بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
حریر : سید جہانزیب عابدی
برصغیر میں شیعہ معاشرے کے اندر “جنتری” پڑھنے کا شوق محض ایک سادہ دینی رجحان نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی، تاریخی اور نفسیاتی تشکیل کا نتیجہ ہے۔ اگر اس رجحان کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصل میں مذہب کے بنیادی مصادر سے زیادہ اُس ماحول اور ذہنی ساخت کی پیداوار ہے جس میں ایک خاص معاشرہ صدیوں سے پروان چڑھتا رہا ہے۔ Pakistan جیسے معاشروں میں جنتری کا رواج اس قدر عام ہے کہ یہ روزمرہ مذہبی زندگی کا حصہ بن چکا ہے، جبکہ یہی رجحان Iran، Iraq یا Lebanon کے شیعہ معاشروں میں تقریباً ناپید ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ اور انسانی نفسیات دونوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے برصغیر ایک ایسا خطہ رہا ہے جہاں مختلف مذاہب، تہذیبیں اور فکری نظام ایک دوسرے کے ساتھ تعامل میں رہے۔ India کی قدیم روایت میں نجوم، سیاروں کی تاثیر، سعد و نحس ایام، اور قسمت کے حساب کتاب کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جب اسلام اس خطے میں آیا تو اس نے یقیناً توحیدی فکر اور عقلی اصولوں کو متعارف کرایا، لیکن ساتھ ہی ایک طویل عرصے تک مقامی ثقافت کے اثرات بھی باقی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی ایسی چیزیں جو خالص اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں تھیں، وہ عوامی مذہب (popular religion) کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ جنتری دراصل اسی امتزاج کی ایک نمایاں مثال ہے، جس میں تقویم، نجومی اندازے، وظائف اور مختلف قسم کے عملیات ایک ہی جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔
شیعہ معاشرے میں اس رجحان کی ایک خاص وجہ یہ بھی رہی کہ برصغیر میں مذہبی تعلیم کا بڑا حصہ عوامی مجالس، ذاکری اور غیر رسمی ذرائع سے منتقل ہوا، نہ کہ ہمیشہ باقاعدہ علمی اداروں کے ذریعے۔ اس کے برعکس ایران اور عراق میں صدیوں سے ایک مضبوط علمی روایت موجود رہی ہے جہاں دینی علوم براہِ راست حوزاتِ علمیہ اور مجتہدین کے ذریعے منتقل ہوتے رہے۔ وہاں دین کو سمجھنے کا غالب طریقہ فقہ، اصول اور حدیث کی تحقیق ہے، نہ کہ آسان اور فوری نتائج دینے والی کتابیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنتری جیسی چیزیں وہاں علمی وزن نہیں رکھتیں اور نہ ہی عوامی سطح پر انہیں وہ پذیرائی حاصل ہے جو برصغیر میں نظر آتی ہے۔
نفسیاتی پہلو سے دیکھا جائے تو جنتری کا رجحان انسان کی ایک بنیادی کمزوری سے جڑا ہوا ہے، اور وہ ہے “غیب پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش”۔ انسان فطری طور پر غیر یقینی صورتحال سے گھبراتا ہے۔ مستقبل اس کے لیے ایک ایسا میدان ہے جہاں خطرات بھی ہیں اور امیدیں بھی، لیکن یقین نہیں۔ ایسے میں جنتری جیسی چیزیں ایک نفسیاتی سہارا فراہم کرتی ہیں۔ جب کسی کو یہ بتایا جاتا ہے کہ فلاں دن مبارک ہے یا فلاں وقت میں کام کرنا بہتر ہے تو اسے ایک طرح کا اطمینان حاصل ہوتا ہے، گویا اس نے غیر یقینی کو کسی حد تک قابو میں کر لیا ہو۔ یہ دراصل ایک “illusion of control” ہے، یعنی کنٹرول کا وہ احساس جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتا مگر انسان کو ذہنی سکون دیتا ہے۔
