14

*زر کا فریب، فقہ کی کسوٹی*

  • نیوز کوڈ : 2809
  • 18 April 2026 - 0:12
*زر کا فریب، فقہ کی کسوٹی*

*زر کا فریب، فقہ کی کسوٹی*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

کرپٹو اور فاریکس ٹریڈنگ کو شیعہ فقہی زاویے سے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے محض جدید ٹیکنالوجی یا معاشی سرگرمی کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے اُن اصولی قواعد کے آئینے میں رکھیں جن پر اسلامی فقہ نے صدیوں سے مالی معاملات کی بنیاد رکھی ہے۔ جب ان جدید صورتوں کو “قاعدہ غرر”، “قاعدہ قمار” اور “قاعدہ ربا” جیسے قواعد کے تحت پرکھا جاتا ہے تو ایک گہرا اور بعض اوقات تشویشناک منظر سامنے آتا ہے۔

سب سے پہلے غرر کا پہلو لیا جائے تو اس کا تعلق اس غیر یقینی کیفیت سے ہے جو معاملے کو اندھا خطرہ بنا دیتی ہے۔ کرپٹو مارکیٹ اپنی ساخت کے اعتبار سے انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، جہاں قیمتیں کسی حقیقی پیداواری بنیاد کے بجائے زیادہ تر بیانیے، نفسیات اور قیاس آرائی پر حرکت کرتی ہیں۔ اسی طرح فاریکس میں عام فرد جو ٹریڈنگ کرتا ہے، وہ اکثر عالمی مالیاتی طاقتوں، بینکوں اور الگورتھمز کے مقابلے میں نہایت محدود علم اور وسائل کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کی شرکت ایک باخبر تجارتی فیصلہ کم اور ایک غیر یقینی مہم زیادہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سرگرمی غرر کے قریب جا کھڑی ہوتی ہے، کیونکہ انسان کو نہ قیمت کے حقیقی تعین پر اختیار ہوتا ہے اور نہ نتائج کے بارے میں معقول اطمینان۔

دوسرا اہم پہلو قمار کا ہے، جو محض جوئے کے روایتی تصور تک محدود نہیں بلکہ ہر اس معاملے کو شامل کرتا ہے جہاں نفع و نقصان کا دارومدار محض اتفاق، قیاس اور مقابلے پر ہو، نہ کہ حقیقی قدر کے تبادلے پر۔ کرپٹو میں شارٹ ٹرم ٹریڈنگ، میم کوائنز کی خرید و فروخت، اور فاریکس میں ہائی لیوریج کے ساتھ لمحاتی فیصلے اکثر اس کیفیت کو جنم دیتے ہیں جہاں ٹریڈر دراصل مارکیٹ کے خلاف “شرط” لگا رہا ہوتا ہے۔ یہاں کوئی حقیقی چیز تخلیق نہیں ہو رہی، نہ کوئی خدمت فراہم ہو رہی ہے، بلکہ صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایسی ٹریڈنگ قمار کے مفہوم کے بہت قریب پہنچ جاتی ہے، چاہے اسے جدید اصطلاحات میں سرمایہ کاری ہی کیوں نہ کہا جائے۔

تیسرا اور نہایت واضح پہلو ربا کا ہے، جو فاریکس ٹریڈنگ میں خاص طور پر نمایاں ہوتا ہے۔ اکثر فاریکس پلیٹ فارمز “لیوریج” فراہم کرتے ہیں، جو دراصل قرض ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ سواپ یا رول اوور چارجز شامل ہوتے ہیں جو سود کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہاں معاملہ زیادہ پیچیدہ نہیں رہتا، کیونکہ سود کی حرمت قطعی اور غیر مشروط ہے۔ اگر کسی ٹریڈنگ میں ربا شامل ہو جائے تو وہ فقہی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں رہتی، چاہے اس کے دیگر پہلو کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں۔

