(ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں نقادوں کے خدشات کا جواب)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
جنگی تاریخ میں نپولین بونا پارٹ کی جس “Pyrrhic Victory” کی مثال دی جاتی ہے، اس کی اصل جڑ Pyrrhus of Epirus کی اس فتح میں ہے جس میں اس نے دشمن کو شکست تو دی، مگر اپنی فوج اس حد تک کھو دی کہ وہ فتح عملاً شکست کے برابر بن گئی۔ اسی تصور کو بعد میں نپولین کی بعض مہمات، خصوصاً Battle of Borodino کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے، جہاں وقتی فتح نے اس کی طویل المدت طاقت کو کھوکھلا کر دیا۔ Pyrrhic Victory ایسی فتح کو کہتے ہیں جس میں جیت تو حاصل ہو جائے لیکن اس کے بدلے اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑے کہ وہ فتح عملی طور پر بے معنی یا نقصان دہ بن جائے۔ یہ اصطلاح Pyrrhus of Epirus سے منسوب ہے، جس نے ایک جنگ جیتنے کے بعد کہا تھا کہ اگر ایک اور ایسی فتح ملی تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔
سادہ الفاظ میں، جب کامیابی کی قیمت اتنی زیادہ ہو کہ وہ خود کامیابی کو ہی ختم کر دے، تو اسے Pyrrhic Victory کہتے ہیں۔
اب اگر ایران کی امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں ممکنہ فتح کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو بنیادی فرق صرف عسکری یا جغرافیائی نہیں بلکہ تہذیبی، اعتقادی اور نفسیاتی بنیادوں پر ہے۔ مغربی جنگی فلسفہ، جس کی نمائندگی نپولین کرتا ہے، اپنی بنیاد میں مادی قوت، انسانی وسائل، اور فوری اسٹریٹیجک برتری پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس میں جنگ ایک حسابی عمل ہے جس میں نقصان اور فائدہ کا موازنہ مادی پیمانوں سے کیا جاتا ہے۔ جب نقصان حد سے بڑھ جائے تو فتح بھی بے معنی ہو جاتی ہے، یہی Pyrrhic Victory ہے۔
اس کے مقابلے میں ایران کا جو بیانیہ ہے، وہ محض ایک ریاستی یا قومی جنگ کا بیانیہ نہیں بلکہ ایک دینی-تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، جس کی جڑیں کربلا کے معرکے میں پیوست ہیں۔ کربلا میں امام حسینؑ کی ظاہری شکست کو اسلامی شعور میں کبھی شکست نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے ایک ایسی فتح سمجھا گیا جس نے باطل کے پورے نظام کو بے نقاب کر دیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں “فتح” کا مفہوم مادی سے نکل کر معنوی اور تہذیبی ہو جاتا ہے۔
شیعہ دینی نفسیات میں کامیابی کا معیار صرف زمین، وسائل یا فوجی برتری نہیں بلکہ “حق کا بقا” اور “باطل کا انکشاف” ہے۔ اگر ایک قوم اپنی جان، مال اور وسائل قربان کر کے بھی اپنے نظریے کو زندہ رکھتی ہے اور دشمن کے بیانیے کو توڑ دیتی ہے تو یہ شکست نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی فتح ہے۔ اسی لیے امام حسین ابن علی کی قربانی کو ہر سال زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ یہ شعور باقی رہے کہ حقیقی کامیابی کیا ہے۔
ایران کا نظام اسی شیعہ تاریخی شعور سے اپنی طاقت لیتا ہے، جسےامام خمینی نے انقلاب کے بعد ایک سیاسی و تہذیبی قالب دیا۔ اس بیانیے میں شہادت ہار نہیں بلکہ سرمایہ ہے، اور جتنا زیادہ قربانی کا عنصر ہو، اتنا ہی بیانیہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں Pyrrhic Victory کا تصور ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ وہاں نقصان فتح کو بے معنی بنا دیتا ہے، جبکہ یہاں نقصان خود فتح کے معنی کو گہرا کرتا ہے۔