یہی نفسیاتی میکانزم دنیا کے مختلف معاشروں میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ مغربی دنیا میں یہ کام ہوروسکوپ اور اسٹار سائنز کے ذریعے ہوتا ہے، جبکہ برصغیر میں جنتری اور عملیات کے ذریعے۔ لیکن جہاں علمی اور دینی تربیت زیادہ مضبوط ہو، وہاں ایسے رجحانات خود بخود کمزور پڑ جاتے ہیں کیونکہ انسان کو یہ شعور مل جاتا ہے کہ کائنات کا نظام کسی نجومی حساب سے نہیں بلکہ الٰہی حکمت اور قانون کے تحت چل رہا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ شیعہ عقیدہ اپنی اصل میں ایک انتہائی عقلی اور توحیدی نظام ہے جو انسان کو براہِ راست خدا پر توکل، دعا، اور عمل صالح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ لیکن جب یہ عقیدہ ایک ایسے ثقافتی ماحول میں داخل ہوتا ہے جہاں پہلے سے غیر یقینی کو قابو کرنے کے غیر سائنسی طریقے موجود ہوں، تو بعض اوقات وہ عناصر بھی مذہبی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ جنتری اسی عمل کا نتیجہ ہے، جہاں ایک غیر دینی روایت آہستہ آہستہ مذہبی لباس پہن لیتی ہے۔
ایران، عراق اور لبنان جیسے معاشروں میں چونکہ دینی شناخت زیادہ براہِ راست علمی اور انقلابی شعور سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے وہاں اس قسم کے رجحانات کو فروغ نہیں ملتا۔ وہاں فرد کا اعتماد جنتری یا نجومی اندازوں پر نہیں بلکہ مرجعیت، فقہ اور اجتماعی دینی شعور پر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس برصغیر میں جہاں مذہب زیادہ تر جذباتی، روایتی اور عوامی سطح پر منتقل ہوا، وہاں جنتری جیسے عناصر کو جگہ مل گئی۔
لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنتری پڑھنے کا شوق کسی ایک مذہب یا مسلک کی تعلیم نہیں بلکہ ایک مخصوص تاریخی اور نفسیاتی پس منظر کی پیداوار ہے۔ جہاں یہ پس منظر موجود ہوگا، وہاں اس طرح کے رجحانات بھی موجود رہیں گے، اور جہاں علمی شعور، توحیدی فہم اور عقلی تربیت مضبوط ہوگی، وہاں یہ رجحانات خود بخود کم ہوتے چلے جائیں گے۔
برصغیر کے شیعہ معاشرے کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مذہبی زندگی دو متوازی دھاروں میں بہتی ہے۔ ایک وہ دھارا ہے جو اہلبیتؑ کی اصل تعلیمات، فقہ، حدیث اور عقلی و اصولی روایت سے جڑا ہوا ہے، اور دوسرا وہ جو صدیوں کی تہذیبی آمیزش، عوامی مذہب (popular religion) اور نفسیاتی ضروریات کے تحت تشکیل پایا ہے۔ یہی دوسرا دھارا وہ ہے جس میں جنتری جیسے رجحانات کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اعمال، روشیں اور کتب بھی شامل ہو جاتی ہیں، جو شیعہ علمی روایت سے براہِ راست ماخوذ نہیں ہوتیں بلکہ ایک مخصوص تاریخی و ثقافتی ماحول کی پیداوار ہوتی ہیں۔
برصغیر، خصوصاً India اور Pakistan، صدیوں تک مختلف مذہبی اور روحانی روایات کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہندو، بدھ، صوفی، اور مختلف مقامی روحانیتی نظام ایک دوسرے کے ساتھ تعامل میں رہے۔ اس تعامل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسا “مذہبی مزاج” پیدا ہوا جس میں رسم، علامت، اور غیر رسمی روحانیت کو بڑی اہمیت حاصل ہو گئی۔ جب شیعہ مذہب اس ماحول میں پروان چڑھا تو اس کے ساتھ بھی کچھ ایسے عناصر جڑ گئے جو اصل شیعہ علمی ثقافت (یعنی حوزوی، حدیثی اور فقہی روایت) کا حصہ نہیں تھے۔
ان میں سب سے نمایاں چیز “عملیات اور تعویذات” کا کلچر ہے۔ اگرچہ دعا، آیاتِ قرآن، اور اہلبیتؑ سے منقول بعض اذکار اپنی جگہ معتبر ہیں، لیکن برصغیر میں ان کے ساتھ جو اضافی چیزیں شامل ہو گئیں، جیسے مخصوص اعداد، خفیہ نقش، نامعلوم زبانوں کے کلمات، یا غیر مستند دعائیں، وہ ایک الگ روایت بن گئیں۔ یہ روایت زیادہ تر اس ذہنیت سے جڑی ہے جو فوری اثر اور غیر مرئی طاقتوں پر کنٹرول چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ دین کو ایک “spiritual technology” کے طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں، جہاں مقصد اللہ کی بندگی نہیں بلکہ مسئلے کا فوری حل ہوتا ہے۔
