26

*نظام ولایت فقیہ! عالمی ردِعمل اور اختلافِ فکر*

  • نیوز کوڈ : 2734
  • 01 April 2026 - 15:42
*نظام ولایت فقیہ! عالمی ردِعمل اور اختلافِ فکر*

*نظام ولایت فقیہ! عالمی ردِعمل اور اختلافِ فکر*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

تحریر : سید جہانزیب عابدی

ایرانی اسلامی انقلاب اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے نظامِ ولایتِ فقیہ کے حوالے سے پوری دنیا میں، خصوصاً حوزاتِ علمیہ اور برصغیر جیسے معاشروں میں، ایک ہی طرح کا ردِعمل نہیں پایا جاتا۔ اس اختلاف کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے سادہ “مخالفت” کے بجائے مختلف فکری، اجتہادی، سیاسی اور نفسیاتی زاویوں سے دیکھا جائے، کیونکہ یہ اختلاف ایک ہی نوعیت کا نہیں بلکہ کئی اقسام میں تقسیم ہوتا ہے۔

سب سے پہلی قسم ان افراد اور طبقات کی ہے جن کی مخالفت خالصتاً علمی و اجتہادی نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اصولی طور پر ولایتِ فقیہ کے تصور کو یا تو محدود دائرے میں قبول کرتے ہیں یا اس کی مطلق شکل سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک فقہاء کا کردار اہم ضرور ہے مگر وہ اسے براہِ راست سیاسی حاکمیت تک نہیں بڑھاتے۔ یہ اختلاف دراصل فقہی مباحث، نصوص کی تعبیر، اور دینی اتھارٹی کی حدود کے تعین سے جڑا ہوتا ہے۔ اس نوعیت کے افراد عموماً حوزاتِ علمیہ میں پائے جاتے ہیں اور ان کی گفتگو علمی استدلال، روایات اور فقہی اصولوں کے دائرے میں رہتی ہے۔یہ قسم اہم نفسیاتی جہت “فکری اجتہادی اختلاف” رکھنے والے افراد سے جڑی ہے۔ ان لوگوں کی مخالفت علمی اور اجتہادی نوعیت کی ہوتی ہے، اور ان کے ذہن میں اصولی طور پر دین اور فقہ کی حدود واضح ہوتی ہیں۔ ان کی نفسیات میں تجزیاتی اور منطقی سوچ غالب ہوتی ہے، اور وہ جذباتی ردِعمل سے زیادہ دلیل اور نصوص پر انحصار کرتے ہیں۔ ان میں صبر، تحمل، اور عقلی مکالمے کی مہارت پائی جاتی ہے، اور یہ افراد سطحی پروپیگنڈے یا جذباتی تحریک کے اثر میں آسانی سے نہیں آتے۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو فکری طور پر تو اس نظام سے جزوی اتفاق رکھتے ہیں مگر اس کی عملی شکل یا موجودہ اطلاق پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ نظریہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر اس کے نفاذ میں بعض سیاسی، انتظامی یا حکومتی سطح کی خامیاں موجود ہیں۔ ان کی تنقید کا مرکز اصول نہیں بلکہ اس کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مکمل مخالف نہیں ہوتے بلکہ اصلاح کے داعی ہوتے ہیں۔ یہ نفسیاتی جہت ان لوگوں کی ہے جو نظام سے جزوی اتفاق رکھتے ہیں مگر اس کے عملی نفاذ پر تنقید کرتے ہیں۔ یہ طبقہ حقیقت پسندانہ تجزیہ اور اصلاح پسند ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی مخالفت جذبات سے زیادہ عملی نتائج اور حکمتِ عملی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ نفسیاتی طور پر وہ توقعات میں توازن قائم کرنے والے، اصلاحی رویہ رکھنے والے اور ذمہ داری کے شعور کے حامل ہوتے ہیں، اور جذباتی انتقام یا ردِعمل کم ان میں پایا جاتا ہے۔

