✍🏻 سیدلیاقت علی کاظمی
بِسْمِ اللَّهِ نُورِ النُّورِ
السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَقِیَّةَ اللَّهِ فِی أَرْضِهِ.. السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَعْدَ اللَّهِ الَّذِی ضَمِنَهُ..
عصرِ حاضر کی جیوپلیٹکس (Geo-politics) کو اگر دینی نگاہ سے دیکھا جائے تو دنیا میں اس وقت دو نظاموں کا ٹکراؤ اپنے عروج پر ہے:
1. نظامِ سلطہ (System of Hegemony): جسے روایات میں “دجالی نظام” یا “سفیانی خدوخال” کہا جا سکتا ہے۔ اس کی بنیاد مادہ پرستی، فحاشی، سود، اور کمزوروں کے استحصال پر ہے۔ مغربی لبرل ڈیموکریسی اور صہیونیت اس کا مظہر ہیں۔
2. نظامِ ولایت : اس کی بنیاد توحید، عدل، اور معنویت پر ہے۔
ولایتِ فقیہ کا کردار:
ولایتِ فقیہ محض ایک ملک (ایران) کی حکمرانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس “عالمی دجالی نظام” کے خلاف واحد “مورچہ” ہے۔
• اگر ولایتِ فقیہ نہ ہوتی، تو دنیا “نیو ورلڈ آرڈر” (New World Order) کے نام پر مکمل طور پر شیطانی اقدار کی غلام بن چکی ہوتی۔
• یہ ولایتِ فقیہ ہی ہے جس نے “نہ مشرق، نہ مغرب” کا نعرہ لگا کر انسانیت کو تیسرا راستہ دکھایا۔ لہٰذا، اس نظام کی حفاظت درحقیقت “انسانیت کی آخری امید” کی حفاظت ہے۔
ولایتِ فقیہ کا دور دراصل “تمحیص” (چھانٹی/Purification) کا دور ہے۔ اللہ تعالیٰ ظہور سے پہلے مومنین کو سخت امتحانات سے گزار رہا ہے تاکہ “کھرے اور کھوٹے” الگ ہو جائیں۔
• نظریاتی نفاق کا خاتمہ: ولایتِ فقیہ ایک “کسوٹی” ہے۔ جو لوگ زبان سے امام زمانہ (عج) کا نام لیتے ہیں لیکن عمل میں “امریکہ” یا “دنیا” سے ڈرتے ہیں، ولایتِ فقیہ کا نظام ان کے نفاق کو ظاہر کر دیتا ہے۔
• تربیتِ سپاہ: امام مہدی (عج) کو ۳۱۳ خاص کمانڈرز اور ہزاروں مخلص سپاہی چاہیے۔ یہ سپاہی آسمان سے نہیں اتریں گے، بلکہ اسی “نظامِ ولایت” کی گود میں پل کر جوان ہوں گے۔ جو آج ولی فقیہ کے حکم پر اپنی خواہشات قربان نہیں کر سکتا، وہ کل امام(عج) کے حکم پر جان کیسے دے گا؟
قرآن کا حکم ہے: “وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ” “اور دشمن کے مقابلے کے لیے جس قدر طاقت میسر ہو تیار رکھو۔”
زمانہ قدیم میں انتظار کا مطلب صرف “دعا” سمجھا جاتا تھا۔ ولایتِ فقیہ نے اسے “اِعداد” (تیاری/Preparation) میں بدل دیا۔
1. علمی تیاری: جدید ٹیکنالوجی، سائنس اور خلائی میدان میں ترقی (کیونکہ امام (عج) کی حکومت علم کی حکومت ہوگی)۔
2. عسکری تیاری: میزائل، ڈرون اور دفاعی صلاحیت۔ (تاکہ جب امام (عج) آئیں تو آپؑ کے پاس ایک طاقتور بیس کیمپ موجود ہو)۔
3. سیاسی تیاری: خطے میں مزاحمتی بلاک (Resistance Axis) کا قیام، تاکہ مستضعفین کے پاس ایک “سیاسی چھتری” موجود ہو۔
….”ولایتِ فقیہ” محض ایک فقہی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ “اسرارِ آلِ محمدؐ” میں سے ایک راز ہے۔
یہ وہ نظام ہے جو انسان کو “خود پرستی” کی قید سے نکال کر “خدا پرستی” کی معراج تک لے جاتا ہے، اور معاشرے کو “جنگل کے قانون” سے پاک کر کے “مدینہ فاضلہ” (Ideal Society) کا نمونہ بناتا ہے۔
…جو شخص آج اس نظام کی حفاظت کر رہا ہے، وہ درحقیقت “خیمۂ امامِ زمانہ(عج)” کی حفاظت کر رہا ہے۔
نظامِ ولایتِ فقیہ وہ “کشتئ نجات” ہے جو غیبت کے طوفانوں میں امت کو ساحلِ ظہور تک لے جانے کی ضامن ہے۔ اس نظام کی حفاظت، اس کی تقویت، اور اس کی اطاعت دراصل اس دعا کا عملی ثبوت ہے جو ہم ہر دم پڑھتے ہیں:
“عَجِّلْ عَلیٰ ظُھُورِکَ یَا صَاحِبَ الزَّمَان”
