بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
سید جہانزیب عابدی
پاکستان میں ایندھن (فیول) کی قیمتوں کا بلند ہونا محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں، جغرافیائی سیاست، مالیاتی نظام، اور داخلی پالیسیوں کے پیچیدہ امتزاج کا نتیجہ ہے۔ اگر اسے صرف “مہنگائی” یا “حکومتی ناکامی” کے زاویے سے دیکھا جائے تو تصویر ادھوری رہتی ہے۔ درحقیقت اس کے پیچھے ایک پورا عالمی نظام کارفرما ہے جس میں وسائل کی تقسیم، طاقت کا توازن، اور کنٹرول کے خفیہ و اعلانیہ طریقے شامل ہیں۔
سب سے پہلے آبنائے ہرمز کے تناظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ Strait of Hormuz دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ خلیجی ممالک جیسے Saudi Arabia، United Arab Emirates، Kuwait اور Qatar اپنی تیل برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ اس تنگ سمندری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی، خصوصاً Iran اور United States کے درمیان تنازع، فوری طور پر عالمی تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی یہاں شدید مہنگائی کی صورت میں منتقل ہوتا ہے۔
لیکن یہ صرف سپلائی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ عالمی معاشی ڈھانچے میں طاقت کے عدم توازن کا ہے۔ آج کا عالمی مالیاتی نظام بڑی حد تک International Monetary Fund اور World Bank جیسے اداروں کے گرد گھومتا ہے، جو بظاہر ترقی پذیر ممالک کو مدد فراہم کرتے ہیں مگر درحقیقت ان پر ایسی شرائط عائد کرتے ہیں جو ان کی معاشی خودمختاری کو محدود کر دیتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کو قرضوں کے بدلے سبسڈی ختم کرنے، روپے کی قدر کم کرنے، اور توانائی کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً فیول کی قیمتیں عالمی مارکیٹ سے بھی زیادہ بوجھ کے ساتھ عوام تک پہنچتی ہیں۔
یہاں استعماری و استحصالی نظام کا پہلو مزید واضح ہوتا ہے۔ جدید استعمار براہِ راست قبضے کے بجائے معاشی کنٹرول کے ذریعے کام کرتا ہے۔ United States اور مغربی طاقتیں عالمی تیل کی قیمتوں، کرنسیوں، اور مالیاتی اداروں پر اثر انداز ہو کر ایک ایسا نظام قائم رکھتی ہیں جس میں وسائل سے مالا مال خطے (جیسے مشرق وسطیٰ) خام مال فراہم کرتے ہیں اور ترقی پذیر ممالک (جیسے پاکستان) اس خام مال کو مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس پورے نظام میں اصل فائدہ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور طاقتور معیشتوں کو ہوتا ہے۔
پاکستان کے داخلی عوامل بھی اس مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں بدانتظامی، ٹیکسوں کا بوجھ، کرنسی کی کمزوری، اور سیاسی عدم استحکام فیول کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ جب روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گرتی ہے تو درآمدی تیل خود بخود مہنگا ہو جاتا ہے، چاہے عالمی قیمتیں مستحکم ہی کیوں نہ ہوں۔ یوں عالمی اور مقامی عوامل مل کر ایک “ڈبل پریشر” پیدا کرتے ہیں جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔
اگر اسے ایک بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو فیول کی قیمت صرف ایک عدد نہیں بلکہ عالمی طاقت کے کھیل کا مظہر ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے جغرافیائی نقاط، عالمی مالیاتی ادارے، اور بڑی طاقتوں کی پالیسیاں مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں جس میں کمزور معیشتیں مسلسل دباؤ میں رہتی ہیں۔ پاکستان میں فیول کی مہنگائی دراصل اسی بڑے استحصالی ڈھانچے کی ایک جھلک ہے، جہاں مقامی مسائل عالمی نظام سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کا حل بھی صرف مقامی سطح پر ممکن نہیں بلکہ ایک وسیع تر فکری، معاشی اور سیاسی خودمختاری کا تقاضا کرتا ہے۔
ایران کی طرف سے پاکستان کو سستا تیل فراہم کرنا بظاہر ایک سادہ اور فوری حل محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مسئلہ اتنا سیدھا نہیں ہے کہ صرف ایک سپلائی چین بدلنے سے حل ہو جائے۔ اس کے پیچھے وہی عالمی طاقت کا نظام، پابندیاں، مالیاتی ڈھانچے، اور جغرافیائی سیاست کارفرما ہیں جن کا ذکر پہلے ہوا۔
سب سے بنیادی رکاوٹ Iran پر عائد عالمی پابندیاں ہیں، جو خاص طور پر United States کی طرف سے لگائی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں صرف ایران کی تیل فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی بینکاری، انشورنس، شپنگ، اور ادائیگی کے نظام کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کھل کر ایران سے سستا تیل خریدتا ہے تو اسے عالمی مالیاتی نظام، خاص طور پر ڈالر بیسڈ ٹرانزیکشنز، سے جزوی یا مکمل طور پر کاٹے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی دیگر عالمی تجارت، قرضوں کی فراہمی، اور زرِمبادلہ کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
