27

*غیر مسلم میں فطری عقل و وجدان*

  • نیوز کوڈ : 2754
  • 06 April 2026 - 20:53
*غیر مسلم میں فطری عقل و وجدان*

*غیر مسلم میں فطری عقل و وجدان*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔

سید جہانزیب عابدی

غیر مسلم شخص میں حق و باطل کی شناخت اور انصاف کی پہچان ایک بنیادی انسانی صلاحیت کے طور پر عمل کرتی ہے، جو اللہ کی طرف سے دی گئی “فطری عقل، وجدان، اور ضمیر انسانی” پر مبنی ہے۔ یہ صلاحیت انسان کی خلقت کا حصہ ہے اور اسے بغیر کسی دینی یا شرعی تعلیم کے بھی عملی طور پر کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔ فطری عقل اس عمل میں اس طرح کام کرتی ہے کہ انسان اپنے تجربات، مشاہدات اور منطقی سوچ کے ذریعے یہ پرکھتا ہے کہ کون سا عمل یا بیان درست ہے اور کون سا غلط یا فریب پر مبنی ہے۔ یہ عقل کسی مذہبی احکام یا الہی وحی کے بغیر بھی انسان کو نتائج کی وجہ اور اثرات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

وجدان اور ضمیر انسانی اس عمل کو اخلاقی اور فطری پہلو فراہم کرتے ہیں۔ جب انسان کسی ظلم یا زیادتی کا سامنا کرتا ہے، تو اس کا وجدان اسے فطری طور پر یہ شعور دیتا ہے کہ یہ برائی ہے اور مظلوم کا حق پامال ہو رہا ہے۔ ضمیر انسانی اس احساس کو عملی تحریک میں بدل دیتا ہے، یعنی انسان نہ صرف ظلم کے خلاف سوچتا ہے بلکہ بعض اوقات اپنے ذاتی مفاد یا جان کی قربانی دے کر مظلوم کی مدد کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہ ضمیر اور وجدان وہ قدرتی نظام ہے جو انسان کی اخلاقی اور عملی استقامت کو مضبوط کرتا ہے اور اسے معاشرتی انصاف اور انسانی حقوق کی بنیاد پر عمل کرنے کی تحریک دیتا ہے۔

تزکیہ نفس کے عمومی یا غیر اسلامی اسلوب اس فطری شعور کو مضبوط اور مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ غیر مسلم انسان اگرچہ کسی دینی وحی یا شرعی اصول کے پابند نہیں ہوتا، لیکن اپنی عقل، تجربہ اور اخلاقی تربیت کے ذریعے اپنی نفسی کیفیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ اسلوب خود شناسی، رویوں کی تنقید، اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی پہچان، اور اخلاقی اور عملی احتیاط کے عادات پیدا کرنے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس طرح انسان اپنی فطری عقل، وجدان اور ضمیر کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے اور حق و باطل کے مابین تمیز پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔

یہ تمام کیفیات اور اسلوب مل کر غیر مسلم میں ایک “فطری اور اخلاقی تقوا” پیدا کرتے ہیں، جو عملی اور سماجی سطح پر انسانی انصاف، ذمہ داری اور ذاتی اخلاق کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ اگرچہ یہ دینی یا روحانی تقوا کے مقابلے میں محدود ہوتی ہے اور اس میں اللہ کی رضا اور وحی کا پہلو موجود نہیں ہوتا، لیکن یہ انسانی معاشرت، اخلاقی تعلقات اور ذاتی کردار کے لیے ایک مضبوط اور فعال فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس طرح غیر مسلم شخص اپنی عقل و وجدان اور تزکیہ نفس کے ذریعے حق و باطل، انصاف اور اخلاقی عمل میں فطری اور عملی استقامت حاصل کر سکتا ہے، جو اس کی زندگی اور سماجی تعلقات میں توازن پیدا کرتا ہے۔

قرآن اور احادیث معصومینؑ میں انسانی نفس، فطرت، عقل اور ضمیر کے حوالے سے ایسے اصول بیان کیے گئے ہیں جو غیر مسلم یا غیر مومن کے حق و باطل کی تمیز کی صلاحیت کی تشریح میں بھی مددگار ہیں۔ یہ آیات اور روایات واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بنیادی فطری شعور اور اخلاقی وجدان کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اس کے دینی یا غیر دینی ہونے کے باوجود حق و باطل اور انصاف کی پہچان میں مدد دیتا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “فَأَلْقَىٰ فِيهَا نَفْسَهَا وَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا” (سورۃ الشرح، 8-7)۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ نے ہر انسان کے اندر نفس اور فطری شعور ڈالا ہے اور اسے اپنی فطرت کے مطابق فلاح اور صلاح کی طرف ہدایت دینے کی استعداد عطا کی ہے۔ یہی فطری ہدایت انسان کے وجدان اور ضمیر کی بنیاد بن جاتی ہے، جو ظلم و زیادتی، فریب اور دھوکے کو پہچاننے میں اس کی مدد کرتی ہے۔ اس آیت کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر مسلم شخص بھی اپنی فطری عقل اور وجدان کی روشنی میں مظلوم کے حق اور ظالم کے باطل کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ صلاحیت اللہ کی تخلیق کا حصہ ہے، نہ کہ کسی خاص مذہب یا ایمان کی شرط۔

