21

*سننِ الٰہیہ اور انتظارِ ظہور: وقت نہیں، معیار کی پہچان*

  • نیوز کوڈ : 2803
  • 17 April 2026 - 21:57
*سننِ الٰہیہ اور انتظارِ ظہور: وقت نہیں، معیار کی پہچان*

*سننِ الٰہیہ اور انتظارِ ظہور: وقت نہیں، معیار کی پہچان*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

امام زمانہؑ کے ظہور کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ خود معصومینؑ نے “وقتِ ظہور” کو معین کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ متعدد روایات میں آیا ہے کہ جو شخص وقت معین کرے وہ جھوٹا ہے، جیسا کہ الکافی اور غیبت نعمانی میں یہ مضمون مختلف تعبیرات کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ اس ممانعت کی بنیاد یہ ہے کہ ظہور ایک ایسا الٰہی امر ہے جس کا حقیقی وقت “علمِ خدا” میں مخفی ہے، اور اسے انسانی حساب کتاب یا ظاہری قرائن کے ذریعے قطعی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غلطی اکثر پیدا ہوتی ہے: لوگ “نشانیوں” کو “وقت کے تعین” میں تبدیل کر دیتے ہیں، جبکہ یہ دونوں چیزیں اپنی حقیقت میں مختلف ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔ وہ یہ کہ کائنات اور تاریخ ایک “نظامِ اسباب” کے تحت چلتی ہے، جسے قرآن نے بارہا بیان کیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔ اس آیت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اجتماعی تبدیلیاں، چاہے وہ عروج کی ہوں یا زوال کی، کچھ شرائط اور اسباب کے تحت وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اسی اصول کو اگر ہم ظہور کے تناظر میں دیکھیں تو یہ کہنا غلط نہیں کہ ظہور کے لیے بھی ایک اجتماعی و تاریخی زمینہ (conditions) درکار ہوگا، جیسے ظلم کا عالمی پھیلاؤ، حق کے طلبگاروں کی آمادگی، اور ایک ایسی اجتماعی سطح کی ناانصافی جو انسانیت کو ایک نجات دہندہ کی طرف متوجہ کر دے۔

امامِ زمانہؑ کے ظہور کے مسئلے کو اگر “سننِ الٰہیہ” اور “عمومی قواعد” کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ موضوع صرف ایک عقیدے کی حد تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ تاریخی اور سماجی حقیقت بن جاتا ہے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ “کب ظہور ہوگا؟” بلکہ یہ بنتا ہے کہ “کن قوانین کے تحت ظہور کا مرحلہ نزدیک آتا ہے؟” یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن ہمیں رہنمائی فراہم کرتا ہے، کیونکہ قرآن نے تاریخ کو ایک بے ترتیب عمل نہیں بلکہ “سننِ ثابتہ” کے تحت چلنے والا نظام قرار دیا ہے۔

قرآن کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر بڑی تبدیلی کے پیچھے “تدریجی اسباب” کارفرما ہوتے ہیں۔ کوئی بھی انقلاب—چاہے وہ انبیاءؑ کا ہو یا اقوام کا—اچانک اور بغیر زمینہ سازی کے نہیں آتا۔ یہی اصول ظہور کے بارے میں بھی صادق آتا ہے۔ اگر ہم تاریخِ انبیاءؑ کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر نجات دہندہ کے ظہور سے پہلے ایک خاص فکری، اخلاقی اور سماجی بحران اپنی انتہا کو پہنچتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ کے زمانے میں فرعون کا ظلم ایک خاص حد تک پہنچا، بنی اسرائیل شدید استضعاف کا شکار ہوئے، اور پھر اسی ماحول میں نجات کا دروازہ کھلا۔ یہ ایک الٰہی سنت ہے کہ جب ظلم اپنی حد کو چھو لیتا ہے اور مظلوموں کی اجتماعی فریاد ایک خاص درجے تک پہنچ جاتی ہے تو الٰہی مدد ایک نئے مرحلے میں ظاہر ہوتی ہے۔

اسی طرح حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کو دیکھیں تو عرب معاشرہ فکری، اخلاقی اور سماجی لحاظ سے ایک گہرے بحران میں مبتلا تھا۔ شرک، قبائلی تعصبات، اخلاقی انحطاط—یہ سب عوامل ایک ایسے “threshold” تک پہنچ چکے تھے جہاں ایک عظیم تبدیلی ناگزیر ہو چکی تھی۔ یہ بعثت بھی اسی “سنّت” کے تحت واقع ہوئی۔ اس سے یہ اصول نکلتا ہے کہ ظہورِ امامؑ بھی ایک ایسے ہی عالمی بحران کے بطن سے ابھرے گا، جہاں انسانیت اپنی موجودہ ساخت سے عاجز آ چکی ہوگی۔

