بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
تحریر : سید جہانزیب عابدی
یہ سوال کہ کیوں ایک طرف ایرانی انقلاب جیسی عظیم تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف اسی مکتبِ فکر سے وابستہ دیگر معاشروں میں ویسی ہی انقلابی کیفیت نظر نہیں آتی، بظاہر ایک سادہ (oversimplification) تقابل معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہ نہایت پیچیدہ تاریخی، فکری اور سماجی عوامل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو ایک جملے میں سمیٹ دینا یا کسی ایک فریق کو مکمل طور پر ذمہ دار قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے کئی تہیں ہیں جنہیں کھولے بغیر نہ درست نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی منصفانہ رائے قائم کی جا سکتی ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ ایرانی انقلاب کوئی اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ صدیوں پر محیط فکری ارتقاء، مذہبی بیداری، سیاسی شعور اور سماجی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ اس انقلاب کی قیادت امام خمینی جیسی غیر معمولی اور ہمہ جہت شخصیت نے کی، جنہوں نے نہ صرف دینی و فقہی میدان میں اپنی علمی حیثیت منوائی بلکہ سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور انقلابی حکمتِ عملی کے ذریعے ایک منتشر قوم کو ایک نظریاتی وحدت میں تبدیل کر دیا۔ تاہم اس انقلاب کو صرف ایک شخصیت سے منسوب کر دینا بھی حقیقت کا ادھورا بیان ہوگا، کیونکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط اور منظم حوزوی نظام، ایک واضح فکری مکتب، عوامی سطح پر قربانی کا جذبہ، اور ایک ایسا تاریخی لمحہ موجود تھا جس میں شاہی نظام کے خلاف شدید عوامی نفرت اور بین الاقوامی حالات نے بھی اس تبدیلی کو ممکن بنایا۔
جب ہم اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے دیگر ممالک، خصوصاً پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں تو فوراً یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دونوں کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایران میں جہاں شیعہ اکثریت میں تھے اور ایک متحد عوامی قوت کے طور پر موجود تھے، وہیں پاکستان میں شیعہ ایک اقلیت ہیں، جنہیں نہ صرف عددی اعتبار سے محدودیت کا سامنا ہے بلکہ فرقہ وارانہ کشیدگی، سیکیورٹی خطرات، ریاستی دباؤ، اور عالمی طاقتوں کے اثرات جیسے عوامل بھی درپیش ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ہمہ گیر انقلابی تحریک کا اسی انداز میں پنپنا، جیسا ایران میں ہوا، نہ صرف مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن کے قریب ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ ہر جگہ وہی نتائج برآمد ہوں جو ایران میں ہوئے، دراصل حالات کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ توجہ ہے، اور وہ ہے قیادت پر تنقید کا مسئلہ۔ کسی بھی معاشرے میں قیادت پر تنقید بذاتِ خود کوئی منفی عمل نہیں، بلکہ یہ اصلاح اور بہتری کا ایک ضروری ذریعہ ہو سکتی ہے۔ مگر جب یہ تنقید جذباتی ردِعمل، تقابلی احساسِ کمتری، یا ادھورے تجزیے پر مبنی ہو جائے تو پھر یہ اپنی اصل افادیت کھو دیتی ہے۔ بعض افراد ایران کے ماڈل کو ایک مطلق معیار بنا لیتے ہیں اور پھر اسی پیمانے سے اپنی مقامی قیادت کو جانچتے ہیں۔ جب انہیں وہی شدت، وہی نتائج اور وہی انقلابی رفتار نظر نہیں آتی تو وہ فوراً اپنی قیادت کو ناکام، سست یا نکما قرار دے دیتے ہیں، حالانکہ انہوں نے نہ حالات کے فرق کو سمجھا ہوتا ہے اور نہ ذمہ داریوں کی نوعیت کو۔