دینی ثقافت کے لحاظ سے بھی فرق واضح ہے۔ مغربی معاشرہ، جو فردیت اور دنیاوی کامیابی کو مرکز بناتا ہے، جنگی نقصانات کو برداشت کرنے کی ایک محدود حد رکھتا ہے۔ اس کے برعکس شیعہ ثقافت اجتماعی صبر، ایثار، اور انتظارِ ظہور جیسے تصورات پر کھڑی ہے، جہاں وقتی تکلیف کو ایک بڑے الٰہی منصوبے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ثقافت میں “طویل جدوجہد” خود ایک عبادت بن جاتی ہے۔
عقائد کے اعتبار سے بھی ایران کا موقف ایک eschatological (آخری زمانے سے متعلق) تصور سے جڑا ہوا ہے، جہاں ظلم کے خلاف مسلسل مزاحمت کو امام زمانہؑ کے ظہور کی تیاری سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں جنگ محض جغرافیائی یا سیاسی نہیں رہتی بلکہ ایک مقدس ذمہ داری بن جاتی ہے۔ جب جنگ کا مقصد اس درجے پر پہنچ جائے تو اس میں ہونے والا نقصان Pyrrhic نہیں رہتا، کیونکہ اس کا حساب صرف دنیاوی نتائج سے نہیں کیا جاتا۔
نفسیاتی طور پر بھی یہ ایک بڑا فرق پیدا کرتا ہے۔ مغربی سپاہی یا معاشرہ جنگ کو ایک “cost-benefit analysis” کے تحت دیکھتا ہے، جبکہ ایک نظریاتی یا دینی معاشرہ اسے “معنی” کے تحت دیکھتا ہے۔ جب انسان کو اپنی قربانی کا ایک ابدی مقصد نظر آئے تو وہ نقصان کو بھی ایک کامیابی کے طور پر internalize کرتا ہے، اور یہی چیز اسے شکست سے محفوظ رکھتی ہے۔
اسی لیے ایران، اگرچہ مادی لحاظ سے بڑے نقصانات بھی اٹھائے، تب بھی اس کا بیانیہ اسے Pyrrhic Victory کا شکار نہیں ہونے دیتا، کیونکہ اس کے لیے اصل جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ معنی، شعور، اور تاریخ کے اندر لڑی جا رہی ہے۔ جب تک وہ اپنے نظریے کو زندہ رکھتا ہے اور مخالف نظام کی اخلاقی بنیادوں کو چیلنج کرتا رہتا ہے، تب تک اس کی ہر قربانی اس کے حق میں جاتی ہے، نہ کہ اس کے خلاف۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ نپولین کی Pyrrhic Victory ایک مادی جنگی فلسفے کی ناکامی ہے، جبکہ ایران کا ماڈل ایک ایسے دینی و تہذیبی فریم ورک پر قائم ہے جہاں فتح اور شکست کی تعریف ہی مختلف ہے، اور یہی فرق اسے اس انجام سے بچاتا ہے جس نے ماضی کے عظیم فاتحین کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔
کیا ایک دینی و نظریاتی فتح وقت کے ساتھ ساتھ مادی، معاشی اور تمدنی سطح پر بھی خود کو ثابت کر سکتی ہے یا نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر دینی قیادت صرف جذبۂ قربانی پر رک جائے اور اسے ادارہ سازی، علم، معیشت اور سماجی نظم میں تبدیل نہ کرے تو وہ واقعی Pyrrhic Victory کی طرف جا سکتی ہے۔ لیکن اگر یہی قربانی ایک شعوری، منظم اور تدریجی تمدنی منصوبے میں ڈھل جائے تو وہی بظاہر مہنگی فتح، دیرپا مادی کامیابی میں تبدیل ہو جاتی ہے
ایران عراق 8 سالہ جنگ اس کی ایک پیچیدہ مگر واضح مثال ہے۔ اس جنگ میں ایران نے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا، انفراسٹرکچر تباہ ہوا، معیشت دباؤ کا شکار رہی، اور بظاہر یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں کوئی واضح علاقائی فتح حاصل نہ ہوئی۔ مغربی تجزیہ نگار اسے اکثر ایک exhaustion war یا جزوی Pyrrhic نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر اگر اس کے بعد کے ایران کو دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ اسی جنگ نے ایران کے اندر خود اعتمادی و خود انحصاری self-reliance، دفاعی صنعت، سائنسی تحقیق اور داخلی ادارہ سازی کو جنم دیا۔ آج ایران کی میزائل ٹیکنالوجی، دفاعی خود کفالت، اور کئیوں سائنسی شعبوں میں پیشرفت اسی جنگی تجربے کا تسلسل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قربانی نے محض معنوی نہیں بلکہ مادی نتائج بھی پیدا کیے۔
