3

*صفین سے اسلام آباد تک*

  • نیوز کوڈ : 2789
  • 11 April 2026 - 16:40
*صفین سے اسلام آباد تک*

*صفین سے اسلام آباد تک*

لاحول ولاقوۃ الاباللہ العلی العظیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اللھم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجھم اجمعین

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

جنگِ صفین اسلامی تاریخ کا وہ مرحلہ ہے جہاں طاقت، سیاست، اور اصولی قیادت ایک انتہائی پیچیدہ امتحان میں داخل ہو گئے۔ اس جنگ میں حضرت علیؑ اور امیر معاویہ کے درمیان تصادم بظاہر ایک سیاسی اختلاف تھا، لیکن اپنی گہرائی میں یہ اس سوال سے جڑا ہوا تھا کہ اسلامی ریاست کی بنیاد عدل اور اصول پر ہو گی یا طاقت اور سیاسی مصلحت پر۔ جیسے جیسے جنگ طول پکڑتی گئی، دونوں طرف سے جانی نقصان بڑھتا گیا اور جنگ ایک ایسے مرحلے تک پہنچ گئی جہاں امام علیؑ کو  واضح عسکری فتح قریب دکھائی دینے لگی۔ اسی مرحلے پر ایک ایسا سیاسی اور نفسیاتی اقدام سامنے آیا جس نے جنگ کی سمت بدل دی، اور وہ باطل کی طرف سے قرآن کو نیزوں پر بلند کرنے کا واقعہ تھا، جس نے “تحکیم” یعنی ثالثی کے عمل کو جنم دیا۔

تحکیم کی ضرورت بظاہر اس دلیل کے تحت پیش کی گئی کہ مسلمان ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں اور فیصلہ اب تلوار کے بجائے کتابِ الٰہی کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن سیاسی حقیقت یہ تھی کہ یہ اقدام جنگ کے اس نازک موڑ پر کیا گیا جب میدانِ جنگ میں طاقت کا توازن امام علیؑ کی طرف جھک رہا تھا۔ اس طرح تحکیم ایک طرف امن کی اپیل بھی تھی اور دوسری طرف ایک انتہائی مؤثر نفسیاتی حربہ بھی، جس نے جنگی جذبے کو کمزور کر دیا اور ایک اصولی عسکری برتری کو سیاسی مذاکرات میں بدل دیا۔ حضرت علیؑ کے لشکر میں ایک بڑا حصہ اس نعرے سے متاثر ہوا کہ “فیصلہ اللہ کی کتاب سے ہونا چاہیے”، اور انہوں نے جنگ جاری رکھنے کو اخلاقی طور پر مشکوک سمجھنا شروع کر دیا، حالانکہ جنگی میدان میں فیصلہ قریب تر تھا۔

یہی وہ نفسیاتی موڑ تھا جہاں جنگ کا رخ بدل گیا۔ جنگی نفسیات میں جب ایک فریق میں اخلاقی ابہام پیدا کر دیا جائے تو اس کی عسکری قوت کمزور پڑ جاتی ہے، چاہے وہ میدان میں برتر ہی کیوں نہ ہو۔ تحکیم نے حضرت علیؑ کے لشکر میں داخلی تقسیم کو ابھارا اور جنگی تسلسل کو متاثر کیا۔ اس موقع پر فیصلہ یہ ہوا کہ دونوں طرف سے ایک ایک حکم (arbitrator) مقرر کیا جائے تاکہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو۔ لہذا ابو موسیٰ اشعریؓ اور عمرو بن العاص کو منتخب کیا گیا۔

