3

*مشکل ایام ہی کامیابی کا زینہ ہیں*

  • نیوز کوڈ : 2766
  • 09 April 2026 - 0:35
*مشکل ایام ہی کامیابی کا زینہ ہیں*

*مشکل ایام ہی کامیابی کا زینہ ہیں*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

انسانی زندگی کے سفر میں کچھ دن ایسے آتے ہیں جو انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ وہ دن ہوتے ہیں جن میں مایوسی کی گھنگھور گھٹائیں چھائی ہوتی ہیں، دعائیں ساکت، آنکھیں نم، اور دل بےیقین ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہر در بند دکھائی دیتا ہے، ہر کوشش لاحاصل، اور ہر امید ماند پڑی محسوس ہوتی ہے۔ ان ہی دنوں میں انسان سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے، بےبس محسوس کرتا ہے، اور خود کو کھو بیٹھنے کے قریب تر دیکھتا ہے۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو یہی دن دراصل انسان کے اندر وہ گہرائیاں بیدار کرتے ہیں جن سے وہ پہلے ناآشنا ہوتا ہے۔ یہی شکست انسان کو خود سے ملواتی ہے، اپنی حدود، اپنی گہرائی، اپنی اصلیت اور اپنے رب سے تعلق کو جاننے کا موقع دیتی ہے۔

جس وقت انسان اپنے اندر کی مضبوطی کو پرکھتا ہے، وہ وقت کسی آرام و آسائش کے لمحے میں نہیں ہوتا بلکہ اسی لمحے ہوتا ہے جب وہ ٹوٹنے کے قریب ہوتا ہے۔ انسان کو اگر کبھی صبر، حوصلے، توکل، ایمان اور استقامت کی حقیقت کا عرفان نصیب ہوتا ہے تو وہ انہی آزمائشی لمحات میں ہوتا ہے۔ جو دن انسان کو توڑتے ہیں، وہی دن انسان کو بناتے ہیں کیونکہ وہ اس کی سطحی شخصیت کو توڑ کر اس کی اصلی شخصیت کو ابھارتے ہیں۔ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کی اصل طاقت صرف اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ہر خارجی سہارا ختم ہو جاتا ہے اور صرف اللہ باقی بچتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا وجود محض حالات کا پابند نہیں بلکہ اس میں وہ نورِ فطرت ہے جو ہر اندھیرے سے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جو آنسو انسان اکیلے بہاتا ہے، جو سجدے وہ ٹوٹے دل سے کرتا ہے، جو فریاد وہ بےکسی کے عالم میں کرتا ہے، وہی اس کی روح کو جِلا دیتے ہیں، اس کی شخصیت کو پختہ کرتے ہیں، اس کے ظرف کو وسیع کرتے ہیں، اور اسے اس مقام تک لے جاتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔ انسان ان دنوں سے گزر کر صرف بہتر نہیں بلکہ بلند تر ہو کر نکلتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جو دن تمہیں توڑتے ہیں، وہی دن تمہیں بناتے ہیں، کیونکہ وہ تمہیں خود پر بھروسا کرنا سکھاتے ہیں، اللہ کی طرف پلٹنے کی کیفیت دیتے ہیں، اور تمہاری شخصیت کو ایسے زاویے دیتے ہیں جو کبھی ممکن نہ ہوتے اگر زندگی صرف آسانی سے گزرتی۔

انسان کو بنانے کے لیے لازم ہے کہ وہ اندر سے پہلے پگھلے، جھکے، سمجھے اور سیکھے۔ آزمائش کے بغیر ارتقاء ممکن نہیں۔ خدا بھی اپنے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کے اخلاص اور صلاحیتوں کو کھول سکے۔ انبیاء، اولیاء، اور صالحین کی زندگیاں انہی دنوں سے بھری پڑی ہیں جو انہیں توڑنے آئے تھے، مگر ان دنوں نے ہی انہیں ایسا انسان بنا دیا جو زمانے کے لیے نمونہ بن گئے۔ پس کامیاب وہ نہیں جو کبھی نہ ٹوٹے، بلکہ کامیاب وہ ہے جو ٹوٹ کر بھی بکھرتا نہیں، بلکہ اپنے شکستہ وجود سے نئی عمارت تعمیر کرتا ہے۔ یہی فلسفہ ہے ان دنوں کا جو ہمیں توڑتے ہیں، تاکہ ہم اصل میں خود کو پہچان سکیں، اور بن سکیں وہ جو خدا چاہتا ہے۔

قرآن اور سیرتِ معصومینؑ اس حقیقت کو پوری بصیرت و حکمت کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کہ انسان کی تعمیر و ارتقاء کا راستہ آزمائشوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن میں بارہا فرماتا ہے کہ ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے: کبھی خوف سے، کبھی بھوک سے، کبھی جان و مال اور ثمرات کے نقصان سے، تاکہ معلوم ہو کہ تم میں سے کون صابر، مخلص اور صاحبِ بصیرت ہے۔ سورہ بقرہ کی ان آیات میں اللہ کے اس طریقِ تربیت کی جھلک ملتی ہے جو وہ اپنے خاص بندوں پر اپناتا ہے تاکہ وہ دنیا کے ہجوم سے کٹ کر خالص ہو سکیں، ان کی باطن کی گہرائیاں نکھر سکیں، اور وہ خود کو رب کی طرف لوٹانے کے لائق بنا سکیں۔ اگر اللہ چاہتا تو ہر نبی اور امام کی راہ کو آسان بنا دیتا، ہر دشمن کو فورا ہلاک کر دیتا، ہر مومن کو رفعتیں دے دیتا، مگر اللہ کا وعدہ یہ نہیں کہ وہ مومنین کو دنیا میں فورا کامیاب کرے گا بلکہ یہ ہے کہ وہ ان کے اندر وہ نور پیدا کرے گا جس سے وہ ہر حال میں حق پر ثابت قدم رہیں۔