اس عمل کی فکری بنیاد امام خمینی کے اس تصور میں تھی کہ “جنگ ہمارے لیے ایک نعمت ہے” — اس معنی میں کہ یہ ایک ایسی بھٹی ہے جس میں قوم کا تشخص، خود انحصاری اور نظریاتی استقامت تیار ہوتی ہے۔ اگر یہ بھٹی قیادت کی حکمت کے ساتھ جڑی رہے تو وہ قوم کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ resilient اور لچکدار بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے جنگ کے بعد تعمیر نو reconstruction کو محض اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ideological continuation کے طور پر لیا۔
اسلامی تاریخ میں بھی ہمیں ایسے نمونے ملتے ہیں جہاں بظاہر نقصان دہ یا مہنگی فتوحات بعد میں مادی و تمدنی کامیابی میں بدل گئیں۔ صلح حدیبیہ Treaty of Hudaybiyyah ایک ایسی مثال ہے جسے ابتدائی طور پر بہت سے صحابہ نے کمزور معاہدہ سمجھا، گویا ایک طرح کی سیاسی پسپائی۔ مگر پیغمبر ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں یہی معاہدہ ایک strategic pause ثابت ہوا جس نے اسلامی معاشرے کو استحکام، دعوت کے پھیلاؤ اور بالآخر مادی و سیاسی غلبے کا موقع دیا۔ چند ہی سال بعد فتح مکہ Conquest of Mecca اس کا واضح نتیجہ بن کر سامنے آیا، جہاں نہ صرف معنوی بلکہ مکمل مادی و سیاسی فتح حاصل ہوئی۔
اسی طرح جنگ صفین اور اس کے بعد کے حالات کو دیکھا جائے تو اگرچہ وہ فوری طور پر ایک واضح مادی کامیابی میں تبدیل نہ ہو سکے، لیکن امام علی علیہ السلام کی حکمت اور عدل پر مبنی طرز حکومت نے ایک ایسا فکری و اخلاقی معیار قائم کیا جس نے بعد کی اسلامی تہذیب کی سمت متعین کی۔ یہاں ہمیں یہ اصول ملتا ہے کہ ہر قربانی فوری مادی کامیابی نہیں دیتی، مگر اگر وہ ایک مضبوط نظریاتی و اخلاقی بنیاد چھوڑ جائے تو وہ بعد میں تمدنی ترقی کا سبب بنتی ہے۔
شیعہ تاریخ میں سب سے نمایاں مثال یقیناً کربلا کے واقعہ ہے، جہاں بظاہر کوئی مادی فتح نہیں تھی، بلکہ مکمل عسکری نقصان تھا۔ مگر اس واقعے نے جو شعور پیدا کیا، اس نے صدیوں بعد ایسے انقلابات کو جنم دیا جو نہ صرف نظریاتی بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی اثر انداز ہوئے۔ ایران کا انقلاب اسی تسلسل کی ایک جدید شکل ہے، جہاں امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو ایک زندہ سیاسی و تمدنی طاقت میں تبدیل کیا گیا۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا ایران مستقبل میں بھی اس ماڈل کو جاری رکھ سکے گا؟ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا دینی قیادت “ثقافتِ قربانی” کو “نظامِ ترقی” میں تبدیل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر قیادت صرف جذباتی mobilization تک محدود رہی تو نظام تھک جائے گا اور واقعی Pyrrhic کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ تعلیم، معیشت، ٹیکنالوجی، اور عدلِ اجتماعی کو اسی دینی ethos کے ساتھ integrate کرتی رہی تو پھر قربانی ایک سرمایہ بنتی رہے گی، نقصان نہیں۔
نفسیاتی طور پر بھی یہ ایک delicate balance ہے۔ ایک معاشرہ ہمیشہ مسلسل قربانی کے موڈ میں نہیں رہ سکتا؛ اسے ثمرات بھی درکار ہوتے ہیں۔ ایران نے اب تک اس توازن کو کسی حد تک برقرار رکھا ہے، مگر مستقبل میں اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ اپنے نظریاتی جوش کو ادارہ جاتی کارکردگی، اقتصادی استحکام اور عوامی فلاح میں کس حد تک convert کر پاتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ دینی بنیاد پر حاصل ہونے والی “مہنگی فتح” لازماً Pyrrhic نہیں ہوتی، بشرطیکہ اس کے پیچھے ایک بصیرت مند قیادت، طویل المدت منصوبہ بندی، اور قربانی کو ترقی میں بدلنے کی صلاحیت موجود ہو۔ ایران کے پاس اس کی مثالیں بھی ہیں اور چیلنج بھی، اور اس کا مستقبل اسی توازن کے برقرار رہنے پر منحصر ہے۔
