بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
مکتب خمینی سے مراد ہماری وہ شعرا ہیں جن کے ہاں حسینی وابستگی محض مذہبی یا جذباتی نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی و سیاسی شعور میں ڈھل جاتی ہے، اور وہ کربلا کو استعمار و سامراج کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے شعرا کی تعداد محدود ضرور ہے مگر ان کی آواز گہری اور مؤثر ہے۔
علامہ اقبال کے اردو اور فارسی کے شعری مجموعوں میں جو فلسفہ پیش کیا گیا ہے، اس میں کئی گہرے اور وسیع موضوعات شامل ہیں، جن میں خودی، عشقِ حقیقی، اسلامی احیاء، تصوف کی تطہیر، اور انسانِ کامل جیسے تصورات نمایاں ہیں۔ اقبال کے ہاں مغرب کی مادہ پرستی پر تنقید اور اسلام کی روحانی عظمت کا بیان بھی مسلسل ملتا ہے۔ ان کے خیالات میں فلسفہ، شاعری، روحانیت اور سیاست کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
جب ان موضوعات کو شیعہ فلسفہ کی روشنی میں جانچا جائے تو کئی پہلو نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔ اقبال کا تصورِ خودی اگرچہ ایک عمومی فلسفیانہ بنیاد رکھتا ہے، مگر یہ امام علیؑ کے فرامین اور امام حسینؑ کی قربانی سے ہم آہنگ ہو کر ایک حقیقی معنوی مقام حاصل کرتا ہے۔ شیعہ فلسفہ میں ولایت، شہادت، عدل، اور عقل کا جو مقام ہے، اقبال کی شاعری میں وہ مضمر انداز میں ملتا ہے، خاص طور پر جب وہ انسان کے مقام کو بلند کرنے کی بات کرتے ہیں یا جب وہ استعمار کے خلاف مزاحمت کی تلقین کرتے ہیں۔ البتہ اقبال کے بعض تصورات جیسے وحدتِ وجود یا بعض صوفیانہ رجحانات، شیعہ مکتب میں محتاط نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔
اسی طرح اگر اسد اللہ خان غالب کے دیوان کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی کئی اہم فلسفیانہ موضوعات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ ان میں وجود و عدم، تقدیر، موت، فانی دنیا، انسان کی بے بسی، اور جبر و اختیار جیسے مسائل شامل ہیں۔ غالب کی شاعری ایک گہرے فکری اضطراب اور داخلی جدوجہد کی عکاس ہے۔ وہ انسان کی محدودیت اور کائناتی اسرار کو شاعرانہ اور فلسفی انداز میں بیان کرتے ہیں۔
غالب کے ان فلسفی موضوعات کو جب شیعہ فلسفے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کے اندر ایک معنوی گہرائی محسوس ہوتی ہے۔ شیعہ مکتب میں بھی کائنات کے اسرار، موت و حیات، قضا و قدر، اور انسان کے مقام پر تفصیلی گفتگو ملتی ہے، مگر ایک الٰہی ہدایت کے تناظر میں۔ غالب کا لہجہ بعض اوقات قنوطیت کے قریب محسوس ہوتا ہے، جبکہ شیعہ فکر میں اُمید، بصیرت، اور ولایت کا نور غالب ہے۔ اس فرق کے باوجود غالب کی شاعری میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ شیعہ فلسفے میں سنجیدگی سے زیرِ بحث آئے ہیں، اور ان کا جواب اہل بیتؑ کے کلام اور علماء کے فلسفیانہ افکار میں پایا جاتا ہے۔
