1

اسلامی تعلیمات میں صلح، معاہدہ اور عہد شکنی کا اصول

  • نیوز کوڈ : 2778
  • 11 April 2026 - 15:01
اسلامی تعلیمات میں صلح، معاہدہ اور عہد شکنی کا اصول

اسلامی تعلیمات میں صلح، معاہدہ اور عہد شکنی کا اصول

تحریر : سید عمار حیدر زیدی قم

حالات حاضرہ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بعض لوگوں کے ذھنوں میں سوال اٹھ رہا ہے کہ ایران نے آخر صلح کیوں قبول کی، جب کہ سب اس بات سے واقف ہیں کہ امریکہ اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتا دھوکے باز ہے ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہاں میں نے سوچا کہ اس بارے میں قرآن کریم کا حکم بیان کروں تاکہ کچھ حد تک آپ احباب کو تسلی ہو سکے۔

 اسلامی تعلیمات میں بین الاقوامی تعلقات کا بنیادی اصول امن، انصاف اور معاہدے کی پاسداری ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر کوئی قوم یا گروہ جنگ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں اور امن کی خواہش رکھتے ہوں، تو مسلمانوں کی ذمہ داری بھی یہی بنتی ہے کہ وہ صلح کو ترجیح دیں۔ اسلام جنگ کو مقصد نہیں بلکہ آخری مجبوری سمجھتا ہے۔

1) صلح کی پیشکش کرنے والوں کے ساتھ رویہ

اگر کوئی فریق جنگ نہیں چاہتا اور امن و مصالحت کا ہاتھ بڑھاتا ہے، تو قرآن اس صلح کو قبول کرنے کا حکم دیتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی سورہ انفال آیت 61 میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:

فَإِنْ جَنَحُوا لِلسِّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ

ترجمہ:

“اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو۔”

2) جو لوگ جنگ نہیں کرتے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک

قرآن انہیں روکنے سے منع کرتا ہے جو نہ اہلِ ایمان سے لڑتے ہیں اور نہ انہیں ان کے گھروں سے نکالتے ہیں اس بارے میں سورہ مبارکہ الممتحنہ آیت 8 میں ارشاد رب العزت ہوتا ہے :

لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ

ترجمہ:

“اللہ تمہیں ان لوگوں کے بارے میں منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے معاملے میں نہیں لڑے اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، کہ تم ان کے ساتھ نیکی کرو اور انصاف سے پیش آؤ۔”

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کا رویہ صرف دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ حقیقتِ حال کو دیکھ کر معاملات طے کیے جاتے ہیں۔ جو امن سے رہیں، اسلام ان کے ساتھ عدل چاہتا ہے۔

3) دھوکے اور عہد شکنی کا احتمال ہو تو کیا کیا جائے؟

اسلام صلح کو پسند کرتا ہے، مگر اندھی صلح نہیں۔ اگر واضح نشانیاں ہوں کہ دوسرا فریق معاہدہ توڑنے یا دھوکا دینے کا ارادے رکھتا ہے تو قرآن اس صورت میں محتاط رہنے کا حکم دیتا ہے سورہ انفال آیت 58 میں خداوند فرماتا ہے :

وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ

ترجمہ:

“اور اگر تمہیں کسی قوم کی جانب سے خیانت (عہد شکنی) کا خوف ہو تو ان کی طرف (معاہدہ) برابری کے طور پر پھینک دو۔”

یعنی صلح توڑنے کا فیصلہ بھی واضح، کھلا اور اعلان کے ساتھ ہو چھپا ہوا دھوکا نہیں۔

اس گفتگو میں اسلامی تعلیمات کے اہم نکات:

1 – جو جنگ نہیں چاہتے، ان سے جنگ نہیں کی جا سکتی۔

2 – صلح کی پیشکش کو قبول کرنا دینی حکم ہے۔

3 – امن قائم رکھنے والوں سے حسنِ سلوک اور انصاف کا مطالبہ ہے۔

4 – اگر دھوکے اور عہد شکنی کا یقینی اندیشہ ہو، تو دفاعی تیاری اور واضح اعلان کے ساتھ معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔

5 – اسلام نہ اندھے اعتماد کی تعلیم دیتا ہے، نہ اندھی دشمنی کی بلکہ حقیقت اور انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2778

ٹیگز

تبصرے