اس کے باوجود یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ کوئی بھی قیادت کامل نہیں ہوتی، اور پاکستانی شیعہ قیادت بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ بعض مواقع پر حکمتِ عملی میں کمزوریاں، داخلی اختلافات، یا عوامی سطح پر موثر رابطے کی کمی جیسے مسائل سامنے آتے ہیں، جو یقیناً توجہ کے متقاضی ہیں۔ مگر ان مسائل کی نشاندہی اس انداز میں ہونی چاہیے جو اصلاح کا راستہ کھولے، نہ کہ مایوسی اور انتشار کو فروغ دے۔ جب پوری قیادت کو یکسر ناکام قرار دے دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں اعتماد کا بحران پیدا ہو جاتا ہے، جو کسی بھی اجتماعی جدوجہد کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔
درحقیقت مسئلہ صرف قیادت تک محدود نہیں بلکہ اس کا گہرا تعلق اجتماعی شعور سے بھی ہے۔ ایران میں انقلاب اس لیے ممکن ہوا کہ وہاں عوام خود ایک انقلابی فکر کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، انہوں نے قربانی دی، مشکلات برداشت کیں اور ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد رہے۔ اس کے برعکس اگر کسی معاشرے میں عوامی سطح پر فکری یکسوئی، قربانی کا جذبہ، اور اجتماعی نظم و ضبط موجود نہ ہو تو بہترین قیادت بھی کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتی۔ قیادت اور قوم دراصل ایک دوسرے کا عکس ہوتے ہیں، اور دونوں کی کمزوریاں ایک دوسرے میں منعکس ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں اصل مسئلہ قیادت سے زیادہ اجتماعی شعور کا بھی ہے۔ ایران میں عوام خود ایک انقلابی فکر کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، جبکہ ہمارے ہاں عوامی سطح پر وہ فکری یکسوئی اور قربانی کا جذبہ اتنی شدت سے موجود نہیں۔ اگر معاشرہ خود تیار نہ ہو تو بہترین قیادت بھی معجزہ نہیں دکھا سکتی۔ قیادت اور قوم ایک دوسرے کا عکس ہوتے ہیں، اور دونوں کی کمزوریاں ایک دوسرے میں ظاہر ہوتی ہیں۔
لہٰذا یہ کہنا کہ صرف پاکستانی شیعہ قیادت ناکام ہے، ایک جذباتی، غیر متوازن اور سطحی دعویٰ ہے جو نہ حقیقت کی مکمل ترجمانی کرتا ہے اور نہ ہی کسی تعمیری نتیجے تک پہنچاتا ہے۔ درست طرزِ فکر یہ ہے کہ نہ اندھی عقیدت میں ہر چیز کو کامل سمجھ لیا جائے اور نہ ہی اندھی تنقید میں ہر چیز کو رد کر دیا جائے، بلکہ حالات، امکانات، تاریخی پس منظر اور اجتماعی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن، سنجیدہ اور اصلاحی نگاہ اختیار کی جائے، کیونکہ حقیقی تبدیلی ہمیشہ اسی توازن سے جنم لیتی ہے۔
ایسے اعتراض کرنے والوں کا فکری و نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو سب سے پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ “تصورِ مثالیت” (idealization) اور “تصورِ حقیقت” (realism) کے درمیان شدید خلا ہے۔ جب کوئی فرد ایرانی انقلاب کو ایک کامل، بے نقص اور ہر جگہ قابلِ نقل ماڈل کے طور پر ذہن میں بٹھا لیتا ہے، تو پھر وہ اپنے اردگرد کے حالات کو اسی پیمانے سے ناپنا شروع کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں وہی شدت، وہی نتائج اور وہی رفتار نظر نہیں آتی، وہاں اسے ناکامی، سستی یا نااہلی دکھائی دیتی ہے، حالانکہ حقیقت میں مسئلہ موازنہ کرنے کے معیار کا ہوتا ہے، نہ کہ لازماً قیادت کا۔
