بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
تقیہ کو اگر محض “ڈر کر خاموش ہو جانے” کے مترادف سمجھ لیا جائے تو اس کی اصل روح ضائع ہو جاتی ہے۔ شیعہ فقہ اور سیرتِ اہلِ بیتؑ میں تقیہ ایک حکمتِ عملی (strategic restraint) ہے، نہ کہ مستقل رویہ۔ اس کی جڑ یہ ہے کہ دین، جانِ مومن، اور حق کے تسلسل کو ایسے حالات میں محفوظ رکھا جائے جہاں کھلا اظہار الٹا بڑے نقصان کا باعث بن جائے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک اصولی حقیقت ہے کہ تقیہ کی اپنی واضح حدود اور شرائط ہیں؛ یہ ہر حالت میں جائز یا مطلوب نہیں۔
سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ حقیقی خطرہ موجود ہو—یعنی جان، مال، عزت یا پورے دینی نظام کو سنجیدہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اگر خطرہ محض وہم یا معمولی دباؤ ہو تو تقیہ کا سہارا لینا درست نہیں۔ اسی لیے ائمہؑ نے تقیہ کو “حفاظتی تدبیر” کہا، نہ کہ معمول کی پالیسی۔
دوسری اہم شرط یہ ہے کہ تقیہ سے حق کی جڑ نہ کٹ رہی ہو۔ اگر کسی موقع پر خاموشی یا ظاہری موافقت اس حد تک چلی جائے کہ باطل کو تقویت ملے اور حق کا وجود ہی مٹنے لگے، تو پھر تقیہ جائز نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں تقیہ کو ترک کیا، کیونکہ وہاں خاموشی دین کی بنیاد کو ختم کر دیتی۔
تیسری شرط یہ ہے کہ تقیہ وقتی اور محدود ہو، دائمی نہ بن جائے۔ اگر کوئی فرد یا معاشرہ ہمیشہ کے لیے تقیہ کو اپنی پالیسی بنا لے تو وہ درحقیقت حق کے قیام کی ذمہ داری سے فرار اختیار کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہمیں امام علی علیہ السلم کی زندگی میں نظر آتا ہے کہ انہوں نے ایک خاص مرحلے پر صبر اور خاموشی اختیار کی، مگر جب حق کے نفاذ کا موقع آیا تو کھل کر قیام کیا۔
چوتھی شرط یہ ہے کہ نیت دین کی حفاظت ہو، نہ کہ ذاتی مفاد۔ اگر تقیہ کو اپنی پوزیشن، طاقت یا دنیاوی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ تقیہ نہیں بلکہ نفاق یا مصلحت پرستی بن جاتا ہے۔ اہلِ بیتؑ کی سیرت میں تقیہ ہمیشہ دین اور امت کی حفاظت کے لیے تھا، نہ کہ اقتدار یا ذاتی مفاد کے لیے۔
پانچویں شرط یہ ہے کہ متبادل راستہ نہ ہو۔ اگر کوئی ایسا راستہ موجود ہو جس کے ذریعے حق کو بھی محفوظ رکھا جا سکے اور نقصان سے بھی بچا جا سکے، تو تقیہ آخری آپشن کے طور پر ہی اختیار کیا جائے گا۔
اب جہاں تک عوام کے انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کا تعلق ہے، یہ ایک مستقل سماجی مسئلہ ہے۔ عام طور پر معاشرے دو انتہاؤں میں بٹ جاتے ہیں: ایک وہ جو ہر حال میں “مصلحت” کے نام پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، اور دوسرے وہ جو ہر حال میں ٹکراؤ کو ہی دین کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اہلِ بیتؑ کی سیرت ان دونوں انتہاؤں کی نفی کرتی ہے۔
انتہا پسند ذہن یا تو ہر جگہ کربلا دیکھتا ہے اور ہر وقت قیام کو لازم سمجھتا ہے، یا ہر جگہ تقیہ کا جواز نکال کر مکمل جمود اختیار کر لیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کربلا بھی دین ہے اور صلحِ حسنؑ بھی دین ہے؛ خاموشی بھی دین ہو سکتی ہے اور قیام بھی—مگر ہر ایک اپنے مخصوص موقع اور شرط کے ساتھ۔
اسی لیے حقیقی بصیرت یہ ہے کہ انسان حالات کو پہچانے، خطرے کی نوعیت کو سمجھے، اور یہ فیصلہ کرے کہ اس لمحے دین کی حفاظت کس راستے میں ہے: خاموشی میں یا قیام میں۔ تقیہ اسی بصیرت کا نام ہے، نہ کہ کمزوری کا، اور نہ ہی مستقل حکمتِ عملی کا۔ یہ ایک نازک توازن ہے جو صرف وہی قائم رکھ سکتا ہے جو نہ جذباتی انتہا پسندی کا شکار ہو اور نہ مصلحت پرستی کے جال میں پھنس جائے۔
انتہا پسند ذہنوں کی توجہ کیلئے ایران کی اسلامی حکومت کی بعض تقیہ پر مبنی فیصلوں کی مثالیں ایسی ہیں جس سے یہ ذہن کافی افاقہ حاصل کرسکتےہیں جو عمومی بصیرت کیلئے بھی ضروری ہے۔ ریاستی سطح پر تقیہ جیسی نوعیت کے رویّوں کو زیادہ تر “حکمتِ عملی”، “مصلحت” یا “نرم لچک” (tactical flexibility) کے نام سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بعض مواقع ایسے ہیں جہاں انقلاب کے بعد ایران کی قیادت، خصوصاً رہبر معظم علی خامنہ ای کے بیانات اور پالیسیوں میں وہی روح کارفرما نظر آتی ہے جو شیعہ فقہ میں تقیہ کے طور پر سمجھی جاتی ہے—یعنی بڑے ضرر سے بچاؤ کے لیے وقتی احتیاط، اظہار میں کمی یا عملی لچک، جبکہ اصولی موقف برقرار رہے۔
