24

شہید رہبرِ انقلاب نے امام حسین کی سیرت سے رہنمائی لیتے ہوئے ظالم قوتوں کے غیر منصفانہ اور ناجائز مطالبات کو ماننے سے صاف انکار کر دی

  • نیوز کوڈ : 2795
  • 12 April 2026 - 15:43
شہید رہبرِ انقلاب نے امام حسین کی سیرت سے رہنمائی لیتے ہوئے ظالم قوتوں کے غیر منصفانہ اور ناجائز مطالبات کو ماننے سے صاف انکار کر دی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی* شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید علی حسینی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے جامعۃ المصطفٰی کراچی پاکستان میں ایک علمی نشست منعقد ہوئی جس میں اساتذہ سمیت طلباء نے بھرپور شرکت کی۔ نشست سے ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے امام […]

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی*

شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله سید علی حسینی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے جامعۃ المصطفٰی کراچی پاکستان میں ایک علمی نشست منعقد ہوئی جس میں اساتذہ سمیت طلباء نے بھرپور شرکت کی۔

نشست سے ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے فرمان “مثلی لا یبایع مثلہ ” کا حوالہ دیا اور کہا کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے یزید کے غلط اور ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اسی طرح شہید رہبر معظم نے بھی امام کی پیروی کرتے ہوئے اس دور کے ظالم کے ناجائز اور غیر منصفانہ مطالبات کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ یزید امام حسین علیہ السلام کو جھکانا چاہتا تھا لیکن نہیں جھکا سکا اسی طرح امریکہ بھی رہبر معظم کو نہیں جھکا سکا۔

ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے قیامِ کربلا کے دوران امام حسین علیہ السلام کے ایک اور فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ ” ان الدعی ابن دعی قد رکزنی بین اثنتین؛ بین السلہ و الذلہ؛ و ھیھات منا الذلہ ” کہ مجھے دعی ابن دعی نے دو راہے پر کھڑا کیا کہ یا تو میں تلوار یعنی جہاد اور شہادت کا راستہ اختیار کر لوں یا جہاد ترک کر کے چند دن مزید زندہ رہوں مگر ذلت کے ساتھ، لیکن ھیھات منا الذلہ. امام حسین علیہ السلام نے ظالم کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت جیسی عزت کی موت کو ترجیح دی۔ آج امام کے فرزند سید علی خامنہ ای نے بھی گویا یہی آواز بلند کی کہ میں عزت کی موت کو ترجیح دوں گا لیکن ظالم اور طاغوت کے غلط مطالبات کو ماننے سے انکار کروں گا۔ آج حقیقت میں رہبر معظم شہید ہو کر جاوداں ہو گئے ہیں۔ اگر اس افتخار آمیز موت کا انتخاب نہ کرتے تو کتنے سال زندہ رہتے ؟ دو چار سال ! لیکن اب شہادت کی وجہ سے رہبر معظم دو چار سال نہیں بلکہ ابدی حیات کے مالک بن گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عظیم سعادت آپ کو اللہ نے اس لیے عطا فرمائی چونکہ آپ اللہ اور دین کے ساتھ مخلص تھے آپ کی زندگی اخلاص اور سادگی کا پیکر تھی۔ یہ جو آپ کی سادگی تھی اس کا سبب آپ کا تقوی تھا اپنے نفس پر کنٹرول تھا۔

ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے رہبرِ انقلاب کے اخلاص اور تقوی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک قائد اور رہبر کے لیے علم کے ساتھ تقویٰ، دنیا داری سے دوری اور دیگر اعلیٰ اوصاف کا حامل ہونا ضروری ہے۔ شہید رہبر ان اوصاف و کمالات کے مالک تھے۔

انہوں نے حدیث “من کان من الفقہاء صائمہ لنفسہ، مخالفا لھواہ مطیعا لامر مولاہ۔۔۔” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک حقیقی فقیہ اور رہبر کی شرائط بیان کی گئی ہے، اور یہ تمام اوصاف رہبرِ شہید میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔

ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے کہا کہ رہبر معظم کے تقوی اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ ان کی فیملی کے افراد بیمار ہوتے تو انہی ہسپتالوں میں ان کا علاج ہوتا تھا جہاں عام افراد اپنا معالجہ کراتے ہیں اور ملک کے حاکم ہونے کے باوجود وہ اپنے لیے خاص امتیاز کے قائل نہیں تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبر معظم کی ذاتی صفات، خصوصاً تقویٰ اور سادگی، سب پر عیاں تھی اور یہ اوصاف ان کی اولاد میں بھی نمایاں ہیں۔ نئے رہبر سید مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسی سادگی اور دیگر صفات میں رہبرِ شہید کا مکمل عکس نظر آتے ہیں۔

رہبر انقلاب کی شہادت کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے کہا کہ جس طرح شہید رہبر نے قاسم سلیمانی کی شہادت کے حوالے سے دشمن کو پیغام دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ دشمن سن لے کہ ان کے لیے زندہ قاسم سلیمانی سے زیادہ شہید قاسم سلیمانی خطرناک ثابت ہوں گے۔ آج یہی بات خود شہید رہبر معظم کے والے سے کہی جا سکتی ہے۔ کہ دشمن اور طاغوت کے لیے زندہ خامنہ ای سے زیادہ اب شہید خامنہ ای خطرناک ثابت ہوں گے، کیونکہ آپ کی شہادت سے قوم و ملت کو اندر بیداری اور اتحاد کی جو فضا قائم ہوئی ہے اس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ اج رہبر کی شہادت کو چالیس دن ہو گئے ہیں لیکن ایرانی قوم مسلسل سڑکوں پر ہے اور اپنی فوج سے کہہ رہی ہے کہ آپ مورچے سنبھال لیں ہم میدان سنبھال لیں گے، تاکہ منافقین کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ سب رہبر معظم کی شہادت کا اثر ہے۔ آج وہ لوگ بھی شہید رہبر اور نظام ولایت کی حمایت میں سڑکوں پر نکل رہے ہیں جو پہلے حکومت اسلامی سے تحفظات کا اظہار کرتے تھے، لہٰذا شہید رہبر نے اپنی شہادت سے پوری قوم کو بیدار کیا ہے کیونکہ آپ اپنے خاندان کے کئی فراڈ سمیت شہید ہو گئے۔

ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے کہا کہ رہبرِ انقلاب نے آگاہانہ طور پر شہادت کو قبول کر کے دنیائے اسلام اور ایران میں ایک نئی انقلابی روح اور جذبہ پیدا کیا، جس سے انقلاب مزید مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے اتحاد کے ایجاد شدہ ماحول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اج پوری دنیا میں تمام مسالک اور نظریات سے قطع نظر لوگ سب ہی شہید رہبر کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی نسل اور جوانوں پر رہبر کی شہادت نے جو اثرات مرتب کیے ہیں ان سے انقلاب اور ملک مزید مستحکم ہوگا۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2795

ٹیگز

تبصرے