24

*اختلاف کے وقت تہذیب اور شجاعت کی اصل حدِ فاصل*

  • نیوز کوڈ : 2757
  • 07 April 2026 - 18:51
*اختلاف کے وقت تہذیب اور شجاعت کی اصل حدِ فاصل*

*اختلاف کے وقت تہذیب اور شجاعت کی اصل حدِ فاصل*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

برِّصغیر کی تہذیب میں صدیوں سے ایک ایسا سماجی سانچہ بن گیا ہے جس میں نرمی، جھکاؤ، اور خاموشی کو اخلاق کا معیار سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ صاف گوئی، دو ٹوک انکار، اور کھلے اختلاف کو اکثر بدتمیزی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حق بات کہنے اور بداخلاق ہونے کے درمیان حقیقی فرق دھندلا جاتا ہے، اور لوگ اخلاق کے نام پر حق کو دبا دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ زبان یا لہجے کا نہیں بلکہ “حق” اور “نفس” کے درمیان حدِ فاصل کو نہ پہچاننے کا ہے۔

اسلام اس معاملے کو بہت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ قرآن ایک طرف “قولِ لین” یعنی نرم گفتگو کی تعلیم دیتا ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰؑ کو حکم دیا گیا کہ فرعون جیسے جابر کے سامنے بھی نرم انداز میں بات کریں، مگر اسی قرآن میں ظالم کے خلاف کھڑے ہونے، حق کو چھپانے سے منع کرنے، اور گواہی دینے میں کسی ملامت کی پروا نہ کرنے کا حکم بھی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں نرمی اور صراحت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک متوازن اخلاقی ترکیب ہیں۔ حق بات کہنا فرض ہے، مگر اس کا اسلوب ایسا ہو جو اصلاح کا دروازہ بند نہ کرے۔

یہاں بنیادی فرق نیت، اسلوب اور اثر میں ہے۔ جب انسان حق بات کہتا ہے تو اس کی نیت اصلاح ہوتی ہے، وہ دوسرے کو نیچا دکھانے یا اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے نہیں بولتا بلکہ حقیقت کو واضح کرنے کے لیے بولتا ہے۔ اس کے الفاظ میں وزن ہوتا ہے، دلیل ہوتی ہے، اور ایک طرح کا اخلاقی وقار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بداخلاقی میں انسان کا نفس غالب آ جاتا ہے، وہ سچ بھی کہے تو انداز ایسا ہوتا ہے جو تذلیل، تحقیر یا غصے سے بھرا ہوتا ہے، جس سے مقصد اصلاح کے بجائے فساد پیدا ہوتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اس فرق کو پہچاننے کے بجائے صرف “لہجے کی نرمی” کو معیار بنا لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بہت نرم انداز میں غلط بات کرے تو اسے مہذب سمجھا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص واضح اور دو ٹوک انداز میں حق بات کہے تو اسے بدتمیز کہا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام میں اصل معیار “حق” ہے، نہ کہ صرف “لہجے کی مٹھاس”۔ اگر لہجہ میٹھا ہو مگر بات باطل ہو تو وہ اخلاق نہیں، فریب ہے۔ اور اگر بات حق ہو مگر اسلوب میں سختی آ جائے، پھر بھی اگر وہ سختی تحقیر یا ظلم پر مبنی نہیں بلکہ ضرورتِ حال کے تحت ہے تو وہ بداخلاقی نہیں بلکہ شجاعت کے دائرے میں آ سکتی ہے۔

اہلِ بیتؑ کی سیرت اس نکتے کو اور واضح کرتی ہے۔ امام علیؑ نے اپنے خطبات میں کئی بار سخت الفاظ استعمال کیے، خاص طور پر جب وہ ظلم، نفاق یا خیانت کے خلاف بات کرتے تھے، مگر ان کا مقصد کبھی کسی کی تذلیل نہیں بلکہ حق کو واضح کرنا اور باطل کو بے نقاب کرنا تھا۔ اسی طرح امام حسینؑ کا یزید کے سامنے کھڑا ہونا ایک دو ٹوک انکار تھا، مگر اس میں کوئی بدتمیزی نہیں تھی، بلکہ ایک عظیم اخلاقی وقار اور حق کی پاسداری تھی۔ اگر صرف “نرمی” کو معیار بنایا جائے تو پھر تاریخ کے یہ عظیم ترین حق گو لوگ بھی غلط سمجھے جائیں گے، جو کہ خود ایک فکری انحراف ہے۔