تیسری قسم سیاسی نوعیت کی مخالفت رکھنے والوں کی ہے۔ یہ افراد یا گروہ کسی خاص نظریاتی یا جغرافیائی وابستگی کے تحت اس نظام کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مخالفت ریاستی سطح پر بھی نظر آتی ہے، جہاں مختلف ممالک اپنے سیاسی مفادات، علاقائی توازن یا عالمی دباؤ کے تحت اس نظام سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ اس قسم کی مخالفت میں فکری دلائل کم اور سیاسی حکمتِ عملی زیادہ غالب ہوتی ہے۔ یہ جہت سیاسی نوعیت کی مخالفت رکھنے والے افراد کی ہے۔ یہاں نفسیات میں مفاد پرستی، تحفظِ خود، اور حکمت عملی پر مبنی رویہ غالب ہوتا ہے۔ ان کے فیصلے جذبات یا اصول سے زیادہ سیاسی ماحول، طاقت کے توازن، اور ذاتی یا گروہی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ ان میں اکثر عالمی یا مقامی دباؤ کے تحت ردِعمل ظاہر ہوتا ہے، اور یہ مخالفت جذباتی نہیں بلکہ حکمت عملی کی شکل اختیار کرتی ہے۔

چوتھی قسم ان افراد کی ہے جن کی مخالفت نفسیاتی یا سماجی عوامل سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی حد تک احساسِ محرومی، تقابلی ذہنیت یا ردِعملی کیفیت کے تحت اس نظام کو رد کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ چونکہ ان کے اپنے معاشرے میں ویسی تبدیلی نہیں آئی، اس لیے یا تو یہ نظام ناقابلِ عمل ہے یا اس میں کوئی بنیادی نقص ہے۔ اس قسم کی سوچ میں عموماً گہرے مطالعے کی کمی اور جذباتی ردِعمل زیادہ ہوتا ہے۔ یہ  قسم نفسیاتی یا سماجی عوامل سے جڑی مخالفت کی ہے۔ یہ افراد اکثر احساسِ محرومی، تقابلی ذہنیت، اور ردِعملی کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں اضطراب، مایوسی، یا اپنے معاشرتی حالات کے مقابلے میں دوسروں کی کامیابی کو دیکھ کر پیدا ہونے والا ذاتی خلا غالب ہوتا ہے۔ جذباتی ردِعمل اور جزوی معلومات پر مبنی فیصلے ان کی سوچ میں واضح ہیں، اور علمی دلیل یا تاریخی پس منظر کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔

پانچویں قسم وہ ہے جو بیرونی اثرات یا پروپیگنڈے سے متاثر ہوتی ہے۔ عالمی میڈیا، سیاسی بیانیے، اور مخصوص نظریاتی حلقے بعض اوقات اس نظام کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ افراد بغیر گہرے تجزیے کے اسی بیانیے کو قبول کر لیتے ہیں۔ یہ مخالفت زیادہ تر سنی سنائی باتوں اور یک طرفہ معلومات پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ قسم وہ لوگ ہیں جو بیرونی اثرات یا پروپیگنڈے سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں نفسیاتی طور پر سماجی تصورات، سننے سنی باتوں اور میڈیا کی نمائش کی حساسیت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کا رویہ جزوی معلومات پر اعتماد، تاثر پرستی اور شعوری تنقید کی کمی کی بنیاد پر بنتا ہے۔ یہ افراد اکثر فکری تنوع کی جگہ سادہ بیانیہ اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ ذہنی سکون اور فوری تسکین ان کے لیے اہم ہوتی ہے۔

چھٹی قسم برصغیر، خصوصاً پاکستان اور بھارت میں پائی جانے والی ایک خاص سماجی و تنظیمی نوعیت کی ہے، جہاں بعض مذہبی یا سماجی قیادتیں اپنی مقامی ساخت، روایات اور اثر و رسوخ کے تحفظ کے پیش نظر اس نظام سے فاصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف ایک فکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی و تنظیمی توازن کا معاملہ بھی ہوتا ہے۔ یہ قسم برصغیر کی مقامی سماجی و تنظیمی مخالفت کی نفسیات میں تحفظِ اثر و رسوخ، روایتی ذہنیت، اور مقامی طاقت کے توازن کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ ان افراد کی سوچ میں تبدیلی کے لیے خوف یا غیر یقینی صورتحال کم اور محافظت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی نئے نظام کو صرف اصول کی بنیاد پر نہیں دیکھتے بلکہ اس کے سماجی اثرات اور اپنی مقامی حیثیت پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

