19

*انحصار کی ثقافت: کرامتِ انسان کا خاموش زوال*

  • نیوز کوڈ : 2812
  • 18 April 2026 - 2:25
*انحصار کی ثقافت: کرامتِ انسان کا خاموش زوال*

*انحصار کی ثقافت: کرامتِ انسان کا خاموش زوال*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

معاشرے کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض اوقات خیر کے نام پر ایسا نظام کھڑا کر دیا جاتا ہے جو بظاہر رحم اور ہمدردی دکھاتا ہے، مگر درحقیقت انسان کی داخلی قوتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے آج کے سماجی علوم میں dependency culture کہا جاتا ہے۔ یہ ثقافت محض غربت کو برقرار نہیں رکھتی بلکہ انسان کے اندر سے خود اعتمادی، خود انحصاری اور عزتِ نفس کی وہ بنیادیں بھی کھوکھلی کر دیتی ہے جن پر ایک باوقار زندگی قائم ہوتی ہے۔

قرآنِ مجید انسان کو محض ایک لینے والا وجود نہیں بناتا بلکہ اسے ایک فعال، ذمہ دار اور بااختیار مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سورۂ النجم میں یہ اصول دیا گیا کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ وَأَنْ لَیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ”

ترجمہ: اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ یہ آیت اس ذہنیت کی نفی کرتی ہے جو بغیر جدوجہد کے صرف لینے کو زندگی کا معمول بنا لے۔ اسی طرح سورۂ الرعد میں واضح کیا گیا کہ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے “إِنَّ اللَّهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ”

ترجمہ: بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔

یہ آیت انسان کو فعال کردار دیتی ہے۔ یہ ایک الٰہی قانون ہے جو dependency culture کی جڑ کاٹ دیتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو اپنی تقدیر کا شریکِ کار بناتا ہے، نہ کہ محض حالات کا شکار۔

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں بھی یہی روح کارفرما ہے۔ امام علی علیہ السلام نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ انسان کی عزت اس کے عمل اور اس کی خودی میں ہے، اور محتاجی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ آپؑ کے نزدیک فقر صرف مالی کمی کا نام نہیں بلکہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی داخلی قوت کھو دے اور دوسروں پر بوجھ بن جائے۔ “قِیمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا یُحْسِنُهُ” (نہج البلاغہ، حکمت 81)

ترجمہ: ہر انسان کی قدر و قیمت وہ ہے جو وہ اچھا کام انجام دیتا ہے۔

یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے عمل، ہنر اور کوشش میں ہے، نہ کہ اس کے انحصار میں۔

 “الْفَقْرُ الْمَوْتُ الْأَكْبَرُ” (نہج البلاغہ، حکمت 163)

ترجمہ: فقر (محتاجی) بڑی موت ہے۔

یہاں فقر صرف مالی کمی نہیں بلکہ وہ حالت ہے جس میں انسان اپنی خودی اور وقار کھو دیتا ہے، اور دوسروں پر انحصار اس کی شخصیت کو کمزور کر دیتا ہے۔اسی لیے آپؑ نے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی جہاں ضرورت مند کی مدد بھی ہو اور اس کی خودی بھی محفوظ رہے۔

dependency culture کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کے شعور کو بدل دیتی ہے۔ ابتدا میں مدد ضرورت کے تحت لی جاتی ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ ایک عادت بن جاتی ہے، پھر حق سمجھ لی جاتی ہے، اور آخرکار شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہاں سے ایک ایسا دائرہ شروع ہوتا ہے جہاں فرد اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بجائے آسان راستے کا عادی ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں وہ نہ صرف خود رک جاتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک منفی مثال بن جاتا ہے، اور یوں ایک پورا طبقہ محنت اور جدوجہد کے بجائے انتظار اور انحصار کی نفسیات میں ڈھل جاتا ہے۔

 امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے:

“إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ یُبْغِضُ كَثْرَةَ السُّؤَالِ” (الکافی، ج 2)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ زیادہ مانگنے (بار بار سوال کرنے) کو ناپسند کرتا ہے۔