اصل معمہ یہ ہے کہ ہم نے “ادب” کو ایک سماجی ہتھیار بنا دیا ہے جس کے ذریعے اختلاف کو دبایا جاتا ہے اور طاقت کے ڈھانچے کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بڑوں، اساتذہ، یا اختیار رکھنے والوں کے سامنے اختلاف کو بدتمیزی کہہ دینا دراصل ایک نفسیاتی اور سماجی دفاعی نظام ہے، تاکہ کوئی ان کے فیصلوں، رویوں یا غلطیوں کو چیلنج نہ کرے۔ یوں “تہذیب” ایک اخلاقی قدر کے بجائے ایک کنٹرول میکانزم بن جاتی ہے۔

اسلام اس کے برعکس ایک متوازن راستہ دیتا ہے۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ تم حق بات کہو، صاف کہو، مگر اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر کہو۔ تم اختلاف کرو، مگر انسان کی عزت کو پامال کیے بغیر کرو۔ تم انکار کرو، مگر اس انداز میں کہ تمہاری بات میں وزن اور اخلاق دونوں باقی رہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شجاعت اور بداخلاقی الگ ہو جاتی ہیں۔ شجاعت میں انسان اپنے خوف پر قابو پا کر حق کا اظہار کرتا ہے، جبکہ بداخلاقی میں انسان اپنے نفس کے ہاتھوں مغلوب ہو کر دوسروں کو زخمی کرتا ہے۔

لہٰذا سیدھی بات کرنا، صاف انکار کرنا، یا واضح اختلاف کرنا بذاتِ خود بدتمیزی نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ بات کس نیت سے، کس انداز میں، اور کس مقصد کے لیے کی جا رہی ہے۔ اگر مقصد حق اور اصلاح ہے اور اسلوب میں انسانی وقار باقی ہے تو وہ شجاعت ہے، چاہے سننے والے کو کڑوی لگے۔ اور اگر مقصد اپنی برتری جتانا یا دوسرے کو نیچا دکھانا ہے تو وہ بداخلاقی ہے، چاہے الفاظ کتنے ہی نرم کیوں نہ ہوں۔ یہی وہ باریک مگر بنیادی فرق ہے جسے سمجھے بغیر ہم نہ صحیح ادب قائم کر سکتے ہیں اور نہ ہی حقیقی حق گوئی۔

ایک پہلو جس کو نظر میں رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ اختلاف میں ہدف ایک ہونا، یعنی مقصدِ حیات، خدا، آخرت، عدل اور حق کے قیام پر مشترک ایمان رکھنا، خود ایک عظیم قدر ہے۔ مگر اسی مشترک ہدف کے باوجود تعبیر، فہم، اور عملی طریقۂ کار میں اختلاف پیدا ہونا انسانی فطرت کا لازمہ ہے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ اختلاف کیوں ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس اختلاف کو کس اخلاقی اور فکری دائرے میں رکھا جائے تاکہ وہ فساد کے بجائے رشد کا ذریعہ بنے۔ یہ ایک نہایت بنیادی اور باریک مسئلہ ہے جسے سمجھے بغیر نہ دینی وحدت قائم رہ سکتی ہے اور نہ ہی فکری دیانت۔

جب دو افراد یا گروہ مقصدِ حیات میں ہم آہنگ ہوں تو ان کا رشتہ صرف سماجی یا ذاتی نہیں رہتا بلکہ ایک “مشترک امانت” کا رشتہ بن جاتا ہے۔ اس امانت کا نام دین، حق، یا اقامۂ عدل ہے۔ اس سطح پر اختلاف کو ذاتی انا، برتری یا غلبے کے زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اسے “حقیقت تک پہنچنے کی مشترک کوشش” سمجھنا ضروری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نیت کا کردار مرکزی ہو جاتا ہے۔ اگر نیت واقعی حق تک پہنچنا ہے تو اختلاف دشمنی نہیں بنتا بلکہ مکالمہ بن جاتا ہے، اور اگر نیت اپنی رائے کو غالب کرنا ہو تو پھر ایک ہی ہدف رکھنے والے بھی ایک دوسرے کے حریف بن جاتے ہیں۔

