بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
کرپٹو اور فاریکس ٹریڈنگ کو “جوا”(Gambling) کہنا ایک جذباتی یا سطحی الزام نہیں، بلکہ ایک فقہی و معاشی تشخیص ہے جو اس وقت سامنے آتی ہے جب ان سرگرمیوں کی عملی صورت کو قاعدہ قمار(Gambling Rules) کے معیار پر پرکھا جائے۔ قمار کا مفہوم صرف روایتی جوا کھیلنے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ معاملہ اس کے دائرے میں آتا ہے جہاں نفع و نقصان کا دارومدار حقیقی قدر کے تبادلے کے بجائے محض احتمال، قیاس (Probability, Conjecture )اور دوسرے کی ہار پر اپنی جیت پر ہو۔
کرپٹو اور فاریکس کی عام رائج ٹریڈنگ میں یہی کیفیت نمایاں نظر آتی ہے۔ بظاہر اسے “ٹریڈنگ” کہا جاتا ہے، مگر اکثر افراد کسی حقیقی اثاثے کی خرید و فروخت نہیں کر رہے ہوتے بلکہ قیمت کے اتار چڑھاؤ پر شرط لگا رہے ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص یہ اندازہ لگا کر خریدتا ہے کہ قیمت بڑھے گی اور دوسرا یہ سمجھ کر بیچتا ہے کہ قیمت گرے گی، تو دونوں میں سے ایک کا فائدہ دوسرے کے نقصان سے جڑا ہوتا ہے۔ یہاں کوئی نئی قدر تخلیق نہیں ہو رہی، نہ کوئی حقیقی خدمت یا پیداوار سامنے آ رہی ہے، بلکہ صرف قیمت کی حرکت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو اسے قمار (Gambling) کے قریب لے آتا ہے۔
اس میں مزید شدت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ٹریڈنگ شارٹ ٹرم، ہائی فریکوئنسی اور جذباتی فیصلوں پر مبنی ہو جاتی ہے۔ کرپٹو مارکیٹ میں میم کوائنز، اچانک پمپ اور ڈمپ، اور سوشل میڈیا کے زیرِ اثر فیصلے اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں اکثر قیمت کا تعلق حقیقی بنیادوں سے نہیں بلکہ اجتماعی نفسیات سے ہوتا ہے۔ فاریکس میں بھی عام ٹریڈر عالمی مالیاتی اداروں، مرکزی بینکوں اور بڑے سرمایہ کاروں کے مقابلے میں نہایت کمزور پوزیشن میں ہوتا ہے، اور اس کی ٹریڈنگ اکثر اندازوں اور اشاروں پر مبنی ہوتی ہے۔ جب فیصلہ علم کے بجائے قیاس پر ہو، اور نتیجہ کسی مستحکم بنیاد کے بجائے محض امکان پر، تو یہ معاملہ تجارت سے زیادہ کھیل بن جاتا ہے۔
فقہی اعتبار سے یہ معاملہ قاعدہ غرر سے بھی جڑ جاتا ہے، کیونکہ اس میں غیر یقینی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مگر قمار کا پہلو اس سے بھی آگے ہے، کیونکہ یہاں صرف غیر یقینی نہیں بلکہ “دوسرے کے نقصان پر اپنی جیت” کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ یہ زیرو سم (zero-sum) نوعیت ہے، جہاں مجموعی طور پر کوئی نئی قدر پیدا نہیں ہوتی، بلکہ دولت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان مارکیٹس میں اکثر لیوریج استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر فاریکس میں، جہاں انسان اپنی اصل رقم سے کئی گنا بڑی پوزیشن لیتا ہے۔ اس صورت میں نقصان بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور ٹریڈنگ ایک شدید خطرناک کھیل میں بدل جاتی ہے۔ یہاں انسان کا رویہ ایک سرمایہ کار کے بجائے ایک جواری جیسا ہو جاتا ہے جو کم وقت میں زیادہ جیتنے کی امید میں بڑا رسک لیتا ہے۔ یہی نفسیات قمار کی اصل روح ہے۔