مزید برآں ایک اور روایت میں آیا ہے:

“لَا یَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ إِلَّا لِذِی فَقْرٍ مُدْقِعٍ” (وسائل الشیعہ)

ترجمہ: سوال کرنا جائز نہیں مگر اس کے لیے جو شدید محتاج ہو۔

یہاں واضح کیا گیا کہ مستقل دست نگری اور سوال کرنا اسلام کا مطلوب رویہ نہیں، بلکہ صرف شدید مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت ہے۔

یہ روایت اس ذہنیت کی حوصلہ شکنی کرتی ہے جس میں انسان بغیر ضرورت کے دوسروں پر انحصار کو اپنا معمول بنا لیتا ہے۔

سماجی علوم بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ جب کسی معاشرے میں مسلسل بغیر حکمت کے امداد دی جاتی ہے تو وہ “سماجی سرمائے” کو کمزور کر دیتی ہے۔ انسان کا اعتماد، اس کی خودی، اور اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ایسے افراد اپنے حالات بدلنے کے بجائے ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک ثقافتی بیماری بن جاتا ہے، جس میں نئی نسلیں بھی اسی ذہنیت کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں۔

 کچھ لوگ خیرات کے ذریعے دراصل انسان کو دست نگر بنا دیتے ہیں، اس میں ایک تلخ حقیقت موجود ہے۔ جب دینے والا اپنی نیکی کو برتری کا ذریعہ بنا لے اور لینے والا اسے اپنی مستقل ضرورت سمجھنے لگے تو یہ تعلق فطری نہیں رہتا۔ یہاں ایک طرف تکبر جنم لیتا ہے اور دوسری طرف احساسِ کمتری۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسانی کرامت مجروح ہوتی ہے۔ قرآن نے بارہا انفاق کے ساتھ “عدمِ اذیت” کو شرط بنایا ہے، یعنی مدد اس انداز میں ہو کہ لینے والے کی عزت نفس محفوظ رہے، نہ کہ وہ خود کو کمتر محسوس کرے۔

لیکن dependency culture کا حل یہ نہیں کہ مدد کو ختم کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ مدد کی نوعیت بدل دی جائے۔ ایسا نظام قائم کیا جائے جو انسان کو کھڑا کرے، نہ کہ بٹھا دے؛ جو اسے ہنر دے، نہ کہ صرف پیسہ؛ جو اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کرے، نہ کہ اسے مستقل محتاج بنائے۔ اسلام کا اصل ماڈل بھی یہی ہے کہ جو واقعی عاجز ہے، اس کی کفالت کی جائے، مگر جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے اس کی طرف متوجہ کیا جائے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور اس کے راستے کی رکاوٹیں دور کی جائیں۔

توحیدی زاویے سے دیکھا جائے تو dependency culture ایک گہرا روحانی مسئلہ بھی ہے۔ جب انسان اپنی ضروریات کے لیے مستقل طور پر مخلوق کی طرف دیکھنے لگتا ہے تو اس کا اعتماد آہستہ آہستہ خالق سے ہٹ کر مخلوق پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دینے والا اگر اپنی مدد کو اپنی طاقت کا نتیجہ سمجھنے لگے تو وہ بھی توحیدی شعور سے دور ہو جاتا ہے۔ اس لیے حقیقی اسلامی رویہ یہ ہے کہ انسان اسباب کو استعمال کرے مگر دل کا تعلق اللہ سے رکھے، اور دوسروں کو بھی اسی سمت میں لے جائے، نہ کہ انہیں اپنے گرد گھمائے۔

آخرکار dependency culture کے خلاف جدوجہد دراصل انسانی کرامت، خودی اور توحیدی شعور کی بحالی کی جدوجہد ہے۔ یہ صرف معاشی اصلاح نہیں بلکہ فکری اور روحانی اصلاح بھی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مدد ہو مگر محتاجی نہ ہو، جہاں تعاون ہو مگر غلامی نہ ہو، اور جہاں ہر فرد کو اس کے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے، وہی درحقیقت ایک زندہ اور باوقار معاشرہ ہوتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2812

ٹیگز

تبصرے