یہاں International Monetary Fund جیسے اداروں کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں اور مالیاتی پروگرامز پر انحصار کر رہا ہے، اور ایسے میں ایران کے ساتھ بڑے پیمانے پر تیل کا معاہدہ کرنا ان پروگرامز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ یوں ایک طرف سستا تیل ملے گا، مگر دوسری طرف پورا مالیاتی ڈھانچہ دباؤ میں آ جائے گا، جو مجموعی معیشت کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
دوسرا مسئلہ انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کا ہے۔ اگرچہ جغرافیائی طور پر ایران پاکستان کے قریب ہے، لیکن بڑے پیمانے پر تیل کی درآمد کے لیے پائپ لائنز، ریفائنری ایڈجسٹمنٹ، اور ادائیگی کے متبادل نظام درکار ہیں۔ Iran–Pakistan Gas Pipeline جیسے منصوبے اسی وجہ سے سالوں سے تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ ان پر صرف تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی اور عالمی دباؤ بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ مسئلہ صرف تیل کی قیمت نہیں بلکہ پورا معاشی ڈھانچہ ہے۔ اگر ایران سے سستا تیل آ بھی جائے، تب بھی پاکستان کے اندر ٹیکسز، روپے کی قدر میں کمی، اور توانائی کے شعبے کی بدانتظامی قیمتوں کو اوپر لے جاتی رہے گی۔ یعنی “سستا سورس” ہونے کے باوجود “مہنگا صارف” برقرار رہ سکتا ہے۔
البتہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ایران سے تیل لینا بے فائدہ ہے۔ اگر پاکستان ایک متوازن حکمتِ عملی اپنائے، جیسے محدود پیمانے پر بارٹر سسٹم (تیل کے بدلے اشیاء)، مقامی کرنسی میں تجارت، یا علاقائی بلاکس کے ذریعے تعاون، تو کچھ حد تک فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سیاسی عزم، سفارتی مہارت، اور عالمی دباؤ کو سنبھالنے کی صلاحیت ضروری ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ایران سے سستا تیل ایک “جزوی ریلیف” تو دے سکتا ہے، مگر “مکمل حل” نہیں بن سکتا، کیونکہ مسئلہ صرف قیمت کا نہیں بلکہ اس عالمی استحصالی نظام کا ہے جس میں پاکستان جیسے ممالک اپنی معاشی خودمختاری کھو بیٹھتے ہیں۔ جب تک اس بڑے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی یا پاکستان اپنی داخلی معیشت کو مضبوط اور خودمختار نہیں بناتا، تب تک کسی ایک ذریعے سے سستا تیل بھی دیرپا نجات فراہم نہیں کر سکے گا۔
اگر Iran سے تیل خریدنے پر پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جائیں تو اصولی طور پر پاکستان کو نسبتاً سستا تیل ملنے کے امکانات واقعی بڑھ جاتے ہیں، مگر یہ پھر بھی “خودکار اور مکمل حل” نہیں بنے گا بلکہ ایک اہم مگر محدود فائدہ ہوگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جن کے پاس وافر تیل کے ذخائر ہیں اور پابندیوں کے باعث وہ اکثر اپنی برآمدات رعایتی نرخوں پر دینے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اگر پاکستان براہِ راست اور بغیر رکاوٹ کے ایران سے تیل خرید سکے تو ٹرانسپورٹ لاگت کم ہونے، جغرافیائی قربت، اور ممکنہ رعایتوں کی وجہ سے درآمدی قیمت یقیناً عالمی اوسط سے کم ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر ادائیگی ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی یا بارٹر سسٹم میں ہو تو مزید فائدہ ممکن ہے۔
لیکن یہاں چند بنیادی حقیقتیں ہیں جو تصویر کو پیچیدہ بناتی ہیں۔ پہلی یہ کہ عالمی تیل کی قیمت ایک مشترکہ مارکیٹ میں طے ہوتی ہے جس پر OPEC جیسے اداروں کا اثر ہوتا ہے، اور ایران بھی اسی نظام کا حصہ ہے۔ اس لیے وہ مکمل طور پر “مرضی کا سستا تیل” طویل مدت تک فراہم نہیں کر سکتا، خاص طور پر اگر اس کی معیشت مستحکم ہو جائے اور اسے رعایت دینے کی ضرورت نہ رہے۔
دوسری اہم بات پاکستان کے اندرونی ڈھانچے کی ہے۔ چاہے تیل سستا خرید لیا جائے، لیکن جب وہ پاکستان پہنچتا ہے تو اس پر ٹیکسز، لیوی، ریفائننگ لاگت، اور کرنسی ایکسچینج کا اثر پڑتا ہے۔ اگر Pakistani Rupee کمزور رہے تو درآمدی لاگت پھر بھی بڑھ جائے گی۔ یوں عوام تک پہنچتے پہنچتے قیمت میں وہ کمی پوری طرح منتقل نہیں ہو پاتی۔
تیسری بات توانائی کے شعبے کی ساخت ہے۔ پاکستان کی ریفائنریز زیادہ تر مخصوص قسم کے خام تیل کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، جبکہ ایرانی خام تیل کی کیمیائی خصوصیات مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے ریفائنری اپ گریڈیشن یا ایڈجسٹمنٹ درکار ہوگی، جو وقت اور سرمایہ مانگتی ہے۔
اس کے باوجود، اگر پابندیاں واقعی ختم ہو جائیں، ادائیگی کے راستے کھل جائیں، اور پاکستان دانشمندانہ معاہدے کرے تو مختصر اور درمیانی مدت میں واضح ریلیف مل سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرنے، درآمدی بل گھٹانے، اور توانائی کی قیمتوں کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
آخرکار نتیجہ یہ ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ ایران کے تیل کو پاکستان کے لیے ایک مضبوط متبادل بنا سکتا ہے اور قیمتوں میں کمی بھی لا سکتا ہے، مگر یہ تبھی حقیقی فائدہ دے گا جب پاکستان اپنی داخلی معاشی کمزوریوں—جیسے کرنسی کی قدر، ٹیکس ڈھانچہ، اور توانائی کے نظام—کو بھی ساتھ ساتھ درست کرے۔ ورنہ “سستا تیل” بھی مکمل طور پر “سستی قیمت” میں تبدیل نہیں ہو پائے گا۔