ساتویں قسم وہ ہے جو مکمل نظریاتی اور اصولی سطح پر اس نظام کی مخالف ہوتی ہے اور اسے دینی یا سیاسی طور پر غلط سمجھتی ہے۔ یہ طبقہ نہ صرف فکری طور پر اختلاف رکھتا ہے بلکہ بعض اوقات عملی طور پر اس کے خلاف سرگرم بھی ہوتا ہے۔ ان کے پاس اپنے دلائل، متبادل نظریات اور ایک مستقل فکری بنیاد ہوتی ہے، چاہے وہ درست ہو یا نہ ہو۔ یہ آخری قسم مکمل نظریاتی مخالفین کی نفسیات میں اصولی عقیدت، مستقل فکری بنیاد، اور نظریاتی مستقل مزاجی نمایاں ہے۔ ان میں جذبہِ مخالفت مضبوط اور جذباتی ہوتی ہے، اور وہ کسی بھی بیرونی مثال یا جذباتی دلیل کے اثر میں آسانی سے نہیں آتے۔ نفسیاتی طور پر یہ افراد اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے مستقل استدلال اور نظریاتی فریم ورک رکھتے ہیں، اور اکثر اصلاحی مکالمے کے لیے سخت چیلنج پیدا کرتے ہیں۔

ان تمام اقسام کو دیکھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ “مخالفت” ایک یکساں phenomenon نہیں ہے بلکہ ایک spectrum ہے جس میں علمی اختلاف سے لے کر سیاسی مفاد، نفسیاتی ردِعمل اور سماجی تحفظ تک مختلف عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی مخالف رائے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کی نوعیت کو پہچانا جائے، کیونکہ ہر قسم کی مخالفت کا جواب بھی اسی کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر گروہ کی فکری بنیاد، نفسیاتی کیفیت اور سماجی پس منظر مختلف ہوتا ہے، اس لیے نہ سب کو قائل کرنا ممکن ہوتا ہے اور نہ ہی سب کے ساتھ ایک ہی طرزِ تعامل مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اصل حکمت یہی ہے کہ پہلے یہ پہچانا جائے کہ اختلاف کی نوعیت کیا ہے، پھر اسی کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

جن افراد کا اختلاف علمی اور اجتہادی نوعیت کا ہے، ان کے ساتھ رویہ سب سے زیادہ سنجیدہ، باوقار اور علمی ہونا چاہیے۔ کیونکہ وہ بنیادی طور پر دین کے فہم کے دائرے میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ جذباتی یا عوامی انداز میں بحث کرنا نہ صرف غیر مؤثر ہوتا ہے بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو قائل کرنے کا راستہ صرف گہرے علمی مکالمے، دلائل، نصوص کی تعبیر اور فقہی اصولوں کی وضاحت سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہاں مقصد لازماً “قائل کرنا” نہیں بلکہ “فہم میں اضافہ” ہونا چاہیے، کیونکہ اجتہادی اختلاف ہمیشہ باقی رہ سکتا ہے۔

جن لوگوں کا اختلاف نظریے سے نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ سے ہے، ان کے ساتھ سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ان کی تنقید کو سنا جائے، اس میں موجود جائز نکات کو تسلیم کیا جائے، اور جہاں اصلاح کی گنجائش ہو وہاں سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ ایسے افراد دراصل نظام کے دشمن نہیں ہوتے بلکہ اس کی بہتری چاہتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ دفاعی یا انکاری رویہ اختیار کرنے کے بجائے اصلاحی اور مکالماتی رویہ اپنانا زیادہ مفید ہوتا ہے۔

