بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
عروج بذاتِ خود زوال کی ضمانت نہیں ہوتا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اکثر افراد اور اقوام اپنے عروج ہی کے اندر زوال کے بیج لے کر چلتے ہیں۔ جب کامیابی اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتی ہے تو وہ انسان کے باطن، اس کے نظامِ فکر اور اس کے اجتماعی رویّوں کا اصل امتحان بن جاتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر شعور، توازن اور اصولی وابستگی برقرار نہ رہے تو وہی عروج آہستہ آہستہ زوال میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
فردی سطح پر سب سے بنیادی سبب “خود فریبی” ہے۔ انسان جب کامیاب ہوتا ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر دیکھنے لگتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو بھول جاتا ہے کہ اس کی کامیابی میں حالات، لوگوں، مواقع اور اللہ کی مشیت کا بھی کردار تھا۔ یہی خود فریبی اسے اصلاح سے دور کر دیتی ہے، اور وہ اپنی غلطیوں کو دہراتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔
اسی کے ساتھ “عاجزی کا خاتمہ” بھی زوال کا ایک اہم سبب ہے۔ جدوجہد کے دنوں میں جو انسان جھکنا جانتا تھا، کامیابی کے بعد وہی تکبر کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سیکھنے کا عمل چھوڑ دیتا ہے، دوسروں کی بات سننے سے کترانے لگتا ہے، اور یوں اس کی فکری نشوونما رک جاتی ہے۔ جب سیکھنا رک جائے تو زوال شروع ہو جاتا ہے، چاہے انسان کو اس کا احساس نہ ہو۔
قومی یا اجتماعی سطح پر دیکھا جائے تو “عدل کا فقدان” سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔ کوئی بھی قوم صرف طاقت یا وسائل کی بنیاد پر دیرپا عروج حاصل نہیں کر سکتی، بلکہ اس کے لیے عدل کا قیام ضروری ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں ناانصافی بڑھتی ہے، وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جاتے ہیں، اور کمزور طبقات محرومی کا شکار ہوتے ہیں، تو اندرونی بے چینی جنم لیتی ہے۔ یہی بے چینی رفتہ رفتہ نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
ایک اور اہم سبب “نظریاتی کمزوری” ہے۔ جو قوم یا فرد اپنے نظریے، اقدار اور مقصد سے جڑا رہتا ہے، وہ مشکلات کے باوجود قائم رہتا ہے، لیکن جب نظریہ محض نعرہ بن جائے اور عملی زندگی سے کٹ جائے تو زوال شروع ہو جاتا ہے۔ اصولوں کی جگہ مصلحتیں لے لیتی ہیں اور وقتی فائدے مستقل نقصان کا سبب بن جاتے ہیں۔
اسی طرح “عیاشی اور سہل پسندی” بھی زوال کو تیز کر دیتی ہے۔ عروج کے بعد جب وسائل کی فراوانی ہوتی ہے تو قومیں اور افراد آرام طلب ہو جاتے ہیں۔ محنت، جدوجہد اور قربانی کی وہ روح جو انہیں عروج تک لائی تھی، ختم ہونے لگتی ہے۔ نئی نسل کو جدوجہد کی قدر نہیں رہتی، اور وہ آسانیوں میں پل کر چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ یہ کمزوری بیرونی دباؤ کے سامنے انہیں بے بس کر دیتی ہے۔
اجتماعی سطح پر “داخلی انتشار” بھی ایک فیصلہ کن عامل ہے۔ جب قیادت کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر جائیں، ذاتی مفادات قومی مفاد پر غالب آ جائیں، اور اتحاد کی جگہ گروہ بندی لے لے، تو قوم کی طاقت بکھر جاتی ہے۔ یہی انتشار دشمنوں کے لیے موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس کمزوری سے فائدہ اٹھائیں۔
بیرونی عوامل بھی زوال میں کردار ادا کرتے ہیں، لیکن وہ تبھی مؤثر ہوتے ہیں جب اندرونی کمزوریاں پہلے سے موجود ہوں۔ کوئی بھی مضبوط قوم محض بیرونی حملوں سے ختم نہیں ہوتی جب تک کہ اس کے اندر سے اس کی بنیادیں کمزور نہ ہو چکی ہوں۔ اس لیے اصل خطرہ باہر سے کم اور اندر سے زیادہ ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عروج ایک امانت ہے، مستقل حالت نہیں۔ اسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل خود احتسابی، عدل، عاجزی، نظریاتی استقامت اور اجتماعی شعور ضروری ہے۔ جو فرد یا قوم ان اصولوں کو تھامے رکھتی ہے، وہ زوال کے خطرات کو ٹال سکتی ہے، اور جو ان سے غفلت برتتی ہے، اس کا عروج خود اس کے زوال کی تمہید بن جاتا ہے۔