جب اقبال اور غالب کے فلسفوں کا موازنہ کیا جائے تو دونوں کے درمیان ایک نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔ غالب کی فکر زیادہ تر داخلی، وجودی اور شخصی نوعیت کی ہے، جب کہ اقبال کا فلسفہ اجتماعی، انقلابی، اور فعال ہے۔ غالب کا انسان ایک حیران، شکستہ دل، اور بے یقینی کا شکار وجود ہے، جب کہ اقبال کا انسان ایک فعال، خود آگاہ، اور دنیا کو بدلنے والا وجود ہے۔ اقبال کا پیغام حرکت، تعمیر اور احیاء ہے، جبکہ غالب کا رجحان فہمِ ذات، داخلی پیچیدگیوں، اور کائناتی اسرار کی تفہیم کی طرف ہے۔
جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اردو شعرا میں اقبال، غالب، جوش، فراز، قتیل شفائی وغیرہ میں سے کون مکتبِ خمینی سے زیادہ قریب ہے، تو اس کا جواب اقبال کی طرف جاتا ہے۔ امام خمینی کے مکتب کا جوہر توحید، عدل، ولایت، جہاد، قربانی، اور مزاحمت ہے، اور اقبال کی شاعری ان تمام تصورات کی روح کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ وہ نہ صرف مغرب کے فکری استعمار کے ناقد ہیں بلکہ اسلامی تمدن کی احیاء کو بھی اپنا مقصد سمجھتے ہیں، اور یہی خمینی فکر کی بنیاد ہے۔ دوسرے شعرا جیسے جوش اور فراز نے اگرچہ انقلابی رنگ اختیار کیا، لیکن ان کی فکر میں وہ الٰہی عمق نہیں جو اقبال کے ہاں ملتا ہے۔
جب ہم مزید تلاش کرتے ہیں کہ اقبال کے علاوہ اردو کے کون سے شعرا مکتبِ خمینی کے قریب ہیں، تو مولانا حسرت موہانی ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ حسرت موہانی صرف ایک عاشقِ رسولؐ اور رومانی شاعر نہ تھے، بلکہ ایک سچے انقلابی، آزادی کے سپاہی، اور اسلامی فکری رہنما بھی تھے۔ ان کی زندگی سادگی، زہد، مزاحمت، اور خودداری سے عبارت تھی۔ وہ سب سے پہلے “کامل آزادی” کا نعرہ بلند کرنے والے تھے، انہوں نے کبھی کوئی سرکاری مراعات قبول نہیں کیں اور انگریز کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ ان کا یہ رویہ، ان کی فکری خودمختاری، اور اسلامی نظامِ خلافت کا تصور، اگرچہ اہل سنت تناظر میں تھا، لیکن بنیادی سطح پر وہ امام خمینی کے نظریہ ولایتِ فقیہ سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔
حسرت موہانی کا زہد و استقامت، استعماری طاقتوں سے نفرت، اور اسلامی نظام کی حمایت مکتبِ خمینی سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کے فقہی اور عقیدتی پس منظر میں فرق ہے، مگر ان کا انقلابی جوہر، ان کی دلیری، اور ان کی خالص دینی وابستگی مکتبِ خمینی کے فلسفے کے قریب تر ہیں۔
پس، مجموعی طور پر اگر اردو شعرا کا جائزہ لیا جائے تو مولانا حسرت موہانی کو علامہ اقبال کے ساتھ ان شخصیات میں شمار کیا جا سکتا ہے جو مکتبِ خمینی سے فکری، روحانی، اور انقلابی سطح پر گہری مطابقت رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی اور شاعری ایک ایسے اسلامی معاشرے کے خواب کی تعبیر ہے جو عدل، آزادی، اور قربِ الٰہی پر قائم ہو — اور یہی امام خمینی کے فکر کا لبِ لباب ہے۔
