16

*خلاقیت: حق اور فریب کے درمیان*

  • نیوز کوڈ : 2890
  • 01 May 2026 - 21:39
*خلاقیت: حق اور فریب کے درمیان*

*خلاقیت: حق اور فریب کے درمیان*

*Creativity: Between Truth and Deception*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسان کی تخلیق کا راز صرف اس کے جسم میں نہیں بلکہ اس روح میں پوشیدہ ہے جو اسے خدا نے عطا کی۔ یہی روح انسان کو محض ایک حیوانی وجود سے بلند کرکے ایک بااختیار، باارادہ اور خلاق ہستی بناتی ہے۔ خلاقیت دراصل اسی روحانی ودیعت کا ظہور ہے، جو انسان کو نئے راستے نکالنے، مسائل کے حل تلاش کرنے اور حالات کے مطابق اپنے طرزِ عمل کو ڈھالنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ مگر یہی خلاقیت جب نفس، خواہشات یا شیطانی وسوسوں کے زیرِ اثر آجاتی ہے تو منفی رخ اختیار کرلیتی ہے، اور جب عقل، وحی اور تقویٰ کی رہنمائی میں ہوتی ہے تو مثبت اور تعمیری بن جاتی ہے۔

بظاہر خلاقیت ایک ہی عمل ہے، لیکن اس کے دو رخ ایسے ہیں جیسے روشنی اور تاریکی، یا مشرق و مغرب۔ ایک وہ خلاقیت ہے جو حق کو بچانے، عدل کو قائم رکھنے اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور دوسری وہ ہے جو دھوکہ، فریب، ظلم اور خود غرضی کے لیے بروئے کار آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے میدان میں ہمیں ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں ایک ہی صلاحیت دو مختلف اخلاقی بنیادوں پر بالکل متضاد نتائج پیدا کرتی ہے۔

مثال کے طور پر جنگ صفین میں دشمن کا قرآن کو نیزوں پر بلند کرنا ایک ایسی منفی خلاقیت تھی جس کا مقصد حق کو بچانا نہیں بلکہ شکست سے بچنا تھا۔ بظاہر قرآن کی تعظیم کا عمل تھا، مگر درحقیقت یہ ایک نفسیاتی چال تھی جس کے ذریعے لشکرِ حق میں تردد پیدا کیا گیا۔ اسی طرح دشمن کا اپنی جان بچانے کے لیے برہنہ ہوکر جان بچانے کا طریقہ اختیار کرنا بھی ایک ایسی خلاقیت تھی جو محض وقتی نجات کے لیے اپنی عزت اور اصولوں کو قربان کرنے پر مبنی تھی۔ یہ وہ خلاقیت ہے جو عقل کی چالاکی تو رکھتی ہے مگر روح کی پاکیزگی سے خالی ہوتی ہے۔ یزید بن معاویہ کے دور میں بھی منفی خلاقیت کی کئی صورتیں سامنے آئیں۔ واقعۂ کربلا کے بعد اہلِ بیتؑ کے خلاف پروپیگنڈا کرنا، حقائق کو مسخ کرنا اور عوامی رائے کو بدلنے کے لیے خطباء اور درباری نظام کا استعمال کرنا ایک منظم اور تخلیقی مگر منفی حکمت عملی تھی۔ اس کے ذریعے ظلم کو چھپانے اور حق کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خلاقیت اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ کتنی خطرناک ہوسکتی ہے۔

مروان بن حکم اور بنو امیہ کے دیگر افراد نے بھی سیاسی چالوں، جعلی روایات کے پھیلاؤ، اور شخصیات کی کردار کشی کے ذریعے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس میں حق کو کمزور اور باطل کو مضبوط دکھایا گیا۔ یہ سب ایک منفی تخلیقی عمل تھا جس میں زبان، بیان اور ابلاغ کو گمراہی کے لیے استعمال کیا گیا۔

اسی طرح خوارج کا طرزِ عمل بھی ایک عجیب قسم کی منفی خلاقیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے قرآن کی آیات کو اپنے مخصوص مفہوم میں ڈھال کر “لا حکم الا للہ” کا نعرہ لگایا، جو بظاہر ایک حق بات تھی مگر اسے ایسے موقع پر اور ایسے انداز میں استعمال کیا گیا کہ وہ خود باطل کا ہتھیار بن گئی۔ یہ فکری تحریف اور مفہوم کی تبدیلی بھی ایک منفی ذہنی تخلیق تھی، جس نے امت میں مزید انتشار پیدا کیا۔