اسی لئے یہ ثابت شدہ ہے کہ جدوجہد کا مرحلہ انسان کو نکھارتا ہے، اس کے اندر عزم، صبر اور قربانی کی روح پیدا کرتا ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ نازک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب کامیابی حاصل ہو جائے اور وہ کامیابی استحکام اختیار کرنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر تحریکیں، افراد اور حتیٰ کہ اقوام بھی اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس لیے کامیابی کے بعد کا شعور، کامیابی سے پہلے کی جدوجہد سے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
جب ایک فرد یا جماعت مسلسل محنت کے بعد اپنے ہدف تک پہنچتی ہے تو سب سے پہلا خطرہ “غرور” کا پیدا ہوتا ہے۔ جدوجہد کے دنوں میں انسان اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہوتا ہے، وہ دوسروں کا محتاج ہوتا ہے، دعا کرتا ہے، مشورہ لیتا ہے، لیکن کامیابی کے بعد وہی انسان اپنے آپ کو سببِ کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔ یہی احساس آہستہ آہستہ اسے حقیقت سے دور لے جاتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو نظر انداز کرنے لگتا ہے اور تنقید کو دشمنی سمجھنے لگتا ہے۔ یہی غرور فرد کو بھی گراتا ہے اور اجتماعی نظام کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
دوسرا بڑا خطرہ “جمود” کا ہے۔ جدوجہد کے دوران انسان مسلسل حرکت میں ہوتا ہے، نئے راستے تلاش کرتا ہے، اپنی حکمت عملی کو بہتر بناتا ہے، لیکن کامیابی کے بعد ایک اطمینان کی کیفیت آ جاتی ہے جو اکثر سستی میں بدل جاتی ہے۔ یہی جمود ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جو نظام یا فرد سیکھنا چھوڑ دے، وہ دراصل زوال کی طرف بڑھنا شروع کر دیتا ہے، چاہے بظاہر وہ کامیاب ہی کیوں نہ نظر آئے۔
کامیابی کے بعد ایک اور خطرناک رجحان “مفادات کا غلبہ” ہے۔ جدوجہد کے وقت مقصد مرکزی حیثیت رکھتا ہے، لیکن کامیابی کے بعد ذاتی، گروہی یا سیاسی مفادات سر اٹھانے لگتے ہیں۔ وہ لوگ جو قربانیوں کے زمانے میں ساتھ تھے، اب تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ اقتدار، وسائل اور اختیار کی کشمکش جنم لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں اصول پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور مفادات کو تحفظ دینے کے لیے تاویلات گھڑی جاتی ہیں۔ نتیجتاً وہی نظام جو عدل اور حق کے نام پر قائم ہوا تھا، آہستہ آہستہ اپنے ہی اصولوں سے دور ہو جاتا ہے۔
اجتماعی سیاسی کامیابی کے تناظر میں ایک اہم خطرہ “عوام سے دوری” بھی ہے۔ تحریکیں عوام کے سہارے اٹھتی ہیں، ان کے دکھ درد کو محسوس کرتی ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اکثر قیادت عوام سے کٹ جاتی ہے۔ فیصلے بند کمروں میں ہونے لگتے ہیں، اور زمینی حقیقتوں سے ناواقفیت بڑھتی جاتی ہے۔ یہی خلا پھر عوامی بے چینی کو جنم دیتا ہے، جو بالآخر اس کامیابی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے جس کے لیے اتنی جدوجہد کی گئی تھی۔
اسی طرح “نظریاتی انحراف” بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ جدوجہد کے دوران نظریہ انسان کو سمت دیتا ہے، قربانی پر آمادہ کرتا ہے، لیکن کامیابی کے بعد اسی نظریے کو عملی تقاضوں کے نام پر نرم کیا جانے لگتا ہے۔ وقتی مصلحتیں مستقل اصولوں پر غالب آ جاتی ہیں۔ یہ انحراف ابتدا میں معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ پورے نظام کی شناخت کو بدل دیتا ہے۔
فردی سطح پر بھی یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ ایک شخص جب کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اردگرد تعریف کرنے والوں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ وہ تنہائی جو اسے اپنی اصلاح کا موقع دیتی تھی، ختم ہو جاتی ہے۔ وہ خود احتسابی سے دور ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنی اصل شخصیت کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے فیصلے اب حقیقت کی بجائے تاثر اور تعریف کی بنیاد پر ہونے لگتے ہیں، جو بالآخر اس کی کامیابی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کوئی آخری منزل نہیں بلکہ ایک نیا امتحان ہے۔ جدوجہد انسان کو کامیابی تک پہنچاتی ہے، مگر کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل بیداری، عاجزی، خود احتسابی اور اصولوں سے وابستگی ضروری ہے۔ جو فرد یا نظام اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، وہ کامیابی کو استحکام میں بدل دیتا ہے، اور جو اس سے غافل ہو جاتا ہے، اس کی کامیابی خود اس کے زوال کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