اسی طرح سورۃ البقرۃ میں اللہ فرماتا ہے: “وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ” (سورۃ البقرۃ، 16)۔ اس آیت میں انسان کے اندر موجود ضمیر اور نفسیاتی شعور کو بیان کیا گیا ہے، جو اس کے باطنی اور ظاہری اعمال کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یہی ضمیر انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ حق و باطل کی شناخت کرے، حتیٰ کہ اس کا ایمان یا مذہبی عقیدہ مختلف ہو۔

احادیث معصومینؑ میں بھی اس بات کی تصدیق ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں خیر و شر اور انصاف و ظلم کی پہچان کی صلاحیت رکھی ہے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: “قَلْبُ الْإِنْسَانِ مُهْتَمٌّ بِالْخَيْرِ وَالشَّرِّ وَمُلْهِمٌ بِهِمَا فِي نَفْسِهِ” (نهج البلاغہ، حکمت ۴۵۱)۔ اس حدیث میں انسانی قلب اور نفس کو ایک فکری اور اخلاقی مرکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو خود بخود اچھائی و برائی، حق و باطل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسان کے عملی فیصلوں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ اصول غیر مسلم کے حق و باطل کی تمیز میں بھی قابل اطلاق ہے کیونکہ وہ بھی اسی فطری قلب اور نفس کے زیر اثر غور و فکر اور عملی فیصلہ کرتا ہے۔

اسی طرح امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: “کُلُّ نَفْسٍ مُلْهَمَةٌ بِالْفِطْرَةِ عَلَى الْخَيْرِ، فَمَنْ اتَّبَعَهَا اهْتَدَى وَمَنْ غَفَلَ عَنْهَا أَضَلَّ” (الکافی، ج۱، ص ۳۵)۔ یہاں امامؑ فطرت کو بطور بنیاد حق و باطل کی شناخت اور عملی ہدایت کے لیے مرکزی قرار دیتے ہیں۔ یہ روایت واضح کرتی ہے کہ انسان کی فطری عقل اور وجدان اسے عملی اور اخلاقی فیصلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں، خواہ اس کا مذہبی عقیدہ کچھ بھی ہو۔ غیر مسلم انسان بھی اپنی فطرت اور اخلاقی شعور کے مطابق حق و باطل میں تمیز کرنے، انصاف کرنے اور حتیٰ کہ اپنی جان یا وسائل قربان کرنے کی تحریک حاصل کر سکتا ہے۔

مزید برآں، قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “أَلَمْ نَجْعَل لَهُ عَيْنَيْنِ وَاللِّسَانَ وَشَفَتَيْنِ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ” (سورۃ البلد، 8-7)۔ اس آیت میں انسانی عقل، مشاہدہ اور رہنمائی کی صلاحیت کی طرف اشارہ ہے۔ انسانی نفس اور وجدان کی یہ بنیادی ساخت غیر مسلم میں بھی عملی اور اخلاقی فیصلے کرنے، حق و باطل میں تمیز پیدا کرنے اور انصاف کے لیے عمل کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

نتیجتاً، قرآن اور روایات معصومینؑ یہ واضح کرتے ہیں کہ انسانی فطرت، ضمیر، عقل اور وجدان اللہ کی تخلیق کا حصہ ہیں اور یہ ہر انسان میں موجود ہیں، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ یہ صلاحیت انسان کو “حق و باطل کی پہچان، ظلم و انصاف کی تمیز، اور عملی اخلاقی فیصلے” کرنے کے قابل بناتی ہے۔ غیر مسلم شخص بھی اپنی فطری عقل اور وجدان کی بنیاد پر مظلوم کے حق میں قربانی دینے، حق و باطل میں تمیز کرنے، اور جھوٹ و دھوکے سے بچنے کے لیے عملی قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ یہ روحانی یا شرعی تقوا کی شکل میں مکمل نہیں ہوتی۔ اس طرح قرآن اور احادیث انسانی فطرت کے ذریعے غیر مسلم میں بھی حق و باطل کی شناخت اور اخلاقی شعور کے نفسیاتی متعلقات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2754

ٹیگز

تبصرے