتھ اس کی کارکردگی واضح نہ ہو تو اس کے اندر ایک طرح کی غیر مشروط وابستگی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے، جس میں وہ اپنے وجود کو بذات خود استحقاق سمجھنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت صرف دینی طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر اس نظام میں پیدا ہو سکتی ہے جہاں وسائل اور کارکردگی کے درمیان براہ راست ربط کمزور ہو جائے۔
اب اس بحث کا دوسرا پہلو وہ ہے جس میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی فرد اس نظام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ تدریس کرتا ہے، نہ تحقیق، نہ تالیف اور نہ کوئی واضح علمی خدمت انجام دیتا ہے، بلکہ صرف معاشی انحصار پر قائم رہتا ہے تو اس کے بارے میں کیا موقف ہونا چاہیے۔ اس صورت میں مسئلہ فقہی سے زیادہ اخلاقی اور سماجی ہو جاتا ہے۔ فقہی طور پر خمس اور عطیات ایک حقِ وظیفہ کے طور پر دیے جاتے ہیں، لیکن اخلاقی طور پر ان کا جواز اسی وقت مضبوط رہتا ہے جب وہ کسی قابلِ مشاہدہ علمی یا دینی خدمت سے جڑے ہوں۔ اگر یہ ربط کمزور ہو جائے تو اعتماد اور ذمہ داری دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
اسی نقطہ نظر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اصل مطلوبہ توازن “اعانت اور کارکردگی” کے درمیان تعلق ہے۔ جب اعانت خدمت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے تو نظام صحت مند رہتا ہے، اور جب یہ تعلق کمزور ہو جاتا ہے تو جمود پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ ہر ظاہری جمود دراصل حقیقی جمود نہیں ہوتا، کیونکہ علمی کام کی بہت سی صورتیں ایسی ہوتی ہیں جو فوری طور پر نظر نہیں آتیں، جیسے فکری تیاری، تدریسی مطالعہ یا نظریاتی تعمیر۔
اگر پھر بھی کوئی فرد اس کیفیت میں آ جائے کہ اس کی علمی سرگرمی غیر واضح ہو جائے اور وہ مسلسل اعانت پر انحصار کرتا رہے، تو اس کے لیے سب سے بنیادی سوال یہی بنتا ہے کہ وہ اپنے وجود اور اپنے منصب کے درمیان تعلق کو دوبارہ سمجھے۔ علم کا منصب صرف مقام نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، اور ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی عملی اظہار ضرور ہو۔ یہ اظہار بڑے پیمانے پر ہونا ضروری نہیں، لیکن اس کا قابلِ شناخت ہونا ضروری ہے تاکہ علم کا اعتماد برقرار رہے۔
ایسی صورت میں اصل نصیحت یہ نہیں ہوتی کہ فرد کو رد کر دیا جائے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر خود احتسابی اور مقصد کی تجدید پیدا کی جائے۔ اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ ایک ایسے نظام کا حصہ ہے جس کی بنیاد اعتماد پر ہے، اور اعتماد صرف نیت سے نہیں بلکہ عمل سے قائم رہتا ہے۔ اگر عمل کا تسلسل ٹوٹ جائے تو نیت کے باوجود اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔
آخر میں یہ پورا موضوع اس نتیجے پر آ کر ٹھہرتا ہے کہ مسئلہ نہ تو دینی اعانت کے نظام کا ہے اور نہ ہی دینی علوم کی عظمت کا، بلکہ مسئلہ اس توازن کا ہے جو علم، عمل، معاش اور ذمہ داری کے درمیان قائم رہنا چاہیے۔ جب یہ توازن برقرار رہتا ہے تو دینی نظام نہ صرف زندہ رہتا ہے بلکہ سماج میں اپنی اخلاقی اور فکری تاثیر بھی برقرار رکھتا ہے، اور جب یہ توازن بگڑتا ہے تو نہ صرف فرد بلکہ پورا نظام اعتماد کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
