1

*وسائل کی جنگ: حق و باطل کا ازلی معرکہ*

  • نیوز کوڈ : 2786
  • 11 April 2026 - 16:31
*وسائل کی جنگ: حق و باطل کا ازلی معرکہ*

*وسائل کی جنگ: حق و باطل کا ازلی معرکہ*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

انسانی تاریخ کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ایک بنیادی حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ زمین کے مادی وسائل—چاہے وہ زمین ہو، پانی ہو، دولت ہو یا اقتدار—یہ سب ہمیشہ سے ایک فکری اور اعتقادی کشمکش کا میدان رہے ہیں۔ یہ کشمکش محض معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ اس کی جڑیں عقیدہ، توحید، اور انسان کے اپنے مقام کے فہم میں پیوست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن، تاریخِ انبیاءؑ، اور معصومینؑ کی سیرت میں “حق” اور “باطل” کی تقسیم صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ وسائل کے حصول، استعمال اور تقسیم تک پھیلی ہوئی ہے۔

پہلا مرحلہ اس حقیقت کو سمجھنے کا ہے کہ قرآن کے مطابق زمین اور اس کے وسائل دراصل اللہ کی ملکیت ہیں۔ انسان کو ان کا “مالک” نہیں بلکہ “خلیفہ” بنایا گیا ہے۔ جب انسان خود کو مالک سمجھنے لگتا ہے تو وہ لازماً دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے، جبکہ جب وہ خود کو خلیفہ سمجھتا ہے تو اس کے اندر امانت داری، عدل اور تقسیم کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو توحید اور شرک کے درمیان حد فاصل بن جاتا ہے۔ توحید انسان کو جواب دہی کا احساس دیتی ہے، جبکہ شرک یا کفر اسے خود مختار اور بے لگام بنا دیتا ہے۔

دوسرا مرحلہ تاریخِ انبیاءؑ کا ہے، جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر نبیؑ کی دعوت کا ایک اہم پہلو معاشی و سماجی عدل کا قیام بھی تھا۔ مثال کے طور پر حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ اور حضرت صالحؑ کی اقوام میں طاقتور طبقات نے وسائل پر قبضہ کر رکھا تھا اور کمزوروں کو محروم رکھا جاتا تھا۔ انبیاءؑ نے صرف عقیدہ کی اصلاح نہیں کی بلکہ اس استحصالی نظام کو بھی چیلنج کیا۔ اسی طرح حضرت شعیبؑ کی قوم میں ناپ تول میں کمی اور معاشی ظلم عام تھا، جسے قرآن نے صراحت سے بیان کیا۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ باطل صرف نظریہ نہیں بلکہ ایک معاشی و سماجی نظام بھی ہوتا ہے جو ظلم پر قائم ہوتا ہے۔

تیسرا مرحلہ حضرت موسیٰؑ اور فرعون کے واقعے میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ فرعون محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک مکمل استعماری نظام کی علامت ہے جو وسائل، اقتدار اور انسانوں کو اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کی، لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کیا اور ایک طبقے کو کمزور بنا کر رکھا۔ یہاں “کفر” صرف اللہ کا انکار نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو طاقت کے بل پر وسائل پر قبضہ کرتا ہے اور کمزوروں کو غلام بنا دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں حضرت موسیٰؑ کی جدوجہد دراصل اسی قبضے کو ختم کر کے عدل قائم کرنے کی کوشش تھی، اسی لیے اسے “حق” قرار دیا گیا۔

چوتھا مرحلہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں نظر آتا ہے جہاں مکہ کے سرداروں کی مخالفت کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ اسلام ان کے معاشی مفادات کو خطرے میں ڈال رہا تھا۔ سود، ذخیرہ اندوزی، اور کمزوروں کا استحصال ان کے نظام کا حصہ تھا۔ اسلام نے آ کر زکوٰۃ، انفاق، اور عدل کی بنیاد رکھی، جس سے وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تصور پیدا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ قریش کی مزاحمت صرف مذہبی نہیں بلکہ معاشی بھی تھی۔ انہوں نے اس پیغام کو اس لیے رد کیا کیونکہ یہ ان کے قبضے کو چیلنج کر رہا تھا۔