یہاں ایک اور اہم سنت سامنے آتی ہے، اور وہ ہے “آمادگیِ نصرت”۔ قرآن میں بارہا یہ بات آئی ہے کہ الٰہی مدد ان لوگوں کو ملتی ہے جو خود اس کے لیے کھڑے ہوں۔ جنگِ بدر کی مثال لیں، جہاں تعداد اور وسائل کے لحاظ سے مسلمان کمزور تھے، مگر ان کی آمادگی، اخلاص اور قربانی نے الٰہی مدد کو متحرک کیا۔ اس سے ایک عمومی قاعدہ بنتا ہے کہ محض ظلم کا بڑھ جانا کافی نہیں، بلکہ ایک ایسی جماعت کا وجود بھی ضروری ہے جو حق کے لیے کھڑی ہو سکے۔ ظہور کے بارے میں روایات میں جو “۳۱۳ اصحاب” کا ذکر آتا ہے، وہ دراصل اسی سنت کی طرف اشارہ ہے کہ ایک “کیفیاتی اقلیت” (qualitative minority) تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔

ایک تیسری سنت “امتحان و تمحیص” کی ہے۔ قرآن بار بار بتاتا ہے کہ مومنین کو آزمایا جاتا ہے تاکہ خالص اور غیر خالص میں فرق واضح ہو جائے۔ تاریخ میں ہر بڑے الٰہی مرحلے سے پہلے ایک فلٹرنگ ہوتی ہے۔ یہی چیز غیبت کے زمانے میں بھی جاری ہے۔ لوگ مختلف آزمائشوں سے گزرتے ہیں—فکری، اخلاقی، سیاسی—اور اسی عمل میں ایک ایسی جماعت تیار ہوتی ہے جو واقعی حق کی حامل ہو۔ اس سنت کا مطلب یہ ہے کہ ظہور سے پہلے کا زمانہ ایک “training ground” ہے، نہ کہ صرف انتظار کا مرحلہ۔

اسی طرح ایک اور قانون “تدریج” (gradualism) کا ہے۔ الٰہی تبدیلیاں عموماً ایک تدریجی عمل کے ذریعے آتی ہیں، نہ کہ فوری طور پر۔ جیسے پانی کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور 100 ڈگری پر جا کر ابلتا ہے، ویسے ہی معاشرتی اور تاریخی حرارت بھی آہستہ آہستہ بڑھتی ہے۔ ظلم، شعور، بیداری، مزاحمت—یہ سب عوامل ایک خاص سطح تک پہنچتے ہیں، پھر ایک qualitative jump ہوتا ہے۔ لیکن یہاں بھی وہی حد ہے: ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ “جب یہ سطح آئے گی تو تبدیلی ہوگی”، مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ “یہ سطح فلاں تاریخ کو آئے گی”۔

ایک اور قابلِ توجہ سنت “استبدال” کی ہے، یعنی اگر ایک قوم اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے تو اللہ اسے بدل دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہور کا تعلق کسی خاص قوم یا گروہ کے ساتھ مستقل طور پر بندھا ہوا نہیں، بلکہ جو بھی اس کی شرائط پوری کرے گا وہ اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ تصور انسان کو passive انتظار سے نکال کر active ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ تمام مثالیں مل کر ایک واضح تصویر پیش کرتی ہیں کہ ظہور کا معاملہ ایک “قانونی و سننی” عمل ہے، نہ کہ محض ایک غیر مربوط معجزہ۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح رہتا ہے کہ یہ قوانین “ضروری conditions” تو فراہم کرتے ہیں، مگر “کافی conditions” (sufficient conditions) نہیں بنتے، کیونکہ آخری فیصلہ بہرحال الٰہی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔

یہاں یہ نہایت اہم حد (boundary) موجود ہے جسے عبور کرنا گمراہی کا سبب بنتا ہے۔ وہ یہ کہ ان عمومی قوانین اور شرائط کو “قطعی پیشگوئی” میں تبدیل کر دیا جائے۔ یعنی یہ کہنا کہ چونکہ فلاں حالات پیدا ہو چکے ہیں، لہٰذا اب ظہور فلاں سال یا فلاں مہینے میں ضرور ہوگا—یہ وہ مقام ہے جہاں درست علمی تجزیہ غلط دعوے میں بدل جاتا ہے۔ کیونکہ انسانی علم، چاہے وہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، الٰہی فیصلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ حالات بظاہر “آخری حد” کو پہنچے، لیکن ظہور نہ ہوا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہور کا معاملہ صرف ظاہری اسباب تک محدود نہیں بلکہ اس میں غیبی حکمتیں بھی شامل ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پہلی چیز (وقت کا تعین) “علمِ غیب میں مداخلت” ہے، جو ممنوع ہے، جبکہ دوسری چیز (شرائط کا فہم) “سننِ الٰہیہ کی معرفت” ہے، جو مطلوب ہے۔ ایک انسان کو تقدیر کے پردے اٹھانے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ دوسرا اسے اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

لہٰذا عمومی قاعدہ یہ بنتا ہے کہ ہم سننِ الٰہیہ کو سمجھ کر یہ جان سکتے ہیں کہ تاریخ کس سمت جا رہی ہے اور ہمیں اپنی جگہ کیا کردار ادا کرنا ہے، مگر ہم ان سنن کو اس حد تک نہیں لے جا سکتے کہ وہ ہمیں “قطعی وقت” بتانے لگیں۔ یہی توازن اصل معرفت ہے: نہ تو سب کچھ مبہم سمجھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا، اور نہ ہی چند ظاہری علامات کو دیکھ کر حتمی پیشگوئیاں شروع کر دینا۔ بلکہ سنن کو سمجھ کر خود کو اس عظیم مرحلے کے لیے تیار کرنا—یہی حقیقی انتظار ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2803

ٹیگز

تبصرے