بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
بین الاقوامی سیاست کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ریاستوں کے فیصلے محض نظریاتی وابستگی یا “حق و باطل” کے سادہ بیانیے پر نہیں ہوتے۔ اگرچہ عوامی سطح پر اور بعض اوقات قیادت کی تقریروں میں اخلاقی اصولوں، انصاف اور نظریات کا حوالہ دیا جاتا ہے، لیکن عملی دنیا میں فیصلوں کی بنیاد کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ ریاستیں اپنی سلامتی، معاشی مفادات، داخلی استحکام، عالمی دباؤ اور طاقت کے توازن جیسے عوامل کو مدنظر رکھ کر پالیسی تشکیل دیتی ہیں۔ اسی پیچیدہ ڈائنامک کو سمجھنے کے لیے علمِ International Relations میں مختلف نظریات پیش کیے گئے ہیں، جن میں سب سے نمایاں “ریئلزم” ہے۔
Realism یا حقیقت پسندی وہ نظریہ ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عالمی نظام بنیادی طور پر ایک غیر منظم (anarchic) فضا میں قائم ہے، جہاں کوئی مرکزی اتھارٹی موجود نہیں جو ریاستوں کو قابو میں رکھ سکے۔ اس صورتحال میں ہر ریاست اپنی بقا اور مفاد کے تحفظ کے لیے خود ذمہ دار ہوتی ہے۔ چنانچہ ریاستوں کا اولین مقصد اپنی طاقت کو برقرار رکھنا اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کرنا ہوتا ہے۔ اس تناظر میں اخلاقیات، نظریات اور حتیٰ کہ بین الاقوامی قوانین بھی ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں، کیونکہ اگر ریاست اپنی بقا ہی کھو دے تو باقی تمام اصول بے معنی ہو جاتے ہیں۔
اسی نظریاتی فریم ورک کی عملی شکل کو Realpolitik کہا جاتا ہے۔ ریئل پولیٹک دراصل وہ طرزِ سیاست ہے جس میں فیصلے خالصتاً زمینی حقائق، طاقت کے توازن اور مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ یہاں جذباتی نعروں یا اخلاقی دعوؤں کے بجائے اس بات کو دیکھا جاتا ہے کہ کون سا قدم ریاست کے لیے زیادہ فائدہ مند یا کم نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ریاستیں ایسے فیصلے کرتی ہیں جو بظاہر ان کے اعلانیہ اصولوں سے متصادم نظر آتے ہیں، مگر درحقیقت وہ اپنے وسیع تر مفادات کے تحفظ کے لیے ایسا کر رہی ہوتی ہیں۔
ریئلزم کو سمجھنے کے لیے ایک اور اہم تصور Balance of Power ہے، یعنی طاقت کا توازن۔ اس اصول کے تحت عالمی نظام میں ریاستیں اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ کوئی ایک طاقت حد سے زیادہ مضبوط نہ ہو جائے۔ اگر کسی خطے میں ایک ریاست بہت طاقتور ہو جائے تو دیگر ریاستیں اس کے مقابلے میں اتحاد قائم کرتی ہیں یا مختلف حکمت عملیوں کے ذریعے اس کے اثر کو متوازن کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست میں اتحاد مستقل نہیں ہوتے بلکہ حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔
مزید برآں، جدید تجزیات میں اس طرزِ فکر کو “قومی مفاد کا نظریہ” یا “سلامتی پر مبنی فیصلہ سازی” بھی کہا جاتا ہے، جہاں ریاست کی بقا اور استحکام کو ہر چیز پر فوقیت دی جاتی ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق اگر کسی اخلاقی اصول پر قائم رہنے سے ریاست کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، تو اکثر ریاستیں اس اصول کو پسِ پشت ڈال کر اپنے تحفظ کو ترجیح دیتی ہیں۔
نتیجتاً، جس ڈائنامک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ فیصلے صرف نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ مفاد، طاقت اور سلامتی کے تقاضوں کے تحت ہوتے ہیں، اسے علمی اصطلاح میں ریئلسٹ اپروچ یا ریئل پولیٹک کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ عالمی سیاست میں جو فیصلے بظاہر متضاد یا غیر اصولی نظر آتے ہیں، وہ درحقیقت ایک ایسے نظام کا حصہ ہوتے ہیں جہاں بقا، طاقت اور مفاد ہی اصل محرکات ہیں۔
تاہم، اس حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ نظریہ صرف ایک زاویۂ نظر پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں یہ تو بتاتا ہے کہ ریاستیں کیسے عمل کرتی ہیں، لیکن یہ سوال کھلا چھوڑ دیتا ہے کہ انہیں کیسے عمل کرنا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاقیات، مذہب اور “حق و باطل” جیسے تصورات دوبارہ اہمیت اختیار کرتے ہیں اور انسان کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا صرف مفاد کی بنیاد پر فیصلے کرنا کافی ہے یا انصاف اور اصولوں کو بھی کسی نہ کسی سطح پر مقدم رکھنا ضروری ہے۔