نفسیاتی طور پر اس طرزِ فکر میں ایک “احساسِ محرومی” (sense of deprivation) بھی کارفرما ہوتا ہے۔ جب ایک فرد دیکھتا ہے کہ کسی اور معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی آ چکی ہے، جبکہ اس کے اپنے معاشرے میں ویسی تبدیلی نہیں آئی، تو وہ اس خلا کو برداشت نہیں کر پاتا۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے وہ یا تو اپنے حالات کا گہرا تجزیہ کرے، یا پھر ایک آسان راستہ اختیار کرے کہ کسی مخصوص طبقے یعنی قیادت کو موردِ الزام ٹھہرا دے۔ اکثر لوگ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں کیونکہ یہ ذہنی طور پر آسان اور فوری تسکین دینے والا ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک “ہیرو سینٹرڈ ذہنیت” (hero-centered mindset) بھی شامل ہوتی ہے، جس میں پورے نظام اور معاشرے کو ایک شخصیت کے گرد سمیٹ کر دیکھا جاتا ہے۔ امام خمینی جیسی عظیم شخصیت کو دیکھ کر یہ تصور قائم ہو جاتا ہے کہ تبدیلی صرف ایک غیر معمولی لیڈر کے ذریعے آتی ہے، اور اگر ایسی شخصیت موجود نہ ہو تو سارا نظام ناکام ہے۔ اس سوچ میں اجتماعی ذمہ داری، عوامی کردار، اور تاریخی و جغرافیائی عوامل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
فکری سطح پر یہ اعتراض اکثر “جزوی مطالعہ” (partial understanding) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یعنی فرد نے کسی ایک کامیاب تجربے کو گہرائی سے سمجھے بغیر بطور معیار اختیار کر لیا، مگر اس کے پس منظر، تدریجی مراحل، قربانیوں، اور پیچیدہ عوامل کو نظر انداز کر دیا۔ اس طرح اس کی رائے ایک سادہ اور سطحی تجزیے پر مبنی ہوتی ہے، جو بظاہر منطقی لگتی ہے مگر درحقیقت ادھوری ہوتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو “ردِعملی ذہنیت” (reactionary mindset) ہے۔ کچھ افراد داخلی طور پر مایوسی، غصے یا بے بسی کا شکار ہوتے ہیں، اور وہ اس کیفیت کو کسی نہ کسی شکل میں ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ قیادت ایک نمایاں ہدف ہوتی ہے، اس لیے ان کے جذبات کا رخ اسی طرف ہو جاتا ہے۔ اس طرح تنقید ایک علمی عمل کے بجائے ایک نفسیاتی اخراج (emotional discharge) بن جاتی ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات اس سوچ کے پیچھے “شناختی بحران” (identity crisis) ہوتا ہے۔ فرد یہ طے نہیں کر پاتا کہ اس کی وابستگی کس ماڈل یا کس طرزِ فکر سے ہے، اس لیے وہ بیرونی مثالوں کو اپنی شناخت کا معیار بنا لیتا ہے۔ جب وہ معیار مقامی سطح پر پورا نہیں اترتا تو اس کے اندر ایک تضاد پیدا ہوتا ہے، جو تنقید اور اعتراض کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ایسے تمام اعتراضات محض نفسیاتی کمزوری کا نتیجہ ہیں۔ بعض افراد واقعی مخلصانہ طور پر بہتری چاہتے ہیں، مگر ان کا اندازِ اظہار سخت یا غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ اس لیے اصل فرق نیت اور شعور کا ہے۔ جہاں نیت اصلاح کی ہو اور شعور گہرا ہو، وہاں تنقید تعمیری بنتی ہے، اور جہاں نیت میں جذباتی ردِعمل یا احساسِ محرومی غالب ہو، وہاں وہی تنقید تخریبی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ رویہ ایک مرکب کیفیت ہے جس میں ادھورا فکری تجزیہ، نفسیاتی دباؤ، اور غیر حقیقت پسندانہ تقابل سب مل کر ایک ایسی سوچ پیدا کرتے ہیں جو بظاہر بیداری معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت توازن سے خالی ہوتی ہے۔