ابو موسیٰ اشعریؓ اپنی نیک نیتی، سادگی اور امن پسندی کے لیے معروف تھے۔ ان کا بنیادی رجحان جنگ سے بچنے اور امت میں اتحاد پیدا کرنے کی طرف تھا۔ لیکن سیاسی بصیرت اور طاقت کے کھیل میں ان کی شخصیت ایک مختلف چیلنج بن گئی، کیونکہ وہ ایک ایسے ماحول میں داخل ہوئے جہاں دوسرا فریق نہایت چالاک، تجربہ کار، حکمت عملی میں ماہر اور سیاسی چالوں سے بخوبی واقف تھا۔ عمرو بن العاص ایک ایسے سیاستدان تھے جو طاقت، ریاستی مفاد، اور مذاکراتی حکمت عملی کو ایک فن کی طرح استعمال کرتے تھے۔ تحکیم کے عمل میں یہی فرق فیصلہ کن ثابت ہوا۔

روایات کے مطابق جب دونوں ثالثوں کی ملاقات ہوئی تو معاملہ اس بات پر آ کر ٹھہرا کہ حضرت علیؑ اور امیر معاویہ دونوں کو خلافت کے منصب سے الگ کر کے معاملہ امت کے نئے انتخاب پر چھوڑ دیا جائے۔ ابو موسیٰ اشعریؓ نے اپنی سادہ نیت کے مطابق اعلان کیا کہ دونوں فریقین کو دستبردار کر دینا چاہیے تاکہ نئی شروعات ہو سکے، جبکہ عمرو بن العاص نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابو موسیٰ کے اعلان کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ علیؑ نے پہلے دستبرداری اختیار کی ہے، اس لیے وہ بھی “علیؑ” کو  خلافت سے علیحدہ کرتے ہیں لیکن امیر معاویہ کو اس نظام کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ اس سیاسی چال نے ثالثی کے نتائج کو مکمل طور پر ایک فریق کے حق میں موڑ دیا۔

یہاں سے جنگ کا عسکری پہلو سیاسی شکست میں بدل گیا۔ حضرت علیؑ کا موقف اصولی اور اخلاقی بنیادوں پر مضبوط تھا، لیکن سیاسی میدان میں جہاں چالاکی، تدبیر اور طاقت کا استعمال فیصلہ کن ہوتا ہے، وہاں یہ اصولی سادگی ایک کمزوری کے طور پر استعمال کی گئی۔ ابو موسیٰ اشعریؓ کا کردار اس تناظر میں ایک ایسے شخص کا نظر آتا ہے جو نیک نیتی سے امن کی کوشش کر رہا تھا، مگر طاقت کی سیاست میں تجربہ اور حکمت عملی کے فقدان اور دشمن کی چالاکی نے نتیجہ بدل دیا۔ دوسری طرف عمرو بن العاص نے اس عمل کو ایک مکمل سیاسی حکمت عملی میں تبدیل کر دیا جس کا فائدہ باطل کو پہنچا۔

نفسیاتی طور پر یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں جیتی جاتی بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ جب ایک لشکر کے اندر اخلاقی تذبذب پیدا کر دیا جائے اور قیادت کے فیصلے کو مذہبی نعرے کے ذریعے چیلنج کر دیا جائے تو اس کی جنگی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔ تحکیم نے حضرت علیؑ کے لشکر میں یہی نفسیاتی دراڑ پیدا کی، جس کے اثرات بعد میں بھی برقرار رہے اور داخلی اختلافات کو جنم دیا۔ اس کے برعکس دوسری طرف ایک مربوط سیاسی حکمت عملی نے اپنے مقصد کو بتدریج آگے بڑھایا۔

سیاسی طور پر دیکھا جائے تو تحکیم نے جنگ کو فوری طور پر ختم ضرور کیا، لیکن اس نے مسئلے کو حل نہیں کیا بلکہ اسے ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل کر دیا، جہاں امت کی وحدت مزید کمزور ہو گئی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جب اصولی قیادت کو ایسے میدان میں لے جایا جائے جہاں سیاسی چالاکی فیصلہ کن عنصر ہو، تو وہاں اکثر نتیجہ طاقت کے بجائے حکمتِ عملی کے حق میں نکلتا ہے، چاہے اخلاقی برتری کسی اور کے پاس ہی کیوں نہ ہو۔