سیاسی نوعیت کے مخالفین کے معاملے میں صورت حال مختلف ہوتی ہے۔ یہاں مسئلہ صرف نظریہ نہیں بلکہ مفادات، طاقت اور حکمتِ عملی کا ہوتا ہے۔ اس سطح پر محض دلائل سے زیادہ اہم کردار سیاسی بصیرت، تدبر اور حالات کی درست شناخت ادا کرتی ہے۔ ایسے مخالفین کو قائل کرنا اکثر ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کے ساتھ معاملہ “مقابلہ اور توازن” کے اصول پر ہوتا ہے، جہاں نہ غیر ضروری تصادم پیدا کیا جائے اور نہ اپنی پوزیشن کمزور کی جائے۔

نفسیاتی یا ردِعملی ذہنیت رکھنے والے افراد کے ساتھ سختی یا تحقیر کا رویہ اختیار کرنا معاملے کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ ان کے اندر موجود احساسِ محرومی، غصہ یا مایوسی کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر ان کے ساتھ ہمدردانہ، تدریجی اور شعور بڑھانے والا انداز اختیار کیا جائے تو آہستہ آہستہ ان کے زاویۂ نگاہ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہاں براہِ راست دلائل سے زیادہ مؤثر چیز کردار، توازن اور عملی مثال ہوتی ہے۔

جو افراد بیرونی پروپیگنڈے یا یک طرفہ معلومات سے متاثر ہوتے ہیں، ان کے لیے سب سے اہم کام درست معلومات کی فراہمی اور فکری وضاحت ہے۔ مگر یہ کام بھی تدریج اور حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ براہِ راست تصادم یا تضحیک انہیں مزید اپنے موقف پر سخت کر دیتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے مکالمہ، سوال و جواب، اور مختلف زاویوں سے حقیقت کو سامنے لانا زیادہ مؤثر طریقہ ہوتا ہے۔

برصغیر، خصوصاً پاکستان اور بھارت کے تناظر میں جو سماجی و تنظیمی نوعیت کی مخالفت پائی جاتی ہے، اس کے ساتھ معاملہ نہایت حکمت طلب ہوتا ہے۔ یہاں صرف نظریہ نہیں بلکہ مقامی ڈھانچے، روایات اور اثر و رسوخ کا مسئلہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں تدریجی اصلاح، اعتماد سازی، اور غیر تصادمی انداز اختیار کرنا ضروری ہے، کیونکہ اچانک تبدیلی کی کوشش اکثر ردِعمل کو جنم دیتی ہے۔

جہاں تک ان افراد کا تعلق ہے جو مکمل نظریاتی اور اصولی طور پر اس نظام کے مخالف ہیں، وہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر اختلاف کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ اختلافات اپنی جگہ باقی رہتے ہیں، اور ایسے میں اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اختلاف کو تصادم میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ اگر قائل کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں باہمی احترام، برداشت اور پرامن بقائے باہمی ممکن ہو۔

مجموعی طور پر اصل اصول یہ ہے کہ ہر اختلاف کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکا جائے۔ کہیں علم کی ضرورت ہے، کہیں حکمت کی، کہیں صبر کی، اور کہیں صرف تحمل کی۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنی نیت کو مسلسل چیک کرتا رہے کہ وہ واقعی اصلاح چاہتا ہے یا صرف اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اگر نیت اصلاح کی ہو تو انداز خود بخود نرم، سنجیدہ اور مؤثر ہو جاتا ہے، اور اگر نیت مقابلہ ہو تو بہترین دلیل بھی اثر کھو دیتی ہے۔

آخرکار یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ایرانی انقلاب جیسے تجربات خود بھی ایک تدریجی عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور ان کے بارے میں فہم بھی تدریج سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے لوگوں کو بدلنے کے بجائے ماحول، شعور اور مکالمے کو بہتر بنانا زیادہ پائیدار اور مؤثر راستہ ہے۔

مختصر لنک: https://www.siraat-times.com/?p=2734

ٹیگز

تبصرے