ایسے افراد کے لیے سب سے پہلی اور بنیادی صلاح یہی ہے کہ وہ اپنے ذہن میں قائم “مثالی تصویر” اور “حقیقی دنیا” کے درمیان فرق کو شعوری طور پر سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایرانی انقلاب جیسے واقعات کو ایک مقدس، کامل اور ہر جگہ نقل ہو سکنے والے ماڈل کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک تاریخی تجربہ سمجھا جائے جس کے پیچھے مخصوص حالات، طویل جدوجہد اور تدریجی ارتقاء کارفرما تھا۔ جب انسان کسی واقعے کو اس کے پورے سیاق و سباق کے ساتھ سمجھتا ہے تو اس کے اندر غیر حقیقی توقعات خود بخود کم ہونے لگتی ہیں۔
اس کے بعد ضروری ہے کہ انسان اپنی توجہ دوسروں کے محاسبے سے ہٹا کر خود اپنے کردار اور ذمہ داری پر مرکوز کرے۔ اکثر اوقات ہم قیادت سے وہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جو درحقیقت اجتماعی سطح پر پوری ہونی چاہئیں۔ اگر معاشرہ خود فکری طور پر منتشر ہو، قربانی کے لیے تیار نہ ہو، اور نظم و ضبط سے عاری ہو تو پھر بہترین قیادت بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتی۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان یہ سوال بھی اٹھائے کہ “میں خود اس تبدیلی کے لیے کیا کر رہا ہوں؟” نہ کہ صرف یہ کہ “قیادت کیا کر رہی ہے؟”
اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ تقابل کا معیار تبدیل کیا جائے۔ جب ہم اپنے معاشرے کو کسی مثالی اور منفرد تجربے کے ساتھ مسلسل موازنہ کرتے ہیں تو لازماً ایک احساسِ کمتری پیدا ہوتا ہے، جو پھر تنقید، غصے اور مایوسی میں بدل جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان اپنے معاشرے کو اس کے اپنے حالات، امکانات اور چیلنجز کے تناظر میں دیکھے تو اسے بہت سی مثبت پیش رفتیں بھی نظر آنے لگتی ہیں، اور وہ زیادہ متوازن رائے قائم کر سکتا ہے۔ حقیقت پسندی کا مطلب یہ نہیں کہ خامیوں کو نظر انداز کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ انہیں درست تناسب میں دیکھا جائے۔
نفسیاتی سطح پر یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پیدا ہونے والے احساسِ محرومی اور غصے کو پہچانے اور اس کا تجزیہ کرے۔ جب کوئی فرد یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی تنقید کا ایک حصہ اس کی اپنی اندرونی کیفیت کا اظہار ہے، تو وہ زیادہ محتاط اور سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ اس سے اس کی تنقید کا انداز بھی بدلتا ہے اور وہ جذباتی ردِعمل کے بجائے ایک تعمیری مکالمے کی طرف آتا ہے۔
مزید یہ کہ “ہیرو سینٹرڈ” سوچ سے نکل کر “نظامی اور اجتماعی” سوچ اپنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ امام خمینی جیسی شخصیات یقیناً تاریخ ساز ہوتی ہیں، مگر وہ بھی ایک تیار شدہ معاشرے، ایک بیدار عوام اور ایک مناسب تاریخی موقع کے بغیر کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتیں۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھتا ہے تو وہ ہر مسئلے کا حل کسی ایک شخصیت میں تلاش کرنے کے بجائے پورے نظام اور معاشرے کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
“تصورِ مثالیت” اور “تصورِ حقیقت” کے درمیان فرق دراصل انسان کے ذہنی زاویۂ نگاہ اور طریقۂ فہم کا فرق ہے۔ مثالیت میں انسان کسی شے، واقعے یا نظام کو اس کے کامل، مطلوبہ اور آئیڈیل روپ میں دیکھتا ہے؛ یعنی وہ اس بات پر توجہ دیتا ہے کہ چیزیں کیسی ہونی چاہئیں۔ اس کے برعکس حقیقت پسندی میں انسان چیزوں کو ویسا دیکھنے کی کوشش کرتا ہے جیسی وہ عملاً ہیں، اپنے حالات، حدود، کمزوریوں اور امکانات کے ساتھ۔ یوں مثالیت ایک معیار اور سمت فراہم کرتی ہے جبکہ حقیقت پسندی اس سمت تک پہنچنے کے عملی راستے اور رکاوٹوں کو واضح کرتی ہے۔
