13

عبادات و روحانی آلودگیبسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔سید جہانزیب عابدی

  • نیوز کوڈ : 2887
  • 01 May 2026 - 21:34
عبادات و روحانی آلودگیبسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔سید جہانزیب عابدی

عبادات و روحانی آلودگیبسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔سید جہانزیب عابدی

آج جس نکتے کی طرف توجہ دلا رہے ہیں وہ تزکیۂ نفس (تطہیرِ باطن) کے نہایت باریک مگر بنیادی مسائل میں سے ہے۔ عبادت بذاتِ خود انسان کو قربِ الٰہی، سکونِ قلب اور اخروی فلاح کی طرف لے جاتی ہے، لیکن جب یہی عبادت “نفس” کے ہاتھ لگ جائے تو بعض اوقات وہی ذریعہِ نجات، بیماریِ روحانی یعنی عُجب (خود پسندی)، ریا (دکھاوا) اور تکبر کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اصل مقصود عبادت نہیں بلکہ “اخلاص” ہے، اور جب اخلاص کمزور ہو جائے تو عبادت ایک اخلاقی زہر میں بھی بدل سکتی ہے۔
اس ضمن میں ایک نہایت اہم نبوی تعلیم یہ ہے کہ انسان اپنے نیک اعمال کو حتی الامکان پوشیدہ رکھے تاکہ نفس اس پر فخر اور غرور میں مبتلا نہ ہو۔ اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے:
عربی متن:
«مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَبِيئَةٌ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ فَلْيَفْعَلْ»
ترجمہ:
“تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ اس کا کوئی نیک عمل ایسا ہو جو لوگوں سے پوشیدہ رہے تو وہ ضرور ایسا کرے۔”
حوالہ: المعجم الکبیر للطبرانی
اسی مفہوم کی تائید دیگر احادیث و روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں نیک عمل کو چھپانے اور ریا سے بچنے کی سخت تاکید ملتی ہے۔ بعض روایات میں ریا کو “شرکِ اصغر” قرار دیا گیا ہے، جس سے اس کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عبادات کو مخفی رکھنے کی روحانی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ انسان کا تعلق “لوگوں کی نظر” سے ٹوٹ کر “اللہ کی نظر” سے جڑ جائے۔ جب عبادت ظاہر ہونے لگتی ہے تو انسانی نفس میں ایک غیر محسوس سا احساسِ برتری پیدا ہوتا ہے، کہ میں دوسروں سے بہتر ہوں، میں زیادہ عبادت گزار ہوں، اور یہی احساس رفتہ رفتہ تکبر میں بدل جاتا ہے۔ تکبر وہ بیماری ہے جس کے بارے میں قرآن کا اشارہ ہے کہ یہ ابلیس کی ہلاکت کا سبب بنی، اور اسی بنا پر انسان کے اعمال کا نور بھی مدھم ہو جاتا ہے کیونکہ حدیثی مفہوم کے مطابق بعض اوقات نیک اعمال بھی “حبط” یعنی ضائع ہو جاتے ہیں جب ان میں ریا یا عجب شامل ہو جائے۔
اس کے ساتھ ایک اور نفسیاتی پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جب عبادت کا سماجی فیڈبیک ملنے لگتا ہے تو انسان کے اندر “سوشل ریوارڈ سسٹم” فعال ہو جاتا ہے۔ لوگ تعریف کرتے ہیں، نیک سمجھتے ہیں، عزت دیتے ہیں، اور یہ سب مل کر نفس کو ایک پوشیدہ لذت دیتے ہیں جو خالص عبادت کی روح کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کیفیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان رفتہ رفتہ عبادت “اللہ کے لیے” کم اور “اپنی شناخت کے لیے” زیادہ کرنے لگتا ہے۔