ان تمام مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ منفی خلاقیت ہمیشہ کسی نہ کسی “خوبصورت لبادے” میں آتی ہے۔ وہ خود کو حق، دین، عقل یا مصلحت کے نام پر پیش کرتی ہے، مگر اس کا اصل مقصد ذاتی مفاد، اقتدار یا وقتی فائدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پہچاننا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ کھلے باطل کے بجائے چھپے ہوئے فریب کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

اس کے برعکس، مثبت خلاقیت ہمیشہ شفاف ہوتی ہے، اگرچہ بظاہر مشکل یا نقصان دہ نظر آئے، مگر اس کا انجام خیر پر مبنی ہوتا ہے۔ منفی خلاقیت وقتی کامیابی دیتی ہے مگر تاریخ میں رسوائی چھوڑ جاتی ہے، جبکہ مثبت خلاقیت وقتی آزمائش کے باوجود ہمیشہ کے لیے حق کی علامت بن جاتی ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس سے انسان اپنی سوچ اور اپنی تخلیقی صلاحیت کا رخ متعین کرسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں انبیاء اور ائمہ کی زندگیوں میں ہمیں مثبت خلاقیت کے ایسے درخشاں نمونے ملتے ہیں جو نہ صرف حکمت سے بھرپور ہیں بلکہ اخلاقی بلندی کا بھی مظہر ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ کا بتوں کو توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے گلے میں ڈال دینا ایک غیر معمولی تخلیقی اقدام تھا، جس کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم کو سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ بت خود کچھ نہیں کرسکتے تو خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔ یہ خلاقیت محض ذہانت نہیں تھی بلکہ ایک الٰہی حکمت تھی جس کا مقصد ہدایت تھا۔

اسی طرح حضرت یوسفؑ نے قحط کے زمانے میں غلے کی تقسیم کا جو نظام قائم کیا، وہ ایک مثبت اور تعمیری خلاقیت کی اعلیٰ مثال ہے۔ انہوں نے نہ صرف آنے والے بحران کو پہلے سے بھانپ لیا بلکہ ایک ایسا انتظامی نظام بنایا جس نے پورے معاشرے کو تباہی سے بچایا۔ یہ خلاقیت انسانوں کو زندگی دینے والی تھی، نہ کہ انہیں دھوکہ دینے والی۔

معصومینؑ کی سیرت میں بھی اس طرح کی خلاقیت نمایاں نظر آتی ہے۔ اسی طرح حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرتِ مدینہ ایک غیر معمولی تخلیقی حکمت عملی تھی۔ یہ محض ایک نقل مکانی نہیں تھی بلکہ ایک مکمل سوشل انجینئرنگ کا عمل تھا۔ مکہ میں کمزور اقلیت کو ایک مضبوط معاشرے میں بدلنے کے لیے آپؐ نے مدینہ میں “میثاقِ مدینہ” کے ذریعے مختلف قبائل اور مذاہب کو ایک اجتماعی نظم میں باندھ دیا۔ آج کے دور میں اسے “constitution building”، “pluralistic society” اور “social contract theory” کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ مثبت خلاقیت تھی جس نے ایک منتشر گروہ کو ایک منظم امت میں تبدیل کردیا۔

امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی حکمرانی میں بھی مثبت خلاقیت کی جھلک واضح ہے۔ آپؑ نے بیت المال کی تقسیم میں مساوات کا اصول قائم کیا، حتیٰ کہ اپنے قریبی افراد کو بھی کوئی ترجیح نہ دی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپؑ کا گورننس ماڈل، خاص طور پر مالک اشتر کے نام خط، آج کے “good governance”، “accountability” اور “ethical leadership”  کے اصولوں سے حیرت انگیز مماثلت رکھتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی خلاقیت وقتی سیاست سے بلند ہوکر اصولی نظام قائم کرتی ہے۔