علامہ اقبال کے علاوہ بھی کئی اردو شعرا ایسے ہیں جن کے خیالات، نظریات، اور انقلابی فکر مکتبِ خمینی سے قریب نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ہر شاعر کی اپنی مخصوص فکری سمت ہے، لیکن بعض شعرا اپنے اسلامی، انقلابی، استعمار دشمن، اور مزاحمتی نظریات کی بنا پر مکتبِ خمینی سے زیادہ قریب سمجھے جا سکتے ہیں۔ جگر مرادآبادی کی شاعری میں تصوف، روحانیت، اور اجتماعی بیداری کے عناصر نمایاں ہیں۔ ان کا فکری نظام باطنی اصلاح، سادگی، اور اللہ پر بھروسے کے اصولوں پر مبنی ہے، جو اسلامی انقلاب کے روحانی پہلو سے میل کھاتا ہے۔ وہ اخلاقی اصلاح اور معرفت کی بات کرتے ہیں، جو ولایت کے نظریے سے ہم آہنگ ہے۔ لہٰذا جگر کی شاعری کا فلسفہ مکتبِ خمینی کے روحانی اصولوں سے قریب ہے، لیکن عملی انقلابی جدوجہد پر کم زور ہے۔
حبیب جالب کی شاعری میں ظلم، آمریت، استبداد، اور استکبار کے خلاف بغاوت نمایاں ہے۔ “میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا” جیسے اشعار اسلامی انقلاب کے اصول “لا شرقیہ، لا غربیہ” کے ہم آواز ہیں۔ وہ غریبوں، محکوموں، اور مظلوموں کی آواز تھے، جو مکتبِ خمینی کے محرومین و مستضعفین کے فلسفے سے میل کھاتا ہے۔ ان کی شاعری میں آمریت، سرمایہ داری، اور استحصالی نظام پر شدید تنقید ہے، جو امام خمینی کے استعمار مخالف بیانیے سے ہم آہنگ ہے۔ اس لیے جالب کی فکر انقلابی مزاحمت اور عدلِ اجتماعی کی وجہ سے مکتبِ خمینی سے بہت زیادہ قریب ہے۔
فیض احمد فیض کی شاعری میں انقلاب، ظلم کے خلاف جدوجہد، اور استحصالی نظام کی مخالفت پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں طبقاتی کشمکش موجود ہے، جو امام خمینی کی مستضعفین کی حمایت کے اصول سے ملتی جلتی ہے، البتہ فیض کا نظریہ زیادہ سوشلسٹ (Marxist) اور سیکولر تھا، جس میں مذہبی روحانی پہلو کی کمی تھی۔ اس وجہ سے فیض سیاسی و سماجی انقلاب کے نظریے میں قریب ہیں، لیکن مذہبی و فقہی اصولوں میں کم مطابقت رکھتے ہیں۔
نظیر اکبرآبادی کی شاعری سماجی شعور، استحصالی قوتوں کے خلاف بیداری، اور مذہبی و روحانی اقدار پر مبنی ہے۔ ان کے اشعار دنیا پرستی، تکبر، اور ظلم کے خلاف شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں، جو امام خمینی کی استکبار دشمنی سے جڑے ہیں۔ وہ دین و دنیا کے توازن پر زور دیتے ہیں، جو اسلامی انقلاب کے بنیادی اصولوں سے قریب ہے۔ لہٰذا نظیر کی عوامی بیداری کی شاعری مکتبِ خمینی کے سماجی و روحانی اصولوں کے کافی قریب ہے۔
علی سردار جعفری کی شاعری میں انقلاب، ظلم کے خلاف جدوجہد، اور استحصالی طاقتوں کی مخالفت نمایاں ہے۔ وہ انسانی برابری، انصاف، اور حریت کی بات کرتے ہیں، جو ولایتِ فقیہ کے نظامِ عدل سے ملتا ہے۔ لیکن ان کا نظریہ زیادہ ترقی پسند اور سوشلسٹ رجحان رکھتا تھا، جو مکمل طور پر اسلامی انقلاب کے اصولوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اس لیے جعفری کی انقلابی روح خمینی کے پیغام سے قریب ہے، لیکن ان کا نظریاتی پس منظر مکمل اسلامی نہ ہونے کی وجہ سے محدود قربت رکھتا ہے۔
اسی سلسلے میں محسن نقوی بھی سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں امام حسینؑ صرف مرثیے کا موضوع نہیں بلکہ ایک انقلابی کردار ہیں جو ہر دور کے یزید کے مقابل کھڑے ہیں۔ ان کے کئی اشعار میں کربلا کو عصرِ حاضر کی سیاست، ظلم اور جبر سے جوڑا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ان کے لہجے میں ایک مسلسل تنبیہ ملتی ہے کہ