جوہری مذاکرات کے مرحلے میں جسے بعد میں Joint Comprehensive Plan of Action کی صورت ملی، وہاں سپریم لیڈر نے ایک اصطلاح استعمال کی جو ایرانی سیاسی لغت میں بہت اہم ہو گئی: “نرم بہادری” یا “heroic flexibility”۔ اس تصور کے تحت انہوں نے مذاکرات کی اجازت دی، بعض عارضی پابندیوں اور شفافیت کے اقدامات کو قبول کرنے کی راہ ہموار کی، جبکہ ساتھ ہی یہ واضح رکھا کہ بنیادی حق—یعنی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی—سے دستبرداری نہیں ہوگی۔ داخلی سطح پر ایک مضبوط جذباتی فضا موجود تھی جو کسی بھی سمجھوتے کو پسپائی سمجھ سکتی تھی، مگر قیادت نے اس لچک کو ایک حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا۔ یہ وہی منطق ہے جو تقیہ میں پائی جاتی ہے: اظہار اور طریقِ کار میں نرمی، مگر اصول میں ثبات۔
اسی طرح بعض حساس سکیورٹی واقعات کے بعد ردِ عمل کی نوعیت میں بھی یہی عنصر نظر آتا ہے۔ شدید عوامی غم و غصہ کے باوجود فوری اور ہمہ گیر جنگی ردِ عمل کے بجائے مرحلہ وار اور محدود اقدامات کیے گئے۔ سپریم لیڈر کے بیانات میں بارہا یہ تاکید ملتی ہے کہ ردِ عمل “حساب شدہ” اور “موزوں وقت” پر ہونا چاہیے تاکہ دشمن کو غیر ضروری فائدہ نہ ملے اور داخلی و علاقائی سطح پر بڑے پیمانے کی جنگ سے بچا جا سکے۔ اس طرزِ فکر میں وہی اصول کارفرما ہے کہ ایسا اقدام نہ کیا جائے جو اصل مقصد—یعنی نظام اور معاشرے کی بقا—کو خطرے میں ڈال دے، چاہے وقتی طور پر جذباتی تقاضا کچھ اور ہو۔
علاقائی پالیسی میں بھی، جہاں ایران مختلف محاذوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے، سپریم لیڈر نے براہِ راست اور کھلی جنگ کے بجائے غیر مستقیم طریقوں، تدریجی پیش رفت اور محدود انکشاف (controlled exposure) کی حکمتِ عملی کو قبول کیا۔ اس میں ایک طرف اصولی مؤقف—فلسطین یا دیگر مظلوم گروہوں کی حمایت—برقرار رہتا ہے، اور دوسری طرف ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے جو مکمل تصادم سے بچائے رکھے۔ یہ رویہ بظاہر جذباتی مزاحمتی بیانیے سے مختلف لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے وہی اصول ہے کہ بڑے ضرر سے بچتے ہوئے حق کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے۔
اسی طرح داخلی و خارجی بیانیے میں بعض اوقات شدتِ اظہار کو کم کرنا، سفارتی چینلز کو کھلا رکھنا، یا ایسے الفاظ و اقدامات سے گریز کرنا جو فوری تصادم کو جنم دیں، بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔ سپریم لیڈر نے متعدد مواقع پر اس بات پر زور دیا کہ دشمن کو غیر ضروری بہانہ فراہم نہ کیا جائے اور ایسے اقدامات سے پرہیز کیا جائے جو قوم کو ایسے مرحلے میں دھکیل دیں جہاں نقصان کا دائرہ قابو سے باہر ہو جائے۔
ان تمام مثالوں میں ایک مشترک نکتہ یہ ہے کہ اصولی موقف—یعنی خود مختاری، مزاحمت اور بنیادی حقوق—کو ترک نہیں کیا گیا، مگر ان کے حصول کے طریقِ کار میں ایسی لچک اختیار کی گئی جو وقتی طور پر خاموشی، تاخیر یا محدود اظہار کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شیعہ فقہ کے تقیہ اور جدید ریاستی حکمتِ عملی کے درمیان ایک معنوی تقابل قائم کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ سپریم لیڈر کی منظوری سے اختیار کی جانے والی یہ پالیسیاں تقیہ کی کلاسیکی تعریف کا براہِ راست اطلاق نہیں تو کم از کم اس کی روح کے مطابق ضرور ہیں: یعنی حق کو محفوظ رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے اجتناب جو غیر ضروری طور پر بڑے اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنیں، اور جذباتی ردِ عمل کے بجائے طویل المدت بقا اور مؤثر مزاحمت کو ترجیح دی جائے۔