امام حسن بن علی علیہ السلام کا صلح کا فیصلہ بھی ایک عظیم مثبت خلاقیت کی مثال ہے۔ بظاہر یہ ایک سیاسی پسپائی معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک اسٹریٹجک ری سیٹ تھا جس نے اسلام کی بقا کو یقینی بنایا۔ آج کے دور میں جب ریاستیں یا تحریکیں وقتی نقصان برداشت کرکے طویل مدتی استحکام حاصل کرتی ہیں، تو یہ اسی اصول کی جھلک ہے جسے امام حسنؑ نے عملی طور پر دکھایا۔

امام حسین بن علی علیہ السلام کی تحریکِ کربلا بھی مثبت خلاقیت کی ایک منفرد مثال ہے۔ آپؑ نے ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی جس میں ظاہری کامیابی کے بجائے اخلاقی اور تاریخی فتح کو ترجیح دی۔ محدود وسائل کے باوجود آپؑ نے اپنے موقف کو اس طرح پیش کیا کہ ظلم ہمیشہ کے لیے بے نقاب ہوگیا۔ آج کے دور میں اسے “moral resistance”، “narrative building” اور “symbolic protest” کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک چھوٹا سا گروہ بھی اپنے اصولی موقف کے ذریعے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔

اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام کا علمی انقلاب بھی مثبت خلاقیت کا شاہکار ہے۔ ایک ایسے دور میں جب سیاسی حالات سازگار نہ تھے، آپؑ نے تعلیم اور علم کے میدان کو اپنا مرکز بنایا اور ہزاروں شاگردوں کو تیار کیا۔ یہ ایک “knowledge-based strategy”  تھی، جس کی مماثلت آج کے دور میں “intellectual movements” اور “educational reform”  سے ملتی ہے۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ اگر براہِ راست سیاسی میدان ممکن نہ ہو تو علم کے ذریعے معاشرے کو بدلنا بھی ایک مؤثر راستہ ہے۔

یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ خلاقیت بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری، بلکہ اس کا اخلاقی معیار اس نیت اور مقصد سے متعین ہوتا ہے جس کے تحت اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ شیطانی خلاقیت وقتی فائدہ، ذاتی مفاد اور دوسروں کو دھوکہ دینے پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ الٰہی خلاقیت سچائی، عدل اور انسانیت کی بھلائی کے لیے ہوتی ہے۔ ایک انسان کو بظاہر کامیابی تک پہنچاتی ہے مگر اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے، جبکہ دوسری انسان کو بظاہر آزمائش میں ڈالتی ہے مگر اسے ابدی کامیابی عطا کرتی ہے۔

انسان کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی اس تخلیقی صلاحیت کو کس رخ پر استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ اسے نفس اور شیطان کے حوالے کردے تو وہی صلاحیت اس کے لیے تباہی کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور اگر وہ اسے خدا کی ہدایت کے تابع کردے تو یہی خلاقیت اسے انسانِ کامل کے مقام تک پہنچا دیتی ہے۔ ہمارے پاس کوئی ایک ایسا “جادوئی اصول” نہیں ہے جو ہر موقع پر فوراً فیصلہ دے دے کہ فلاں “خلاقیت” منفی ہے اور فلاں مثبت!!، کیونکہ منفی خلاقیت کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ خود کو حق کے لباس میں چھپا لیتی ہے۔ اگر معاملہ اتنا سادہ ہوتا تو تاریخ میں بڑے بڑے اہلِ فہم بھی دھوکے کا شکار نہ ہوتے۔ تاہم ایک بنیادی معیار ایسا ضرور ہے جو اگر گہرائی سے سمجھ لیا جائے تو اکثر مواقع پر صحیح پہچان ممکن ہو جاتی ہے، اور وہ ہے: “خلاقیت کا رخ—حق کی طرف ہے یا نفس کی طرف؟”

اصل فرق نیت کے دعوے میں نہیں بلکہ نتیجے اور طریقے میں ظاہر ہوتا ہے۔ منفی یا فریبی خلاقیت ہمیشہ کسی نہ کسی درجے میں حقیقت کو مسخ کرتی ہے، چاہے وہ آدھا سچ بول کر ہو، جذبات کو بھڑکا کر ہو، یا لوگوں کو کنفیوژن میں ڈال کر۔ اس کے برعکس مثبت خلاقیت حقیقت کو واضح کرتی ہے، چاہے وہ وقتی طور پر نقصان دہ یا مشکل ہی کیوں نہ محسوس ہو۔

ایک سادہ مگر گہرا اصول یہ ہے کہ “کیا یہ خلاقیت انسان کو آزاد کر رہی ہے یا اسے الجھا رہی ہے؟”