“یہ جو بازار میں سر عام سچ بکتا ہے / ہم نے یہ بھی کسی کربلا میں دیکھا ہے”
اس طرح وہ کربلا کو ایک جاری عمل بنا دیتے ہیں، جو مکتبِ مزاحمت کی بنیاد ہے۔
اسی طرح افتخار عارف کے ہاں ایک تہذیبی وقار کے ساتھ حسینی شعور موجود ہے۔ وہ براہِ راست نعرہ نہیں لگاتے بلکہ ایک گہرے علامتی انداز میں یہ بتاتے ہیں کہ حق کی حفاظت اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل دینداری ہے۔ ان کے کلام میں کربلا ایک اخلاقی معیار بن جاتی ہے، اور یہ معیار کسی بھی ظالمانہ نظام کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔
مرثیہ و سلام کی جدید روایت میں علی محمد فرشی جیسے شعرا نے کربلا کو واضح طور پر عصرِ حاضر کی مزاحمت سے جوڑا ہے۔ ان کے ہاں امام حسینؑ کا کردار صرف ماضی کا نہیں بلکہ آج کے مظلوموں کی قیادت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ کربلا کو فلسطین، کشمیر اور دیگر مظلوم خطوں کے ساتھ جوڑ کر ایک عالمی مزاحمتی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں، جو مکتبِ خمینی کے تصورِ “مستضعفینِ عالم” سے قریب ہے۔
اسی طرح حسن ظفر نقوی اور بعض دیگر معاصر نوحہ نگار شعرا کے ہاں بھی یہ رجحان واضح ہے کہ وہ کربلا کو صرف سوگ نہیں بلکہ شعور، بیداری اور سیاسی مزاحمت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے اشعار میں براہِ راست ظالم قوتوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف قیام کی دعوت ملتی ہے۔
اگر اس پورے منظر کو سمیٹا جائے تو ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایسے شعرا کے ہاں تین چیزیں لازماً جمع ہوتی ہیں: امام حسینؑ سے قلبی وابستگی، ظلم کے خلاف واضح مؤقف، اور کربلا کو ایک جاری انقلابی عمل کے طور پر سمجھنا۔ جہاں یہ تینوں عناصر شدت کے ساتھ مل جائیں، وہاں شاعری محض ادب نہیں رہتی بلکہ مزاحمت کی زبان بن جاتی ہے۔
معاصر اردو شاعری میں ایسے شعرا کی تلاش جو مکتبِ خمینی کے قریب ہوں، دراصل ایک ایسی فکری چھان بین ہےجس کیلئے صرف جذباتی یا مزاحمتی شاعری کافی نہیں بلکہ ایک واضح دینی، انقلابی اور ولایت محور شعور درکار ہوتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو چند مزید شعرا ایسے ہیں جن کے ہاں یہ عناصر کسی نہ کسی درجے میں ملتے ہیں، اگرچہ اکثر کے ہاں یہ مکمل نظام کی صورت میں نہیں بلکہ جزوی یا علامتی انداز میں ظاہر ہوتے ہیں۔
مثلاً سید علی رضا نقوی جیسے شعرا کے ہاں مجالس، مرثیہ اور انقلابی دینی بیانیہ کا امتزاج ملتا ہے، جہاں کربلا کو محض غم کا استعارہ نہیں بلکہ ظلم کے خلاف دائمی قیام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں بارہا یہ تصور ابھرتا ہے کہ حسینؑ کی راہ صرف تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ ذمہ داری ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جو مکتبِ خمینی کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے کہ “ہر دن عاشورا اور ہر زمین کربلا ہے۔”