اسلامی سیاسی فکر، خصوصاً شیعہ مکتبِ فکر میں، یہ سوال کہ فیصلے صرف مفاد کی بنیاد پر کیے جائیں، یا اخلاقیات اور “حق و باطل” کے معیار کو مقدم رکھا جائے، محض ایک نظری بحث نہیں بلکہ ایک بنیادی اصولی مسئلہ ہے۔ یہاں سیاست کو محض طاقت کے حصول یا ریاستی مفادات کے تحفظ کا نام نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ہدایتِ الٰہی کے تابع ایک امانت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں سیاست اور اخلاقیات کو جدا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ سیاست بذاتِ خود اخلاقی اور الٰہی اصولوں کی عملی صورت مانی جاتی ہے۔
شیعہ فکر کی بنیاد امامت کے تصور پر ہے، اور امامت محض سیاسی قیادت نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور معنوی رہنمائی کا جامع نظام ہے۔امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت اس حوالے سے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی حکومت میں ہمیں واضح طور پر یہ اصول ملتا ہے کہ اقتدار کا مقصد حق کا قیام اور ظلم کا خاتمہ ہے، نہ کہ کسی بھی قیمت پر اقتدار کو برقرار رکھنا۔ ان کے خطبات اور خطوط، جو نہج البلاغہ میں محفوظ ہیں، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی سیاسی مصلحت کے نام پر عدل کو قربان نہیں کیا۔ یہاں تک کہ جب بعض قریبی افراد نے انہیں مشورہ دیا کہ وقتی طور پر کچھ ظالم گورنروں کو برقرار رکھا جائے تاکہ حکومت مستحکم ہو جائے، تو انہوں نے اسے رد کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک ظلم کے ساتھ سمجھوتہ وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر اصولی شکست کا سبب بنتا ہے۔
اسی طرح امام حسین علیہ السلام کا قیام اسلامی سیاسی فکر میں ایک فیصلہ کن مثال ہے۔ کربلا کا واقعہ اس بات کا عملی اظہار ہے کہ جب حق اور باطل کے درمیان واضح تضاد ہو جائے تو محض مصلحت، مفاد یا بقا کی بنیاد پر فیصلہ کرنا قابلِ قبول نہیں رہتا۔ انہوں نے ایک ایسے نظام کے خلاف قیام کیا جو بظاہر مستحکم اور طاقتور تھا، مگر اخلاقی اور دینی اعتبار سے باطل پر قائم تھا۔ اس عمل نے یہ اصول قائم کیا کہ بعض مواقع پر حق کی حفاظت کے لیے ظاہری نقصان یا قربانی کو قبول کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ شیعہ سیاسی فکر میں عملی حکمت اور تدبیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ تاریخ میں ہمیں ایسے ادوار بھی ملتے ہیں جہاں رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہؑ نے براہِ راست قیام کے بجائے صبر، تقیہ اور حکمتِ عملی کو اختیار کیا، رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں ہمیں دونوں ڈائنامکس—یعنی اصولی موقف اور وقتی حکمتِ عملی—واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ مکی دور میں جب مسلمان کمزور تھے تو آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھلی مسلح مزاحمت کے بجائے صبر، حکمت اور محدود دائرے میں دعوت کا راستہ اختیار کیا۔ صلح حدیبیہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات سے ظاہر ہے۔ بعض مواقع پر ایمان کو چھپانے کی اجازت بھی دی گئی، جیسا کہ ابتدائی مسلمانوں نے شدید ظلم کے تحت کیا۔ یہ ایک طرح کی حفاظتی حکمتِ عملی تھی، جسے بعد میں “تقیہ” کے اصول سے تعبیر کیا گیا۔ لیکن اسی رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ریاست قائم ہونے کے بعد بدر و احد جیسے معرکوں میں کھل کر حق کا دفاع کیا اور کسی مصلحت کو اصول پر غالب نہیں آنے دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی قیادت حالات کے مطابق کبھی احتیاط اور کبھی اقدام کا راستہ اختیار کرتی ہے، مگر مقصد ہمیشہ حق کا قیام ہی رہتا ہے۔