جو خلاقیت انسان کے شعور کو صاف کرے، حق کو قابلِ فہم بنائے، اور انسان کو ذمہ دار اور بااختیار بنائے، وہ مثبت ہے۔ اور جو خلاقیت انسان کو جذباتی ہیجان، خوف، تعصب یا اندھی پیروی میں دھکیل دے، وہ منفی ہے—چاہے اس کے الفاظ کتنے ہی مقدس کیوں نہ ہوں۔

اسی کو ایک اور زاویے سے یوں سمجھیں کہ “کیا اس میں مقصد کے لیے اصول قربان کیے جا رہے ہیں؟”

منفی خلاقیت اکثر کہتی ہے کہ “نتیجہ اچھا ہے تو طریقہ کوئی بھی ہو سکتا ہے”، جبکہ مثبت خلاقیت یہ اصول قائم رکھتی ہے کہ طریقہ بھی اتنا ہی پاکیزہ ہونا چاہیے جتنا مقصد۔

ایک تیسرا فوری پیمانہ یہ ہے کہ “کیا اس میں شفافیت ہے یا پردہ داری؟”

حق پر مبنی خلاقیت کھلی ہوتی ہے، سوال برداشت کرتی ہے، تنقید سے نہیں گھبراتی۔ فریبی خلاقیت ہمیشہ کسی نہ کسی پردے، ابہام یا جذباتی دباؤ کے پیچھے چھپتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ مکمل روشنی میں اس کا دھوکہ قائم نہیں رہ سکتا۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی خلاقیت بیک وقت سچائی کو واضح کرے، انسان کو بااختیار بنائے، اصولوں کو برقرار رکھے اور شفاف ہو—تو وہ حق اور مثبت خلاقیت ہے۔ اور اگر وہ حقیقت کو توڑے، انسان کو الجھائے، اصولوں کو قربان کرے اور خود کو کسی پردے میں چھپائے—تو وہ فریبی اور منفی خلاقیت ہے۔

جدید دور میں خلاقیت کا سب سے نمایاں مظہر سائنسی اور ٹیکنالوجیکل میدان میں نظر آتا ہے، جبکہ فنونِ لطیفہ میں یہ صدیوں سے انسانی اظہار کا بنیادی وسیلہ رہی ہے۔ بظاہر دونوں کا دائرہ الگ ہے—ایک مادّی دنیا کو بدلتا ہے اور دوسرا انسانی باطن اور احساس کو—لیکن حقیقت میں دونوں ایک ہی سرچشمے، یعنی انسانی روح اور عقل، سے پھوٹتے ہیں۔ اسی لیے ان دونوں میں مثبت اور منفی خلاقیت کی تقسیم بھی ایک ہی اصول پر قائم ہے: آیا یہ خلاقیت انسان کو اس کے حقیقی کمال کی طرف لے جا رہی ہے یا اسے اس کے نفس اور فریب کے جال میں مزید الجھا رہی ہے۔

سائنسی و ٹیکنالوجیکل خلاقیت کی مثبت صورت وہ ہے جو انسان کی زندگی کو آسان، محفوظ اور باوقار بنائے، اور اسے اپنی حقیقت کے قریب لے جائے۔ مثال کے طور پر طبّی ترقیات نے انسان کو بیماریوں سے بچانے اور زندگی کو طول دینے میں مدد دی۔ جدید کمیونیکیشن ٹیکنالوجی نے علم کو عام کیا، فاصلے سمیٹ دیے اور انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔ یہ وہ خلاقیت ہے جو “خدمتِ انسانیت” کے اصول پر قائم ہے، جس میں عقل، تحقیق اور تجربہ انسان کی بھلائی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مگر یہی ٹیکنالوجی جب منفی رخ اختیار کرتی ہے تو ایک نہایت خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مثال کے طور پر وہی سائنسی ذہانت جب مہلک ہتھیار بنانے میں استعمال ہوتی ہے، یا جب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ انسان کی توجہ کو قید کر لیں، اس کی نفسیات کو manipulate کریں اور اسے ایک غیر محسوس غلامی میں مبتلا کر دیں، تو یہ منفی خلاقیت ہے۔ یہاں ذہانت تو موجود ہے، مگر مقصد انسان کو آزاد کرنا نہیں بلکہ اسے کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال اگر سچائی کو مسخ کرنے، جعلی معلومات پھیلانے یا لوگوں کے رویّوں کو خفیہ طور پر متاثر کرنے کے لیے ہو تو یہ خلاقیت نہیں بلکہ ایک مہذب فریب بن جاتی ہے۔