اس کے برعکس اگر کسی معاملے میں حقیقی خرید و فروخت ہو، ملکیت منتقل ہو، اور مقصد طویل مدتی قدر کا حصول ہو، تو وہ تجارت کے قریب ہوتا ہے، نہ کہ قمار کے۔ لیکن عملی طور پر کرپٹو اور فاریکس کی بڑی اکثریت اس معیار پر پوری نہیں اترتی، کیونکہ زیادہ تر لوگ ان میں “قدر پیدا کرنے” نہیں بلکہ “قیمت کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے” کے لیے داخل ہوتے ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر سے مسئلہ صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہے۔ قمار انسان میں حرص، جلد بازی، اور غیر حقیقی امیدیں پیدا کرتا ہے، جبکہ محنت، تدریج اور ذمہ داری کے اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے قمار کو صرف ایک معاشی خرابی نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیماری کے طور پر پیش کیا ہے جو انسان کو اس کی اصل فطرت سے دور کر دیتی ہے۔
چنانچہ کرپٹو اور فاریکس کو جوا اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کی غالب عملی صورت میں وہ تمام عناصر موجود ہوتے ہیں جو قمار کی تعریف میں آتے ہیں: غیر یقینی پر مبنی فیصلہ، دوسرے کے نقصان پر اپنی جیت، حقیقی قدر کی عدم تخلیق، اور تیز رفتار رسک لینے کی نفسیات۔ اگرچہ ہر ممکن صورت لازماً ایسی نہیں، مگر جو شکل عام طور پر رائج ہے، وہ تجارت سے زیادہ کھیل اور محنت سے زیادہ قیاس کے قریب دکھائی دیتی ہے، اور یہی اسے فقہی لحاظ سے مشکوک بلکہ بعض صورتوں میں ممنوع بنا دیتی ہے۔
یہ بات بھی جزوی طور پر درست ہے کہ بڑے مالی ادارے اور سرمایہ دار “جائنٹس” مارکیٹ کی سمت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ ہر حرکت کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرتے۔ اصل تصویر زیادہ پیچیدہ ہے: اثر، رفتار اور بیانیہ مل کر قیمتوں میں وہ اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں جو عام آدمی کو غیر فطری محسوس ہوتا ہے۔
سب سے پہلے طاقت کا مسئلہ آتا ہے۔ بڑے بینک، ہیج فنڈز اور بڑے سرمایہ کار اس قدر بڑے آرڈرز رکھتے ہیں کہ جب وہ خرید یا فروخت کرتے ہیں تو مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ قیمت اوپر یا نیچے حرکت کرتی ہے، اور یہ حرکت پھر دوسرے شرکاء کو متحرک کرتی ہے۔ اس کے بعد ایک چین ری ایکشن شروع ہوتا ہے جس میں چھوٹے ٹریڈرز، الگورتھمز اور خودکار سسٹمز شامل ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک ابتدائی حرکت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور بظاہر “مصنوعی جھٹکا” نظر آتا ہے، حالانکہ اس کی بنیاد حقیقی آرڈر فلو میں ہوتی ہے مگر اس کی شدت بڑھا دی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ایک اہم پہلو “لیکویڈیٹی کی تلاش” ہے۔ بڑے کھلاڑی جانتے ہیں کہ عام ٹریڈرز اپنے اسٹاپ لاس اور آرڈرز کہاں رکھتے ہیں۔ وہ قیمت کو ان سطحوں تک لے جاتے ہیں جہاں بڑی مقدار میں آرڈرز جمع ہوتے ہیں، جس سے اچانک تیز حرکت پیدا ہوتی ہے۔ یہ حرکت بظاہر غیر فطری لگتی ہے کیونکہ یہ کسی واضح خبر یا بنیادی وجہ کے بغیر ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ مارکیٹ کے اندر موجود آرڈرز کو “کھولنے” کا عمل ہوتا ہے۔ یہاں طاقتور کھلاڑی اس فطری ڈھانچے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اب اس میں میڈیا اور بیانیے کا کردار شامل ہو جاتا ہے، جو اس پورے عمل کو کئی گنا مؤثر بنا دیتا ہے۔ مالیاتی خبریں، تجزیے، سوشل میڈیا ٹرینڈز اور انفلوئنسرز اکثر وہ ماحول بناتے ہیں جس میں لوگ فیصلے کرتے ہیں۔ بڑے ادارے براہِ راست ہر خبر کو کنٹرول نہیں کرتے، لیکن وہ اس ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے مفاد کے مطابق بیانیہ کو تقویت دیتے ہیں۔ جب کوئی مثبت خبر آتی ہے تو میڈیا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، لوگ خریداری کی طرف مائل ہوتے ہیں، اور قیمت مزید اوپر جاتی ہے۔ اسی طرح منفی خبریں خوف پیدا کرتی ہیں اور فروخت کا دباؤ بڑھاتی ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں یہ عمل اور زیادہ واضح ہوتا ہے کیونکہ وہاں ریگولیشن کم ہے اور معلومات کی تصدیق کا نظام کمزور ہے۔ چند بڑے ہولڈرز یا “وہیلز” اپنی پوزیشنز کے ساتھ ساتھ بیانیہ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ وہ پہلے خاموشی سے خریداری کرتے ہیں، پھر مثبت ماحول بننے دیا جاتا ہے یا اسے تقویت دی جاتی ہے، لوگ داخل ہوتے ہیں، اور بعد میں وہی بڑے کھلاڑی فروخت کر کے قیمت گرا دیتے ہیں۔ اس پورے عمل میں میڈیا یا سوشل پلیٹ فارمز ایک amplifier کا کام کرتے ہیں، یعنی وہ حرکت کو بڑھاتے ہیں، نہ کہ ہمیشہ اس کی ابتدا کرتے ہیں۔
فاریکس میں معاملہ قدرے مختلف مگر اصولی طور پر ملتا جلتا ہے۔ یہاں مرکزی بینکوں کے بیانات، معاشی رپورٹس اور عالمی سیاست خبروں کی شکل میں سامنے آتی ہیں۔ بڑے ادارے ان خبروں سے پہلے اپنی پوزیشنز بنا لیتے ہیں اور خبر کے بعد پیدا ہونے والی ہلچل سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عام ٹریڈر خبر دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، جبکہ بڑے کھلاڑی پہلے سے تیار ہوتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ سے قیمت کی حرکت عام آدمی کے لیے غیر متوقع اور غیر فطری محسوس ہوتی ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ فطری اور غیر فطری کی حد یہاں مکمل طور پر الگ نہیں ہوتی۔ مارکیٹ میں طلب و رسد، معاشی ڈیٹا اور حقیقی سرمایہ کی حرکت ایک فطری بنیاد فراہم کرتے ہیں، مگر بڑے کھلاڑی اپنی طاقت، رفتار اور معلومات کے ذریعے ان بنیادوں کو اپنے حق میں موڑ دیتے ہیں۔ میڈیا اور بیانیہ اس عمل کو تیز کرتے ہیں، جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور ہجوم کو ایک سمت میں لے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قیمت کی حرکت اپنی اصل بنیاد سے زیادہ تیز، زیادہ شدید اور بعض اوقات وقتی طور پر مسخ ہو جاتی ہے۔
اسی لیے عام آدمی کو یہ سب ایک “منصوبہ بند کھیل” محسوس ہوتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ طاقت، نفسیات، معلومات اور سرمایہ کے امتزاج کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس امتزاج میں طاقتور کو برتری حاصل ہوتی ہے، اور یہی عدم توازن اس مارکیٹ کو عام تجارت کے بجائے ایک خطرناک اور غیر متوازن میدان بنا دیتا ہے، جہاں فطری اصول موجود تو ہوتے ہیں مگر ان پر غالب آ جانے والی قوتیں بھی مسلسل سرگرم رہتی ہیں۔
اس طرح کے مالیاتی ڈھانچے کو شیعہ فقہ میں کسی ایک سادہ عنوان کے تحت مکمل طور پر تو بند نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے ایک “مرکب معاملہ” سمجھا جاتا ہے جس میں مختلف فقہی عناوین بیک وقت یا مرحلہ وار جمع ہو سکتے ہیں۔ یعنی یہ بذاتِ خود کوئی مستقل اصطلاح نہیں، بلکہ اس کی عملی صورت کے مطابق اس پر مختلف قواعد لاگو ہوتے ہیں۔
