بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
انسانی وجود کی حقیقت کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انسان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، کیفیات اور باطنی ادراک کا ایک زندہ پیکر ہے۔ الفاظ تو محض ایک وسیلہ ہیں، ایک لباس ہیں جن کے ذریعے اندر کی دنیا ظاہر ہوتی ہے، مگر اصل حقیقت وہ باطنی کیفیت ہے جسے قرآن “قلب” کے نام سے یاد کرتا ہے۔ یہی قلب انسان کے ادراک، ایمان، محبت، خوف، خشوع اور اخلاص کا مرکز ہے۔ اگر یہ مرکز زندہ اور بیدار ہو تو معمولی سے الفاظ بھی اثر پیدا کرتے ہیں، اور اگر یہی مرکز مردہ ہو جائے تو بلند ترین اور فصیح ترین الفاظ بھی بے جان اور بے اثر ہو جاتے ہیں۔
قرآن مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ اصل اہمیت الفاظ کی نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود قلبی کیفیت کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: “لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ” یعنی اللہ تک نہ قربانی کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ یہاں عمل موجود ہے، الفاظ بھی موجود ہیں، مگر قرآن توجہ اس “احساسِ تقویٰ” کی طرف دلاتا ہے جو اس عمل کے پیچھے کارفرما ہے۔ اگر یہ احساس نہ ہو تو عمل ایک ظاہری رسم بن کر رہ جاتا ہے۔
اسی طرح قرآن منافقین کے بارے میں فرماتا ہے کہ وہ زبان سے وہی کہتے ہیں جو ایمان والے کہتے ہیں، مگر ان کے دل اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ “يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ”۔ یہ آیت اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ الفاظ کا حسن، ان کی درستگی یا ان کی کثرت انسان کو نجات نہیں دیتی، بلکہ اصل معیار وہ باطنی احساس اور سچائی ہے جو دل میں موجود ہو۔ جب دل خالی ہو تو زبان کی گواہی جھوٹ بن جاتی ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات بھی اسی نکتے کو بار بار واضح کرتی ہیں۔ روایت میں آتا ہے کہ “نیت مؤمن کے عمل سے بہتر ہے”۔ نیت دراصل ایک قلبی احساس اور باطنی کیفیت کا نام ہے۔ یہ وہ اندرونی رجحان ہے جو انسان کے عمل کو معنی دیتا ہے۔ اگر یہی نیت خالص ہو تو چھوٹا سا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے، اور اگر نیت میں کھوٹ ہو تو بڑے بڑے اعمال بھی بے وزن ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل حقیقت وہ احساس ہے جو عمل اور الفاظ کے پیچھے کارفرما ہے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا یہ قول بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ “دل تھک جاتے ہیں جیسے جسم تھکتے ہیں، پس ان کے لیے حکمت کے لطیف نکات تلاش کرو”۔ یہاں دل کی کیفیت، اس کی تازگی اور اس کے احساسات کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔ اگر دل زندہ ہو، اس میں احساس ہو، تو حکمت اثر کرتی ہے، ورنہ الفاظ محض معلومات بن کر رہ جاتے ہیں۔
احساسات کا فقدان دراصل انسان کے روحانی موت کی علامت ہے۔ قرآن ایسے لوگوں کے بارے میں کہتا ہے: “لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا” یعنی ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے پاس عقل یا زبان نہیں، بلکہ یہ کہ ان کے اندر وہ زندہ احساس نہیں جو حقیقت کو محسوس کر سکے۔ اسی لیے قرآن ایک اور مقام پر کہتا ہے کہ یہ لوگ مردہ ہیں، اگرچہ بظاہر زندہ نظر آتے ہیں۔