اسی طرح بعض کتب کا رواج بھی اسی دائرے میں آتا ہے، جیسے تحفۃ العوام یا اس نوعیت کی دیگر غیر تحقیقی تصنیفات، جن میں فضائل، قصص اور اعمال بغیر سند یا تحقیق کے نقل کیے جاتے ہیں۔ ان کتابوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ ان میں ہر بات غلط ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان میں صحیح اور ضعیف، مستند اور غیر مستند سب کچھ ایک ساتھ موجود ہوتا ہے، اور عام قاری کے پاس انہیں پرکھنے کا کوئی معیار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس شیعہ علمی روایت میں ہر روایت کو علمِ رجال اور درایت کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے، جیسا کہ الکافی یا دیگر معتبر مصادر میں ہوتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو “شعائر کی غیر متوازن توسیع” ہے۔ عزاداری اہلبیتؑ یقیناً شیعہ شناخت کا بنیادی ستون ہے، لیکن برصغیر میں اس کے بعض مظاہر ایسے بھی پیدا ہو گئے جو اصل مقصد سے ہٹ کر ایک الگ ہی ثقافتی رنگ اختیار کر گئے۔ مثال کے طور پر بعض جگہوں پر ایسے رسم و رواج دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں مبالغہ، غیر مستند واقعات، یا حتیٰ کہ جسمانی اذیت کے ایسے طریقے شامل ہو جاتے ہیں جن کی نہ تو اہلبیتؑ کی سیرت میں واضح بنیاد ملتی ہے اور نہ ہی انہیں فقہاء کی عمومی تائید حاصل ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے جذباتی مذہبی ماحول کی پیداوار ہے جہاں احساسات کو علمی توازن پر فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔
اسی تسلسل میں “قسمت کھولنے والے وظائف”، “خاص دنوں کے مخصوص غیر مستند اعمال”، یا “منت ماننے کے عجیب طریقے” بھی شامل ہیں، جو بظاہر مذہبی لگتے ہیں لیکن دراصل ایک نفسیاتی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ انسان جب اپنے مسائل سے عاجز آتا ہے تو وہ ایسے طریقوں کی طرف مائل ہوتا ہے جو اسے فوری امید اور کنٹرول کا احساس دیں، چاہے وہ علمی یا شرعی اعتبار سے مضبوط نہ بھی ہوں۔ برصغیر کا مذہبی مزاج چونکہ جذباتی اور علامتی ہے، اس لیے یہ رجحانات یہاں زیادہ آسانی سے جگہ بنا لیتے ہیں۔
یہ تمام مظاہر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برصغیر میں شیعہ مذہب صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک “ثقافتی تجربہ” بھی بن گیا ہے، جس میں دین، روایت، اور مقامی تہذیب ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے ہیں۔ اس کے برعکس Iran، Iraq اور Lebanon جیسے علاقوں میں مذہب زیادہ براہِ راست علمی اداروں، فقہاء اور منظم دینی نظام کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، اس لیے وہاں اس قسم کے غیر رسمی اور غیر تحقیقی عناصر کو اتنی جگہ نہیں ملتی۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان تمام چیزوں کا وجود لازماً بدنیتی یا گمراہی کی علامت نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک فطری سماجی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جہاں لوگ اپنی مذہبی وابستگی کو اپنی ثقافت اور نفسیاتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ان چیزوں کو دین کا اصل چہرہ نہ سمجھا جائے، بلکہ انہیں ایک ثقافتی پرت کے طور پر پہچانا جائے، اور اصل دین کو اس کے مستند مصادر اور اصولی بنیادوں سے اخذ کیا جائے۔
برصغیر میں رائج اس چیز جس کو ہم ایک طرح کی “اسپریچوئل ٹیکنالوجی” کہہ سکتے ہیں—یعنی وظائف، تعویذات، مخصوص اعداد و اوقات، اور غیر مستند عملیات کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کا تصور—اس کا اگر قرآن اور اہلبیتؑ کی تعلیمات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ایک نہایت بنیادی فرق سامنے آتا ہے: دین انسان کو “اللہ کے ساتھ تعلق” سکھاتا ہے، جبکہ یہ رجحان اکثر “نتیجہ حاصل کرنے کی تکنیک” بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں توحیدی فکر اور ثقافتی مذہب کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔
قرآن مجید انسان کے ذہن کو سب سے پہلے اس اصول پر استوار کرتا ہے کہ کائنات میں مؤثرِ حقیقی صرف اللہ ہے۔ سورۂ یونس میں ارشاد ہوتا ہے: *“وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ”* یعنی اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں۔ اسی طرح سورۂ نجم میں فرمایا گیا: *“وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ”* کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ یہ آیات ایک ایسا فکری نظام قائم کرتی ہیں جس میں انسان اپنی امید، خوف اور اعتماد کو براہِ راست اللہ کے ساتھ مربوط کرتا ہے، نہ کہ کسی درمیانی “فارمولے” یا خفیہ طریقۂ کار کے ساتھ۔
اس کے مقابلے میں جب دین کو ایک “اسپریچوئل ٹیکنالوجی” کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو ایک خاموش تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ انسان بظاہر اللہ ہی سے مانگ رہا ہوتا ہے، لیکن اس کی توجہ اللہ کی ذات سے زیادہ اس “طریقہ” پر مرکوز ہو جاتی ہے جس کے ذریعے وہ نتیجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ گویا دعا ایک عبادت کے بجائے ایک میکانزم بن جاتی ہے۔ قرآن اس ذہنیت کی اصلاح کرتے ہوئے بار بار نیت، اخلاص اور توکل پر زور دیتا ہے۔ سورۂ غافر میں اللہ فرماتا ہے: *“ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ”* یعنی مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ یہاں کوئی خفیہ کوڈ، مخصوص عدد یا پیچیدہ طریقہ بیان نہیں کیا گیا، بلکہ براہِ راست تعلق کی دعوت دی گئی ہے۔
اہلبیتؑ کی تعلیمات بھی اسی قرآنی روح کی ترجمان ہیں۔ حضرت علیؑ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں کہ انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اللہ پر اعتماد ہے اور سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ غیر اللہ پر تکیہ کرے۔ اسی طرح امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ جو شخص اللہ کو اس طرح پہچان لے جیسا پہچاننے کا حق ہے، وہ غیر اللہ سے امید نہیں رکھتا۔ یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ اصل مقصد انسان کو اس مقام تک لے جانا ہے جہاں وہ اسباب کے پردے کے پیچھے موجود مسبب الاسباب کو دیکھ سکے، نہ کہ اسباب ہی کو ایک مستقل طاقت سمجھنے لگے۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ دعا، ذکر اور بعض اذکار یقیناً دین کا حصہ ہیں اور خود اہلبیتؑ سے بہت سے وظائف منقول ہیں، لیکن ان کی نوعیت “عبادت” کی ہے، “ٹیکنالوجی” کی نہیں۔ مثال کے طور پر صحیفہ سجادیہ کو دیکھا جائے تو اس میں دعاؤں کا اسلوب یہ نہیں کہ انسان کسی خاص جملے کو ایک مخصوص عدد میں دہرا کر لازماً ایک دنیاوی نتیجہ حاصل کرے، بلکہ یہ ایک روحانی مکالمہ ہے جس میں بندہ اپنی عاجزی، احتیاج اور محبت کا اظہار کرتا ہے۔ یہاں اصل تبدیلی انسان کے اندر آتی ہے، نہ کہ صرف بیرونی حالات میں۔
برصغیر کی “اسپریچوئل ٹیکنالوجی” میں جو چیز نمایاں ہے وہ یہ ہے کہ اس میں اکثر سبب اور مسبب کا رشتہ الٹ جاتا ہے۔ ایک خاص نقش، ایک خاص وقت، یا ایک خاص عدد کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ خود مؤثر ہو، جبکہ توحیدی تعلیمات کے مطابق یہ سب اگر کچھ اثر رکھتے بھی ہیں تو صرف اللہ کے اذن سے رکھتے ہیں، اور ان کی کوئی خودمختار حیثیت نہیں۔ قرآن اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے: *“قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ”* یعنی کہہ دو کہ میں اپنے لیے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔
نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ رجحان انسان کی بے یقینی سے فرار کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ جب انسان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ فلاں عمل اتنی بار کرنے سے فلاں نتیجہ یقینی طور پر حاصل ہوگا، تو اسے ایک ذہنی سکون ملتا ہے، کیونکہ اس نے ایک غیر یقینی صورتحال کو ایک “فارمولے” میں تبدیل کر دیا۔ لیکن دین کا اصل ہدف انسان کو اس مقام پر لانا ہے جہاں وہ غیر یقینی کے اندر بھی اللہ پر اعتماد رکھے، نہ کہ اسے مصنوعی یقین کے سہاروں سے بدل دے۔
اہلبیتؑ کی سیرت میں ہمیں ایک توازن نظر آتا ہے۔ وہ اسباب کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، دعا اور ذکر کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انسان کو اس حقیقت سے آگاہ رکھتے ہیں کہ اصل مؤثر اللہ ہے اور اس کی حکمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیمات میں “یقین” کا مفہوم یہ نہیں کہ انسان ہر حال میں اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر نتیجے میں اللہ کی حکمت پر راضی رہے۔
لب لباب یہ ہے کہ برصغیر میں رائج “اسپریچوئل ٹیکنالوجی” ایک ایسی تہذیبی تشکیل ہے جس میں دین کے بعض عناصر کو ایک میکانکی اور نتیجہ خیز نظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جبکہ قرآن اور اہلبیتؑ کی تعلیمات انسان کو ایک زندہ، شعوری اور براہِ راست تعلق کی طرف بلاتی ہیں۔ وہاں اصل اہمیت طریقے کی نہیں بلکہ تعلق کی ہے، عدد کی نہیں بلکہ نیت کی ہے، اور نتیجے کی نہیں بلکہ بندگی کی ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک زندہ توحیدی دین اور ایک ثقافتی مذہبی عمل کے درمیان حد فاصل قائم کرتا ہے۔
اس طرح کے اعتقادات رکھنے والے افراد کو نفسیات میں کسی ایک لیبل سے نہیں باندھا جاتا، کیونکہ انسان کا ذہن پیچیدہ ہوتا ہے، لیکن چند معروف اصطلاحات ہیں جو اس طرزِ فکر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ انہیں عموماً “magical thinking” (جادوی اندازِ فکر)، “superstitious belief system” (توہم پرستانہ نظامِ عقیدہ)، اور بعض صورتوں میں “external locus of control” (بیرونی کنٹرول پر یقین رکھنے والا ذہن) کے دائرے میں رکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے افراد غیر عقلانی یا کم ذہین ہوتے ہیں، بلکہ یہ کہ وہ غیر یقینی حالات میں ایسے ذہنی راستے اختیار کرتے ہیں جو انہیں فوری معنی اور کنٹرول کا احساس دیتے ہیں۔
اگر اس منہجِ فکر کا دقیق تجزیہ کیا جائے تو سب سے بنیادی عنصر “کنٹرول کی خواہش” ہے۔ انسان فطری طور پر غیر یقینی کو پسند نہیں کرتا۔ جب زندگی میں ایسے مسائل آتے ہیں جن کا حل واضح نہ ہو—جیسے بیماری، رزق، رشتے یا مستقبل—تو ذہن ایک ایسا نظام بنانے کی کوشش کرتا ہے جس میں ہر چیز کسی نہ کسی اصول کے تحت چلتی نظر آئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “illusion of control” پیدا ہوتا ہے۔ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر وہ ایک خاص عمل، خاص عدد یا خاص وقت اختیار کرے گا تو نتیجہ اس کے مطابق بدل جائے گا، حالانکہ حقیقت میں وہ نتیجہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