اس کے دنیوی اثرات میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کا باطن دوہرا ہو جاتا ہے؛ باہر سے متقی اور اندر سے خودپسند۔ اس سے سماجی تعلقات میں مصنوعی تقدس پیدا ہوتا ہے اور انسان حقیقی اصلاح سے محروم رہتا ہے۔ اخروی اعتبار سے اس کا خطرہ یہ ہے کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار اخلاص پر ہے، اور جب اخلاص مجروح ہو جائے تو بسا اوقات پورا عمل ہی بے وزن ہو جاتا ہے۔
اسی لیے اولیاء، عرفاء و صلحاء کے ہاں یہ طریقہ رائج رہا ہے کہ وہ اپنے خاص نیک اعمال کو چھپاتے تھے، حتیٰ کہ نوافل، تہجد، صدقات اور بعض روزے بھی۔ مثال کے طور پر نفل نماز کو ایسے وقتوں میں ادا کرنا کہ لوگ نہ دیکھیں، صدقہ اس طرح دینا کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو دائیں ہاتھ کی، اور بعض روزے ایسے رکھنا جن کا علم صرف اللہ اور بندے کے درمیان ہو۔ اسی طرح ذکر و اذکار کو بھی بعض اوقات اجتماعی نمائش سے بچا کر تنہائی میں ادا کرنا، تلاوتِ قرآن کو ایسے اوقات میں کرنا جہاں دکھاوا نہ ہو، اور بعض نیک اعمال کے بعد اس کا اظہار نہ کرنا بھی اسی حکمت کا حصہ ہے۔
یہاں تک کہ بعض اوقات عبادات کے وقت میں معمولی تبدیلی بھی اسی مقصد کے لیے ہوتی ہے کہ انسان کسی “دکھاوے کے نظام” میں داخل نہ ہو جائے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عبادت کو ترکِ جماعت یا شریعت کے دائرے سے باہر لے جایا جائے، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ فرض عبادات اپنی جگہ رہیں اور نوافل و اضافی اعمال میں اخلاص کو محفوظ رکھا جائے۔
یوں دیکھا جائے تو عبادت کا اصل سفر “ظاہر سے باطن” کی طرف ہے، اور جس عبادت میں یہ سفر رک جائے وہ روحانی ترقی کے بجائے نفس کی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے دین نے بار بار اخلاص، تقویٰ کی پوشیدگی، اور ریا سے بچنے کی تاکید کی ہے تاکہ انسان اپنے رب کے قریب ہو، نہ کہ اپنی انا کے۔
عبادت اگرچہ بنیادی طور پر فرد اور اللہ کے درمیان ایک روحانی تعلق ہے، لیکن انسانی معاشرہ چونکہ ایک “مشترکہ نفسیاتی میدان” ہے، اس لیے عبادت صرف ذاتی عمل نہیں رہتی بلکہ سماجی اثرات بھی پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت بعض اوقات فرد کی روحانی بلندی کے بجائے سماجی شناخت، طاقت، اثر و رسوخ اور حتیٰ کہ سیاسی برتری کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ یہاں سے وہ پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں عبادت اپنی اصل روح سے ہٹ کر “سماجی سرمایہ” (social capital) بننے لگتی ہے۔
مثال کے طور پر جب کوئی شخص یا طبقہ مسلسل مساجد کی امامت، مجالس کی خطابت، یا دینی اجتماعات کی قیادت کو اپنی شناخت بنا لیتا ہے تو اس میں یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ عبادت “خدمت” کے بجائے “اسٹیٹس” بن جائے۔ ایسے ماحول میں عبادت کا ظاہری تسلسل برقرار رہتا ہے لیکن اندرونی نیت بعض اوقات شعوری یا غیر شعوری طور پر سماجی برتری، عزت، اور اثر و رسوخ کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت ایک “روحانی عمل” سے زیادہ “سماجی پوزیشننگ” کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح سیاسی میدان میں بھی عبادت کے مظاہر بعض اوقات طاقت کے اظہار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے اجتماعات میں شرکت، مذہبی ریلیوں کی قیادت، یا عوامی سطح پر مذہبی نعرہ بازی بعض اوقات خالص دینی جذبے کے ساتھ ساتھ سیاسی پیغام بھی بن جاتی ہے۔ یہاں عبادت اور سیاست کا امتزاج بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عبادت “اللہ کی رضا” کے بجائے “عوامی اثر” اور “سیاسی فائدے” کے لیے استعمال ہونے لگے۔ یہ کیفیت رفتہ رفتہ عبادت کو اس کی معنوی پاکیزگی سے دور کر دیتی ہے۔