سب سے نمایاں عنوان یہاں قاعدہ غرر کا بنتا ہے، کیونکہ اس طرح کے نظام میں غیر یقینی صرف معمولی درجے کی نہیں بلکہ ساختی نوعیت (Structural Nature) کی ہو جاتی ہے۔ عام شریک کو نہ قیمت کے حقیقی اسباب کا ادراک ہوتا ہے، نہ اس کے پاس وہ معلومات یا وسائل ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر وہ معقول اندازہ قائم کر سکے۔ جب معاملہ اس حد تک ابہام اور عدمِ توازن کا شکار ہو جائے کہ ایک فریق نسبتاً اندھیرے میں اور دوسرا واضح برتری کے ساتھ کھیل رہا ہو، تو یہ غررِ فاحش (Gross Deception)کے قریب ہو جاتا ہے، جو فقہی طور پر قابلِ اشکال بلکہ ممنوع کی حد تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی کے ساتھ یہ نظام اکثر صورتوں میں قاعدہ قمار کے دائرے سے بھی قریب ہو جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب نفع و نقصان کا دارومدار حقیقی قدر کی تخلیق کے بجائے قیمت کے اتار چڑھاؤ پر ہو، اور ایک فریق کی جیت دوسرے کے نقصان سے مشروط ہو، تو یہ معاملہ تجارت کے بجائے مقابلہ اور بازی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ خاص طور پر جب رفتار، قیاس اور وقتی فیصلے غالب ہوں تو یہ کیفیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔
تیسرا اہم پہلو اکل مال بالباطل(Consuming Wealth Unjustly) کا ہے۔ اگر اس نظام میں قیمتوں کو اس طرح موڑا جائے کہ ایک فریق کو غیر متناسب فائدہ اور دوسرے کو غیر منصفانہ نقصان ہو، یا معلوماتی برتری کو اس انداز میں استعمال کیا جائے کہ عام شریک عملاً استحصال کا شکار ہو، تو یہ مال کے باطل طریقے سے حاصل ہونے کے قریب آ جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ صرف نقصان کا نہیں بلکہ عدمِ عدل اور غیر متوازن کھیل کا ہے۔
اسی تسلسل میں تدلیس و غش (Deception And Fraud) کا عنوان بھی بعض صورتوں میں لاگو ہو سکتا ہے، خصوصاً جب بیانیہ، معلومات یا ماحول اس طرح ترتیب دیا جائے کہ حقیقت مسخ ہو جائے اور لوگ غلط فہمی کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ اگرچہ ہر صورت میں یہ ثابت نہیں ہوتا، مگر جہاں ایسا ہو وہاں معاملہ واضح طور پر ناجائز کے قریب ہو جاتا ہے۔
مزید برآں قاعدہ لاضرر(The Rule Of “No Harm”) بھی اس پر سایہ انداز ہوتا ہے، کیونکہ جب ایک نظام اپنی ساخت میں ایسے خطرات اور نقصانات پیدا کرے جو عام افراد کے لیے شدید مالی یا نفسیاتی ضرر کا باعث بنیں، تو فقہ اس کو نظرانداز نہیں کرتی۔ اگر ضرر غیر معمولی اور غیر متناسب ہو تو یہ ممانعت کی طرف لے جاتا ہے۔
ان تمام عناوین کو جمع کر کے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسا نظام فقہ کی نظر میں “معاملاتِ مشتبہہ”(Suspicious Factors) یا “معاملاتِ مرکبہ”(Mixed Affairs) کے زمرے میں آتا ہے، جہاں ایک ہی سرگرمی میں بیک وقت غرر، قمار، ضرر اور کبھی اکلِ مال بالباطل جیسے پہلو جمع ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ سادہ تجارت کہا جا سکتا ہے اور نہ ایک ہی حکم میں مکمل طور پر سمیٹا جا سکتا ہے۔
لہذا اس نوعیت کا مالیاتی نظام شیعہ فقہ میں ایک پیچیدہ اور کثیر الجہتی معاملہ سمجھا جاتا ہے، جس کی ہر صورت کو الگ الگ پرکھنا ضروری ہے۔ مگر اس کی غالب عملی شکل چونکہ شدید عدمِ توازن، غیر یقینی اور مقابلہ بازی پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے یہ اکثر مذکورہ فقہی عناوین کے دائرے میں آ کر کم از کم شدید احتیاط، اور بعض صورتوں میں صریح ممانعت کا تقاضا کرتی ہے۔