اسی طرح عباس قمری کی شاعری میں بھی مزاحمتی شعور اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی نمایاں ہے۔ ان کے اشعار میں ظلم کے خلاف ایک خاموش مگر گہرا احتجاج ملتا ہے۔ وہ براہِ راست سیاسی نعرہ نہیں دیتے، لیکن ایک ایسا اخلاقی دباؤ پیدا کرتے ہیں جو قاری کو حق و باطل کے فرق پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے، اور یہ انداز خمینی فکر کے اس پہلو سے قریب ہے جہاں اخلاقی بیداری کو انقلاب کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
کاظم نقوی جیسے شعرا کے ہاں عزاداری، کربلا، اور عصرِ حاضر کے حالات کو جوڑنے کی کوشش ملتی ہے۔ وہ اپنے کلام میں یہ واضح کرتے ہیں کہ کربلا کا پیغام صرف ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ آج کے سیاسی و سماجی حالات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ یہ تعبیر مکتبِ خمینی کے اس بنیادی نظریے سے جڑی ہے کہ کربلا ایک مسلسل جاری جدوجہد ہے۔
اسی طرح شکیل اعظمی اگرچہ بنیادی طور پر ایک غزل گو شاعر ہیں، لیکن ان کے بعض اشعار میں انسانی درد، ظلم کے خلاف حساسیت، اور اخلاقی بے چینی کا ایسا پہلو ملتا ہے جو مزاحمتی فکر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگرچہ ان کے ہاں واضح دینی یا انقلابی نظام نہیں، مگر ایک احساسِ ظلم اور اس کے خلاف داخلی ردِعمل موجود ہے، جو کسی بڑے انقلابی شعور کی ابتدائی شکل سمجھی جا سکتی ہے۔
ظفر اقبال کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ ان کی شاعری زیادہ تر جدیدیت اور داخلی تجربے کے گرد گھومتی ہے، لیکن بعض مقامات پر وہ معاشرتی تضادات، فکری بحران، اور تہذیبی شکست و ریخت کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ایک قاری کو موجودہ نظام پر سوال اٹھانے کی تحریک ملتی ہے۔ اگرچہ یہ براہِ راست خمینی فکر نہیں، مگر ایک تنقیدی شعور ضرور پیدا کرتا ہے، جو کسی بھی انقلابی فکر کی ابتدائی شرط ہے۔
مزید برآں، بعض نوحہ و مرثیہ نگار معاصر شعرا، خصوصاً مجالس کے دائرے میں، ایسے بھی ہیں جو کربلا کو کھل کر سیاسی و انقلابی استعارے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں امریکہ، اسرائیل، اور عالمی استکبار کے خلاف واضح بیانیہ بھی ملتا ہے، اور وہ امام حسینؑ کے قیام کو عصرِ حاضر کی مزاحمتی تحریکوں سے جوڑتے ہیں۔ اگرچہ یہ شاعری ادبی معیار کے لحاظ سے ہمیشہ اعلیٰ نہ ہو، مگر فکری لحاظ سے وہ مکتبِ خمینی کے بہت قریب ہوتی ہے کیونکہ اس میں ولایت، مزاحمت، اور عملی بیداری تینوں عناصر جمع ہوتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ معاصر اردو شاعری میں مکمل طور پر “خمینی طرز” کا شاعر بہت کم ہے۔ زیادہ تر شعرا یا تو جذباتی سطح پر حسینی وابستگی رکھتے ہیں، یا سماجی سطح پر مزاحمت پیش کرتے ہیں، یا فکری سطح پر سوال اٹھاتے ہیں۔ لیکن مکتبِ خمینی ان تینوں کو ایک ساتھ جمع کرتا ہے: یعنی عشقِ اہلِ بیتؑ + سیاسی شعور + عملی انقلاب۔