اسی طرح کچھ عبادات جو بظاہر انفرادی ہیں، وہ بھی سماجی سطح پر اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً حج ایک خالص عبادت ہے لیکن جب اس میں “نمائشی نیکی” یا “سماجی وقار” شامل ہو جائے تو اس کا رخ بدلنے لگتا ہے۔ بعض لوگ حج کے بعد اپنے نام کے ساتھ القاب یا شناختی برتری کو اس طرح جوڑ دیتے ہیں کہ عبادت ایک روحانی سفر کے بجائے سماجی درجہ بندی کا نشان بن جاتی ہے۔ اسی طرح صدقات و خیرات اگر عوامی تشہیر کے ساتھ ہوں تو وہ نیکی کے بجائے شناختی سرمایہ بن سکتے ہیں، جہاں دینے والا “اللہ کے لیے دینے والا” کم اور “معاشرے میں دینے والا مشہور شخص” زیادہ بن جاتا ہے۔
سماجی عبادات میں ایک اور اہم پہلو “اجتماعی دینی برتری کا احساس” ہے۔ جب کوئی گروہ یا جماعت مسلسل عبادات، مجالس یا دینی پروگراموں کے ذریعے اپنی نیکی کو اجتماعی طور پر نمایاں کرتی ہے تو اس میں لاشعوری طور پر دوسروں کے مقابلے میں برتری کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ احساس اگرچہ واضح طور پر زبان پر نہ آئے لیکن رویوں میں جھلکنے لگتا ہے، جیسے دوسروں کے دینی عمل کو کم تر سمجھنا یا ان کے طریقہ عبادت کو کمتر جاننا۔
اسی طرح بعض اوقات عبادات “ثقافتی علامت” بھی بن جاتی ہیں۔ مثلاً مخصوص لباس، مخصوص اندازِ عبادت، یا مخصوص دینی طرزِ زندگی کو اتنا نمایاں کر دیا جاتا ہے کہ وہ عبادت سے زیادہ “شناختی کلچر” بن جاتا ہے۔ اس صورت میں عبادت کا مقصد یعنی قلبی عاجزی اور اللہ کے سامنے جھکاؤ، پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اس کی جگہ ظاہری شناخت غالب آ جاتی ہے۔
نفسیاتی سطح پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب انسان اپنی دینی سرگرمیوں کو بار بار سماجی تعریف کے ماحول میں رکھتا ہے تو اس کے اندر “self-enhancement bias” پیدا ہو جاتا ہے، یعنی وہ خود کو حقیقت سے زیادہ بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت آہستہ آہستہ روحانی حساسیت کو کم کر دیتی ہے، کیونکہ انسان تنقید اور اصلاح کے بجائے تعریف کا عادی ہو جاتا ہے۔
ان تمام صورتوں میں عبادت کا بنیادی خطرہ یہی رہتا ہے کہ وہ “قربِ الٰہی کا راستہ” رہنے کے بجائے “قربِ عوامی” یا “قربِ سماجی طاقت” کا ذریعہ بن جائے۔ جب یہ تبدیلی واقع ہوتی ہے تو انسان کے اندر عبادت کا اصل ذائقہ یعنی عاجزی، انکساری اور اپنے عیبوں کا شعور کمزور پڑنے لگتا ہے، اور اس کی جگہ ایک نرم مگر خطرناک قسم کا احساسِ برتری جنم لیتا ہے جو بظاہر نیکی کے لباس میں ہوتا ہے مگر روح کے اعتبار سے ایک پردہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے اہلِ معرفت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان اپنے دینی اعمال کو اس نہج پر رکھے کہ وہ “تعریف کا محتاج نہ رہے” اور نہ ہی اس سے اس کی شناخت وابستہ ہو، بلکہ اس کا اصل تعلق صرف اللہ کے ساتھ قائم رہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت دوبارہ اپنی اصل روح یعنی خالص بندگی کی طرف لوٹ آتی ہے، اور انسان سماج میں رہتے ہوئے بھی اندر سے آزاد رہتا ہے—نہ غرور کا قیدی، نہ شہرت کا غلام۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2887

ٹیگز

تبصرے