22

صہیونی ریاست کی مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی، لبنان پر صہیونی حملے اور مذاکرات پر سوالیہ نشان

  • نیوز کوڈ : 2775
  • 10 April 2026 - 16:08
صہیونی ریاست کی مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی، لبنان پر صہیونی حملے اور مذاکرات پر سوالیہ نشان

صہیونی ریاست کی مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی، لبنان پر صہیونی حملے اور مذاکرات پر سوالیہ نشان

ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے گفتگو میں زور دیا کہ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے جو 10 نکاتی خاکہ پیش کیا ہے، اس کی بنیادی شرط لبنان میں فوری جنگ بندی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق سے انکار، اور لبنان پر حملے کو طے شدہ فریم ورک کی کھلی خلاف ورزیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں جنگ بندی اور مذاکرات بے معنی ہو جاتے ہیں۔

اس دوران پاکستان نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ لبنان جنگ بندی کے دائرے سے باہر نہیں ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ لبنان پر حملوں کا معاملہ جنگ بندی کا حصہ نہیں، لیکن وزیر اعظم شہباز شریف نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ مکمل جنگ بندی کی پابندی کریں اور لبنان کے خلاف صہیونی حملے فوری طور پر روکے جائیں۔ واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔

یورپ سے بھی اسی طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ فرانس کے صدر امانوئل ماکرون اور اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے واضح کیا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہونا چاہیے۔ سانچز نے بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں اور بین الاقوامی قوانین سے اس قدر بے اعتنائی ناقابلِ برداشت ہے۔

ادھر ایران اور پاکستان کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے آغاز کے بارے میں بھی ابہام پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پہلے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایرانی مذاکراتی وفد، وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ رہا ہے، تاہم کچھ ہی دیر بعد یہ بیان حذف کر دیا گیا، جس سے سفارتی سطح پر غیر یقینی مزید بڑھ گئی۔

دوسری جانب امریکہ میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی جریدے نیوزویک کے مطابق ایک نئے سروے میں نصف سے زیادہ امریکیوں نے ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت کی ہے، جبکہ بعض ریپبلکن حلقوں میں بھی ان کے خلاف ناراضی بڑھ رہی ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی سابق حامی اور سابق رکن کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے بھی ان سے علانیہ لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگی پالیسی، اسرائیل کی حمایت، اور ٹرمپ کی حالیہ حکمت عملی کو اخلاقی و سیاسی انحراف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ٹیم کے وہ افراد جو خود کو مذہبی کہتے ہیں، انہیں خدا سے معافی مانگنی چاہیے اور اس پاگل پن کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2775

ٹیگز

تبصرے