انسانی تعلقات میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اگر الفاظ محبت سے خالی ہوں تو وہ رسمی اور کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں، اور اگر دل میں اخلاص ہو تو سادہ سے الفاظ بھی دل میں اتر جاتے ہیں۔ ماں کی لوری، دوست کی تسلی، یا کسی مومن کی دعا—یہ سب الفاظ کے اعتبار سے شاید سادہ ہوں، مگر ان کے پیچھے موجود احساس انہیں مؤثر بنا دیتا ہے۔ اسی لیے روایات میں آیا ہے کہ مومن کے دل کو خوش کرنا ایک عظیم عبادت ہے، کیونکہ یہ عمل الفاظ سے بڑھ کر احساس کی سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔
دعا اور عبادت کی حقیقت بھی اسی اصول پر قائم ہے۔ اگر نماز میں الفاظ تو ادا کیے جائیں مگر دل حاضر نہ ہو تو وہ نماز روح سے خالی ہو جاتی ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ “اللہ ایسی نماز قبول نہیں کرتا جس میں دل حاضر نہ ہو”۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت کی اصل روح وہ احساسِ بندگی، خشوع اور حضور ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے، نہ کہ صرف زبان سے ادا کیے جانے والے کلمات۔
پس انسان کی اصل حقیقت اس کے احساسات میں مضمر ہے۔ الفاظ ان احساسات کا اظہار ہیں، ان کا بدل نہیں۔ جب احساسات سچے، پاکیزہ اور بیدار ہوں تو الفاظ نور بن جاتے ہیں، اور جب احساسات مردہ ہوں تو الفاظ تاریکی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام انسان کو بار بار اپنے “قلب” کی اصلاح کی دعوت دیتے ہیں، کیونکہ جب دل درست ہو جائے تو زبان خود بخود درست ہو جاتی ہے، اور جب دل خراب ہو جائے تو زبان کی خوبصورتی بھی انسان کو بچا نہیں سکتی۔
یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو انسان کی اخلاقی، روحانی اور سماجی زندگی کو سمجھنے کی کنجی فراہم کرتا ہے کہ اصل چیز احساس ہے، اور الفاظ اس کا سایہ۔ اگر سایہ کو اصل سمجھ لیا جائے تو حقیقت کھو جاتی ہے، اور اگر اصل کو پہچان لیا جائے تو سایہ بھی معنی خیز ہو جاتا ہے۔
انسانی ابلاغ کا پورا نظام، خواہ وہ تعلیم ہو، تربیت ہو، تبلیغ ہو یا ہدایت، درحقیقت دو دلوں کے درمیان ایک باطنی رابطے کا نام ہے۔ یہ صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ احساسات، نیتوں اور کیفیات کی منتقلی ہے۔ اگر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جائے تو سکھانے والا محض بولنے والا رہ جاتا ہے اور سننے والا محض سننے والا، مگر کوئی حقیقی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اسی لیے قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات میں ہمیشہ “قلب” کو مرکز بنایا گیا ہے، کیونکہ اصل تاثیر وہیں سے پیدا ہوتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں اگر استاد کے اندر حقیقی احساسِ ذمہ داری، شفقت اور اخلاص نہ ہو تو اس کے بہترین لیکچرز بھی طلبہ کے دلوں تک نہیں پہنچتے۔ قرآن مجید میں پیغمبر اکرم ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا: “لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ” یعنی آپؐ اس قدر غمگین ہوتے ہیں کہ گویا اپنی جان کو ہلاک کر ڈالیں گے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ یہ آیت تعلیم و تبلیغ کے اس اعلیٰ ترین احساس کو ظاہر کرتی ہے جس میں معلم یا مبلغ محض معلومات دینے والا نہیں بلکہ مخاطب کی ہدایت کے لیے دل سے تڑپنے والا ہوتا ہے۔ یہی تڑپ اس کے الفاظ کو زندگی بخشتی ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: “فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ” یعنی اللہ کی رحمت کے سبب آپؐ ان کے لیے نرم ہو گئے۔ یہاں تعلیم و تبلیغ کی کامیابی کا راز “نرمی” اور “رحمت” جیسے احساسات میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ محض منطقی استدلال یا فصاحت میں۔ اگر مخاطِب کے دل میں سختی ہو اور مخاطَب کے لیے دل میں کوئی خیرخواہی نہ ہو تو الفاظ دیوار سے ٹکرا کر واپس آ جاتے ہیں۔
مخاطَب کی ذمہ داری بھی اسی اصول کے تحت ہے۔ اگر سننے والے کے دل میں طلب، توجہ اور حقیقت کو قبول کرنے کا احساس نہ ہو تو بہترین ہدایت بھی اس پر اثر نہیں کرتی۔ قرآن کہتا ہے: “إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ” یعنی اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جس کے پاس دل ہو۔ یہاں “دل ہونا” صرف جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک بیدار احساس، ایک آمادہ کیفیت ہے جو ہدایت کو قبول کر سکے۔ اگر یہ کیفیت نہ ہو تو سننا بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے۔
اہل بیتؑ کی روایات میں بھی تعلیم و تربیت کو دلوں کے درمیان رابطے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ “لوگوں کو اپنی زبانوں کے علاوہ اپنے اعمال سے دعوت دو”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل تبلیغ الفاظ سے پہلے احساس اور کردار کے ذریعے ہوتی ہے۔ جب ایک معلم یا مبلغ کے اندر اخلاص، صداقت اور خیرخواہی کا احساس ہوتا ہے تو وہ اس کے چہرے، لہجے اور عمل سے جھلکتا ہے، اور یہی چیز مخاطَب کے دل کو متاثر کرتی ہے۔
ہدایت دینے کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ وہی ہوتی ہے جب الفاظ اور احساسات میں تضاد پیدا ہو جائے۔ اگر کوئی شخص خیرخواہی کے الفاظ تو استعمال کرے مگر دل میں برتری، تحقیر یا مفاد کا احساس ہو تو یہ تضاد فوراً محسوس ہو جاتا ہے اور مخاطَب کا دل بند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر مخاطَب کے دل میں ضد، تکبر یا بے نیازی ہو تو وہ بہترین نصیحت کو بھی رد کر دیتا ہے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کے بارے میں کہا کہ “ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم” یعنی پھر تمہارے دل سخت ہو گئے۔ دل کی یہ سختی دراصل احساسات کے مر جانے کا نام ہے، جہاں الفاظ کوئی اثر نہیں رکھتے۔
متوجہ کرنے کا عمل بھی اسی حقیقت کا محتاج ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کو کسی خیر کی طرف بلانا چاہے تو اسے پہلے اس کے دل تک رسائی حاصل کرنی ہوگی، اور یہ رسائی صرف احساسِ ہمدردی، احترام اور اخلاص کے ذریعے ممکن ہے۔ جب مخاطَب یہ محسوس کرے کہ کہنے والا اس کا خیرخواہ ہے، اس کی عزت کرتا ہے اور اس کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ورنہ نصیحت بھی مداخلت محسوس ہوتی ہے اور ہدایت بھی تنقید بن جاتی ہے۔