پانچواں مرحلہ تاریخِ معصومینؑ میں واضح ہوتا ہے، خاص طور پر حضرت علیؑ کے دورِ خلافت میں۔ آپؑ نے بیت المال کی تقسیم میں مکمل مساوات قائم کی اور کسی کو اس کی حیثیت یا قبیلے کی بنیاد پر فوقیت نہیں دی۔ اس عدل نے ان طبقات کو ناراض کیا جو وسائل پر خصوصی قبضہ چاہتے تھے۔ اسی طرح امام حسینؑ کا قیام بھی صرف ایک سیاسی بغاوت نہیں تھا بلکہ یزیدی نظام کے خلاف تھا جو دین کے نام پر ظلم، استحصال اور وسائل پر قبضے کو جائز بنا رہا تھا۔ امام حسینؑ نے اس باطل نظام کو بے نقاب کیا اور حق کے معیار کو واضح کیا۔

چھٹا مرحلہ روایاتِ معصومینؑ میں ملتا ہے جہاں بار بار یہ تاکید کی گئی ہے کہ ظلم صرف کسی کو مارنا یا اذیت دینا نہیں بلکہ کسی کے حق کو چھین لینا بھی ظلم ہے۔ وسائل پر ناجائز قبضہ، ذخیرہ اندوزی، اور دوسروں کو محروم رکھنا— یہ سب باطل کے مظاہر ہیں۔ امام علیؑ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس ضرورت سے زیادہ ہو اور کوئی دوسرا بھوکا ہو تو یہ معاشرتی ظلم ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حق و باطل کی تقسیم میں معاشی انصاف ایک بنیادی معیار ہے۔

آخری مرحلہ اس فکری نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ کیوں وسائل پر قبضہ کرنے والوں کو “باطل” اور انہیں چھڑانے والوں کو “حق” کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطل کی بنیاد خود غرضی، تکبر اور استحصال پر ہوتی ہے، جبکہ حق کی بنیاد عدل، امانت اور خدا کی حاکمیت کے اعتراف پر ہوتی ہے۔ جو قوتیں وسائل کو اپنی ملکیت سمجھ کر دوسروں کو محروم کرتی ہیں، وہ دراصل اللہ کی حاکمیت کو چیلنج کرتی ہیں، اس لیے وہ باطل ہیں۔ اور جو لوگ ان وسائل کو اللہ کی امانت سمجھ کر سب کے لیے عدل چاہتے ہیں، وہ حق پرست ہیں۔

یوں تاریخِ انبیاءؑ، قرآن، اور معصومینؑ کی تعلیمات یہ واضح کرتی ہیں کہ حق و باطل کی جنگ صرف عبادت گاہوں میں نہیں بلکہ معیشت، سیاست اور سماج کے ہر میدان میں جاری ہے۔ اصل معرکہ یہ ہے کہ زمین اللہ کی ہے یا طاقتوروں کی۔ جو اس زمین کو اللہ کی امانت سمجھ کر عدل قائم کرے، وہ حق پر ہے، اور جو اسے اپنی جاگیر بنا لے، وہ باطل کا نمائندہ ہے۔

جدید دور کی دنیا کو اگر اسی اصولی روشنی میں دیکھا جائے جو قرآن، تاریخِ انبیاءؑ اور معصومینؑ نے ہمیں دی ہے، تو واضح ہوتا ہے کہ آج کی عالمی سیاست، معیشت اور جنگیں دراصل اسی قدیم حق و باطل کی کشمکش کا تسلسل ہیں، البتہ اس کے مظاہر زیادہ پیچیدہ، منظم اور بعض اوقات خوشنما نعروں کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔ آج بھی اصل سوال وہی ہے کہ زمین اور اس کے وسائل کس کے لیے ہیں اور کس اصول کے تحت استعمال ہوں گے، مگر اس سوال کو اب “ترقی”، “جمہوریت”، “قومی مفاد” اور “عالمی استحکام” جیسے الفاظ میں لپیٹ دیا گیا ہے۔

جدید عالمی نظام میں بڑی طاقتیں بظاہر قانون، معاہدات اور اداروں کی بات کرتی ہیں، لیکن جب ہم گہرائی میں جاتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ دنیا کے اہم وسائل—تیل، گیس، معدنیات، پانی، اور اسٹریٹیجک راستے—چند طاقتور ممالک اور کارپوریشنز کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ کنٹرول براہِ راست قبضے کی صورت میں بھی ہوتا ہے اور بالواسطہ اثر و رسوخ، قرضوں، اور سیاسی دباؤ کے ذریعے بھی۔ یہ وہی فرعونی منطق ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا، فرق صرف یہ ہے کہ آج کا فرعون کسی ایک تخت پر بیٹھا ہوا شخص نہیں بلکہ ایک عالمی نظام ہے جو طاقت، میڈیا اور معیشت کے جال سے کام کرتا ہے۔