لہٰذا جن شعرا کے ہاں یہ تینوں عناصر جتنی زیادہ شدت اور وضاحت کے ساتھ جمع ہوں گے، وہ اتنے ہی زیادہ مکتبِ خمینی کے قریب سمجھے جائیں گے
اس پوری تحریر کا حاصل یہ ہے کہ مکتبِ خمینی کو ایک ایسے ہمہ جہت فکری نظام کے طور پر سمجھا گیا ہے جس میں محض مذہبی جذبات یا روایتی عقیدت کافی نہیں، بلکہ توحید، ولایت، عدل، حسینی شعور، اور استعمار و سامراج کے خلاف عملی مزاحمت سب کا باہم امتزاج ضروری ہے۔ اسی معیار پر اردو شاعری کا جائزہ لینے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر بڑا شاعر اس مکتب سے یکساں قربت نہیں رکھتا، بلکہ یہ قربت اس بات پر منحصر ہے کہ اس کے ہاں یہ عناصر کس شدت اور جامعیت کے ساتھ موجود ہیں۔
تحریر کے مطابق علامہ محمد اقبال اس مکتب کے سب سے قریب شاعر ہیں کیونکہ ان کے ہاں خودی، اجتہاد، اسلامی احیاء، اور استعمار دشمنی ایک مکمل فکری نظام کی صورت میں موجود ہیں، جو روح اللہ خمینی کے انقلابی نظریے سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے برعکس مرزا غالب کی شاعری زیادہ تر داخلی، وجودی اور فلسفیانہ سوالات تک محدود ہے، جس میں انقلابی اور اجتماعی جہت نسبتاً کمزور ہے، اس لیے وہ فکری طور پر اس مکتب سے دور نظر آتے ہیں۔
اسی تناظر میں حسرت موہانی ایک ایسے شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں جن کی عملی جدوجہد، استعمار دشمنی، سادگی، اور اسلامی نظام کی خواہش انہیں مکتبِ خمینی کے قریب لاتی ہے، اگرچہ ان کا فقہی پس منظر مختلف ہے۔ مزید برآں حبیب جالب کی انقلابی مزاحمت، آمریت اور استکبار کے خلاف کھلا انکار، انہیں اس مکتب کے مزاحمتی پہلو سے انتہائی قریب کر دیتا ہے، جبکہ جگر مرادآبادی اور نظیر اکبرآبادی روحانیت، اخلاقی اصلاح اور عوامی بیداری کے اعتبار سے جزوی قربت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس فیض احمد فیض اور علی سردار جعفری اگرچہ انقلابی اور استحصالی نظام کے ناقد ہیں، مگر ان کا سوشلسٹ رجحان انہیں مکمل طور پر اس مکتب سے ہم آہنگ نہیں ہونے دیتا۔
تحریر کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ معاصر دور میں وہ شعرا زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں جو کربلا کو ایک زندہ انقلابی استعارہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں محسن نقوی، افتخار عارف، اور علی محمد فرشی جیسے شعرا نمایاں ہیں، جن کے ہاں امام حسینؑ کی شخصیت کو عصرِ حاضر کی مزاحمت، ظلم کے خلاف قیام، اور عالمی مستضعفین کی حمایت سے جوڑا گیا ہے۔ اسی طرح بعض دیگر مرثیہ و نوحہ نگار شعرا بھی اس بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ تجزیہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اردو شاعری میں مکتبِ خمینی سے حقیقی قربت اسی وقت ممکن ہے جب کسی شاعر کے ہاں تین عناصر اکٹھے ہوں: حسینی وابستگی، ظلم و استعمار کے خلاف واضح مؤقف، اور کربلا کو ایک مسلسل جاری انقلابی عمل کے طور پر سمجھنا۔ زیادہ تر شعرا ان میں سے ایک یا دو پہلو رکھتے ہیں، لیکن جو شاعر ان تینوں کو یکجا کر لیتا ہے، وہی اس مکتب کے حقیقی معنوں میں قریب شمار ہوتا ہے۔