فنونِ لطیفہ میں بھی یہی دو رخ واضح نظر آتے ہیں۔ مثبت خلاقیت وہ ہے جو انسان کے اندر حسن، خیر اور سچائی کا شعور بیدار کرے۔ ایک اچھی شاعری، ایک بامقصد فلم یا ایک گہری تصویر انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے، اس کے احساسات کو نکھارتی ہے اور اسے ایک بہتر انسان بننے کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہ وہ فن ہے جو انسان کو اس کی اصل فطرت کے قریب لاتا ہے، اسے یاد دلاتا ہے کہ وہ صرف جسم نہیں بلکہ ایک روح بھی ہے۔

اس کے برعکس منفی خلاقیت فن کے نام پر ایسے رجحانات کو فروغ دیتی ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے دور لے جائیں۔ جب آرٹ صرف سنسنی، لذت یا بغاوت کے اظہار تک محدود ہو جائے، جب وہ اخلاقی حدود کو توڑنے کو “آزادی” کا نام دے، یا جب وہ انسان کے اندر موجود کمزور پہلوؤں—جیسے شہوت، غصہ یا انا—کو بھڑکانے لگے، تو یہ خلاقیت نہیں بلکہ ایک نفسیاتی exploitation بن جاتی ہے۔ یہاں فن انسان کو بلند نہیں کرتا بلکہ اسے نیچے کھینچتا ہے، اس کے شعور کو وسیع نہیں کرتا بلکہ اسے سطحی بنا دیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید دور میں یہ دونوں میدان ایک دوسرے میں مدغم ہو رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی اب فن کو shape کر رہی ہے، اور فن ٹیکنالوجی کے ذریعے وسیع پیمانے پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا، فلم، گیمز اور ورچوئل دنیا میں خلاقیت کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے، جہاں ایک ہی تخلیق لاکھوں لوگوں کے ذہن اور رویّے کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہاں مثبت خلاقیت وہ ہے جو اس طاقت کو شعور، تعلیم اور خیر کے فروغ کے لیے استعمال کرے، جبکہ منفی خلاقیت وہ ہے جو اسے محض  attention، profit  یا control کے لیے استعمال کرے۔

آخرکار، چاہے خلاقیت سائنس میں ہو یا فن میں، اس کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی “نئی” یا “دلچسپ” ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان کو کیا بنا رہی ہے۔ کیا وہ اسے زیادہ باشعور، بااخلاق اور آزاد بنا رہی ہے، یا اسے زیادہ منتشر، خودغرض اور غلام؟ یہی وہ فرق ہے جو جدید دور کی تمام خلاقیت کو دو واضح خانوں میں تقسیم کرتا ہے: ایک وہ جو انسان کو اس کے رب کی طرف لے جاتی ہے، اور دوسری وہ جو اسے اپنے نفس اور دنیا کے فریب میں مزید گم کر دیتی ہے۔

آخرکار فیصلہ صرف ذہن نہیں بلکہ ضمیر بھی کرتا ہے۔ ایک زندہ ضمیر اکثر فوراً اشارہ دے دیتا ہے کہ یہاں کچھ “ٹھیک” نہیں ہے، بشرطیکہ انسان اپنے اندر کی اس آواز کو سننے کا عادی ہو۔ یہ وہ باطنی میزان ہے جو دلیلوں کے ہجوم میں بھی ایک سادہ سچ کو پہچان لیتا ہے، اور فریب کے حسین لبادے کے پیچھے چھپی ہوئی نیت کو محسوس کر لیتا ہے۔ مگر یہ آواز اسی وقت واضح رہتی ہے جب انسان اسے مسلسل نظرانداز نہ کرے، کیونکہ بار بار کی بے حسی اسے مدھم کر دیتی ہے۔ جو شخص اپنے ضمیر کی حفاظت کرتا ہے، وہی خلاقیت کے اس پیچیدہ میدان میں حق اور فریب کے درمیان درست راستہ پا لیتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2890

ٹیگز

تبصرے