اس کے ساتھ ایک اور اہم نفسیاتی میکانزم کام کرتا ہے جسے “confirmation bias” کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان صرف انہی واقعات کو یاد رکھتا ہے جو اس کے عقیدے کی تصدیق کریں، اور جو واقعات اس کے خلاف ہوں انہیں نظر انداز کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے ایک وظیفہ کیا اور اتفاق سے اس کا مسئلہ حل ہو گیا، تو وہ اسے اس عمل کی کامیابی سمجھے گا، لیکن اگر دس بار وہی عمل کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ نہ نکلے تو وہ ان واقعات کو شعوری یا لاشعوری طور پر نظر انداز کر دے گا۔ یوں ایک کمزور تجربہ بھی ایک مضبوط عقیدے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اسی طرح “pattern-seeking tendency” بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انسانی دماغ اس طرح بنا ہے کہ وہ بے ربط واقعات میں بھی ربط تلاش کرتا ہے۔ بادلوں کی شکلوں میں چہرے نظر آنا، یا دو غیر متعلقہ واقعات کو سبب و مسبب سمجھ لینا، اسی رجحان کی مثالیں ہیں۔ جب یہی رجحان مذہبی یا روحانی دائرے میں داخل ہوتا ہے تو انسان ہر واقعے کے پیچھے ایک “پوشیدہ نظام” تلاش کرنے لگتا ہے، چاہے وہ حقیقت میں موجود نہ ہو۔
ایک اور گہرا پہلو “anxiety management” ہے۔ ایسے اعتقادات اکثر ان افراد میں زیادہ پائے جاتے ہیں جو ذہنی دباؤ، خوف یا غیر یقینی کا زیادہ سامنا کر رہے ہوں۔ “اسپریچوئل ٹیکنالوجی” دراصل ایک coping mechanism بن جاتی ہے، یعنی ایک ایسا طریقہ جس کے ذریعے انسان اپنے اضطراب کو کم کرتا ہے۔ جب وہ ایک عمل دہراتا ہے، ایک وظیفہ پڑھتا ہے یا ایک تعویذ اپنے پاس رکھتا ہے، تو اسے ایک نفسیاتی سہارا ملتا ہے، جیسے کسی بچے کو اندھیرے میں ایک کھلونا پکڑا دیا جائے۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم اور حساس نکتہ ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ یہ طرزِ فکر وقتی سکون تو دیتا ہے، مگر طویل مدت میں انسان کی “cognitive maturity” یعنی فکری بلوغت کو محدود کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ انسان کو حقیقت کا سامنا کرنے، اسباب کو سمجھنے، اور ذمہ داری لینے کے بجائے ایک “شارٹ کٹ” کی طرف لے جاتا ہے۔ یوں انسان کا ذہن تدریجاً اس قابل نہیں رہتا کہ وہ پیچیدہ مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں حل کر سکے۔
ایک پڑھے لکھے اور سنجیدہ ذہن کے لیے یہاں سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا میں حقیقت کو سمجھنا چاہتا ہوں یا صرف اس کا ایک ایسا تصور بنانا چاہتا ہوں جو مجھے وقتی سکون دے؟ کیونکہ دونوں راستے الگ ہیں۔ علم کا راستہ یہ ہے کہ انسان uncertainty کو قبول کرے، evidence کو دیکھے، اور جہاں علم نہ ہو وہاں توقف کرے۔ جبکہ جادوی یا توہماتی راستہ یہ ہے کہ انسان ہر خلا کو ایک مفروضے سے بھر دے، چاہے اس کی بنیاد کمزور ہو۔
یہاں نفسیات ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان اپنے عقائد کو صرف دلیل سے نہیں بدلتا، بلکہ “self-awareness” سے بدلتا ہے۔ جب ایک شخص یہ دیکھنا شروع کرتا ہے کہ اس کے اپنے ذہن میں confirmation bias کیسے کام کر رہا ہے، وہ کن مواقع پر illusion of control کا شکار ہو رہا ہے، اور وہ کیوں ہر واقعے میں ایک پوشیدہ پیٹرن تلاش کر رہا ہے، تو اس کے اندر ایک فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی فاصلہ اسے اپنے عقیدے کو objectivity کے ساتھ دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
لہٰذا اس منہجِ فکر سے نکلنے کا راستہ کسی کی تضحیک یا نفی نہیں بلکہ شعور کی بلندی ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ حقیقی طاقت کسی “فارمولے” میں نہیں بلکہ حقیقت کے صحیح ادراک میں ہے، اور جب وہ یہ دیکھ لیتا ہے کہ اس کے اپنے ذہن نے کیسے ایک غیر یقینی دنیا کو مصنوعی یقین میں بدلنے کی کوشش کی، تو وہ خود بخود اس طرزِ فکر سے فاصلے پر آ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ دین کو بھی ایک زندہ تعلق، اخلاقی ذمہ داری اور شعوری بندگی کے طور پر دیکھنے لگتا ہے، نہ کہ ایک ایسی مشین کے طور پر جس کے بٹن دبانے سے نتائج نکلتے ہیں۔