یوں صفین اور تحکیم کا پورا واقعہ اس بات کی تاریخی مثال بن جاتا ہے کہ جنگ، سیاست اور نفسیات جب ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جائیں تو فیصلہ صرف طاقت نہیں کرتی بلکہ ادراک، تدبیر اور داخلی اتحاد بھی برابر کے اہم عوامل بن جاتے ہیں۔

اگر پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار اور ایران و امریکہ کے درمیان جنگ بندی جیسے حساس سیاسی عمل کو تاریخِ اسلام کے تناظر میں دیکھا جائے تو سب سے زیادہ علامتی اور فکری طور پر بامعنی مثال جنگِ صفین اور واقعۂ تحکیم ہی کی نظر آتی ہے۔ تاہم اس قسم کی تاریخی تطبیق کرتے وقت یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ تاریخ اپنے سیاق و سباق میں ہمیشہ منفرد ہوتی ہے، اور اسے مکمل طور پر جدید سیاسی صورتحال پر منطبق کرنا ایک حد تک تشبیہی اور فکری عمل ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسانی سیاست میں طاقت، ثالثی، اور فیصلہ سازی کے عمل میں کچھ ایسے مستقل نفسیاتی اور سیاسی نمونے (patterns) ضرور پائے جاتے ہیں جو زمان و مکان بدلنے کے باوجود دہرائے جاتے رہتے ہیں۔

جنگِ صفین اسلامی تاریخ کا وہ مرحلہ ہے جہاں حق و باطل کا تصادم عسکری سطح سے آگے بڑھ کر سیاسی حکمت عملی اور نفسیاتی جنگ میں داخل ہو گیا تھا۔ حضرت علیؑ کی قیادت میں ایک ایسا نظامِ عدل قائم تھا جو اصول اور حقانیت کو مرکز بناتا تھا، جبکہ دوسری طرف ایک ایسا سیاسی بلاک تھا جو ریاستی طاقت اور اقتدار کے تسلسل کو بنیادی اہمیت دیتا تھا۔ جب جنگ اپنے فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچی تو قرآن کو نیزوں پر بلند کر کے ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کی گئی جس کا مقصد جنگ کو ختم کرنا اور فیصلہ میدانِ جنگ کے بجائے ثالثی کے ذریعے منتقل کرنا تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں “تحکیم” کا تصور پیدا ہوا، جو بظاہر ایک امن کی کوشش تھی لیکن اپنے اندر گہرے سیاسی اور نفسیاتی اثرات رکھتی تھی۔

تحکیم کے عمل میں ابو موسیٰ اشعریؓ کا کردار اسلامی تاریخ میں ہمیشہ بحث و تمحیص کا موضوع رہا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق وہ ایک ایسے شخص کے طور پر سامنے آئے جن کی نیت امن قائم کرنا اور امت کو خونریزی سے بچانا تھا، لیکن سیاسی بصیرت اور طاقت کے کھیل میں ان کی سادگی یا غیر جارحانہ حکمتِ عملی کو ایک ایسے موقع پر استعمال کیا گیا جہاں فیصلہ زیادہ پیچیدہ اور منظم سیاسی حکمت کا متقاضی تھا۔ اس کے مقابلے میں عمرو بن العاص جیسے سیاسی طور پر انتہائی ماہر و مکار کردار موجود تھے جنہوں نے ثالثی کے عمل کو مکمل طور پر سیاسی حکمت عملی کے ذریعے باطل کے حق میں ڈھال دیا۔ نتیجتاً یہ تحکیم ایک ایسے نتیجے پر پہنچی جس نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کر دیا اور امت میں فکری و سیاسی تقسیم کو گہرا کر دیا۔