البتہ موجودہ عصرِ اضطرار و انتظار ایک ایسا دور ہے جس میں مومن ایک غیرالٰہی عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنی ایمان، نیت اور عمل کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس زمانے میں اصل ذمہ داری یہ ہے کہ انسان اضطرار کی حد میں رہتے ہوئے حرام سے اجتناب کرے اور نیت کو خالص رکھے، جیسا کہ قرآن نے مجبوری کی حالت میں گناہ نہ ہونے کا اصول بیان کیا ہے: “فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ”( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مُردار نہ کھاؤ، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کر ے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے )(البقرہ 173)۔ مومن کے لیے معیارِ نجات ظاہری کمال نہیں بلکہ ایمان کی سلامتی، نیت کی صداقت اور تقویٰ کی حفاظت ہے۔ روایت کے مطابق پاکیزہ رزق کی تلاش عبادت کے قریب ہے اور حلال کی جستجو ایک دینی ذمہ داری ہے (مفہومِ روایاتِ کتبِ حدیث)۔ اس دور میں سیاست، معیشت، تعلیم اور ثقافت سب میں اضطرار موجود ہے، مگر مومن کا فرض ہے کہ وہ باطل نظام میں رہتے ہوئے بھی دل سے اس کی مشروعیت کو تسلیم نہ کرے اور حق کے اصولوں پر قائم رہے اور باطل سے استفادہ شدید مجبوری میں بس جان بچانے کی حد تک ہو نہ کہ اس کے ذریعے ۔ امام علیؑ کے کلمات کے مطابق حق کے لیے ثابت قدمی اور عدل کی حفاظت مومن کا شعار ہے (نہج البلاغہ)۔ اسی طرح انتظار ظہورِ قائم عج کا مفہوم محض ظاہری حالات کی تبدیلی نہیں بلکہ ایمان اور شعور کے ساتھ حق پر استقامت ہے۔ نتیجتاً مومن کی کامیابی کامل دنیا میں نہیں بلکہ کامل ایمان، نیت کی پاکیزگی اور اللہ کی طرف مسلسل رجوع میں ہے، جو ظہورِ عدل کے لیے حقیقی تیاری ہے۔ اس زمانے میں “perfect life” یا “perfect family” کا خواب دراصل “دنیا کو آخرت کا قائم مقام” سمجھنے کی ایک نادان کوشش ہے۔
سورۃ النحل میں ہے:
“فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” (النحل: 115)
پس جو شخص مجبور ہو جائے، بشرطیکہ نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ ہی حد سے بڑھنے والا، تو یقیناً اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
ان آیات میں کلیدی قیدیں دو ہیں۔ پہلی یہ کہ حرام چیز اضطرار کی حالت میں صرف جان بچانے کے لیے استعمال ہو، خواہشِ نفس یا لذت کے لیے نہیں۔ دوسری یہ کہ مقدار میں ضرورت سے تجاوز نہ کیا جائے، یعنی صرف اتنا استعمال کیا جائے جتنی مقدار سے زندگی بچ جائے یا مشکل ٹل جائے۔
اہل بیت علیہم السلام کی روایات اس قرآنی اصول کو مزید واضح کرتی ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 79 میں فرمایا:
“اے لوگو! امیدوں کو کم کرنا، نعمتوں پر شکر ادا کرنا، اور حرام چیزوں سے دامن بچانا ہی زہد و ورع ہے۔ اگر (دامن امید سمیٹنا) تمہارے لیے مشکل ہوجائے، تو یہ اتنا ہو کہ حرام تمہارے صبر و شکیب پر غالب نہ آ جائے، اور نعمتوں کے وقت شکر کرنا نہ بھولو۔ جانو، خداوندِ عالم نے روشن اور کھلی ہوئی دلیلوں سے اور حجت تمام کرنے والی واضح کتابوں کے ذریعے تمہارے لیے حیل حجت (دھوکے) کا موقع نہیں رہنے دیا۔” یہاں “حرام تمہارے صبر و شکیب پر غالب نہ آجائے”۔ یہ کلمہ بتاتا ہے کہ اگر مجبوری میں حرام اختیار کرنا بھی پڑے تو یہ عمل وقتی اور محدود ہو، ورنہ حرام کا غلبہ انسان کو ضبط، صبر اور ہدفِ الہی سے دور کر دیتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: “إِنَّمَا أُبِيحَ لِلْمُضْطَرِّ مِنَ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ مَا يُقِيمُ صُلْبَهُ وَلَا يَتَزَوَّدُ مِنْهُ” (الکافی، ج 6، ص 247)۔ یعنی مردار، خون اور خنزیر کا گوشت مضطر کے لیے صرف اتنی مقدار میں مباح ہوا ہے جس سے اس کی کمر سیدھی ہو جائے اور وہ اس سے ذخیرہ نہ کرے۔
امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے: “المضطر يأكل بقدر ما يسدّ به رمقه، ولا يتزوّد منه” (وسائل الشیعہ، ج 24، ص 215)۔ یعنی مضطر اتنی ہی مقدار کھائے جس سے اس کی جان بچ جائے اور وہ اس کو ذخیرہ نہ کرے۔
اسلامی سماجیات کے تناظر میں اس عمل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی مالی سرگرمی اس نہج پر آ جائے کہ اس میں فیصلہ سازی بنیادی طور پر غیر یقینی، قیاس اور تیز رفتار ردِ عمل پر کھڑی ہو، اور نفع کا حصول زیادہ تر دوسرے کے نقصان سے جڑا ہو، تو اس کا اثر صرف فرد کی جیب تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے میں سرایت کرنے لگتا ہے۔ سماجی علوم اس بات پر متفق ہیں کہ معیشت صرف وسائل کی تقسیم کا نظام نہیں بلکہ ایک ثقافتی و نفسیاتی میدان بھی ہے، جہاں لوگوں کے رویے، اقدار اور ترجیحات تشکیل پاتی ہیں۔ چنانچہ جب مالیاتی سرگرمیوں میں “قدر کی تخلیق” کے بجائے “قدر کی منتقلی” غالب ہو جائے تو یہ پورے معاشرے کی سمت بدل دیتی ہے۔
سب سے پہلا اثر “معاشی اخلاقیات” پر پڑتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جس میں محنت، مہارت اور تدریجی ترقی کے بجائے فوری فائدہ، شارٹ کٹ اور قسمت آزمانے کی ذہنیت کو فروغ ملتا ہے۔ یہ وہی تبدیلی ہے جسے سماجی ماہرین “speculative mindset” کہتے ہیں، جہاں فرد پیدا کرنے کے بجائے اندازہ لگانے کو زیادہ اہم سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نوجوان نسل اپنی توانائیاں حقیقی شعبوں جیسے صنعت، زراعت یا سروسز کے بجائے تیز منافع کے غیر یقینی میدانوں میں جھونک دیتی ہے، جس سے معیشت کی پیداواری بنیاد کمزور ہونے لگتی ہے۔
دوسرا اہم اثر “سماجی عدمِ مساوات” کی شدت میں اضافہ ہے۔ ایسے نظاموں میں معلومات، رفتار اور سرمائے کی برتری رکھنے والے افراد یا ادارے مسلسل فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ عام لوگ زیادہ خطرے کا شکار ہوتے ہیں۔ سماجی علوم کے مطابق جب کسی نظام میں “asymmetry of power and information” بڑھ جائے تو وہ انصاف کے بجائے استحصال کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جاتی ہے اور باقی معاشرہ مالی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ عدم توازن نہ صرف معاشی بلکہ سماجی کشیدگی کو بھی جنم دیتا ہے۔
تیسرا اثر “نفسیاتی اور رویّاتی” سطح پر ظاہر ہوتا ہے۔ جب مالی سرگرمی کھیل یا مقابلے کی شکل اختیار کر لے تو اس میں شامل افراد میں وہی نفسیات پیدا ہوتی ہے جو جوئے یا شدید رسک والے کھیلوں میں ہوتی ہے، یعنی جلد بازی، جذباتی فیصلے، اور نقصان کے بعد مزید رسک لینے کی خواہش۔ اس کیفیت کو behavioral economics میں “loss chasing” کہا جاتا ہے، جہاں انسان نقصان پورا کرنے کے لیے مزید خطرہ مول لیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مالی تباہی ہوتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور خاندانی مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