یہاں “کفر” اور “شرک” کی تعبیر بھی اپنے وسیع مفہوم میں سامنے آتی ہے۔ کفر صرف خدا کا انکار نہیں بلکہ اس حقیقت کو رد کرنا بھی ہے کہ وسائل اللہ کی امانت ہیں اور ان پر سب کا حق ہے۔ جب کوئی نظام یا طاقت یہ سمجھنے لگتی ہے کہ وہی وسائل کی مالک ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں مداخلت کر کے اپنے مفادات حاصل کرے، تو یہ دراصل اسی تکبر اور استغناء کا مظہر ہے جسے قرآن نے کفر کی روح قرار دیا۔ اسی طرح شرک کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ انسان طاقت، دولت یا ریاست کو مطلق اختیار کا حامل سمجھ لے، گویا وہی فیصلہ کن قوت ہے۔

جدید جنگوں کا جائزہ لیا جائے تو اکثر ان کے پس پردہ یہی وسائل کارفرما نظر آتے ہیں، چاہے انہیں سیکورٹی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، یا انسانی حقوق کے نام پر پیش کیا جائے۔ کسی خطے میں فوجی مداخلت ہو یا کسی ملک پر اقتصادی پابندیاں، اکثر اس کے پیچھے وسائل پر کنٹرول کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ اس تناظر میں جو قوتیں ان تسلطی نظاموں کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں، انہیں عموماً “باغی”، “دہشت گرد” یا “غیر ذمہ دار” قرار دیا جاتا ہے، جبکہ قرآن کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو اصل معیار یہ ہے کہ کون عدل قائم کرنا چاہتا ہے اور کون استحصال کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اسی طرح جدید معیشت میں سودی نظام، کارپوریٹ اجارہ داری، اور دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز بھی ایک نئے طرز کا استحصال ہے۔ یہ وہی عمل ہے جسے قرآن نے مختلف انداز میں منع کیا اور معصومینؑ نے اس کی شدید مذمت کی۔ جب ایک چھوٹا سا طبقہ دنیا کی بڑی دولت پر قابض ہو اور کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہوں، تو یہ محض معاشی عدم توازن نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی بحران ہے۔ یہاں بھی حق و باطل کی لکیر کھنچتی ہے کہ آیا نظام انسان کی خدمت کے لیے ہے یا انسان کو نظام کا غلام بنا دیا گیا ہے۔

جدید دور کا ایک اہم پہلو میڈیا اور بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ اب صرف وسائل پر قبضہ کافی نہیں بلکہ ذہنوں پر قبضہ بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لیے حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے، ظلم کو جائز اور مزاحمت کو مجرمانہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ وہی “نفاق” کا پہلو ہے جس میں حقیقت کو چھپا کر ایک جھوٹی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ قرآن نے منافقین کی جو صفات بیان کی ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ وہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا کر دکھاتے ہیں، اور آج کا میڈیا وار اسی کی ایک جدید شکل معلوم ہوتا ہے۔

تاہم اس سارے منظرنامے میں امید کی کرن بھی وہی ہے جو تاریخِ انبیاءؑ میں نظر آتی ہے۔ ہر دور میں کچھ افراد، تحریکیں اور قومیں ایسی ہوتی ہیں جو اس استحصالی نظام کو چیلنج کرتی ہیں، چاہے وہ کمزور ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی جدوجہد بظاہر محدود ہوتی ہے لیکن اس کا اخلاقی وزن بہت زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ عدل، امانت اور انسانی کرامت کے اصول پر کھڑی ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جو انہیں “حق” کے دائرے میں لاتے ہیں، چاہے دنیا انہیں کسی بھی نام سے پکارے۔

اس طرح جدید دنیا میں وسائل کی جنگ کو اگر قرآن اور معصومینؑ کی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی یا ترقی نہیں بلکہ انسان کا رویہ اور اس کا عقیدہ ہے۔ جب تک انسان خود کو مالک سمجھتا رہے گا، باطل کے نظام مختلف شکلوں میں سامنے آتے رہیں گے، اور جب وہ خود کو امانت دار اور خدا کے سامنے جواب دہ سمجھے گا تو حق کی جدوجہد بھی جاری رہے گی۔ یہی وہ فکری معیار ہے جس کے ذریعے ہم آج کے پیچیدہ عالمی حالات کو سمجھ سکتے ہیں اور یہ پہچان سکتے ہیں کہ حقیقی کامیابی کس کے ساتھ ہے، چاہے وقتی طور پر طاقت کا توازن کچھ بھی نظر آئے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2786

ٹیگز

تبصرے