11

*مغربی و مشرقی حکمرانوں کے طرز زندگی اور صہیونیت*

  • نیوز کوڈ : 2893
  • 01 May 2026 - 21:43
*مغربی و مشرقی حکمرانوں کے طرز زندگی اور صہیونیت*

*مغربی و مشرقی حکمرانوں کے طرز زندگی اور صہیونیت*

لاحول ولاقوۃ الاباللہ

سید جہانزیب عابدی

مغرب میں کئی ایسی مثالیں ہیں جو عام لوگوں کے ذہنوں میں پہلے سے موجود ہیں اور یہی تاثر مضبوط کرتی ہیں کہ وہاں کے حکمران اور بااثر افراد بھی “سادہ” یا “قانون کے پابند” ہیں، مگر دراصل یہ سب صہیونی استعماری نظام کی نفسیاتی انجینئرنگ کا حصہ ہے۔

ایک مشہور مثال جرمنی کی سابق چانسلر انجیلا مرکل کی ہے جو برسوں تک سب سے طاقتور یورپی لیڈر سمجھی جاتی رہیں، مگر ان کی ذاتی زندگی کی سادگی کو بہت نمایاں کیا گیا۔ میڈیا میں اکثر یہ دکھایا جاتا کہ وہ سپر مارکیٹ سے خود خریداری کرتی ہیں، کرایہ کے ایک چھوٹے فلیٹ میں رہتی ہیں اور شاہانہ زندگی نہیں گزارتیں۔ یہ تصویر جرمن عوام کے لیے یہ پیغام بن گئی کہ ان کی رہنما بھی انہی جیسی زندگی گزار رہی ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ عالمی مالیاتی ڈھانچے اور یورپی یونین کی پالیسیوں کے ذریعے پورے خطے کو صہیونی سرمایہ داری کے مطابق ڈھالنے کی بنیادی کردار تھیں۔

اسی طرح ڈیوڈ کیمرون یا بورس جانسن جیسے برطانوی وزرائے اعظم کے بارے میں آئے دن یہ خبریں گردش کرتی رہتی ہیں کہ وہ ٹرین یا سائیکل پر سفر کرتے ہیں، عام فوڈ چینز میں کھانا کھاتے ہیں یا بچوں کے ساتھ عام اسکول کے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ ان واقعات کو میڈیا اتنا اچھالتا ہے کہ عوام کو یقین ہو جائے کہ حکمران بالکل انہی کی طرح عام انسان ہیں۔ لیکن پس پردہ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی پالیسی ساز ادارے صدیوں سے عالمی مالیاتی اور استعماری نظام کو سنبھالنے والے بڑے مراکز رہے ہیں، اور انہی کے ذریعے دنیا کی معیشت و سیاست پر کنٹرول قائم رکھا گیا ہے۔

امریکہ میں بھی باراک اوباما کے بارے میں یہ بیانیہ عام ہوا کہ وہ ایک متوسط طبقے کے پس منظر سے آئے، کبھی قرض اتارنے میں مشکلات کا سامنا کیا اور وائٹ ہاؤس میں بھی نسبتاً “سادگی” کے ساتھ رہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے دورِ اقتدار میں امریکی معیشت نے عالمی بینکاری اور کارپوریٹ ایجنڈے کے تحت وہ فیصلے کیے جنہوں نے پوری دنیا کو سرمایہ دارانہ شکنجے میں مزید جکڑا۔

یہ مثالیں بظاہر عوامی ذہن کو لبھانے والی ہیں، کیونکہ ایک عام آدمی جب دیکھتا ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور شخصیات بھی گروسری خود خریدتی ہیں، عام عوام کی طرح رہتی ہیں یا قرض کے مسائل جھیلتی ہیں، تو وہ فوراً اپنے حکمرانوں سے نفرت اور مغربی نظام سے محبت کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ سب واقعات اور تصویریں عوامی شعور کو ڈیزائن کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ اصل استعمار یعنی صہیونی سرمایہ داری کی گرفت نظروں سے اوجھل رہے۔