چوتھا اثر “سماجی اعتماد” (social trust) پر پڑتا ہے۔ جب لوگ یہ محسوس کرنے لگیں کہ نظام منصفانہ نہیں، بلکہ کچھ طاقتور عناصر اسے اپنے حق میں موڑ سکتے ہیں، تو ان کا مجموعی اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ اعتماد کسی بھی معاشرے کا بنیادی سرمایہ ہوتا ہے، اور جب یہ کمزور ہو جائے تو لوگ نہ صرف مالیاتی نظام سے بلکہ ایک دوسرے سے بھی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ یہ کیفیت معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے اور اجتماعی ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔
پانچواں اثر “توحیدی و اخلاقی شعور” پر پڑتا ہے، جسے سماجی علوم براہِ راست نہیں مگر بالواسطہ طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ جب انسان کی امید، خوف اور محنت کا مرکز ایک غیر یقینی کھیل بن جائے، تو اس کا اندرونی توازن متاثر ہوتا ہے۔ وہ تدریج، صبر اور ذمہ داری کے اصولوں سے دور ہو کر فوری نتیجے کی نفسیات میں جکڑ جاتا ہے۔ اس کا اثر اس کی ذاتی زندگی، تعلقات اور سماجی کردار پر بھی پڑتا ہے۔
فقہی اصولوں کی روشنی میں جب کسی مالی سرگرمی میں شدید غیر یقینی، مقابلہ بازی، اور غیر متوازن فائدہ نمایاں ہو، تو اس پر کم از کم احتیاط اور بعض صورتوں میں ممانعت کا حکم نکلتا ہے۔ اس حکم کا سماجی فائدہ یہی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کو ایک ایسے راستے سے بچاتا ہے جو بظاہر منافع بخش مگر طویل مدت میں تباہ کن ہو سکتا ہے۔ شریعت کا مقصد صرف فرد کو گناہ سے بچانا نہیں بلکہ ایک متوازن، عادلانہ اور پائیدار معاشرہ قائم کرنا بھی ہے۔
آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب مالی سرگرمی اپنی اصل یعنی قدر کی تخلیق، باہمی فائدہ اور شفاف تبادلے سے ہٹ کر محض امکان، مقابلہ اور نفسیاتی دباؤ کا کھیل بن جائے، تو اس کے اثرات لازماً فرد سے نکل کر معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ ایسے میں فقہی احتیاط محض مذہبی پابندی نہیں بلکہ ایک سماجی تحفظ بھی بن جاتی ہے، جو معاشرے کو عدم توازن، استحصال اور اخلاقی زوال سے بچانے کی کوشش کرتی ہے۔
نتیجتاً یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید مالیاتی سرگرمیوں کی یہ صورتیں صرف ایک معاشی عمل نہیں بلکہ فقہی، اخلاقی اور سماجی سطح پر گہری پیچیدگی رکھتی ہیں۔ ان میں جہاں ایک طرف حقیقی تجارت اور جائز مالی تبادلے کے امکانات موجود ہیں، وہیں دوسری طرف شدید غیر یقینی، قیاس پر مبنی فیصلہ سازی اور طاقت کے غیر متوازن استعمال جیسے عناصر بھی غالب آ جاتے ہیں۔ یہی امتزاج ان سرگرمیوں کو سادہ حلال یا حرام کے خانوں سے نکال کر ایک پیچیدہ فقہی دائرے میں لے آتا ہے۔ شریعت کا مزاج بھی یہی ہے کہ وہ ہر معاملے کو اس کی عملی صورت اور اثرات کے ساتھ دیکھتی ہے، نہ کہ صرف اس کے عنوان کے ساتھ۔ اس لیے ان میدانوں میں اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہر فرد شعور، احتیاط اور فقہی اصولوں کی روشنی میں اپنی عملی صورتوں کا جائزہ لے۔ بالآخر مقصد یہی رہتا ہے کہ معاشی سرگرمیاں انسان کو عدل، توازن اور حقیقی فلاح کے قریب لائیں، نہ کہ غیر یقینی کھیل اور سماجی عدم توازن کی طرف دھکیل دیں۔