یوں سکھانے والا اور سیکھنے والا، تبلیغ کرنے والا اور سننے والا، ہدایت دینے والا اور قبول کرنے والا—سب ایک ہی باطنی نظام کا حصہ ہیں جس کی بنیاد “احساس” پر ہے۔ اگر اس نظام میں دونوں طرف سے احساس کی زندگی موجود ہو تو معمولی الفاظ بھی انقلاب برپا کر دیتے ہیں، اور اگر دونوں یا کسی ایک طرف یہ احساس مردہ ہو تو عظیم ترین خطابات بھی بے اثر رہ جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن و اہل بیتؑ انسان کو بار بار اپنے دل کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے ہیں، کیونکہ جب دل زندہ ہو جائے تو علم نور بن جاتا ہے، تبلیغ اثر بن جاتی ہے، اور ہدایت راستہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب دل مردہ ہو تو علم بوجھ بن جاتا ہے، تبلیغ شور بن جاتی ہے، اور ہدایت محض ایک آواز جو سنائی تو دیتی ہے مگر دل تک نہیں پہنچتی۔
مردہ احساسات کو زندہ کرنا کوئی ایک لمحے کا عمل نہیں بلکہ ایک تدریجی “احیاءِ قلب” ہے، جسے جدید نفسیات، نیورو سائنس اور تربیتی علوم بھی ایک مسلسل داخلی تربیت (inner training) قرار دیتے ہیں۔ جدید تحقیق اس بات کی تائید کرتی ہے کہ انسان کے احساسات جامد نہیں ہوتے بلکہ قابلِ تربیت ہوتے ہیں، کیونکہ دماغ میں موجود نظام — خصوصاً limbic system (جذباتی مرکز) اور prefrontal cortex (شعوری کنٹرول) — تجربات، توجہ اور عادتوں کے ذریعے دوبارہ ترتیب (neuroplasticity) پا سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر مردہ یا مدھم احساسات کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ایک منظم طریقہ اختیار کیا جائے۔
سب سے پہلا مرحلہ “احساس کی پہچان” ہے۔ جدید نفسیات اسے emotional awareness یا meta-awareness کہتی ہے۔ اکثر انسان کا مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس احساس نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے احساسات سے بے خبر ہوتا ہے۔ مسلسل مصروفیت، سوشل میڈیا، اور ذہنی انتشار انسان کو اپنے اندر جھانکنے نہیں دیتے۔ اس کے لیے روزانہ چند منٹ خاموشی میں بیٹھ کر اپنے اندر کے جذبات کو نام دینا، جیسے “میں بے حس کیوں ہوں؟ کیا میں تھکا ہوا ہوں؟ کیا میں خوفزدہ ہوں؟” — یہ عمل دماغ کے جذباتی حصے کو دوبارہ فعال کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جب ہم کسی احساس کو لفظ دیتے ہیں تو amygdala کی شدت کم ہوتی ہے اور شعوری کنٹرول بڑھتا ہے، جس سے احساس واضح اور قابلِ فہم بن جاتا ہے۔
دوسرا مرحلہ “تجرباتی بیداری” (experiential activation) ہے۔ احساسات صرف سوچ سے نہیں بلکہ تجربے سے زندہ ہوتے ہیں۔ جدید تھراپی جیسے behavioral activation یہ بتاتی ہے کہ اگر انسان جان بوجھ کر ایسے اعمال کرے جو معنی خیز ہوں — جیسے کسی کی مدد کرنا، فطرت میں وقت گزارنا، عبادت میں توجہ لانا، یا کسی دکھی انسان کے ساتھ بیٹھنا — تو آہستہ آہستہ دل میں احساس دوبارہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ یعنی پہلے عمل کرو، پھر احساس آئے گا۔ یہ اس عام غلط فہمی کو توڑتا ہے کہ “جب دل چاہے گا تب کریں گے”، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ “جب کریں گے تو دل چاہنے لگے گا”۔
تیسرا مرحلہ “توجہ کی تربیت” (attention training) ہے۔ جدید علوم کے مطابق احساسات کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم کس چیز پر توجہ دیتے ہیں۔ مسلسل اسکرین، تیز رفتار معلومات اور سطحی مواد انسان کی توجہ کو منتشر کر دیتے ہیں، جس سے گہرے احساسات مرنے لگتے ہیں۔ mindfulness یا “حاضر دماغی” کی مشق — جیسے سانس پر توجہ دینا، کسی عمل کو مکمل شعور کے ساتھ انجام دینا — دماغ کو دوبارہ گہرائی میں لے جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف ذہنی سکون پیدا ہوتا ہے بلکہ احساسات کی شدت اور وضاحت بھی بڑھتی ہے۔