جب کوئی شخص مثالیت کے تحت سوچتا ہے تو اس کی نگاہ عموماً نتیجے پر مرکوز ہوتی ہے، اس کے پس منظر، مراحل اور پیچیدگیوں پر نہیں۔ مثلاً ایرانی انقلاب کو اگر محض ایک کامیاب اور مثالی تبدیلی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایسا ہر جگہ ممکن ہونا چاہیے۔ لیکن حقیقت کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہی واقعہ ایک طویل فکری ارتقاء، سیاسی جدوجہد، عوامی آمادگی، اور مخصوص تاریخی حالات کا نتیجہ تھا، جسے نظر انداز کر کے کوئی بھی تجزیہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ اسی طرح امام خمینی کو صرف ایک مثالی اور کامل قائد کے طور پر دیکھنا ایک طرح کی مثالیت ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی قیادت بھی ایک خاص معاشرتی و تاریخی ماحول میں مؤثر ہوئی۔
کسی مسئلے کا تجزیہ کرتے وقت یہ پرکھنے کے لیے کہ ہم مثالیت میں سوچ رہے ہیں یا حقیقت میں، انسان کو اپنے سوالات اور نتائج پر غور کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس کے سوالات “کیوں ایسا نہیں ہوا جیسا ہونا چاہیے تھا؟” جیسے انداز میں ہوں تو یہ مثالیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ جبکہ اگر سوال یہ ہو کہ “ایسا کیوں ہوا اور کن حالات میں ہوا؟” تو یہ حقیقت پسندی کی علامت ہے۔ مثالیت عام طور پر سادہ تقابل کرتی ہے، جبکہ حقیقت پسندی تقابل کو سیاق و سباق، وقت، جگہ اور حالات کے ساتھ جوڑ کر دیکھتی ہے۔
حقیقت پر مبنی فیصلہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ انسان پہلے اپنے ذہن میں موجود آئیڈیل تصویر کو پہچانے اور یہ سمجھے کہ وہ ایک خواہش یا ہدف ہے، نہ کہ موجودہ حقیقت۔ اس کے بعد وہ زمینی حقائق کا جائزہ لے، مختلف عوامل کو سمجھے، اور یہ دیکھے کہ کون سی چیزیں ممکن ہیں اور کون سی نہیں۔ اس عمل میں جذبات، تعصبات اور فوری ردِعمل کو ایک طرف رکھنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ چیزیں اکثر مثالیت کو بڑھاتی ہیں اور حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔
تاہم ایک متوازن نقطۂ نظر یہ ہے کہ مثالیت کو مکمل طور پر رد نہ کیا جائے، کیونکہ یہی انسان کو بلند ہدف دیتی ہے اور جمود سے نکالتی ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مثالیت کو ہدف کے طور پر رکھا جائے اور حقیقت کو راستہ سمجھ کر اپنایا جائے۔ جب انسان یہ توازن قائم کر لیتا ہے تو وہ نہ غیر حقیقی توقعات کا شکار ہوتا ہے اور نہ مایوسی میں مبتلا ہوتا ہے، بلکہ ایک سنجیدہ، تدریجی اور مؤثر طریقے سے مسائل کو سمجھ کر فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
علمی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے مطالعے کو گہرا کرے اور کسی بھی بڑے واقعے یا ماڈل کو سطحی انداز میں نہ لے۔ جزوی معلومات ہمیشہ غلط نتائج تک لے جاتی ہیں۔ جب انسان کسی تجربے کو اس کے تمام پہلوؤں، مراحل اور پیچیدگیوں کے ساتھ سمجھتا ہے تو اس کے اندر ایک فکری پختگی پیدا ہوتی ہے، جو اسے انتہاؤں سے بچاتی ہے۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنے اندر توازن پیدا کرے۔ نہ تو اندھی عقیدت میں ہر چیز کو کامل سمجھے اور نہ ہی اندھی تنقید میں ہر چیز کو رد کر دے۔ حقیقت پسندی دراصل اسی توازن کا نام ہے، جہاں انسان خوبیوں کو بھی دیکھتا ہے اور خامیوں کو بھی، مگر دونوں کو ان کے صحیح مقام پر رکھ کر ایک تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہی رویہ نہ صرف فرد کو ذہنی سکون دیتا ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا راستہ بھی ہموار کرتا ہے۔