مغربی دنیا کے حکمرانوں کی زندگیوں کے بارے میں ایسے تاثرات تیسری دنیا کے عوام کے ذہنوں میں بہت گہری جڑ پکڑ چکا ہے کہ وہ بڑے سادہ اور کسمپرسانہ حالات میں زندگی گزارتے ہیں، ان کے پاس وہ عیش و عشرت نہیں جو ہمارے ملکوں کے حکمرانوں کے پاس ہے۔ یہ تاثر عام طور پر مغربی میڈیا کے ذریعے یا کبھی کبھار سامنے آنے والے قصوں کے ذریعے تشکیل دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سادگی محض ایک منصوبہ بند مغالطہ ہے۔ اس کے پیچھے ایک ایسا صہیونی استعماری نظام کارفرما ہے جو مغربی حکمرانوں کو اپنے مخصوص قانونی اور ادارہ جاتی پنجرے میں قید رکھتا ہے۔ ان کے پاس بظاہر وہ لچکدار صوابدیدی اختیارات نہیں ہوتے جو تیسری دنیا کے بادشاہ نما حکمرانوں کے پاس ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی “سادگی” یا “قناعت” کی علامت ہیں۔ بلکہ وہ اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کے ذریعے صہیونی سرمایہ دارانہ نظام کو دوام دینے اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضے کو جاری رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔

مغرب میں حکمرانوں کی کسمپرسی کا تاثر پیدا کرنے کے لیے ان کی ذاتی زندگی کے چند گوشے نمایاں کر دیے جاتے ہیں، جیسے محدود ذاتی وسائل یا کسی بیماری کے علاج میں مشکلات۔ یہ سب دراصل عوامی ذہن کو اس سمت موڑنے کی چال ہے کہ طاقتور ترین ملک کا حکمران بھی قانون اور اداروں کے سامنے بے بس ہے۔ اس مغالطے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ مغرب کا نظام شفاف اور منصفانہ ہے، جہاں کوئی بھی—حتیٰ صدر یا وزیرِ اعظم—قانون سے بالاتر نہیں۔ لیکن اس کے پیچھے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک ایسا ڈھانچہ ہے جس میں حکمران خود بھی صہیونی مالیاتی سرمایہ داروں کے زیرِ اثر ہیں۔ وہ بڑے بڑے کارپوریٹ اداروں، بین الاقوامی بینکوں اور عالمی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سامنے محض نمائشی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی ذاتی زندگی کی کسمپرسی دراصل اس مالیاتی نظام کی سختیوں کی پیداوار ہے، جس میں فرد—حتیٰ اگر وہ اقتدار کی بلند ترین چوٹی پر ہو—سرمایہ دارانہ قوانین اور سودی ڈھانچوں سے آزاد نہیں ہو سکتا۔

اس کے مقابلے میں تیسری دنیا کے حکمرانوں کے ساتھ ایک مختلف ماڈل اپنایا گیا ہے۔ انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ اپنی عوام پر صوابدیدی اختیارات کے ذریعے ظلم ڈھائیں، قومی دولت لوٹیں، اور شاہانہ زندگی گزاریں۔ ان کے لیے کسی کڑے احتساب یا قانونی سختی کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ یہ تضاد دراصل اسی استعماری نظام کا حصہ ہے: مغرب کے حکمرانوں کو قانونی پنجرے میں اس لیے قید رکھا گیا ہے تاکہ دنیا کو ایک “شفاف جمہوریت” کا تاثر دیا جا سکے، جبکہ مسلم دنیا اور دیگر تیسری دنیا کے حکمرانوں کو کرپشن، لوٹ مار اور بادشاہی اختیارات اس لیے دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی عوام کو مسلسل محرومی اور غلامی کی حالت میں رکھیں اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کریں۔

یوں دیکھا جائے تو مغربی حکمرانوں کی سادگی کوئی حقیقی صفت نہیں بلکہ ایک کنٹرولڈ غلامی ہے، اور مسلم دنیا کے حکمرانوں کی عیاشی کوئی طاقت یا استقلال نہیں بلکہ غلامی کا دوسرا رخ ہے۔ دونوں کا مرکز و محور ایک ہی صہیونی مالیاتی استعمار ہے جو مختلف خطوں کے لیے مختلف ماڈل بناتا ہے۔ مغرب کے عوام کو دکھایا جاتا ہے کہ ان کے حکمران بھی انہی کی طرح متوسط طبقے کی زندگی گزارتے ہیں، تاکہ وہ اس نظام پر مزید یقین رکھیں۔ تیسری دنیا کے عوام کے سامنے ان کے حکمران بادشاہوں اور شہزادوں کی طرح پیش کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی نفرت اپنے حکمرانوں تک محدود رہے اور وہ کبھی اس عالمی استعماری نظام کے خلاف اجتماعی بغاوت نہ کر سکیں۔

یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے میں تیسری دنیا کے عوام سب سے زیادہ دھوکا کھا جاتے ہیں۔ وہ مغرب کے حکمرانوں کی “سادگی” کو دیکھ کر تعریفیں کرنے لگتے ہیں اور اپنے حکمرانوں کی کرپشن کو لعنت ملامت کا نشانہ بناتے ہیں، مگر یہ نہیں سمجھتے کہ دونوں ایک ہی استعمار کے دو چہرے ہیں۔ ایک چہرہ “قانون اور شفافیت” کے نقاب میں چھپا ہوا ہے، دوسرا “کرپشن اور لوٹ مار” کے پردے میں۔ اصل اختیار اور اصل دولت ان دونوں کے پاس نہیں بلکہ اس صہیونی استعماری سسٹم کے ہاتھ میں ہے جو دنیا کی معیشت، سیاست اور معاشرت کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔

یہ دو مختلف ماڈلز یونہی نہیں رکھے گئے، بلکہ اس کے پیچھے گہری نفسیاتی اور سماجی حکمتِ عملی کارفرما ہے۔ استعمار نے ہمیشہ سے یہ اصول اپنایا ہے کہ ہر خطے کو اس کی تہذیبی، معاشرتی اور نفسیاتی ساخت کے مطابق کنٹرول کیا جائے۔ اس لیے مغرب اور تیسری دنیا کے لیے الگ الگ ماڈل بنائے گئے تاکہ دونوں طرف کے عوام اپنی اصل غلامی کو پہچان ہی نہ سکیں۔

مغربی دنیا میں عوام صدیوں کی فکری تربیت کے نتیجے میں جمہوریت، مساوات اور “قانون کی بالادستی” جیسے نعروں پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر وہاں کے حکمران کھلی عیاشی اور بے حساب لوٹ مار میں دکھائی دیں تو عوام میں شدید ردِ عمل پیدا ہوگا اور پورے نظام پر سوال کھڑا ہو جائے گا۔ اس لیے وہاں کے حکمرانوں کو ظاہری طور پر “سادگی” اور “کسمپرسی” کے پردے میں رکھا جاتا ہے تاکہ عوام کو یہ یقین رہے کہ ان کے حکمران بھی انہی کی طرح متوسط طبقے کے مسائل کا شکار ہیں اور قانون کے سامنے جواب دہ ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حربہ ہے جو عوام کو مطمئن رکھتا ہے اور انہیں اس نظام کے خلاف کھڑا ہونے سے روکتا ہے۔

اس کے برعکس تیسری دنیا خصوصاً مسلم دنیا میں صدیوں سے رعایا اور بادشاہت کا کلچر موجود رہا ہے۔ یہاں کے عوام کو طاقت ور حاکم کی عیاشی اور بے مہار زندگی دیکھ کر تعجب نہیں ہوتا بلکہ اکثر وہ اسے “قدرتی حق” سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک حکمران اگر محل میں رہتا ہے، مہنگی گاڑیاں استعمال کرتا ہے یا بیرونِ ملک جائیدادیں رکھتا ہے تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ اقتدار کے “ساتھ آنے والا تحفہ” ہے۔ استعمار نے اسی نفسیات کو استعمال کیا اور مقامی حکمرانوں کو لوٹ مار اور کرپشن کی کھلی چھوٹ دے دی تاکہ وہ اپنے عوام کو دبائے رکھیں اور خود بھی بیرونی طاقتوں کے محتاج رہیں۔

یعنی مغرب میں حکمرانوں کی “سادگی” عوام کو خوش رکھنے اور نظام پر ان کا اعتماد قائم رکھنے کے لیے ایک نفسیاتی تاثر ہے، جبکہ مسلم دنیا میں حکمرانوں کی “عیاشی” عوام کو مسلسل ذلت اور محکومی میں رکھنے کا ذریعہ ہے تاکہ وہ اپنے حکمرانوں کو ہی اصل دشمن سمجھتے رہیں اور کبھی استعمار کے عالمی ڈھانچے کی طرف انگلی نہ اٹھائیں۔ دونوں ماڈلز دراصل ایک ہی نفسیاتی انجینئرنگ کے دو رخ ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نفسیاتی سطح پر یہ ماڈلز ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ جب تیسری دنیا کا عام آدمی مغربی حکمرانوں کی سادگی کی کہانیاں سنتا ہے تو وہ اپنے حکمرانوں پر اور زیادہ لعنت ملامت کرنے لگتا ہے اور مغرب کے نظام کو آئیڈیلائز کرتا ہے۔ اور جب مغربی عوام تیسری دنیا کے بادشاہ نما حکمرانوں کی کرپشن دیکھتے ہیں تو وہ اپنے “سادہ” حکمرانوں پر مزید فخر کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف عوام کی نفسیات اس صہیونی استعماری نظام کے مفاد میں ڈھل جاتی ہیں اور اصل جڑ—یعنی عالمی سرمایہ دارانہ قبضہ—چھپی رہتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2893

ٹیگز

تبصرے