حضرت ابراہیمؑ کی پوری حیات اسی الہی فلسفۂ ابتلاء کی تفسیر ہے۔ وہ وقت جب نمرود کی آگ ان کے لیے دہکائی گئی، جب گھر، قوم، حتیٰ کہ باپ نے انکار کیا، یہی وقت وہ تھا جس نے خلیل اللہ کو وجودِ انسانی کی بلندیوں پر فائز کیا۔ آگ نے جلایا نہیں، بلکہ انھیں الہی سکینت کے راز سے آشنا کیا۔ حضرت یوسفؑ کا قید خانہ یا حضرت موسیٰؑ کی تنہائی، حضرت عیسیٰؑ کی غربت اور حضرت نوحؑ کی صدیاں طویل دعوت، سب اسی امر کے گواہ ہیں کہ خدا کے منتخب بندے انہی دنوں میں پہچانے جاتے ہیں جن میں وہ دنیاوی لحاظ سے ٹوٹے ہوئے، کمزور اور بےیارو مددگار دکھائی دیتے ہیں، مگر روحانی حقیقت میں وہی زمانے کے معمار بن رہے ہوتے ہیں۔

سیرتِ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدنی دور تو مکمل طور پر اسی قانونِ الٰہی کا بیان ہے۔ ہجرت، شعب ابی طالب کی بھوک، غارِ حرا کی خلوت، جنگِ بدر کی بےسروسامانی، اُحد کی شکست، خندق کا محاصرہ، سب یہی دکھاتے ہیں کہ امت کی تربیت اور رسول کی عظمت کا معیار سہولت نہیں بلکہ استقامت اور آزمائش کی کسوٹی پر جانچا جاتا ہے۔ یہی مشقِ صبر، یہی استقامتِ شعور، یہی قربانی کا تسلسل دراصل شخصیتوں کی گہرائی کو جنم دیتا ہے اور امت کو وہ شعور عطا کرتا ہے جو صرف کتاب سے ممکن نہیں ہوتا۔

ائمہ اہل بیتؑ کی زندگیاں بھی اسی فکری نظم کی عملی تفسیر ہیں۔ امام علیؑ کا صبر اور خاموشی کا دور، امام حسنؑ کی صلح، امام حسینؑ کا قیام، امام سجادؑ کی گریہ زاری، امام باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کا علمی جہاد، سب اس بات کا بیّن ثبوت ہیں کہ ان ہستیوں نے کسی بھی لمحے شکست کو انجام نہیں مانا بلکہ ہر زخم کو ایک پیغام میں بدل دیا۔ ہر ظلم کو ایک شعور میں، ہر محرومی کو ایک مقصد میں اور ہر خاموشی کو ایک فریادِ الٰہی میں ڈھال دیا۔ ان کا ہر امتحان ایک راستہ کھولتا گیا، ایک نسل کو بیدار کرتا گیا، اور ہر آنسو علم و حریت کی ایک نئی جہت کی بنیاد بن گیا۔

قرآن اسی لیے کہتا ہے کہ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ( سورہ بقرہ آیت 216)، یعنی وہ جو تمہیں تکلیف دہ لگتا ہے، وہی تمہارے لیے خیر کا باعث ہو سکتا ہے۔ اور یہی حقیقت ہے جو اہل یقین کو باقی انسانوں سے ممتاز کرتی ہے، کہ وہ جانتے ہیں سختی کا وقت بھی رب کی تربیت کا حصہ ہے، وہ وقت ہے جب انسان یا تو بکھر جاتا ہے یا اپنے اصل مرکز کی طرف پلٹ آتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص یا قوم اپنی آزمائش کے لمحے کو پہچان لے، اسے گراں نہ سمجھے، بلکہ اپنی اندرونی تہذیب و تجدید کا موقع سمجھے، تو وہ لازماً کامیاب ہو گی۔

یہی روحانی فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ ٹوٹنا کوئی ناکامی نہیں، یہ تو بننے کا آغاز ہے۔ قرآن اور سیرت بتاتے ہیں کہ جو رات سب سے زیادہ اندھیری ہو، اس کے بعد ہی سحر آتی ہے، اور جو درد سب سے گہرا ہو، وہی شفاء کے راز سے آشنا کرتا ہے۔ پس آزمائش صرف امتحان نہیں بلکہ وہ الہٰی نظام ہے جس کے تحت انسان اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے، اپنی کمزوریوں سے سیکھتا ہے، اور اپنے رب کی طرف یوں پلٹتا ہے جیسے وہ اس کا تھا ہی نہیں۔ یہی رجوع، یہی صبر، یہی آزمائش دراصل انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ دنیا کے لیے نہیں، خدا کے لیے جیتا ہے، اور یہی وہ کامیابی ہے جو صدیوں کو بدل دیتی ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2766

ٹیگز

تبصرے