چوتھا مرحلہ “معنی سازی” (meaning-making) ہے۔ جدید نفسیات، خصوصاً logotherapy (Viktor Frankl کا نظریہ)، اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسان کے احساسات اس کے “معنی” سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب زندگی بے مقصد محسوس ہو تو احساسات خود بخود مرنے لگتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اعمال، تعلقات اور جدوجہد کو ایک بڑے مقصد سے جوڑے۔ جب کوئی شخص اپنے کام کو خدمت، عبادت یا ایک اعلیٰ ہدف کے ساتھ جوڑتا ہے تو اس کے اندر احساسِ ذمہ داری، محبت اور جذبہ دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔
پانچواں مرحلہ “تعلقات کی بحالی” ہے۔ نیورو سائنس کے مطابق انسان کا دماغ “social brain” ہے، یعنی ہمارے احساسات دوسروں کے ساتھ تعلق میں پروان چڑھتے ہیں۔ mirror neurons ہمیں دوسروں کے جذبات کو محسوس کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ اگر انسان تنہائی، سطحی تعلقات یا مصنوعی روابط (جیسے صرف آن لائن انٹریکشن) میں مبتلا ہو جائے تو اس کے احساسات مدھم ہو جاتے ہیں۔ حقیقی گفتگو، ہمدردی، اور کسی کے ساتھ گہرے تعلق کا تجربہ احساسات کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔
چھٹا مرحلہ “روحانی ہم آہنگی” ہے، جسے جدید سائنس بھی اب تسلیم کرنے لگی ہے کہ spirituality انسان کے emotional regulation میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ دعا، ذکر، اور عبادت اگر شعور کے ساتھ کی جائے تو یہ limbic system کو سکون دیتی ہے، stress hormones کو کم کرتی ہے اور دل میں سکون و لطافت پیدا کرتی ہے۔ مگر یہاں بھی وہی اصول ہے: اگر یہ اعمال محض الفاظ تک محدود رہیں تو اثر کم ہوگا، اور اگر ان میں توجہ، احساس اور حضور شامل ہو تو یہ دل کو زندہ کر دیتے ہیں۔
ساتواں مرحلہ “تدریجی عادت سازی” (habit formation) ہے۔ جدید behavioral science کے مطابق چھوٹے مگر مسلسل اعمال دماغ میں نئے neural pathways بناتے ہیں۔ روزانہ تھوڑا سا غور و فکر، تھوڑی سی خدمت، تھوڑی سی خاموشی — یہ سب مل کر آہستہ آہستہ انسان کے اندر ایک نئی احساسی ساخت پیدا کرتے ہیں۔ یہ ایک دن یا ایک لیکچر سے نہیں بلکہ مسلسل مشق سے ہوتا ہے۔
لہذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مردہ احساسات دراصل مکمل موت نہیں بلکہ “دبے ہوئے امکانات” ہیں۔ جدید علوم یہی بتاتے ہیں کہ انسان کے اندر ہمیشہ تبدیلی کی صلاحیت موجود رہتی ہے۔ جب شعوری توجہ، بامقصد عمل، اور حقیقی تعلقات ایک ساتھ آ جائیں تو دل دوبارہ زندہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یوں انسان محض سوچنے والا نہیں بلکہ “محسوس کرنے والا” بن جاتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے حقیقی تبدیلی اور ہدایت کا سفر شروع ہوتا ہے۔
پس یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ الفاظ کی تاثیر کا دار و مدار دل کی زندگی پر ہے؛ زندہ دل ہو تو معمولی کلمات بھی انقلاب پیدا کر دیتے ہیں، اور مردہ دل ہو تو عظیم ترین خطابات بھی بے اثر رہتے ہیں۔ اسی لیے اصل جدوجہد الفاظ سنوارنے کی نہیں بلکہ احساسات جگانے کی ہے۔ جب قلب بیدار ہو جائے تو علم، عبادت اور تعلقات سب میں روح پیدا ہو جاتی ہے۔ یوں انسان حقیقی معنوں میں سننے، سمجھنے اور بدلنے کے قابل بن جاتا ہے۔