امام علی علیہ السلام کی زندگی اس توازن کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلافت کے مسئلے پر انہوں نے اپنے حق کے باوجود فوری طور پر مسلح تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق یہ خاموشی یا عدمِ قیام محض تقیہ نہیں بلکہ امت کے انتشار کو روکنے اور نوخیز اسلامی معاشرے کو خانہ جنگی سے بچانے کی حکمت تھی۔ لیکن جب ان کے اپنے دورِ خلافت میں عدل کے اصول کو چیلنج کیا گیا تو انہوں نے جمل، صفین اور نہروان جیسے معرکوں میں کھل کر مقابلہ کیا۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تقیہ یا حکمت وقتی ہو سکتی ہے، مگر اصولی موقف مستقل رہتا ہے۔
امام حسن علیہ السلام کا صلح کرنا اسی اصول کی ایک مثال ہے، جہاں انہوں نے ایک ایسے معاہدے کو قبول کیا جو بظاہر کمزور نظر آتا تھا، مگر اس کا مقصد امت کو مزید خونریزی سے بچانا اور حق کے پیغام کو محفوظ رکھنا تھا۔ یہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں ہر موقع پر ایک ہی طرزِ عمل لازم نہیں، بلکہ حالات کے مطابق حکمت عملی بدل سکتی ہے، مگر بنیادی اصول—یعنی حق اور عدل—قائم رہتے ہیں۔
امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی زندگی میں ہمیں ایک اور زاویہ ملتا ہے۔ عباسی خلیفہ “مامون” نے انہیں ولی عہد مقرر کیا، جسے بظاہر اقتدار میں شمولیت سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن امامؑ نے اسے اپنی شرائط کے ساتھ قبول کیا اور عملی حکومت میں براہِ راست مداخلت سے گریز کیا۔ یہ اقدام نہ تو اقتدار کی خواہش تھی اور نہ ہی محض تقیہ، بلکہ ایک حکمت عملی تھی جس کے ذریعے انہوں نے اہلِ بیتؑ کے موقف کو وسیع سطح پر متعارف کرایا اور عباسی خلافت کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔
ان تمام مثالوں سے ایک جامع اصول سامنے آتا ہے: شیعہ سیاسی فکر میں دو متوازی ڈائنامکس ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایک طرف حق، عدل اور اصول پر غیر متزلزل استقامت، اور دوسری طرف حالات کے مطابق حکمت، صبر اور بعض اوقات تقیہ۔ ان دونوں میں بظاہر تضاد نظر آ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ہی مقصد کے دو پہلو ہیں—یعنی دین کی حفاظت اور حق کا قیام۔
لہٰذا تقیہ کو صرف خوف یا کمزوری کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اور اصولی حکمتِ عملی کے طور پر سمجھنا چاہیے، جو اس وقت اختیار کی جاتی ہے جب کھلا اقدام دین یا اہلِ حق کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو۔ اور جب وقت تقاضا کرے تو یہی مکتب تقیہ کو ترک کر کے قربانی اور قیام کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہی توازن شیعہ سیاسی فکر کی اصل روح ہے۔
اسی تناظر میں اگر ہم مفاد (national interest) کے تصور کو دیکھیں تو اسلام اسے مکمل طور پر رد نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک محدود دائرے میں قبول کرتا ہے۔ یعنی مفاد اسی وقت معتبر ہے جب وہ حق، عدل اور اخلاقیات کے خلاف نہ جائے۔ اگر مفاد اور حق میں ٹکراؤ ہو جائے تو شیعہ تعلیمات کے مطابق حق کو ترجیح دی جائے گی، چاہے اس کے لیے وقتی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ شیعہ سیاسی فکر نہ تو خالص Realism کی طرح صرف مفاد اور طاقت کو معیار بناتی ہے، اور نہ ہی ایسی سادہ آئیڈیالزم پیش کرتی ہے جو زمینی حقائق سے بالکل کٹی ہوئی ہو۔ بلکہ یہ ایک ایسا متوازن نظام پیش کرتی ہے جہاں اصول اور مصلحت دونوں موجود ہیں، مگر مصلحت ہمیشہ اصول کے تابع رہتی ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔
نتیجتاً، اسلام خصوصاً شیعہ مکتبِ فکر میں فیصلہ سازی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اخلاقیات، دین اور “حق و باطل” کو بنیاد بنایا جائے، جبکہ مفاد اور حکمت عملی کو اسی دائرے کے اندر رکھتے ہوئے استعمال کیا جائے۔ جب تک مفاد حق کے تابع ہے، وہ قابلِ قبول ہے؛ لیکن جب مفاد حق پر غالب آ جائے، تو وہ باطل کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ یہی وہ اصولی فرق ہے جو اسلامی سیاسی فکر کو محض طاقت کی سیاست سے ممتاز کرتا ہے اور اسے ایک اخلاقی و الٰہی نظام کے طور پر پیش کرتا ہے۔