ان تینوں قواعد کو جمع کر کے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ کرپٹو اور فاریکس کی عام رائج شکلیں ایک ایسے دائرے میں گردش کرتی ہیں جہاں غرر، قمار اور ربا بیک وقت یا باری باری داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ممکن صورت حرام ہے، بلکہ یہ کہ غالب عملی صورتیں ان خرابیوں سے خالی نہیں۔ اگر کوئی صورت ایسی ہو جہاں حقیقی ملکیت ہو، سود نہ ہو، اور غیر معمولی غیر یقینی یا جوئے کی کیفیت نہ ہو، تو فقہی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، مگر یہ صورتیں عام نہیں بلکہ خاص اور محدود ہیں۔

اب اگر قرآن کے اصول کی روشنی میں “مجبوری” کا سوال اٹھایا جائے تو یہاں “قاعدہ اضطرار” سامنے آتا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب انسان ایسی حالت میں پہنچ جائے جہاں حرام سے بچنا اس کی جان، عزت یا بنیادی بقا کے لیے شدید خطرہ بن جائے، تو بقدرِ ضرورت اس سے استفادہ کی اجازت دی جاتی ہے۔ قرآن میں مردار اور خون جیسی واضح حرمتوں کے بارے میں بھی یہ گنجائش دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص اضطرار کی حالت میں ہو، نہ وہ بغاوت کا ارادہ رکھتا ہو اور نہ حد سے تجاوز کرے، تو اس پر گناہ نہیں۔

فقہی تناظر میں اضطرار کی کیفیت عام تنگی یا مالی فائدے کی خواہش کا نام نہیں۔ یہ وہ حالت ہے جہاں انسان کے پاس واقعی کوئی حلال متبادل نہ ہو، اور اس کی بنیادی زندگی، جیسے جان بچانا، شدید فاقہ سے نکلنا، یا ناگزیر ضروریات پوری کرنا، اس پر موقوف ہو۔ اس لیے یہ کہنا کہ چونکہ روزگار مشکل ہے یا منافع کم ہے اس لیے کرپٹو یا فاریکس میں داخل ہونا “مجبوری” ہے، فقہی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اضطرار ایک استثنائی کیفیت ہے، معمول کی معاشی حکمتِ عملی نہیں۔

اگر واقعی کوئی شخص ایسی حالت میں ہو جہاں اس کے پاس بقا کا کوئی راستہ نہ ہو اور وہ کسی حد تک ان ذرائع سے فائدہ اٹھاتا ہے، تو بھی اصول یہ ہے کہ وہ صرف بقدرِ ضرورت لے، اسے مستقل ذریعہ معاش نہ بنائے، اور جیسے ہی حلال متبادل میسر آئے فوراً اس سے نکل جائے۔ یعنی اضطرار اجازت تو دیتا ہے، مگر اسے معمول نہیں بناتا۔

اس پورے تجزیے کا خلاصہ یہ ہے کہ کرپٹو اور فاریکس ٹریڈنگ اپنی عام صورتوں میں فقہی طور پر ایک خطرناک حدِ فاصل پر کھڑی ہیں، جہاں تھوڑی سی بے احتیاطی انہیں غرر، قمار اور ربا کے دائرے میں داخل کر دیتی ہے۔ اضطرار کا اصول ان کے لیے ایک عمومی جواز نہیں بلکہ ایک محدود اور وقتی رعایت ہے، جو صرف حقیقی مجبوری کی صورت میں اور محدود درجے تک دی جاتی ہے۔ چنانچہ ایک صاحبِ شعور مومن کے لیے اصل راستہ یہی ہے کہ وہ ان معاملات کو محض منافع کے زاویے سے نہیں بلکہ ذمہ داری، احتیاط اور آخرت کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ دیکھے، کیونکہ ہر جدید صورت خواہ کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو، آخرکار انہی ابدی اصولوں کے تابع ہے جو صدیوں سے انسان کے مالی و اخلاقی نظام کی بنیاد رہے ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2809

ٹیگز

تبصرے