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں اس کی واضح جھلک ملتی ہے۔ امام جعفر صادقؑ کے حلقۂ درس میں مختلف آراء رکھنے والے شاگرد موجود تھے، بعض اوقات ایک ہی مسئلے میں مختلف تعبیرات سامنے آتیں، مگر اس اختلاف کو برداشت کیا جاتا تھا کیونکہ سب کا مقصد حقیقت تک پہنچنا تھا۔ یہاں اختلاف کو “انحراف” قرار دینے کے بجائے “اجتہادی تنوع” کے طور پر دیکھا جاتا تھا، جب تک کہ وہ اصولی حدود کو نہ توڑے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں بنیادیں مشترک ہوں وہاں ہر اختلاف خطرہ نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات وہ فہمِ دین کو وسیع کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ہر اختلاف کو “حق و باطل” کی جنگ بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک دائرہ ایسا ہوتا ہے جہاں اختلاف “حق کے اندر” ہوتا ہے، یعنی دونوں فریق حق کے دائرے میں ہوتے ہیں مگر اس کی تعبیر یا تطبیق میں فرق رکھتے ہیں۔ اس صورت میں رویہ بالکل مختلف ہونا چاہیے۔ یہاں شدت، تکفیر، تحقیر یا بدگمانی نہ صرف اخلاقی خرابی ہے بلکہ خود حق کے خلاف ہے، کیونکہ وہ اس وحدت کو توڑ دیتی ہے جو اصل ہدف کے لیے ضروری ہے۔

ایسے اختلاف میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ انسان اپنے فہم کی محدودیت کو تسلیم کرے۔ کوئی بھی فرد یا گروہ دین کی مکمل اور حتمی تعبیر کا مالک نہیں ہوتا۔ یہ شعور انسان کو عاجزی دیتا ہے، اور وہ اپنی رائے کو “واحد حق” کے طور پر مسلط کرنے کے بجائے ایک ممکنہ فہم کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہی عاجزی اختلاف کو تصادم بننے سے روکتی ہے۔

دوسری اہم چیز یہ ہے کہ اختلاف کو “طریقہ” اور “وسائل” تک محدود رکھا جائے، اسے “نیت” اور “ایمان” تک نہ پھیلایا جائے۔ جب ہم کسی کی عملی روش یا اجتہادی رائے سے اختلاف کرتے ہیں تو ہمیں اس کی نیت پر حملہ کرنے کا حق نہیں ہوتا، جب تک کوئی واضح انحراف یا فساد سامنے نہ ہو۔ یہی وہ حد ہے جہاں اکثر لوگ غلطی کرتے ہیں، اور طریقے کے اختلاف کو ایمان کے اختلاف میں بدل دیتے ہیں۔

تیسری چیز یہ ہے کہ مکالمہ جاری رکھا جائے۔ اختلاف کو ختم کرنے کا واحد راستہ اسے دبانا نہیں بلکہ اسے صحیح دائرے میں رکھ کر اس پر بات کرنا ہے۔ دلیل، احترام، اور سننے کی صلاحیت اس عمل کا حصہ ہیں۔ یہاں “جیتنا” مقصد نہیں ہوتا بلکہ “سمجھنا” اور “سمجھانا” مقصد ہوتا ہے۔ اگر دونوں طرف یہ نیت ہو تو اختلاف آہستہ آہستہ یا تو کم ہو جاتا ہے یا کم از کم ایک قابلِ برداشت حد میں رہتا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ایک اہم توازن بھی ضروری ہے۔ وحدت کے نام پر ہر اختلاف کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔ اگر کسی تعبیر یا روش کے نتیجے میں واضح ظلم، انحراف یا دینی اصولوں کی پامالی ہو رہی ہو تو وہاں خاموشی درست نہیں۔ وہاں شجاعت کے ساتھ بات کرنا ضروری ہے، مگر اسی اخلاقی دائرے میں جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ یعنی حق گوئی ہو مگر تحقیر نہ ہو، اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو۔

یہ سارا توازن دراصل ایک گہرے اخلاقی شعور کا تقاضا کرتا ہے، جس میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم سب ایک بڑے مقصد کے مسافر ہیں۔ راستے میں اختلاف ہو سکتا ہے، رفتار مختلف ہو سکتی ہے، طریقے جدا ہو سکتے ہیں، مگر اگر منزل ایک ہے تو ایک دوسرے کو گرانا نہیں بلکہ سہارا دینا اصل ذمہ داری ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں شجاعت، تحمل، اور حکمت ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔

پس جہاں ہدف ایک ہو وہاں اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ امانت سمجھنا چاہیے۔ اس امانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم حق کی تلاش میں سنجیدہ رہیں، اپنی رائے پر نظرثانی کے لیے تیار رہیں، دوسرے کی نیت کو مثبت فرض کریں، اور اگر کہیں غلطی نظر آئے تو اسے درست کرنے کی کوشش کریں، مگر اس انداز میں کہ رشتہ ٹوٹنے کے بجائے مضبوط ہو۔ یہی وہ اسلامی اخلاق ہے جو اختلاف کو زہر بننے سے بچا کر اسے رشد اور بصیرت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2757

ٹیگز

تبصرے