حضرت علیؑ کی مظلومیت اس تناظر میں اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ وہ ایک اصولی اور اخلاقی جنگ لڑ رہے تھے، جہاں مقصد اقتدار نہیں بلکہ عدل کا قیام تھا، لیکن سیاسی دنیا میں اکثر اوقات اصولی مؤقف رکھنے والے فریق کو اُن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں طاقت کا کھیل اخلاقی سادگی کو سیاسی پیچیدگیوں میں الجھا دیتا ہے۔ تحکیم کا واقعہ اسی حقیقت کی ایک تاریخی مثال بن جاتا ہے کہ جب فیصلہ اصول کے بجائے سیاسی دباؤ اور ثالثی کے غیر متوازن عمل کے ذریعے کیا جائے تو اس کے نتائج اکثر اصل مقصد سے ہٹ کر نکلتے ہیں۔

اگر اسی زاویے سے جدید بین الاقوامی ثالثی، مثلاً پاکستان کے ممکنہ کردار کو دیکھا جائے تو یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ثالثی بذاتِ خود ہونا تو غیر جانبدار چاہے مگر یہاں پر یہ  نہ تو حق ہوتی ہے نہ باطل، بلکہ یہ اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ثالثی کا فریم ورک کس طاقت کے توازن، کس معلوماتی برتری، اور کس سیاسی دباؤ کے تحت تشکیل دیا جا رہا ہے۔ صفین کے واقعے سے جو بنیادی سبق سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ محض جنگ روک دینا ہمیشہ مسئلے کا حل نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات فیصلہ وقتی طور پر مؤخر ہو کر زیادہ پیچیدہ سیاسی مساوات پیدا کر دیتا ہے۔ اسی لیے ثالثی کے عمل میں سب سے اہم چیز انصاف، شفافیت اور فریقین کے درمیان حقیقی برابری ہوتی ہے، ورنہ ثالثی ایک سیاسی ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔

اس تاریخی تناظر میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کسی بھی موجودہ تنازعے میں ثالثی کا عمل اگر طاقت کے غیر متوازن ماحول میں ہو تو وہ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے صرف اس کی شکل بدل دیتا ہے۔ صفین اور تحکیم کا واقعہ یہی بتاتا ہے کہ نیت خواہ کتنی ہی خیر خواہانہ کیوں نہ ہو، اگر سیاسی حکمت عملی اور طاقت کے توازن کو نظر انداز کر دیا جائے تو نتائج اصل مقصد سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے تاریخ ایک فکری احتیاط بھی سکھاتی ہے کہ ہر ثالثی کو محض امن کا راستہ سمجھنے کے بجائے اس کے پس منظر، اس کے دباؤ، اور اس کے ممکنہ نتائج کو بھی گہرائی سے سمجھا جائے۔

تاہم اس پورے فکری تجزیے میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ تاریخ کو کسی ایک موجودہ قوم یا فریق کے خلاف حتمی اخلاقی فیصلہ دینے کے لیے استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ حق و باطل کا فیصلہ تاریخ کے کسی ایک واقعے یا کسی ایک سیاسی فریم میں ہمیشہ کے لیے مقید نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی فکر میں اصل اہمیت اصولوں، عدل، اور نیت کی ہے، نہ کہ صرف تاریخی کرداروں کی نقل یا ان کی سادہ تقسیم۔ اسی لیے صفین کا سبق یہ نہیں کہ ہر ثالثی غلط ہوتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہر ثالثی کو اس کے سیاسی و اخلاقی سیاق میں سمجھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انصاف کسی بھی طاقت کے دباؤ میں قربان نہ ہو۔

اس طرح دیکھا جائے تو ماضی اور حال کے درمیان تعلق ایک سادہ مماثلت کا نہیں بلکہ فکری بصیرت کا ہے، جہاں تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ امن اور انصاف کا راستہ صرف اس وقت پائیدار بنتا ہے جب وہ حق  و باطل کی تفریق، طاقت کے توازن، اخلاقی دیانت، اور حقیقی انصاف کے ساتھ جڑا ہو، ورنہ وہ محض ایک وقتی وقفہ بن کر رہ جاتا ہے جو مستقبل میں مزید پیچیدہ مسائل کو جنم دیتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2789

ٹیگز

تبصرے